Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 859

859 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا عبيد الله بن موسى عن طلحة عن المطلب بن عبد الله عن مصعب بن عبد الرحمن Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : لما افتتح رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة انصرف إلى الطائف فحاصرها تسع عشرة أو ثمان عشرة لم يفتتحها ثم أوغل روحة أو غدوة ثم نزل ثم هجر فقال : أيها الناس إني فرط لكم وأوصيكم بعترتي خيرا وإن موعدكم الحوض والذي نفسي بيده ليقيموا الصلاة وليؤتوا الزكاة أو لأبعثن إليهم رجلا مني أو كنفسي فليضربن أعناق مقاتلتهم وليسبين ذراريهم قال : فرأى الناس أنه أبو بكر أو عمر فأخذ بيد علي فقال : هذا هو K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا ۔ طائف کی طرف چلے گئے ، اس کا محا صرہ سترہ یا اٹھارہ دن کیا ، فتح نہ ہو سکا ، پھر صبح یا شام ، پھر اتر آ ئے پھر ا س کو چھوڑ دیا ۔ فرمایا : اے لوگو! میں تمہارا حوض کوثر پر انتظار کروں گا ، میں تمہیں اپنی اولاد کے متعلق اچھی وصیت کرتا ہوں ، بے شک تم سے حوض کا وعدہ کرتا ہوں ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! تم نماز قائم کرو ، زکوٰۃ ادا کرو ، ان کی طرف سے اپنی طرف سے ایک آدمی یا میری طرف سے بھیجوں گا وہ ان کی گردنیں اڑا دے گا ، ان کے بچوں کو قیدی کرے گا ، لوگوں نے خیال کیا کہ حضرت ابو بکر یا عمر ہوں گے ، پس آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ، فرمایا : یہ وہ ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← طَلْحَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 859

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 860

860 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو سمع بحالة قال : كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الأحنف Y فأتانا كتاب عمر قبل موته بسنة يقول : اقتلوا كل ساحر وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس وانهوهم عن الزمزمة فقتلنا ثلاث سواحر وجعلنا نفرق بين الرجل وحريمته في كتاب الله وصنع طعاما كثيرا ودعا المجوس وعرض السيف على فخذه وألقوا وقر بغل أو بغلين من ورق وأكلوا بغير زمزمة ولم يكن عمر أخذ الجزية من المجوس حتى أخبره عبد . الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذها من مجوس هجر K إسناده صحيح

حضرت بحالہ فرماتے ہیں کہ احنف کے چچا جزء بن معاویہ کا کاتب تھا ۔ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط آیا ان کے وصال سے ایک سال پہلے ۔ اس میں لکھا ہوا تھا ہر جادو گر کو قتل کرو ۔ الگ کر دو ہر ذی محرم کو مجوسی سے ، ان کو زمزمہ سے نکال دو ۔ ہم نے تین چار جادو گر قتل کیے ، اللہ کی کتاب کی روشنی میں محرم بیوی اور مرد کے درمیان تفریق کا عمل شروع کر دیا ۔بہت زیادہ کھانا تیار کیا گیا ۔ مجوسیوں کو بلوایا گیا ۔ تلوار اپنی ران پر رکھی ایک یا دو خچر وں کے برابر وزن چاندی لا کر ڈھیر کر دی ۔ انہوں نے کھایا بغیر چمچے کے ، مجوسی سے چاندی حضرت عمر رضی اللہ عنہ جزیہ نہیں لیتے تھے ۔ یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم مجوسی سے جزیہ لیا تھا سختی کے لحاظ سے ۔

بحالة ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 860

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 861

861 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا سفيان عن عمرو بن دينار قال : سمعت بجالة يحدث أبا الشعثاء و عمرو بن أوس عام حد مصعب بن الزبير وهو إلى جنب درج زمزم Y كنت كاتبا لجزء بن معاوية عم الأحنف فأتاه عمر قبل موته بسنة : اقتلوا كل ساحر وفرقوا بين كل ذي محرم من المجوس وانهوهم عن الزمزمة قال : فقتلنا ثلاث سواحر وجعلنا نفرق بين المرأة وحريمها في كتاب الله وصنع طعاما كبيرا فدعا المجوس وعرض السيف على فخذه فألقوا وقر بغل أو بغلين من ورق وأكلوا بغير زمزمة قال : ولم يكن عمر أخذ الجزية من المجوس حتى أخبره عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذها من مجوس هجر K إسناده صحيح

حضرت بجالہ فرماتے ہیں کہ جزء بن معاویہ احنف کے چچا کا کاتب تھا ۔ ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خط آیا ان کے وصال سے ایک سال پہلے ۔ اس میں لکھا ہوا تھا ہر جادو گر کو قتل کرو ۔ جدائی کر دو ہر ذی محرم اور مجوسی کےدرمیان ، ان کو زمزمہ استعمال کرنے سے روک دو ۔ ہم نے تین چار جادو گر قتل کیے ، اللہ کی کتاب کی روشنی میں محرم بیوی اور مرد کے درمیان تفریق کا عمل شروع کر دیا ۔بہت زیادہ کھانا تیار کیا گیا ۔ مجوسیوں کو بلوایا گیا ۔ تلوار اپنی ران پر رکھی ایک یا دو خچر وں کے برابر وزن چاندی لا کر ڈھیر کر دی ۔ انہوں نے کھایا بغیر چمچے کے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجوسی سے جزیہ نہیں لیتے تھے ۔ یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مجوسی سے جزیہ لیا تھا ۔

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 861

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 862

862 - حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبو عاصم عن جعفر بن محمد عن أبيه قال Y قال عمر بن الخطاب : كيف أصنع في المجوس ؟ قال : فقام عبد الرحمن بن عوف قائما فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وسئل عنهم فقال : سنتهم سنة أهل الكتاب K رجاله ثقات إلا أنه منقطع

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں مجوسیوں کے معاملہ میں کیا کروں ؟ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے ان کے متعلق پوچھا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : ان کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ کرو ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم وسئل عنهم ← فقام عبد الرحمن بن عوف قائما ← عمر بن الخطاب كيف أصنع في المجوس ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 862

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 863

863 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا القاسم بن الفضل حدثنا النضر بن شيبان عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام رمضان إيمانا واحتسابا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه

حضرت ا بی سلمہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور ثواب کی نیت سے تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اس کو پیدا کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 863

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 864

864 - حدثنا هدبة حدثنا القاسم بن الفضل حدثنا النضر بن شيبان قال : كنت بعرفات فلقيت أبا سلمة بن عبد الرحمن فقلت : حدثني بشيء سمعته من أبيك بين أبيك وبين رسول الله صلى الله عليه و سلم أحد قال Y حدثني أبي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله فرض صيام رمضان وسننت قيامه

حضرت نضر بن شیبان فرماتے ہیں کہ میں عرفات میں تھا کہ میں ا بو سلمہ بن عبدالرحمن سے ملا ، میں نے عرض کی : مجھے یاسی شی کے متعلق بتائیں جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہے جس میں آپ کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو ۔ فرمایا : مجھے میرے والد نے بیان کیا حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے حوالہ سے کہ اللہ عزوجل نے رمضان کے روزے فرض کیے ہیں ، میں نے اس کا قیام سنت قرار دیا ہے ( یعنی نماز تراویح)۔

النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 864

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 865

865 - حدثنا نصربن علي أخبرني أبي حدثني أبي عن النضر بن شيبان قال : قلت لأبي سلمة بن عبد الرحمن : ألا تحدثنا حديثا سمعته من أبيك سمعه أبوك من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال Y قال عبد الرحمن بن عوف : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر رمضان فقال : إن رمضان شهر افترض الله صيامه وإني سننت للمسلمين قيامه فمن صامه وقامه خرج من الذنب كيوم ولدته أمه

حضرت نضر بن شیبان فرماتے ہیں کہ میں عرفات ا بوسلمہ بن عبدالرحمن سے ملا میں نے عرض کی: مجھے یاسی شی کے متعلق بتائیں جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہے جس میں آپ کے والد اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے درمیان کوئی واسطہ نہ ہو ۔ فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے بیان کیا رمضان کے حوالہ سے کہ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ عزوجل نے روزے فرض کیے ہیں ، اس کا قیام مسلمانوں کے لیے سنت میں بنایا ہے ( یعنی نماز تراویح)، جس نے اس کے روزے رکھے اور قیام کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اسے پیدا کیا ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← من أبيك سمعه أبوك من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← قلت لأبي سلمة بن عبد الرحمن ألا تحدثنا حديثا ← النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ ← أَبِي ← أَبِي ← نصربن علي

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 865

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 866

866 - حدثنا بشر بن الوليد و عبيد الله بن عمر القواريري و سريج بن يونس قالوا : أخبرنا يوسف بن يعقوب الماجشون عن صالح ين إبراهيم عن أبيه Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : إني لواقف يوم بدر في الصف نظرت عن يميني وشمالي فإذا أنا بين غلامين حديثة أسنانهما من الأنصار فتمنيت أن أكون بين أضلع منهما فغمزني أحدهما فقال : يا عم هل تعرف أبا جهل ؟ قال : قلت : نعم وما حاجتك إليه يا ابن أخي ؟ قال : إني خبرت أنه يسب رسول الله صلى الله عليه و سلم والذي نفسي بيده لو رأيته لا يفارق سوادي سواده حتى يموت الأعجل قال : فتعجبت من ذلك فغمزني الآخر فقال لي مثلها فلم أنشب أن نظرت إلى أبي جهل يزول في الناس فقلت لهما : ألا تريان ؟ هذا صاحبكما الذي تسألان عنه فابتدراه فضرباه بسيفيهما حتى قتلاه ثم انصرفا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبراه فقال : أيكما قتله ؟ قال كل واحد منهما : أنا قتلته قال : مسحتما سيفيكما ؟ قالا : لا فنظر في السيفين قال : كلاكما قتله فقضى بسلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح واسم الآخر معاذ بن عفراء K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا ، میں نے اپنے بائیں دائیں جانباز و نوجوان انصار کے دیکھے ۔ میں نے خواہش کی کہ میں ان کے درمیان ہوں ، ان دونوں میں سے ایک نے مجھے جھنجھوڑا ، عرض کی : اے چچا ! کیا آپ ابو جہل کو جانتے ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اے میرے بھائی کے بیٹو ! تمہیں اس سے کیا کام ہے ؟ ان دونوں میں سے ایک نے کہا : مجھے خبر پہنچائی گئی کہ وہ ساری کائنات کے سردار حضور سرور دو عالم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو گالیاں دیتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر میں نے اس گستاخ کو دیکھ لیا ، میں اس وقت تک اس سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ ہم میں سے کسی کو موت آ جائے ۔ میں نے اس کی اس بات پر تعجب کیا دوسرے نے مجھے جھنجھوڑا ، اس نے مجھے پہلے کی طرح کہا ، میں نے دیکھا گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآل وسلم ابو جہل لوگوں میں گھوم رہا تھا ، میں ان دونوں سےکہا ، کیا تم دونوں اس کو دیکھ رہے ہو ؟ یہ تمہارا شکار ہے ، جس کے متعلق مجھ سے پوچھ رہے ہو ؟ دونوں نے جلدی کی یہ سنتے ہی دونوں نے س کو اپنی تلوار ماری یہاں تک کہ وہ واصل جہنم کر دیا گیا ۔ پھر دونوں حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی بار گاہ میں آئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو دونوں نے خوشخبری دی ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تم میں سے کس نے قتل کیا ہے ؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا : میں نے اس کو قتل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے عرض کی : نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے دونوں کی تلواریں دیکھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تم دونوں نے قتل کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ا بو جہل کے سامان کا فیصلہ حضرت معاذ بن عمرو جموع رضی اللہ عنہ دونوں کے لیے کر دیا ، دوسرے کا نام معاذ بن عفراء تھا ۔

يميني، وشمالي، فإذا ← إني لواقف يوم بدر في الصف نظرت ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← صالح ين إبراهيم ← یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْمَاجِشُوْنُ، ← بشر بن الوليد و عبيد الله بن عمر القواريري و سريج بن يونس

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 866

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 867

867 - حدثنا محمد بن بحر البصري حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص حدثني أبي قال : سمعت سعد بن إبراهيم يحدث عن أبيه Y عن جده عبد الرحمن بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قريش والأنصار ومزينة وأسلم وغفار وأشجع وسليم أوليائي ليس لهم ولي دون الله ورسوله . قال عمرو بن يحيى : فلقيت إسحاق بن سعد في المسجد فقلت له : إن أبي حدثني عن أبيك فحدثته الحديث فقال : إنما هم سبعة لا أدري الذي نقص من هو . قال عمرو : وقد ذكر أبي عن غيره أن الذي نقص منهم سليم K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے قریش اور انصار اور جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور غفار اور اشجع اور سلیم قبیلوں والے میرے مدد گار ہیں ، ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے علاوہ کوئی مدد گار نہیں ہے ۔ حضرت عمرو بن یحیی نےکہا : میں مسجد میں اسحاق بن سعد سے ملا ، میں نے کہا : میرے والد مجھے بیان کرتے ہیں آپ کے والد سے کہ میں نے حدیث بیان ک فرمایا : وہ سات تھے ، میں نہیں جانتا ہوں کہ کم کون ہوا تھا ؟ حضرت عمرو فرماتے ہیں : میرے والد نے ذکر کیا ان کے علاوہ جو ان میں کم ہوا وہ سلیم ہے ۔

جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبِي ← عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص ← محمد بن بحر البصري

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 867

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 868

868 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عثمان بن عمر عن عبد العزيز بن أبي رواد حدثنا رجل من أهل الطائف عن غيلان بن شرحبيل Y عن عبد الحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم فإن الله قال : { ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم } والأعراب تسميها العتمة وإن العتمة الإبل للحلاب K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : دیکھو تم بھی کہیں گنواروں کی طرح عشاء کی نماز کو عتمہ نہ کہنا کیونکہ اللہ نے فرمایا : "و من بعد صلاۃ العشاء ثلاث عورات لکم "اللہ کی کتاب قرآن میں اس نماز کا نام عشاء کی نماز ہے ۔ گنوار لوگ عشاء کی نماز کو عتمہ اس لیے کہتے ہیں کہ عتمہ رات کی تاریکی کو کہتے ہیں وہ اس وقت اپنی اونٹنیوں کا دودھ دوھتے تھے ۔

عبد الحمن بن عوف ← غيلان بن شرحبيل ← رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 868

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 869

869 - حدثنا زهير حدثنا يونس بن محمد حدثنا ليث بن سعد عن يزيد بن الهماد عن عمرو عن عبد الرحمن بن حويرث عن محمد بن جبير Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : دخلت المسجد فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم خارجا من المسجد فاتبعته أمشي وراءه ولا يشعر بي حتى دخل نخلا فاستقبل القبلة فسجد فأطال السجود وأنا وراءه حتى ظننت أن الله قد توفاه فأقبلت أمشي حتى جئته فطأطأت رأسي أنظر في وجهه فرفع رأسه فقال : ما لك يا عبد الرحمن بن عوف ؟ فقلت : لما أطلت السجود حسبت أن يكون الله توفى نفسك فجئت أنظر فقال : إني لما رأيتني دخلت النخل لقيت جبريل فقال إني أبشرك أن الله يقول : من سلم عليك سلمت عليه ومن صلى عليك صليت عليه K إسناده حسن

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد کے ایک چبوترے میں کھڑا تھا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم اس دروازہ سے باہر نکلے جو جنت البقیع کے قریب تھا ۔ میں کچھ دیر ٹھہرا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پیچھے نکلا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو پایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم اسواف کے باغ میں داخل ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے وضو کیا پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے سجدہ کیا بہت لمبا سجدہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے التحیات پڑھ کر سلام پھیرا میں جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس گیا ۔میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم !میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے خوف ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے لمبا سجدہ کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم وصال فرما گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جبرائیل علیہ السلام مجھے خوشخبری دے گئے ہیں جو مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے اللہ عزوجل اس پر اپنی رحمت اور سلامتی بھیجتا ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبد الرحمن بن حويرث ← عَمْرٍو، ← يزيد بن الهماد ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abdul Rahman bin Auf › Chapter · Hadith 869

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter