Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1343

1343 - حدثنا زهير حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب حدثنا داود بن قيس الفراء عن عياض بن عبد الله Y عن أبي سعيد قال : كان يخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم العيد يوم الفطر فيصلي بالناس تينك الركعتين ثم يسلم ويقوم فيستقبل الناس وهم جلوس فيقول : تصدقوا تصدقوا ثلاث مرات وكان أكثر من يتصدق النساء بالقرط والخاتم والشيء فإن كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم حاجة أو يضرب للناس بعثا ذكره لهم وإلا انصرف K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عيد الفطر کے دن نکلتے تھے۔ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے دو رکعتیں پھر سلام پھیرتے اور کھڑے ہوتے ، لوگوں کے سامنے منہ کر کے کھڑے ہوتے لوگ بیٹھے ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین مرتبہ فرماتے: صدقہ کرو! سب سے زیادہ عورتیں صدقہ کرتی تھیں قرظ سونے و چاندی کا۔ اگر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کام ہوتا تو صحابہ میں سے کسی کوبھیج دیتے ورنہ چلے جاتے تھے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1343

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1344

1344 - حدثنا زهير حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب حدثنا سليمان بن بلال عن عبد الله بن عبد الرحمن عن نهار العبدي Y أنه سمع أبا سعيد الخدري يذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله يسأل عن العبد يوم القيامة حتى يقول : ما منعك إذ رأيت المنكر أن تنكره ؟ فإذا الله لقن عبده حجته قال : رب وثقت بك وفرقت الناس K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عز وجل قیامت کے دن بندے سے پوچھے گا: جب تو نے برائی کو دیکھا تھا تواس کو منع کرنے سے کون سی شی تیرے لیے رکاوٹ تھی؟ الله عز وجل بندہ کو حجت کی تلقین کرے گا وہ عرض کرے گا: اے اللہ!تجھ سے امید تھی اور میں لوگوں سے ڈرتا تھا۔

أبا سعيد الخدري يذكر ← نهار العبدي أنه ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1344

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1345

1345 - حدثنا زهير حدثنا إسحاق بن يوسف حدثنا عوف عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تفترق أمتي فرقتين فتمرق بينهما مارقة يقتلها أولى الطائفتين بالحق K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری امت دو گروہوں میں بٹ جائے گی ان کے دو گروہوں کے درمیان سے کچھ نکلنے والے نکلیں گے ان کوقتل وہ کریں گے جوحق پر دوگروہوں میں سے بہتر ہوں گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1345

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1346

1346 - حدثنا زهير حدثنا حسين بن محمد حدثنا إسرائيل عن عبد الله بن عصمة قال Y سمعت أبا سعيد الخدري يقول : أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم الراية فهزها ثم قال : من يأخذها بحقها ؟ فجاء الزبير فقال : أنا فقال : أمط ثم قام رجل آخر فقال : أنا فقال : أمط ثم قام آخر قال : أنا فقال : أمط فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي أكرم وجه محمد لأعطيتها رجلا لا يفر بها هاك يا علي فقبضها ثم انطلق حتى فتح الله فدك وخيبر وجاء بعجوتها وقديدها K إسناده جيد

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جھنڈا کو پکڑکر اس کو ہلایا اور پھر فرمایا اس کو اس کے حق کے ساتھ کون پکڑے گا؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو واپس کر دیا، پھرایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کی: میں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو بھی واپس کر دیا۔ پھر ایک اور کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: میں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بھی واپس کر دیا۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ذات جس نے محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرے کو عزت دی ہے۔ میں ضرور اس آدمی کو دوں گا جو اسے اٹھانے کے بعد بھاگے گا نہیں۔ اے علی! رضی اللہ عنہ اسے پکڑ لو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پکڑا پھر چل پڑے یہاں تک کہ اللہ نے فدک و خیبر ان کے ہاتھ پر فتح کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہاں کی عجوہ کھجور اور سوکھا گوشت لے کرآئے۔

