Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1319

1319 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا همام حدثنا قتادة عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا اجتمع ثلاثة فليؤمهم أحدهم وأحقهم بالإمامة أقرؤهم K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد ہوں ان میں سے ایک امامت کروائے ان میں سے زیادہ حق دار وہ جو زیادہ قاری ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1319

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1320

1320 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا همام حدثنا قتادة عن أبي عيسى الأسواري Y عن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عودوا المرضى واتبعوا الجنائز تذكركم الآخرة K إسناده حسن

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیماروں کی عیادت کرو،جنازوں کے پیچھے چلو یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي عِيسَى الْأُسْوَارِيِّ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1320

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1321

1321 - وعن أبي سعيد الخدري Y أن النبي صلى الله عليه و سلم زجر عن الشرب قائما K إسناده حسن

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے ڈانٹا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1321

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1322

1322 - حدثنا زهير حدثنا عفان حدثنا حماد ابن سلمة عن أبي التياح عن أبي الوداك قال : اختلفت أنا وصاحب لي في الحنتم Y فأتينا أبا سعيد الخدري فقلنا له : حدثنا بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم في الحنتم قال : لئن قلت ذاك لقد كنا أحيانا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم منا من يحضره يسمع منه ومنا من تشغله الضيعة فيجيء وقد قام رسول الله صلى الله عليه و سلم فيقول : ماذا قال ؟ فنخبره ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وإنه أتي بشارب ذات يوم فنهز بالأيدي وخفق بالنعال فقال : يا رسول الله والله ما شربت خمرا قال : فما شربت ؟ قال : إنما أخذت تمرات وزبيبات فجعلتهن في دباءة لي فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يخلط بين التمر والزبيب في الدباء والمزفت K إسناده صحيح

حضرت ابی الوداک فرماتے ہیں: میں اور میرے ساتھی نے حنتم برتن کے متعلق اختلاف کیا ہم حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ہم نے ان سے عرض کی: ہم کو ایسی شی کے متعلق بتائیں جو آپ نے حنتم کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو نے یہ کہا کہ ہم حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں حاضر ہوتا تھا وہ  آپ سے سن لیتے ہم سے کوئی اپنے کاروبار میں مشغول ہوتا وہ آتا اس وقت کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو جاتے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما دیتے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمانا ہوتا ہم کو اس کی خبر دی جاتی جو حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شرابی لا یا گیا اس کو ہاتھوں اور جوتوں کے ساتھ مارا گیا۔ اس نے عرض کی یارسول الله! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی قسم ! میں نےشراب نہیں پی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیا پیا ہے؟ اس نے عرض کی : میں نے کچھ کھجوریں اورکشمش لی ہیں ان کو اپنے برتن دباء میں ڈال دیا حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور اور کشمش دباء اور مزفت میں ملا کر ڈالنے سے منع کیا۔

أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← حماد ابن سلمة ← عَفَّانُ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1322

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1323

1323 - حدثنا زهير حدثنا وكيع حدثنا إسماعيل بن مسلم العبدي عن أبي المتوكل الناجي Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من شرب منكم النبيذ فليشربه زبيبا فردا أو تمرا فردا أو بسرا فردا K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں سے نبیذ پینے جائے وہ صرف کشمش کی پیے، یا صرف کھجور کی، یا صرف خشک کھجور کی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1323

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1324

1324 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن إبراهيم حدثني الجريري عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد الخدري قال : اعتكف رسول الله صلى الله عليه و سلم العشر الأوسط من رمضان وهو يلتمس ليلة القدر قبل أن تبين فلما انقضى أمر ببنائه فنقض ثم أبينت له أنها في العشر الأواخر فأمر بالبناء فأعيد واعتكف في العشر الأواخر فخرج على الناس فقال : يا أيها الناس إنما أبينت لي ليلة القدر فخرجت لأخبركم بها فرأيت رجلين يختصمان معهما الشيطان ونسيتها فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة فقال : يا أبا سعيد إنكم أعلم بالعدد منا قال : إنا أحق بذلك منكم فأما التاسعة والسابعة والخامسة قال : تدع التي تدعون : إحدى وعشرين والتي تليها التاسعة وتدع التي تدعون : ثلاثة وعشرين والتي تليها السابعة وتدع التي تدعون خمسا وعشرين والتي تليها الخامسة K إسناده صحيح

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ، حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں لیلة القدر کی تلاش کے لیے اعتکاف کیا لیلة القدر واضح کرنے سے پہلے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بناء کا معاملہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعتکاف توڑ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیلئے واضح کر دی گئی کہ آخری عشرے میں ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعتکاف کی بناء کی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخری عشرے میں  اعتکاف کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے پاس تھے اس کے بعد فرمایا: اے لوگو لیلۃ القدر کو واضح کر دیا گیا ہے میں نکلا ہوں تا کہ میں تم کو اس کے متعلق بتاؤں! میں نے دو آدمی دیکھے کہ وہ جھگڑ رہے تھے دونوں کے ساتھ شیطان تھے مجھے بھلا دی گئی تم انتیس ،ستائیس اور پچیسویں رات کو تلاش کرو۔ ابونضرہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : اے ابوسعید ! رضی اللہ عنہ آپ مجھ سے زیادہ گنتی جانتے ہیں؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم سے زیادہ حق دار ہوں بہر حال انتیس ستائیں اور پچیس کو تلاش کرو فرمایا:۔ تم اکیسویں کو چھوڑ دو جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے وہ نویں اور تیسویں کو چھوڑ دو اور جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے ستائیسویں اور پچیسوں کو چھوڑ دو جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے وہ پانچویں ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1324

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1325

1325 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن مغيرة عن عبد الرحمن بن أبي نعم قال Y جاء أبو سعيد الخدري إلى رجل فقال له : أقرأت ما لم نقرأ وصحبت ما لم نصحب ؟ قال : ما قرأت إلا ما قرأتم وقد صحبتم قال : ففيم تفتي الناس : الدرهمين بثلاث والدرهم بالدرهمين فقال أبو سعيد : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الذهب بالذهب مثلا بمثل فما زاد فهو ربا والفضة بالفضة مثلا بمثل فما زاد فهو ربا قال : سمعته بعد يقول : اللهم إني أتوب إليك مما كنت أفتي به الناس في الصرف K إسناده صحيح

حضرت ابونعیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس آئے اس کو کہا: کیا تو نے قرآن کا کوئی ایسا جز پڑھا ہے جو ہم نے نہیں پڑھا تو صحابی ہے ہم صحابی نہیں ہیں؟ میں نے وہی پڑھا ہے جوتم نے پڑھا ہے تم بھی صحابی ہو تو لوگوں کو فتوی دیتا ہے کہ دو درہم کے بدلے تیس درہم جائز ہیں اور ایک درہم کے بدلے دو درہم لینے جائز ہیں؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سونےکے بدلے سونا برابر برابر فروخت کرو جو اضافہ کرے گا تو وہ سود ہے چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر فروخت کرو جو اضافہ کرے گا تو وہ سود ہے۔راوی حدیث فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد اسے کہتے ہوئے سنا: اے اللہ! میں توبہ کرتا ہوں اس سے جو لوگوں کو بیع صرف کے متعلق فتویٰ دیتا تھا۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1325

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1326

1326 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن ليث عن شهر قال : أقبلت أنا ورجال من عمرة Y فمررنا بأبي سعيد الخدري فدخلنا عليه فقال : أين تريدون ؟ قلت : نريد الطور قال : وما الطور ؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تشد رحال المطي إلى مسجد يذكر الله فيه إلا إلى ثلاثة مساجد : مسجد الحرام ومسجد المدينة وبيت المقدس ولا تصلح الصلاة في ساعتين من النهار بعد الفجر حتى تطلع الشمس وبعد العصر حتى تغيب الشمس ولا يصلح الصوم في يومين من السنة : يوم الفطر من رمضان ويوم الأضحة من ذي الحجة ولا تسافر المرأة سفرا في الإسلام إلا مع بعل أو ذي محرم K إسناده ضعيف

حضرت شہر فرماتے ہیں کہ میں اور کچھ لوگ عمرہ سے واپس آئے ہم حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ کے پاک سے گزرے ہم آپ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ میں نے عرض کی: ہم طور جانا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا: طور کیا کرناہے؟ میں نے حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی سواریاں نہ باندھو اس مسجد کی طرف جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے سوائے مسجد حرام مسجد مدینہ (مرادمسجد نبوی) اور مسجداقصیٰ، دن کے دو وقتوں میں نماز درست نہیں فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے سال میں دو دن روزہ درست نہیں ہے ذی الحجہ کی عیدالاضحیٰ کے دن اور الفطر کے دن کوئی عورت تین دن سے زیادہ کا سفر نہ کرے جو مسلمان ہو مگر اپنے شوہر یا محرم رشتے دار کے ساتھ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← وما الطور ← أين تريدون قلت نريد الطور ← ورجال من عمرة فمررنا بأبي سعيد الخدري فدخلنا عليه ← أقبلت ← شَهْرٍ ← لَيْثٌ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1326

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1327

1327 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن عطية Y عن أبي سعيد الخدري قال : دخل رجلان على رسول الله صلى الله عليه و سلم فسألاه في ثمن بعير فأعانهما بدينارين فخرجا من عنده فلقيهما عمر فقالا وأثنيا معروفا وشكرا ما صنع بهما رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل عمر على النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره بما قلا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ولكن فلان أعطيته ما بين العشرة إلى المئة فلم يقل ذلك إن أحدهم يسألني فينطلق بمسئلته متأبطها وما هي إلا نار فقال عمر : تعطينا ما هو نار ؟ قال : يأبون إلا أن يسألوني ويأبى الله لي البخل K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے دونوں نے اونٹ کے پیسوں کا سوال کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں کی دو دینار کے ساتھ مدد کی ،دونوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے نکلے ۔دونوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے،دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نیکی کی تعریف کی ہےاور شکریہ ادا کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ کی تھی ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے ،بتایا جو ان دونوں نے کہا تھا۔حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :لیکن فلاں کو میں نے دس سے سو تک دیئے تھے۔یہ انہوں نے نہیں کہا۔ان میں ہر ایک مجھ سے مانگ رہے تھے۔ان میں سے ایک مجھ سے مانگتا ہے وہ چلتا ہے مانگ تو اپنی بغل میں آگ لیے ہوتا ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو آگ کیوں دی؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :وہ مانگنے سے نہیں رکتے تھے،اللہ نے میرے متعلق بخل کو پسند ہی نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1327

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1328

1328 - حدثنا زهير حدثنا مسلم بن إبراهيم الأزدي حدثنا صدقة صاحب الدقيق حدثنا مالك بن دينار عن عبد الله بن غالب الأزدي Y عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خصلتان لا تجتمعان في مؤمن : سوء الخلق والبخل K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :ایک مومن میں دو خصلتیں جمع نہیں ہو سکتی ،برا اخلاق ،بخل۔

خصلتان لا تجتمعان في مؤمن سوء الخلق والبخل إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عبد الله بن غالب الأزدي ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← صدقة صاحب الدقيق ← مسلم بن إبراهيم الأزدي ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1328

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1329

1329 - حدثنا زهير حدثنا عبد الله بن يزيد حدثنا سعيد بن أبي أيوب قال : سمعت دراجا أبا السمح يقول : سمعت أبا الهيثم يقول Y سمعت أبا سعيد الخدري يقول : يسلط على الكافر في قبره تسعة وتسعون تنينا تنهشه وتلدغه حتى تقوم الساعة فلو أن تنينا منها نفخت في الأرض ما نبتت خضراء K إسناده ضعيف

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کافر کی قبر پر ۹۹ سانپ مسلط کیے جاتے ہیں وہ اس کو ڈستے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ اگران میں سے ایک سانپ زمین میں ڈستا تو زمین میں سبزہ نہ اگتا۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبَا الْهَيْثَمِ ← دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1329

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1330

1330 - حدثنا زهير حدثنا عبد الله بن يزيد أخبرنا حيوة أخبرني سالم بن غيلان أنه سمع دراجا أبا السمح أنه سمع أبا الهيثم Y أنه سمع أبا سعيد الخدري يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أعوذ بالله من الكفر والدين رجل : يا رسول الله تعدل الدين بالكفر ؟ قال : نعم K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کر رہے تھے (تعلیم امت کے لیے ) میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں قرض اور کفر سے۔ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول الله !صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرض کفر کے برابر ہوسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔

أعوذ بالله من الكفر والدين رجل ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبَا الْهَيْثَمِ، أَنَّهُ ← دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ، أَنَّهُ ← سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1330

chevron_left Previous
1…171819…25
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter