مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1151
1151 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق حدثنا جعفر بن سليمان عن المعلى بن زياد عن العلاء بن بشير قال : وكان ما علمت شجاعا عند اللقاء بكاء عند الذكر عن أبي الصديق Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال أبو سعيد : كنت في عصابة من ضعفاء المهاجرين قال : وإن بعضهم ليستتر ببعض من العري قال : وقارىء لنا يقرأ علينا فنحن نستمع إلى كتاب الله فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام علينا فلما قام علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم سكت القارىء قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما كنتم تصنعون ؟ قال : فقلنا : يا رسول الله كان قارىء يقرأ وكنا نستمع إلى كتاب الله قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد لله الذي جعل في أمتي من أمرت أن أصبر معهم قال : ثم أجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم وسطنا ليعدل نفسه فينا قال : ثم أشار بيده استديروا فاستدارت الحلقة وبرزت وجوههم له قال : فما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم عرف منهم أحدا غيري فقال : أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين بالنور الدائم يوم القيامة تدخلون الجنة قبل أغنياء المؤمنين بنصف يوم وذاك خمس مئة سنة
حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مہاجرین کی کمزور جماعت میں تھا۔ ان میں بعض بعض سے اپنی شرمگاہیں چھپاتے تھے۔ ایک قاری ہم پر قرآن پڑھتا تھا، ہم اللہ کی کتاب سنتے تھے۔ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔ ہمارے پاس کھڑے ہو گئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے، قاری خاموش ہو گیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا کر رہے تھے؟ ہم نے عرض کی:یا رسول اللہ ! قاری پڑھ رہا ہے، ہم اس سے قرات سن رہے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ عزوجل کے لیے جس نے میری امت سے ایسے لوگ بنائے ہیں جن کےمتعلق مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کے پاس ٹھہروں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درمیان میں تشریف فرما ہوئے تاکہ اپنے آپ کو ان میں شمار کر سکیں ، پھر ہاتھ سے اشارہ کیا۔ گھوم جاؤ، وہ گھوم گئے' ان کے چہروں کو ظاہر کیا گیا ان کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا،میرے علاوہ ان میں سے کوئی بھی آپ کو نہیں پہچانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین کے غریب لوگوں کے گروہ تمہارے لیے قیامت کے دن ہمیشہ والے نور کی خوشخبری ،تم جنت میں مال دار ایمان والوں سے پہلے داخل ہو جاؤ گے، اور آدھے دن سے مراد پانچ سو سال ہیں۔
العلاء بن بشير ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ،
Hadith 1151