أمط ← أمط ثم قام آخر ← أمط ثم قام رجل آخر ← من يأخذها بحقها فجاء الزبير ← أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم الراية فهزها ثم ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1346

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1347

1347 - حدثنا زهير حدثنا زكريا بن عدي حدثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن عطاء بن يسار Y عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يطعم يوم الفطر قبل أن يخرج ولا يصلي قبل الصلاة فإذا انصرف صلى ركعتين K إسناده حسن

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عيد الفطر کے دن نکلنے سے پہلے کچھ کھاتےتھے عید کی نماز سے پہلے کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ جب واپس جاتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1347

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1348

1348 - حدثنا زهير حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا شيبان عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن عبد الرحمن بن أبي ليلى Y عن أبي سعيد الخدري قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي يده أكمؤ فقال : هؤلاء من المن وما ؤهن شفاء للعين K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں کھمیاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ من سے ہے ان کا پانی آنکھوں کے لیئے شفاء ہے۔

خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي يده أكمؤ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1348

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1349

1349 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن عمرو عن عمر بن الحكم بن ثوبان Y أن أبا سعيد الخدري قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم علقمة بن مجزر على بعث أنا فيهم فخرجنا حتى إذا كنا على راس غزاتنا أو في بعض الطريق فاستأذنه طائفة فأذن لهم وأمر عليهم عبد الله بن حذافة وكان من أصحاب بدر وكانت فيه دعابة فكنت فيمن رجع معه فبينما نحن في بعض الطريق فنزلنا منزلا وأوقد القوم نارا يصطلون بها أو يصنعون عليها صنيعا لهم إذ قال عبد الله : أليس لي عليكم السمع والطاعة ؟ قالوا : بلى قال : فما أنا بآمركم من شيء إلا فعلتموه ؟ قالوا : بلى قال : فإني أعزم عليكم بحقي وطاعتي إلا تواثبتم في هذه النار قال : فقام ناس فتحجروا حتى إذا ظن أنهم واثبون فيها قال : أمسكوا عليكم أنفسكم وإنما كنت أضحك معكم فلما قدموا على نبي الله صلى الله عليه و سلم ذكروا ذلك له فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من أمركم منهم بمعصية فلا تطيعوه K إسناده حسن

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علقمہ بن مجزز کو ایک لشکر پر امیر بنا کر بھیجا میں ان میں شامل تھا۔ ہم نے یہاں تک کہ ہم اپنی منزل کی انتہاء پر راستے ہی میں تھے بعض گروہ والوں نے اجازت چاہی تو ان کو اجازت دے دی ان پرعبد الله بن حذافہ کو امیر مقرر کیا۔ حضرت عبداللہ بدری صحابی اور اپنے مزاج میں حساس تھا میں بھی ان واپسں آنے والوں میں شامل تھا ابھی راستے ہی میں تھے کہ ہم ایک جگہ اترے قوم نے آگ جلائی سردی دور کرنے کے لیئے یا اس پر کھانا پکانے کے لیے۔ اچانک حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا: کیا میں تم پر امیر نہیں ہوں ! تم پر سننا اور اطاعت لازمی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں! حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو اپنے حق اور اپنی اطاعت کی قسم دیتا ہوں ! کیا تم اس آگ میں چھلانگ لگا دو گے؟ لوگ اٹھے اور تیار ہونے لگے یہاں تک کہ گمان تھا کہ وہ اس میں چھلانگ لگا دیں گے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روکو تم اپنے آپ کو میں تم کو آزما رہا تھا یعنی مذاق کر رہا تھا جب وہ گروہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو اس بات کا ذکر کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو تم کو گناہ کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔

عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1349

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1350

1350 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا سفيان الثوري و حماد بن سلمة جميعا عن عمرو ابن يحيى عن أبيه - قال حماد في حديثه - Y عن أبي سعيد - ولم يجاوز سفيان أباه - قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأرض كلها مسجد إلا المقبرة والحمام K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ، حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ساری زمین مسجد ہے مگر قبرستان اور حمام سجدہ کرنے کی جگہ نہیں ہے۔

أبي سعيد ولم يجاوز سفيان أباه ← حماد في حديثه ← أَبِيهِ ← عمرو ابن يحيى ← سفيان الثوري و حماد بن سلمة جميعا ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1350

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1351

1351 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن إسحاق حدثني عاصم بن عمر بن قتادة الأنصاري ثم الظفري عن محمود بن لبيد أحد بني عبد الأشهل Y عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يفتح يأجوج ومأجوج على الناس كما قال الله : { وهم من كل حدب ينسلون } [ الأنبياء : 96 ] فيغشون الناس وينحاز المسلمون عنهم إلى مدائنهم وحصونهم ويضمون إليهم مواشيهم ويشربون مياه الأرض حتى إن بعضهم ليمر بالنهر فيشربون ما فيه حتى يتركوا يبسا حتى إن من بعدهم ليمر بذلك النهر فيقول : قد كان ها هنا ماء مرة حتى إذا لم يبق من الناس إلا أحد في حصن أو مدينة قال قائلهم : هؤلاء أهل الأرض قد فزعنا منهم بقي أهل السماء قال : ثم يهز أحدهم حربته ثم يرمي بها إلى السماء فترجع إليه متخضبة دما للبلاء والفتنة فبينما هم على ذلك بعث الله دودا في أعناقهم كنغف الجراد الذي يخرج في أعناقهم فيصبحون موتى لا يسمع لهم حس فيقول المسلمون : فيصبحون موتى لا يسمع لهم حس فيقول المسلمون : ألا رجل يشتري لنا نفسه فينظر ما فعل هؤلاء العدو ؟ قال : فتجرد رجل منهم لذلك محتسبا لنفسه قد أطابها على أنه مقتول فيجدهم موتى بعضهم على بعض فينادي : يا معشر المسلمين : ألا أبشروا فإن الله قد كفاكم عدوكم فيخرجون من مدائنهم وحصونهم ويسرحون مواشيهم فلا يكون لها رعي إلا لحومهم فتشكر كأحسن ما شكرت عن شيء من النبات أصابته قط K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج نکلیں گے جس طرح ، اللہ عزوجل فرماتا ہے:” اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ اترتے ہوئے آئیں گے۔ پھر فرمایا: وہ زمین میں پھیل جائیں گئے مسلمان ان سے بچیں گے یہاں تک کہ مسلمانوں کا بقیہ گروہ اپنے قلعوں اور شہروںمیں ٹھہر جائیں گئے وہ یاجوج ماجوج ان لوگوں کے جانوروں کو پکڑ لیں گے یہاں تک کہ ان کا پہلا دستہ نہرکے پاس سے گزرے گا تو وہ اس نہر سے سارا پانی پی لیں گے یہاں تک کہ اس میں کوئی شی نہیں چھوڑیں گے ان کا آخری دستہ ان کے پیچھے سے گزرے تو ان میں سے کہنے والا کہے گا: بے شک کبھی یہاں پانی تھا، حتی کہ جب لوگوں میں سے ایک آدی کی قلعہ یا شہر میں باقی رہ جائے گا۔ ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا: یہاں زمین والوں سے ہم فارغ ہو چکے ہیں اب ہم آسمان والوں کو اتاریں گے یہاں تک کہ وہ اپنے نیزہ کو حرکت دے گا اور اس کو آسمان کی طرف پھینکے گا وہ نیزہ اس حالت میں واپس آئے گا کہ اس کے ساتھ خون لگا ہو گا۔ وہ کہیں گے: ہم نے آسمان والوں کو بھی قتل کر دیا۔ وہ اسی کشمش میں ہوں گے کہ اچا نک ان پر ٹڈیوں کی طرح ایک کیڑا ان کی ہلاکت کیلئے مسلط کیا جائے گا وہ ان کو گردنوں سے پکڑے گا اور انہیں ہلاک کر دیں گے صبح مردہ حالت میں کریں گے یہاں تک کہ ان میں حس و حرکت نہ ہوگی، مسلمان کہیں گے: کوئی ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پتا کر کے آئے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ ان میں سے ایک کہے گا: میرا خیال ہے کہ وہ مارے گئے ہیں وہ انہیں مردہ حالت میں ایک دوسرےکے اوپر پڑا ہوا پائے گا وہ آواز دے گا: اے مسلمانوں کے گروہ! خوشخبری! بے شک اللہ نے تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دیا ہے لوگ اپنے قلعوں اور شہروں سے نکلیں گے اور لوگ جانوروں کو کھلا چھوڑ دیں گے ان جانوروں کی خوراک ان کا گوشت ہی ہوگا وہ ان کا گوشت کھا کر اتنے موٹے تازہ ہوں گے کہ اتنا چر کر بھی نہیں ہوئےتھے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← محمود بن لبيد أحد بني عبد الأشهل ← عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1351

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1352

1352 - حدثنا زهير حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن صالح قال ابن شهاب : أخبرني عطاء بن يزيد الجندعي Y أنا أبا سعيد الخدري أخبره أن أناسا من الأنصار سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فلم يسأله أحد إلا أعطاه حتى نفذ ما عنده فلما أنفق كل شيء عنده قال : ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم وإنه من يستعف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله ومن يصطبر يصبره الله ولم تعطوا عطاء خيرا ولا أوسع من الصبر K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انصار صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ختم ہونے تک جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا ہر ایک کو عطا کیا جب ہرشی خرچ کر دی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھی تو فرمایا: میں تم سے زخیرہ کر کے نہیں رکھتا جو سوال کرنے سے بچتا ہے اللہ اس کو بچالیتا ہے جوغنی ہونا چاہتا ہے الله اس کوغنی کر دیتا ہے جو صبر چاہتا ہے اللہ صبر دے دیتا ہے کسی بندے کو نیکی سے بڑھ کر اور صبر سے وسیع کوئی نہیں دی گئی۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1352

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1353

1353 - حدثنا ابو خيثمة حدثنا وكيع عن ابن أبي ليلى عن عطية العوفي Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله : { يأتي بعض آيات ربك لا ينفع نفسا إيمانها } [ الأنعام : 158 ] قال : طلوع الشمس من مغربها K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق فرمايا: "يوم يأتى الىٰ آخره " طلوع شمس مغرب سے ہوگا۔

طلوع الشمس من مغربها إسناده ضعيف جدا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1353

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1354

1354 - حدثنا زهير حدثنا معلى بن منصور أخبرني عبد العزيز بن محمد أخبرني داود بن صالح عن أبيه Y عن أبي سعيد الخدري قال : قدم نبطي من الشام بثلاثين جمل شعير وتمر في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم فسعر يعني مدا درهم بمد النبي صلى الله عليه و سلم وليس في الناس يومئذ طعام غيره فشكا الناس إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم غلاء السعر فخطب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ألا لألقين الله تبارك وتعالى قبل أن أعطي أحدا من مال بغير طيب نفسه K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شام سے نبطی آئے تیس اونٹ جو اور کھجور لے کر حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا نرخ ایک مد کا ایک درہم کا مقرر کیا حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مد کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پاس اس دن اس کے علاوہ کھانا بھی نہیں تھا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی نرخ کے زیادہ ، ہونے کی تو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دیا اور فرمایا: خبردار! اللہ تبارک و تعالی سے ملوں گا قبل اس کے کہ کسی کو کسی کا مال عطا کروں بغیر اس کی جان خوش کیے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1354

chevron_left Previous
1…192021…25
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter