Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1355

1355 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا زهير بن محمد عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن سعيد بن المسيب Y عن أبي سعيد الخدري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ألا أدلكم على شيء يكفر الله به الخطايا ويزيد في الحسنات ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال : إسباغ الوضوء في المكاره وكثرة الخطا إلى المساخد وانتظار الصلاة بعد الصلاة ما منكم من رجل يخرج من بيته متطهرا فيصلي مع المسلمين الصلاة الجامعة ثم يقعد في المسجد ينتظر الصلاة الأخرى إلا الملك يقول : اللهم اغفر له اللهم ارحمه فإذا قمتم إلى الصلاة فاعدلوا صفوفكم وأقيموا وسدوا الفرج فإني أراكم من خلفي وراء ظهري فإذا قال إمامكم : الله أكبر فقولوا الله أكبر وإذا ركع فاركعوا وإذا قال : سمع الله لمن حمده فقولوا : اللهم ربنا لك الحمد وإن خير الصفوف المقدم وشرها المؤخر وخير صفوف النساء المؤخر وشرها المقدم يا معشر النساء إذا سجد الرجال فاخفضن أبصاركن لا ترين عورات الرجال من ضيق الأزر K إسناده حسن

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا م میں تم کو ایک شے کے متعلق نہ بتاؤں جس کے ساتھ گناه معاف ہوں اور نیکیوں میں اضافہ ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگی کی حالت میں وضو کرنا ہے کثرت سے مسجد، کی طرف جانا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے تم میں سے کسی کا اپنے گھر سے وضو کر کے نکلنا ہے مسلمانوں کے ساتھ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ہے پھر مسجد میں بیٹھنا اور دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ تو فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو معاف کر دے! اے اللہ! اس پر رحم فرما! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو توصفوں کو سیدھا کرو، سیدھے رہو خلاء پر کرو۔ میں تم کو پیچھے سے سے دیکھتا ہوں، اپنی پیٹھ سے۔ جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تم بھی اللہ اکبرکہو، جب امام رکوع کرے تم بھی رکوع کرو۔ جب امام کے سمع الله لمن حمده! تو تم اللهم ربنا لك الحمد، کہو بے شک بہتر صف آگے والی ہے، بدترین پیچھے والی ہے۔ عورتوں کی بہترین صف پیچھے والی ہے، بدترین آگے والی ہے۔ اے عورتوں کے گروہ! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں جھکا لوتہبند کے تنگ ہونے کی وجہ سے مردوں کی شرمگاہ نہ دیکھو۔

بَلٰی ← ألا أدلكم على شيء يكفر الله به الخطايا ويزيد في الحسنات ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1355

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1356

1356 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا همام حدثنا قتادة عن أبي الصديق Y عن أبي سعيد الخدري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أن رجلا قتل تسعة وتسعين نفسا فسأل أعلم أهل الأرض فدل على رجل فأتاه فقال : إنه قتل تسعة وتسعين نفسا فهل له من توبة ؟ فقال : بعد قتل تسعة وتسعين ليست لك توبة فانتضى سيفه فقتله فكمل به مئة قال : ثم إنه مكث ما شاء الله ثم سأل عن أعلم أهل الأرض فدل على رجل فقال : إنه قتل مئة نفس فهل له من توبة ؟ قال : ومن يحول بينك وبين التوبة ؟ اخرج من هذه القرية الخبيثة التي أنت بها إلى قرية كذا وكذا فاعبد ربك فيهم قال : فخرج وعرض أجله في الطريق فاختصم ملائكة الرحمة وملائكة العذاب فقال إبليس : إنه لم يعصني ساعة قط قالت ملائكة الرحمة : إنه خرج تائبا فزعم حميد الطويل أن بكرا حدثه عن أبي رافع قال : بعث الله ملكا فاجتمعوا إليه - رجع الحديث إلى حديث قتادة - قال : فقال : انظروا إلى أي القريتين كان أقرب فألحقوه بأهلها قال قتادة : فقرب الله عز و جل القرية الصالحة وباعد منه الخبيثة وألحقوه بأهلها K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدی نے 99 آدمیوں کوقتل کیا تھا۔ وہ آیا پوچھنے کے لیے اس کے لیے توبہ ہے؟ وہ ایک راہب کے پاس آیا، اس نے اس سے پوچھا۔ اس نے کہا، تیری توبہ نہیں قبول ہو سکتی۔ اس نے راہب کو قتل کیا اور سو مکمل کر دیئے پھر جتنا اللہ نے چاہااتنی دیر ر کار ہا پھر اس نے زمین کے بڑے عالم کے متعلق پوچھا تو اس کو ایک آدمی کے متعلق بتایا تو اس نے اس سے عرض کی کہ اس نے سوقتل کیے ہیں تو کیا اس کی توبہ ہے؟ اس نے کہا: تیرے اور توبہ کے درمیان کون ک شی رکاوٹ ہے؟ اس بڑی بستی سے نکل فلاں فلاں بستی کی طرف ان میں جا کر اپنے رب کی عبادت کر۔ وہ نکلا اور راستے میں اسے موت آ گئی۔رحمت اور عذاب والے فرشتے جھگڑ نے لگے ابلیس نے کہا: یہ کسی وقت بھی نافرمانی سے نہیں رکا تھا۔ رحمت والے فرشتے نے کہا: یہ توبہ کی نیت سے نکلا تھا۔حمیدالطویل نے گمان کیا کہ بکر نے ان کو ابی رافع کے حوالہ سے بتایا کہ اللہ نے فرشتے بھیجے وہ اس کے پاس جمع ہو گئے دوبارہ قتادہ کی حدیث کی طرف آئے انہوں نے دیکھا کہ دونوں بستیوں میں سے کس بستی کے زیادہ قریب ہے جس کی طرف زیادہ ہو اس میں شامل کر دو۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں: اللہ عزوجل نے اس کو نیک لوگوں کی بستی کے قریب کر دیا اور برے لوگوں کی بستی سے دور کر دیا اور اس کو نیک لوگوں میں شمار کر دیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1356

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1357

1357 - حدثثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثني عبد الله بن وهب عن عمرو بن الحارث عن دراج عن أبي الهيثم Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أصدق الرؤيا بالأسحار K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ سچا خواب سحری والا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← حدثثنا زهير

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1357

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1358

1358 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا فضيل بن مرزوق عن عطية العوفي قال Y قال أبوسعيد : قال رجل من الأنصار لأصحابه : أما والله لقد كنت أحدثكم أنه لو قد استقامت له الأمور قد آثر عليكم غيركم قال : فردوا عليه ردا عنيفا قال : فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فجاءهم فقال لهم الأشياء لا أحفظها قالوا : بلى يا رسول الله قال : فكنتم لا تركبون الخيل قال : كلما قال لهم شيئا قالوا : بلى يا رسول الله فلما رآهم لا يردون عليه شيئا قال : أفلا تقولون قاتلك قومك فنصرناك وأخرجك قومك فآويناك ؟ قالوا : نحن لا نقول ذلك يا رسول الله أنت تقوله قال : فقال : يا معشر الأنصار ألا ترضون أن يذهب الناس بالدنيا وأنتم تذهبون برسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : يا معشر الأنصار ألا ترضون أن الناس لو سلكوا واديا وسلكتم واديا لسلكت وادي الأنصار ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال : لولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار الأنصار كرشي وأهل بيتي عيبتي التي آوي إليها اعفوا عن مسيئهم واقبلوا من محسنهم قال أبوسعيد : فما علم ذلك ابن مرجانة عدو الله قال أبوسعيد : قلت لمعاوية : أما إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان حدثنا أنا سنرى بعده أثرة ؟ قال معاوية : فما أمركم ؟ قال : قلت : أمرنا أن نصبر قال : فاصبروا إذا K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار، کے ایک آدمی نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اللہ کی قسم! میں تم کو حدیث بیان کرتا ہوں! اگر آپ کے کام آپ کے لیے سیدھے رہے تو تم پر غیر کو ترجیح دی جائے گی اس کو آسانی سے دور کر دو۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان کو لے کر آؤ! ان کو کچھ اشیاء کے متعلق کہا جو مجھے یا نہیں ہیں۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! کیوں نہیں؟ فرمایا: تم گھوڑوں پر سوار نہیں ہوتے ہو! جب بھی ان کو کوئی شی کہی جاتی تو وہ کہتے : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ! جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو دیکھا کہ ، وہ کسی شی کا جواب نہیں دیتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نہیں کہتے ہو کہ آپ قوم سے لڑیں ہم آپ کی مدد کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قوم سے نکلیں ہم پناہ دیں گے؟ انہوں نے کہا: یارسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم نہیں کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمائیں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم پسند کرتے ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے جاؤ؟ یافرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا: تم پسند کرتے ہو کہ لوگ اگر وادی میں چلیں اور تم بھی وادی میں چلو گے تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا؟ انہوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا آ دمی ہوتا انصار میری عزت اور میری اہل بیت میری پناہ ہیں،میں ان کی طرف پناہ لیتا ہوں تو ان کی برائیوں کو معاف کرو اور نیکیاں قبول کرو۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: علم نہیں تھا کہ ابن مرجانہ اللہ کا دشمن ہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے معاویہ سے کہا: بہر حال حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حدیث بیان کی ہے کہ عنقریب میرے بعد ترجیحات دیکھو گے ۔ حضرت معاویہ نے فرمایا: تم کیا حکم دیتے ہو؟ فرمایا: میں کہتا ہوں کہ میں صبر کا حکم دیااس وقت صبر کرنا۔

أبوسعيد ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1358

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1359

1359 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني حدثني حاتم بن إسماعيل عن ابن عجلان عن نافع عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا خرج ثلاثة في سفر فليؤمهم أحدهم قال نافع : قلت لأبي سلمة : أنت أميرنا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی سفر میں نکلیں ، ان میں سے ایک امامت کروائے۔ حضرت نافع فرماتےمیں نے حضرت ابوسلمہ سے عرض کیا: آپ ہمارے امیر ہیں۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1359

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1360

1360 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني حدثنا عبد العزيز بن محمد عن يزيد بن الهاد عن عبد الله بن خباب Y عن أبي سعيد الخدري أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم - وذكر عنده أبو طالب - فقال : لعله أن تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من النار إلى كعبيه يغلي منه أم دماغه K أخرجه البخاري ومسلم

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ حضرت ابو طالب کا ذکر کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہوسکتا ہے قیامت کے دن ان کو میری شفاعت نفع دے۔ ان کو جہنم کے ایک کونے میں ڈال دیا جائے گا اور آگ ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ابلے گا۔

عنده أبو طالب ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن الحسن بن أبي الحسن المدني ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1360

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1361

1361 - وعن أبي سعيد Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : صلاة الجماعة تفضل على صلاة الفذ بخمس وعشرين درجة K الحديث صحيح فقد أخرجه البخاري

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گناہ زیادہ ثواب کادرجہ رکھتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1361

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1362

1362 - وعن أبي سعيد الخدري Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الرؤيا الصالحة جزء من خمسة وأربعين جزءا من النبوة . قال يزيد : سمعت أبا سلمة يحدث بهذا الحديث عن أبي هريرة عمر بن عبد العزيز فقال : عمر : لو كانت حصاة من عدد الحصى لرأيتها صدقا K أخرجه البخاري

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اچھا خواب نبوت کے پینتالیسواں حصہ ہے۔ حضرت یزید فرماتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بن عمر بن عبد العزیز سے روایت کرتےہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اگر کنکریوں کی تعداد کے مطابق خواب آئے تو میں سچ شمار کروں گا۔

أبي هريرة عمر بن عبد العزيز ← بِهَذَا الْحَدِيثِ ← أَبَا سَلَمَةَ ← يَزِيدُ: ← الرؤيا الصالحة جزء من خمسة وأربعين جزءا من النبوة ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1362

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1363

1363 - وعن أبي سعيد الخدري Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه سمعه يقول : إذا رأى أحدكم رؤيا يحبها فإنها من الله فليحمد الله عليها وليحدث بها وإذا رأى غير ذلك مما يكره فإنها من الشيطان فليستعذ من شرها ولا يذكرها لأحد فإنها لن تضره K أخرجه البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب اچھا دیکھے تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اس پر اللہ کی تعریف کرے جب اس کے علاوہ ناپسند خواب دیکھے یہ شیطان کی طرف سے ہے اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے کسی کے سامنے اس کا ذکر نہ کرے بے شک یہ نقصان دےنہیں ہو گا۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه سمعه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1363

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1364

1364 - وعن أبي سعيد الخدري قال Y قلنا يا رسول الله هذا السلام عليك فكيف نصلي عليك ؟ قال : قولوا اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم K أخرجه البخاري

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سلام بھیجتے ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پڑھو! "اللهم صل على محمد الى آخرہ"

قُلْنَا ← وعن ابي سعيد الخدري

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1364

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1365

1365 - وعن أبي سعيد الخدري Y أنه كان تصيبه الجنابة من الليل فيريد أن ينام فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتوضأ ثم ينام

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ رات کو جنبی ہو گئے تھے میں نے سونے کا ارادہ کیا۔ ينام حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وضو کرنے کا اور پھر سوجانے کا۔

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1365

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1366

1366 - حدثنا زهير حدثنا أحمد بن إسحاق حدثنا عبد العزيز بن مسلم حدثنا سليمان الأعمش عن عطية العوفي Y عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث عن الدجال قال : إنه سيسلط على نفس واحدة يقتلها ثم يحييها فيقول : ألست بربك ؟ فيقول : ما كنت في نفسي أكذب منك الساعة قال : فما كنا نرى إلا أن عمر بن الخطاب حتى مات K إسناده ضعيف

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کے متعلق بیان کیا؟ فرمایا: عنقریب ایک آدمی پر مسلط ہو گا اس کوقتل کرے گا پھر اس کو زندہ کرے گا وہ کہے گا: کیا میں تیرا رب نہیں ہوں؟ وہ کہے گا: اس وقت میرے خیال کے مطابق تجھ سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں ہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے دیکھا کہ حضرت عمر اسی پر رہے یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا۔

ما كنت في نفسي أكذب منك الساعة ← ألست بربك ← إنه سيسلط على نفس واحدة يقتلها ثم يحييها ← الدَّجَّالِ، ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1366

chevron_left Previous
1…202122…25
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter