Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1151

1151 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق حدثنا جعفر بن سليمان عن المعلى بن زياد عن العلاء بن بشير قال : وكان ما علمت شجاعا عند اللقاء بكاء عند الذكر عن أبي الصديق Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال أبو سعيد : كنت في عصابة من ضعفاء المهاجرين قال : وإن بعضهم ليستتر ببعض من العري قال : وقارىء لنا يقرأ علينا فنحن نستمع إلى كتاب الله فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام علينا فلما قام علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم سكت القارىء قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما كنتم تصنعون ؟ قال : فقلنا : يا رسول الله كان قارىء يقرأ وكنا نستمع إلى كتاب الله قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد لله الذي جعل في أمتي من أمرت أن أصبر معهم قال : ثم أجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم وسطنا ليعدل نفسه فينا قال : ثم أشار بيده استديروا فاستدارت الحلقة وبرزت وجوههم له قال : فما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم عرف منهم أحدا غيري فقال : أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين بالنور الدائم يوم القيامة تدخلون الجنة قبل أغنياء المؤمنين بنصف يوم وذاك خمس مئة سنة

حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مہاجرین کی کمزور جماعت میں تھا۔ ان میں بعض بعض سے اپنی شرمگاہیں چھپاتے تھے۔ ایک قاری ہم پر قرآن پڑھتا تھا، ہم اللہ کی کتاب سنتے تھے۔ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے، قاری خاموش ہو گیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کی:یا رسول اللہ ! قاری پڑھ رہا ہے، ہم اس سے قرات سن رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ عزوجل کے لیے جس نے میری امت سے ایسے لوگ بنائے ہیں جن کےمتعلق مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کے پاس ٹھہروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درمیان میں تشریف فرما ہوئے تاکہ اپنے آپ کو ان میں شمار کر سکیں ، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا۔ گھوم جاؤ، وہ گھوم گئے' ان کے چہروں کو ظاہر کیا گیا ان کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا،میرے علاوہ ان میں سے کوئی بھی آپ کو نہیں پہچانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین کے غریب لوگوں کے گروہ تمہارے لیے قیامت کے دن ہمیشہ والے نور کی خوشخبری ،تم جنت میں مال دار ایمان والوں سے پہلے داخل ہو جاؤ گے، اور آدھے دن سے مراد پانچ سو سال ہیں۔

العلاء بن بشير ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ،

Hadith 1151

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1152

1152 - حدثنا زكريا بن يحيى زحمويه حدثنا صالح بن عمر عن مطرف عن عطية Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا بلغ بنو الحكم ثلاثين اتخذوا دين الله دخلا وعباد الله خولا ومال الله دولا K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بنو الحکم تیس ہو جائیں گے وہ اللہ کے دین کو مذاق بنا لیں گے۔ اللہ کے بندوں کوذلیل کریں گے۔ اللہ کے مال کو اپنا مال بنا لیں گے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← مُطَرِّفٍ ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ،

Hadith 1152

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1153

1153 - حدثنا أبو خيثمة قال حدثنا عبد الرحمن ابن مهدي عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الوداك Y عن أبي سعيد قال : أصبنا نساء يوم حنين فكنا نعزل عنهن فقال بعضهم لبعض : تفعلون هذا وفيكم رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فسألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما كل ماء يكون منه الولد إذا أراد الله أن يخلق شيئا لم يمنعه شيء K رجاله ثقات

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حنین کے دن ہم کو عورتیں ملیں ' ہم ان سے عزل کرتے تھے' ہم میں سے بعض بعض سے کہنے لگے: تم یہ اس حالت میں کرتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم میں موجود ہیں؟ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: جس پانی کے قطرے سے بچے نے پیدا ہوناہے ' جب اللہ اس کے پیدا کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے تو اسے کوئی شے روک نہیں سکتی ہے۔

أصبنا نساء يوم حنين فكنا نعزل عنهن ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 1153

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1154

1154 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا شعبة عن أنس بن سيرين عن أخيه معبد بن سيرين Y عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا عليكم ألا تفعلوا فإنما هو القدر K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عزل کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم کرو ' وہ تقدیر ہے۔

لا عليكم ألا تفعلوا فإنما هو القدر إسناده صحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أخيه معبد بن سيرين ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 1154

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1155

1155 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا صفوان بن عيسى قال أنيس بن أبي يحيى أخبرنا عن أبيه Y عن أبي سعيد قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي مات فيه وهو معصوب الرأس فاتبعته حتى قام على المنبر فقال : إني الساعة قائم على الحوض ثم قال : إن عبدا عرضت عليه الدنيا وزينتها فاختار الا×رة قال : فلم يفطن لها أحد من القوم إلا أبو بكر قال : بأبي أنت وأمي بل نفديك بأموالنا وأنفسنا وأولادنا ثم هبط من المنبر فما رئي عليه حتى الساعة K إسناده حسن

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حالت مرض میں نکلے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال فرمایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر کو باندھا ہوا تھا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہوا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ بے شک ہر اس وقت (میں ) حوض پر کھڑا ہوں، پھر فرمایا: بے شک ایک بندہ پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کیا' قوم میں کوئی بھی آپ کے اس اشارے کو نہ سمجھ سکا سوائے ابو بکر کے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! بلکہ ہم اپنے اموال اور جانیں اور اولاد قربان کرتے ہیں ' پھر آپ منبر سے نیچے اترے' اس وقت کے بعد آپ کو نہیں دیکھا گیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِيهِ ← أُنَيْسِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 1155

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1156

1156 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الرحمن عن شعبة عن قتادة قال : سمعت عبد الله بن أبي عتبة يقول Y سمعت أبا سعيد يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أشد حياء من العذراء في خدرها وكان إذا كره شيئا عرفناه في وجهه K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنواری لڑکی سے زیادہ حیاء والے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی شے کو ناپسند کرتے تھے، ہم اس کی ناپسندیدگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم کر لیتے تھے۔

أَبَا سَعِيدٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 1156

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1157

1157 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أبو عامر حدنا هشام عن يحيى عن أبي سلمة Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعدن حتى توضع K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، جو جنازہ کے ساتھ چلے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اس کو رکھ لیا جائے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← أبو عامر حدنا هشام ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 1157

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1158

1158 - وعن أبي سلمة قال Y تذاكرنا ليلة القدر في نفر من قريش فأتيت أبا سعيد الخدري وكان لي صديقا فقلت : ألا تخرج إلى النخل فخرج وعليه خميصة فقلت له : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر ليلة القدر ؟ قال : نعم اعتكفنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم العشر الوسطى من رمضان فخرجنا صبيحة عشرين فخطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني رأيت ليلة القدر وإني نسيتها أو أنسيتها فالتموسها في العشر الأواخر في كل وتر وإني رأيت أني أسجد في ماء وطين فمن كان اعتكف مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فليرجع فرجعنا وما نرى في السماء قزعة فجاءت سحابة فمطرنا حتى سال المسجد وكان من جريد النخل فأقيمت الصلاة فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يسجد في الماء والطين حتى رأيت أثر الطين في جبهته K إسناده صحيح

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لیلۃ القدر کا مذاکرہ کر رہے تھے، قریش کے ایک گروہ میں میں ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس آیا، وہ میرے دوست تھے۔ میں نے کہا: اس کھجور کے باغ میں نہ جائیں، آپ نکلے اس حالت میں کہ آپ پر چادر تھی، میں نے آپ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لیلۃ القدر کاذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، رمضان شریف کے درمیان والے عشرے میں ، ہم 20 ویں کی صبح کو نکلے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے لیلۃ القدر کو دیکھا ، پھر مجھے بھلا دی گئی (کسی بات کے پیش نظر ) ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آخری عشرے کی ہر طاق رات میں تلاش کرو۔ میں نے دیکھا میں سجدہ کر رہا ہوں پانی اور مٹی میں۔ جس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اعتکاف وہ واپس آ گیا، ہم بھی واپس آ گئے۔ ہم نے آسمان میں بادل زرہ برابر بھی نہیں دیکھا ۔ بادل آ گئے یہاں تک کہ مسجد سے قطرے گرنے لگے ۔ مسجد کھجور کے چھال کی تھی۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی ۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا سجدہ کرتے ہوئے، پانی اور مٹی میں یہاں تک کہ اس مٹی کے نشانات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر دیکھے گئے۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ

Hadith 1158

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1159

1159 - حدثنا أبو خيثمة حدنا جرير بن عبد الحميد عن سهيل بن أبي ثالح عن أبيه Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا تبعتم جنازة فلا تجلسوا حتى توضع . قال سهيل : رأيت أبا صالح لا يجلس حتى توضع عن مناكي الرجال K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جنازہ کے ساتھ چلو ت نہ بیٹھو یہاں تک کہ اس کو رکھ دیا جائے۔ سہیل فرماتے ہیں کہ میں نے ابو صالح کو دیکھا وہ اس وقت نہیں بیٹھتے تھے جب تک لوگ میت کو کندھوں سے نہیں اتار لیتے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← سهيل بن أبي ثالح ← أبو خيثمة حدنا جرير بن عبد الحميد

Hadith 1159

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1160

1160 - حدثنا أبو خيثمة حدنا جرير حدثنا عبد الملك بن عمير عن قزعة Y عن أبي سعيد قال : سمعت منه شيئا أعجبني فقلت له : أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أفأقول على رسول الله صلى الله عليه و سلم ما لم أسمع ؟ قال : سمعته يقول : لا تشد الرحال إلا إلى ثلاثة مساجد هذا ومسجد الحرام ومسجد الأقصى قال : وسمعته يقول : لا تسافر المرأة يومين من الدهر إلا ومعها زوجها أو ذو محرم منها قال : وسمعته يقول : لا تصلح الصلاة بعد صلاة الفجر حتى تطلع الشمس وبعد صلاة العصر حتى تغرب الشمس وسمعته يقول : لا يصلح الصيام في يومين : يوم الفطر من رمضان ويوم الأضحى K إسناده صحيح

حضرت قزعہ' حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایسی شے سنی یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے ؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسا بہتان باندھ سکتا ہوں جومیں نے سنا نہیں؟ کہ اپنی سواریاں نہ باندھو مگر ان تین مسجدوں کے علاوہ (1) مسجد حرام (2) مسجد اقصیٰ (3) میری اس مسجد یعنی مسجد نبوی اور میں نے آپ سے سنا کہ کوئی عورت دو دن سے زیادہ سفر اپنے شوہر یا محرم رشتہ دار کے علاوہ نہ کرے اور میں نے آپ سے سنا کہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز جائز نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور دو دن روزہ رکھنا درست نہیں ہے: عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← قَزَعَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أبو خيثمة حدنا جرير

Hadith 1160

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1161

1161 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن قزعة قال : Y ذكر قول عائشة لأبي سعيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بعد العصر ركعتين قال : فيقول : أما أنا فأشهد أني سمعت رسول الله . صلى الله عليه و سلم يقول : لا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس ولا بعد الفجر حتى تطلع الشمس K إسناده صحيح

حضرت قزعہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ارشاد حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں ذکر کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت ادا کرتے تھے۔ تو حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ عصر کے بعد نماز جائز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور فجر کے بعد نماز جائز نہیں ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔

قول عائشة لأبي سعيد ← قَزَعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 1161

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1162

1162 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن سهيل عن أبيه عن أبي سعيد أو عن ابن أبي سعيد Y عن أبي سعيد : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا تثاءب أحدكم فليضع يده على فيه فإن الشيطان يدخل K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔ بے شک جمائی کے وقت شیطان داخل ہوتا ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← أَبِي سَعِيدٍ أَوْ ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Hadith 1162

chevron_left Previous
12345…25
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter