Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1402

1402 - وعن أبي سعيد الخدري قال Y هاجر رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من اليمن فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : هجرت الشرك ولكنه الجهاد هل باليمن أبواك ؟ قال : نعم قال : أذنا لك ؟ قال : لا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارجع إلى أبويك فاستأذنهما فإن فعلا فجاهد وإلا فبرهما K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی یمن سے ہجرت کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے شرک چھوڑ دیا ہے جہاد باقی ہے۔ کیا یمن میں تیرا ماں باپ موجود ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے ان سے اجازت لی ہے؟ اس نے عرض کی: نہیں ! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ماں باپ کے پاس واپس چلے جاؤ! ان سے اجازت لو اگر اجازت دیں تو جہاد کرو ورنہ ان کےساتھ نیکی کرو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1402

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1403

1403 - وعن أبي سعيد الخدري Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يقول الرب يوم القيامة : سيعلم أهل الجمع اليوم من أهل الكرم فقيل : ومن أهل الكرم ؟ قال : أهل الذكر في المساجد K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ عز وجل قیامت کے دن فرمائے گا: عنقریب جمع ہونے والے جان لیں گے کہ اہل کرم کون ہیں؟ عرض کی گئی: یا رسول الله! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اہل کرم کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ذکر کی مجالس جو مساجد میں ہوتی ہیں۔ .

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1403

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1404

1404 - وعن أبي سعيد الخدري Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن أدنى أهل الجنة منزلة الذي له ثمانون ألف خادم واثنان وسبعون زوجا ينصب له قبة من لؤلؤ وياقوت وزبرجد كما بين الجابية وصنعاء K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے کم درجہ والے کو اسی ہزار خادم ملیں گے ،70بیویوں ہوں گی اس کے لیے موتیوں اور یاقوت اور زبر جد کا خیمہ اتنا بڑا ہو گا جتنا جابیہ (ایک جگہ کا نام) اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1404

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1405

1405 - وعن أبي سعيد Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم - شك أبو خيثمة عن أبي سعيد أنه قال : من مات من أهل الدنيا صغيرا أو كبيرا يردون إلى ستين سنة في الجنة لا يزيدون عليها أبدا وكذلك أهل النار K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو دنیا میں چھوٹایا بڑا مرے گا اس کو جنت میں ساٹھ سال تک کی عمر تک پہنچایا جائے گا اس پر ہمیشہ اضافہ نہیں ہوگا اسی طرح اہل جہنم کے ساتھ کیاجائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم شك أبو خيثمة ← اَبِیْ سَعِیْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1405

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1406

1406 - حدثنا أحمد بن المقدام حدثنا المعتمر قال : سمعت أبي يحدث عن قتادة عن عقبة بن عبد الغافر Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليأخذن الرجل بيد أبيه يوم القيامة فليقطعنه النار يريد أن يدخله الجنة فينادى أن الجنى لا يدخلها مشرك ألا إن الله قد حرم الجنة على كل مشرك فيقول : رب أبي رب أبي رب أبي قال : فيحول في صورة قبيحة وريح منتنة فيتركه . قال أبو سعيد : فكان أصحاب محمد يرون أن ذاك الرجل إبراهيم ولم يزدهم رسول الله صلى الله عليه و سلم على ذلك K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ضرور ایک آدمی قیامت کے دن اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا اس سے آگ کی زنجیریں کاٹے گا ان کو جنت میں داخل کرنے کا ارادہ کرے گا آواز آئے گی کہ جنت میں مشرک داخل نہیں ہو گا بے اللہ نے جنت ہر مشرک پر حرام قرار دی ہے۔ وہ عرض کرے گا: اے رب! میرا باپ! اے رب! میرا ، باپ اے رب ! میرا باپ! اس کی صورت کو ایک بد شكل میں تبدیل کر دیا جائے گا، اس سے بد بو پھیل جائے گی،اس کو وہ چھوڑ دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ نے خیال کیا کہ وہ ابراہیم ہوں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پراضافہ نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1406

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1407

1407 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا حماد بن زيد حدثنا بشر بن حرب Y قال سمعت أبا سعيد الخدري يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : نهى عن الوصال في الصيام فقيل : يا رسول الله مالك أنت تفعله ؟ فقال : إني نسيت كأحدكم إني أطعم وأسقى K إسناده لين

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لگا تار روزے رکھنے سے منع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی گئی: یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے کھلایا اور پلایا جا تا ہے۔

الوصال في الصيام فقيل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1407

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1408

1408 - حدثنا سفيان بن وكيع حدثنا أبي عن عبيد الله بن أبي حميد عن أبي مليح قال Y حدثني أبو سعيد الخدري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا مضى أحدكم في صلاة ثم رجع إلى بيته فليصل وليجعل لبيته نصيبا من صلاته فإن الله جاعل من صلاته في بيته خيرا K إسناده ضعيف

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے جائے پھر اپنے گھر واپس آجائے وہ گھر میں بھی نماز پڑھنے نماز کا حصہ اپنے ، گھر کے لیے بھی رکھے بے شک اللہ عزوجل نماز کی برکت سے گھر میں بھلائی ڈالتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← أَبِي مَلِيحٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1408

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1409

1409 - قرأت على الحسين بن يزيد الطحان حدثنا سعيد بن خثيم عن فضيل عن عطية Y عن أبي سعيد الخدري قال : لما نزلت هذه الآية { وآت ذا القربى حقه } [ الاسراء : 26 ] دعا النبي صلى الله عليه و سلم فاطمة وأعطاها فدك K إسناده ضعيف

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ قریبی رشتہ داروں کو اس کا حق دو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کو باغ فدک دیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← فُضَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ خُثيم ← على الحسين بن يزيد الطحان

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1409

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1410

1410 - حدثنا سفيان بن وكيع قال حدثني أبي عن جدي عن قيس بن وهب عن أبي الوداك Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يخرج الدجال فيتوجه قبله رجل من المسلمين فتلقاه المسالح : مسالح الدجال فيقولون له : أين تعمد ؟ فيقول : أعمد إلى هذا الذي خرج فيقولون له : أو ما تؤمن بربنا ؟ قال : يقول : ما أرى - أحسبه - حقا قال : يقولون : اقتلوه قال : فيقول بعضهم لبعض : أليس قد نهاكم ربكم أن تقتلوا أحدا دونه ؟ قال : فينطلقون به إلى الدجال قال : فإذا رآه المؤمن قال : يا أيها الناس هذا الدجال الذي ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فيأمر به الدجال فيشبح قال : فيقول : خذوه فاشبحوه قال : فيشبح قال : فيمصع ظهره وبطنه ضربا قال : فيقول له : أام تؤمن بي ؟ قال : فيقول : أنت المسيح الكذاب قال : فيأمر به فينشر بالمنشار من مفرقه حتى يفرق بين رجليه قال : ثم يمشي الدجال بين القطعتين قال : ثم يقول : قم فيستوي قائما قال : فيقول له : أما تؤمن بي ؟ قال : فيقول له : ما ازددت فيك إلا بصيرة قال : ثم يقول : يا أيها الناس إنه لا يفعل الذي فعل بي بأحد من الناس قال : فيأخذه الدجال ليذبحه فيجعل ما بين ذقنه إلى ترقوته نحاسا فلا يستطيع إليه سبيلا قال : فيأخذ بيديه ورجليه فيقذف به فيحسب الناس أنه قذفه في النار وإنما ألقي في الجنة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين K إسناده ضعيف ولكن أخرجه مسلم

حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال نکلے گا، مسلمانوں میں سے ایک آدمی اس کی جانب متوجہ ہو گا دجال کے لوگ اس سے ملیں گے جو ہتھیار باندھے ہوئے ہوں گے وہ اس آدی کو کہیں گے: تیرا کہاں کا ارادہ ہے؟ وہ کہے گا:میرا ارادہ اس کی طرف ہے جو نکلا ہے۔ وہ کہیں گے: کیا تو ، ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتا ہے؟ وہ کہے گا کہ وہ اس کو خدانہیں سمجھتا ہے وہ کہیں گے۔ اس کو قتل کر دو! وہ ایک دوسرے سے کہیں گے : کیا تم کو تمہارے رب نے اپنی اجازت کے بغیر قتل کرنے سے منع نہیں کیا؟ وہ اس کولے کر دجال کی طرف جائیں گے جب ایمان والا اس کو دیکھے گایعنی دجال کو تو وہ کہے گا: اے لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے اس کے بعد دجال اس کوزخمی کرنے کے متعلق حکم دے گا وہ اس کو پکڑیں ، گے اور اس کو زخمی کریں گے اور اس کے پیٹ اور پیٹھ پر ماریں گے دجال کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ وہ مؤمن کہے گا: تومسیح کذاب ہے۔ وہ دجال اس کے متعلق حکم دے گا کہ اس کے سر پر آرا چلایا جائے وہ لوگ اس کے سر کے درمیان آرا چلائیں گے اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک دو ٹکڑے کر دیں گے۔ پھر وہ دجال کہے گا: اٹھ تو وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ وہ اس کو کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ وہ مؤمن کہے گا: مجھے تیرے متعلق اور بصیرت حاصل ہوگئی ہے۔پھروہ بندہ مومن کہے گا: اے لوگو! میرے بعد اس طرح کسی اور سے نہیں کرے گا۔ اس کے بعد دجال اس کوپکڑے گا تا کہ اسکوذبح کیا جائے تو اس مومن کے گلے سے لے کر اس کی آخری حد تک جسم تا نبے کا بن جائے گا وہ اس تک جانے کی طاقت نہیں رکھے گا پھر دجال اس کے پاؤں اور ہاتھ سے پکڑے گا اور اس کو ڈالا جائے گا لوگ سمجھیں گے کہ اس کو آگ میں ڈالا ہے حالانکہ وہ جنت میں جا کر گرا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ آدمی تمام کائنات کو پالنے والے کے ہاں سب سےزیادہ شہادت کا درجہ رکھے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ← جَدِّي، ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1410

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1411

1411 - حدثنا قطن بن نسير حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا المعلى بن زياد قال Y لما هزم يزيد بن المهلب أهل البصرة قال المعلى : فخشيت أن أجلس في حلقة الحسن بن أبي الحسن فأوجد فيها فأعرف فأتيت الحسن في منزله فدخلت عليه فقلت : يا أبا سعيد كيف بهذه الآية من كتاب الله ؟ قال : أية آية من كتاب الله ؟ قلت : قول الله في هذه الآية : { وترى كثيرا منهم يسارعون في الإثم والعدوان وأكلهم السحت لبئس ما كانوا يعملون } [ المائدة : 62 ] قال : يا عبد الله إن القوم عرضوا السيف فحال السيف دون الكلام قلت : يا أبا سعيد فهل تعرف لمتكلم فضلا ؟ قال : لا قال المعلى : ثم حدث بحديثين قال : حدثنا أبو سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بحديث قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا لا يمنعن أحدكم رهبة الناس أن يقول الحق إذا رآه أن يذكر تعظيم الله فإنه لا يقرب من أجل ولا يبعد من رزق . قال : ثم حدث الحسن بحديث آخر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس للمؤمن أن يذل نفسه قيل : وما إذلاله نفسه ؟ قال : يتعرض من البلاء لما لا يطيق . قيل : يا أبا سعيد فيزيد الضبي وكلامه في الصلاة ؟ قال : أما إنه لم يخرج من السجن حتى ندم قال المعلى : فقمت من مجلس الحسن فأتيت يزيد فقلت : يا أبا مودود بينما أنا و الحسن نتذاكر إذ نصبت أمرك نصبا فقال : مه يا أبا الحسن قال : قلت : قد فعلت قال : فما قال الحسن ؟ قلت : قال : أما إنه لم يخرج من السجن حتى ندم على مقالته قال يزيد : ما ندمت على مقالتي وايم الله لقد قمت مقاما أخطر فيه بنفسي قال يزيد : فأتيت الحسن فقلت : يا أبا سعيد : غلبنا على كل شيء نغلب على صلاتنا ؟ فقال : يا عبد الله إنك لم تصنع شيئا إنك تعرض نفسك لهم ثم أتيته فقال لي مثل مقالته قال : فقمت يوم الجمعة في المسجد و الحكم بن أيوب يخطب فقلت : رحمك الله الصلاة قال : فلما قلت ذلك احتوشتني الرجال يتعاوروني فأخذوا بلحيتي وتلبيبتي وجعلوا يجئون بطني بنعال سيوفهم قال : ومضوا بي نحو المقصورة فما وصلت إليه حتى ظننت أنهم سيقتلوني دونه قال : ففتح لي باب المقصورة قال : فدخلت فقمت بين يدي الحكم وهو ساكت فقال : أمجنون أنت ؟ قال : وما كنا في صلاة فقلت : أصلح الله الآمير هل من كلام أفضل من كتاب الله ؟ قال : لا قلت : أصلح الله الأمير أرأيت لو أن رجلا نشر مصحفا يقرؤه غدوة إلى الليل أكان ذلك قاضيا عنه صلاته ؟ قال : والله إني لأحسبك مجنونا قال : و أنسن بن مالك جالس تحت منبره ساكت فقلت يا أنس يا أبا حمزة أنشدك الله فقد خدمت رسول الله صلى الله عليه و سلم وصحبته أبمعروف قلت أم بمنكر ؟ أبحق قلت أم بباطل ؟ قال : فلا والله ما أجابني بكلمة قال له الحكم بن أيوب : يا أنس قال : يقول : لبيك أصلحك الله قال : وكان وقت الصلاة قد ذهب قال : كان بقي من الشمس بقية فقال : احبسوه . قال يزيد : فأقسم لك يا أبا الحسن - يعني للمعلى - لما لقيت من أصحابي كان أشد علي من مقامي قال بعضهم : مراء وقال بعضهم : مجنون قال : وكتب الحكم إلى الحجاج : أن رجلا من بني ضبة قام يوم الجمعة قال : الصلاة وأنا أخطب وقد شهد الشهود العدول عندي أنه مجنون فكتب إليه الحجاج : إن كانت قامت الشهود العدول أنه مجنون فخل سبيله وإلا فاقطع يديه ورجليه واسمر عينيه واصلبه قال : فشهدوا عند الحكم أني مجنون فخلى عني . قال المعلى عن يزيد الضبي : مات أخ لنا فتبعنا جنازته فصلينا عليه فلما دفن تنحيت في عصابة فذكرنا الله وذكرنا معادنا فإنا كذلك إذ رأينا نواصي الخيل والحراب فلما رآه أصحابي قاموا وتركوني وحدي فجاء الحكم حتى وقف علي فقال : ما كنتم تصنعون ؟ قلت : أصلح الله الأمير مات صاحب لنا فصلينا عليه ودفن فقعدنا نذكر ربنا ونذكر معادنا ونذكر ما صار إليه قال : ما منعك أن تفر كما فروا ؟ قلت : أصلح الله الأمير أنا أبرأ من ذلك ساحة وآمن للأمير من أن أفر قال : فسكت الحكم فقال عبد الملك بن المهلب - وكان على شرطته - تدري من هذا ؟ قال : من هذا ؟ قال : هذا المتكلم يوم الجمعة قال : فغضب الحكم وقال : أام إنك لجريء خذاه قال : فأخذت فضربني أربع مئة سوط فما دريت حين تركني من شدة ما ضربني قال : وبعثني إلى واسط فكنت في ديماس الحجاج حتى مات الحجاج K رجاله رجال الصحيح

حضرت معلیٰ بن زیاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یزید بن مہلب نے اہل بصرہ کو شکست دی ۔ معلیٰ فرماتے ہیں: میں حسن بن ابوالحسن کے حلقہ میں بیٹھنے سے ڈرتا تھا میں ان کے حلقہ میں پایا جاؤں گا تو پہچان لیا جاؤں گا میں حسن کے پاس ان کے گھر پر آیا میں آپ کے پاس داخل ہوا تو میں نے عرض کی: اے ابوسعید! آپ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے کلام کی کون سی آیت ہے؟ میں نے عرض کی: یہ آیت ’’آپ ان میں سے بہت زیادہ یہودیوں کو دیکھتے ہو کہ گناہ زیادتی اور سود کھانے میں ، دوڑتے ہیں وہ ضرور ہی بہت برے کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اے عبداللہ! بے شک ایک قوم نے تلوار چلائی تلوار ان کے کلام کے درمیان حائل ہوئی میں نے عرض کی: اے ابوسعید! کیا آپ پہچانتے ہیں گفتگو کرنے والے کیلئے کوئی فضیلت؟ انہوں نے فرمایا: نہیں! معلیٰ فرماتے ہیں: پھر انہوں نے دو حدیثیں بیان کیا کہ ہم کو ابوسعید نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کیاکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے کسی کو لوگوں کا ڈر حق بات کہنے سے نہ روکے جبکہ وہ جانتے بھی ہوں اور ان کو الله کی رضا حاصل کرنے کیلئے بیان کریں کیونکہ وہ جو ناحق پر ہے وہ نہ تو موت پر قریب کر سکتا ہے اور نہ رزق کو دور کر سکتا ہے۔ پھر حسن نے دوسری حدیث بیان کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ عرض کی گئی : ذلیل کرنے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: اپنے آپ کو ایک آزمائش میں ڈالے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا ہے۔ عرض کی گئی: اے ابوسعید! یزید الضبی اور اس کا کلام نمازکے بارے میں کیا ہے؟ فرمایا: وہ قید سے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ وہ شرمسار ہو گا۔ میں یزید کے پاس آیا میں نے کہا: اے ابومودود! ہم اور حسن آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک میں نے آپ کا ذکر کیا انہوں نے فرمایا: اے ابوالحسن! اس کو چھوڑیں! میں نے کہا: آپ نے کچھ کیا ہے؟ اس نے کہا: حسن نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا: انہوں نے فرمایا کہ وہ قید سے نہیں نکلے یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات پر شرمسار نہ ہو۔ یزید نے کہا: میں اپنی بات پر شرمسار نہیں ہوں گا اللہ کی قسم! میں اس جگہ کھڑا ہوں جس میں میری جان کو خطرہ ہے۔ یزید نےکہا: اس کے بعد میں حسن کے پاس آؤں گا میں نے کہا: اے ابوسعید! ہم ہرشی میں مغلوب ہو گئے ہماری نمازوں میں ہم پر غلبہ پا لیا جاتا ہے؟ فرمایا: اے عبداللہ! آپ کچھ نہ کریں آپ اپنے آپ کو ان کے سامنے پیش کریں۔ پھر میں اس کے پاس آیا مجھے پہلی بات کی طرح بات کی تو فرمایا: میں جمعہ کے دن مسجد میں کھڑا ہوا حال یہ تھا کہ حکم بن ایوب خطبہ دے رہے تھے میں نے کہا: الله آپ پر رحم کرے! نماز ۔ جب میں نے یہ بات کہی تو لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور عار دلانے لگے انہوں نے میری داڑھی اور گریبان سے پکڑا اور میرے پیٹ میں اپنی تلواروں کے نچلے حصوں کے ساتھ مارنے لگے مجھے وہ محل کے حکمران تک لے گئے جب مجھے وہاں لے گئے تو میں نے گمان کیا کہ ہو سکتا ہے کہ مجھے قتل کیا جائے۔ میرے لیئے محل کا دروازہ کھول دیا گیا میں داخل ہوا میں حکم کے سامنے کھڑا ہوا وہ خاموشی کی حالت میں تھا۔ اس نے کہا: آپ مجنون ہیں؟ ہم نے نماز میں کیا کیا؟ میں نے کہا: اللہ امیر کی اصلاح کرے؟ کیا تیری گفتگو اللہ کے کلام سے افضل ہے؟ اس نے کہا: نہیں! اللہ امیر کی اصلاح کرے! آپ بتائیں کہ اگر کوئی آدمی قرآن کھول کرصبح سے لے کر رات تک پڑھتا ہے تو کیا اس کی نماز قضاء ہوسکتی ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں خیال کرتا ہوں کہ تو پاگل ہے۔ فرمایا:انس بن مالک منبر کے نچے خاموشی سے تشریف فرما تھے میں نے عرض کی: اے انس! اے ابوحمزہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی آپ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے کیا اسے نیکی جانتے ہیں؟ جو میں نے عرض کی : یا برائی ؟ کیایہ حق ہے یا باطل؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم مجھے کسی بات کا جواب نہیں دیا ۔حکم بن ایوب نے کہا: اے انس! راوی کا بیان ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ حاضر ہوں! اللہ آپ کی اصلاح کرے! میں نے کہا: نماز کا وقت ہے سورج کے غروب ہونے میں تھوڑا وقت باقی ہے تو کہا: تم اسے روکو! یزید نے کہا: میں تجھے قسم دیتا ہوں اے ابوالحسن! یعنی معلیٰ کو کہا جب میں اپنے دوستوں میں سے کچھ کو ملا تو وہ وقت مجھ پر پہلے کھڑا ہونے کے وقت ، سے زیادہ سخت تھا ان میں سے بعض کہنے لگے : یہ دکھاوا کر رہا ہے بعض کہنے لگے: یہ جنون ہے ۔ حکم نے حجاج کی طرف خط لکھا کہ بنی ضبہ کا ایک آدی جمعہ کے دن کھڑا ہوا ہے اس نے کہا: نماز کا وقت ہو گیا ہے اس حالت میں کہ میں خطبہ دے رہا تھا اس پر میرے عادل گواہ بھی ہیں کہ یہ مجنون ہے۔ تو اس کا راستہ چھوڑ دے ور نہ اس کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دے اس کی آنکھوں پر گرم تار ڈالو اور اس کو سولی پر چڑھا دو۔حکم کے پاس گواہی دی کہ میں مجنون ہوں میرا راستہ چھوڑ دیں۔ معلیٰ نے یزیدی سے روایت کر کے فرمایا:ہمارا بھائی فوت ہو گیا ہم اس کے جنازہ میں شریک ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جب دفن کیا گیا تو میں ایک گروہ میں پیچھے ہٹ کر رکا ہم نے اللہ کا ذکر اور قیامت کا ذکر کیا ہم اسی حالت میں تھے کہ اچانک ہم نے گھوڑے کی پیشانی اور لشکر دیکھا، گھوڑوں کی پیشانیاں جب میرے ساتھیوں نے ان کو دیکھا تو وہ کھڑے ہوئے اور مجھے اکیلا چھوڑ گئے ۔ حکم آیا یہاں تک کہ میرے پاس کھڑا ہوا اس نے کہا: تم کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا: اللہ امیر کی اصلاح کرے! ہمارا ساتھی فوت ہو گیا ہے ہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ہے اور دفن کیا ہم اپنے رب اور قیامت کا ذکر کر رہے ہیں اور ہم ذکر کر رہے ہیں جو اس کے ساتھ ہوگا ۔ اس نے کہا: آپ کو یہاں سے جانے کی رکاوٹ ہے جس طرح وہ چلے گئے ہیں؟ میں نے کہا: اللہ امیر کی اصلاح کرے؟ میں اپنے آپ کو ذلیل کرنے سے بری ہوں میں امیر کی طرف سے بھاگنے سے امن میں ہوں ۔ حکم خاموش ہو گیا ۔ عبدالملک بن مہلب نے کہا: وہ پولیس پر نگران تھا وہ جانتا تھا کہ یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ وہی ہے جس نے جمعہ کے دن گفتگو کی ہے۔ حکم کو غصہ آیا اور کہا: تو جرأت کرنے والا ہے تم دونوں اس کو پکڑو۔ مجھے پکڑا گیا اور مجھے چار سو کوڑے مارےگئے میں نہیں جانتا ہوں کہ جس وقت مجھے چھوڑاگیا مجھے مار کھاتے وقت زیادہ تکلیف ہوئی یا چھوڑتے وقت زیادہ تکلیف ہوئی اور مجھے واسط کی طرف بھیجا میں حجاج کے حمام کی جگہ میں رہا یہاں تک کہ حجاج مر گیا۔

المعلى فخشيت ← لما هزم يزيد بن المهلب أهل البصرة ← الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1411

chevron_left Previous
1…22232425
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter