Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 847

847 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا حاتم بن إسماعيل عن محمد بن عثمان عن ابن أبي سندر الأسلمي عن مولى لعبد الرحمن بن عوف قال Y قال عبد الرحمن : كنت قائما في رحبة المسجد فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم خارجا من الباب الذي يلي المقبرة فلبثت شيئا ثم خرجت على إثره فوجدته قد دخل حائطا من الأسواف فتوضأ رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم صلى ركعتين فسجد سجدة فأطال السجود فيها فلما تشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم تبادأت له فقلت : بأبي أنت وأمي سجدت سجدة أشفقت أن يكون الله قد توفاك من طولها قال : إن جبريل بشرني أنه من صلى علي صلى الله عليه ومن سلم علي سلم الله عليه K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرمات ہیں کہ میں مسجد کے ایک چبوترے میں کھڑا تھا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم اس دروازز سے باہر نکلے جو جنت البقیع کے قریب تھا ۔ میں کچھ دیر ٹھہرا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پیچھے نکلا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو پایا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم اسواف کے باغ میں داخل ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے وضو کیا پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے سجدہ کیا بہت لمبا سجدہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے التحیات پڑھ کر سلام پھیرا میں جلدی سے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے پاس گی ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے خوف ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے لمبا سجدہ کرنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم وصال فرما گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جبرائیل علیہ السلام مجھے خوشخبری دے گئے ہیں جو مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے اللہ عزوجل اس پر اپنی رحمت اور سلامتی بھیجتا ہے ۔

مَوْلًى لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابن أبي سندر الأسلمي ← محمد بن عثمان ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Hadith 847

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 848

848 - حدثنا محمد بن إسحاق المسيبي حدثنا عبد الله بن نافع عن هشام بن سعد عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن أبيه عبد الرحمن بن عوف أن عمر بن الخطاب حين خرج إلى الشام فسمع بالطاعون فتكركر عن ذلك فقال له عبد الرحمن : أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا سمعتم به قد وقع بأرض فلا تدخلوا عليه وإذا وقع وأنتم بأرض فلا تخرجوا فرارا منه فرجع عمر عن حديث عبد الرحمن بن عوف K رجاله ثقات

حضرت ا بو سلمہ بن عبدالرحمن اپنے ولد عبدالرحمن بن عوف سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملک شام کی طرف نکلے ، آپ نے طاعون کے متعلق سنا کہ وہاں طاعون آیا ہوا ہے ، آپ نے ا س کے متعلق تردد کیا ، آپ سے عبدالرحمن نے عرض کی : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم ایسے شہر کے متعلق سنوکہ وہاں طاعون آیا ہے تو وہاں داخل نہ ہوں ، جب وہاں واقع ہو جہاں تم ہو تو وہاں سے نہ بھاگو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمن سے مروی حدیث سن کر واپس چلے گئے ۔

أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ الْمُسَیَّبِیُّ

Hadith 848

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 849

849 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي و معلى بن مهدي قالا : حدثنا أبو عوانة عن عمر بن أبي سلمة عن أبيه قال : حدثني قاضي أهل فلسطين قال Y سمعت عبد الرحمن بن عوف يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث والذي نفس محمد بيده إن كنت لحالفا عليهن : لا ينقص مال من صدقة فتصدقوا ولا يعفو رجل عن مظلمة يريد بها وجه الله إلا رفعه الله بها عزا يوم القيامة ولا يفتح رجل على نفسه باب مسألة إلا فتح الله عليه باب فقر K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : تین ( کام کرنے سے ہر چیز میں اضافہ ہوتا ہے ) اس کی ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔ میں ان پر قسم اٹھاتا سکتا ہوں (1) صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا ، پس صدقہ دیا کرو ۔(2) مظلوم آدمی کو معاف کرنا اللہ کی رضا کے لیے ، اس کے ساتھ اللہ قیامت کے دن اس کی عزت میں اضافہ کرے گا ۔ (3) جو بندہ اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس کے لیے محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← قاضي أهل فلسطين ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← إبراهيم بن الحجاج السامي و معلى بن مهدي

Hadith 849

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 850

850 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سمينة البصري حدثنا عثمان بن عفان الغطفاني حدثنا الزبير بن خربوذ عن شيخ من أهل المدينة Y عن عبد الرحمن بن عوف قال : عممني رسول الله صلى الله عليه و سلم فأرسلها من بين يدي ومن خلفي K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مجھے عمامہ شریف باندھا اس کا ایک حصہ میرے آگے اور پیچھے چھوڑا ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← الزبير بن خربوذ ← عثمان بن عفان الغطفاني ← محمد بن إسماعيل بن أبي سمينة البصري

Hadith 850

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 851

851 - حدثنا أبو كريب محمد بن العلاء بن كريب الهمداني حدثنا ابن أبي فديك حدثنا عبد الملك بن زيد بن سعيد بن نفيل عن مصعب بن مصعب بن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف Y عن أبيه قلل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ترفع زينة الدنيا سنة خمس وعشرين ومئة K إسناده ضعيف

حضرت ا بی سلمہ بن عبدالرحمن عو ف رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : دنیا کی زینت ایک سو پچیس سال تک بلند ہو گی ۔

أبيه قلل ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← مصعب بن مصعب بن ابن شهاب ← عبد الملك بن زيد بن سعيد بن نفيل ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أبو كريب محمد بن العلاء بن كريب الهمداني

Hadith 851

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 852

852 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا يوسف بن يزيد حدثنا إبراهيم بن عمر بن أبان عن ابن شهاب عن أبيه Y عن عبد الرحمن بن عوف أنه شهد ذلك حين أعطى عثمان بن عفان رسول الله صلى الله عليه و سلم ما جهز به جيش العسرة وجاء بسبع مئة أوقية ذهب K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں جس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کے لیے سامان تیار کیا رسول پاک صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو دینے کے لیے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سات اوقیہ سونا لے کر آئے تھے ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ← يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Hadith 852

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 853

853 - حدثنا الحسن بن إسماعيل أبو سعيد البصري حدثنا إبراهيم بن سعد عن أبيه عن جده Y عن عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما انتهى إلى عبد الرحمن بن عوف وهو يصلي بالناس أراد عبد الرحمن أن يتأخر فأومأ إليه النبي صلى الله عليه و سلم أن مكانك فصلى وصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بصلاة عبد الرحمن K إسناده صحيح

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس حالت میں کہ حضرت عبدلرحمن لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ حضرت عبدالرحمن نے پیچھےہونے کا ارادہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں نماز پڑھیں ۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← الحسن بن إسماعيل أبو سعيد البصري

Hadith 853

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 854

854 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا بكر بن عبد الرحمن عن ابن أبي ليلى عن حميد بن أبي عبد الله عن أبي سلمة Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : رأيته يسجد في { إذا السماء انشقت } [ الانشقاق : 1 ] عشر مرار K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو میں نے دیکھا اذا السماءانشقت میں سجدہ کرتے ہوئے دس مرتبہ ۔

رأيته يسجد في إذا السماء انشقت الانشقاق عشر مرار إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← حميد بن أبي عبد الله ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 854

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 855

855 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق بن أسماء الجرمي حدثنا أبي حدثنا إسماعيل عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة Y عن ابن عباس قال : تذاكر هو و عمر الصلاة قال : فمر بنا عبد الرحمن بن عوف فقال : ألا أحدثكم بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : فأشهد بشهادة الله لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا صلى أحدكم فكان في الشك من النقصان في صلاته فليصل حتى يكون في الشك من الزيادة K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا نماز کے بارے مذاکرہ کر رہا تھا ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے ۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں تمہیں حدیث نہ بیان کروں جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے سنی ہے ، فرمانےلگے : اللہ کی گواہی کے ساتھ ملا کر میں گواہی دیتا ہوں ، ضرور میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم میں سےکوئی ایک نماز پڑھے ، پس وہ اپنی نماز میں کمی کے لحاظ سے شک میں ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ نماز ادا کرے یہاں تک کہ اسے یہ شک گزرنے لگے کہ اس سے زیادہ نماز پڑھ لی ہے ۔

فأشهد بشهادة الله لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ← من رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ألا أحدثكم بحديث ← فمر بنا عبد الرحمن بن عوف ← تذاكر هو و عمر الصلاة ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقِ بْنِ أَسْمَاءَ الْجَرْمِيُّ،

Hadith 855

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 856

856 - حدثنا موسى بن محمد بن حيان حدثني محمد بن عمر بن عبد الله الرومي قال : سمعت الخليل بن مرة يحدث عن مبشر عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : فضل العالم على العابد سبعين درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : عالم کی فضیلت عابد پر ۔ ستائیس درجہ زیادہ ہ ، ہر ود درجوں کے درمیان فاصلہ زمین اور آسمان کے درمیان جتنا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مبشر ← الخليل بن مرة ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ

Hadith 856

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 857

857 - حدثنا أبو كريب حدثنا يونس بن بكير حدثنا زيد بن سعد عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن أبيه قال : انطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم في طلب رجل من الأنصار فدعاه فخرج الأنصاري من بيته إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ورأسه يقطر ماء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما لرأسك ؟ قال : دعوتني وأنا مع أهلي فخفت أن أحتبس عليك فعجلت فقمت فصيبت علي الماء ثم خرجت فقال : هل كنت أنزلت ؟ قال : لا قال : إذا فعلت ذلك فلا تغتسلن اغسل ما مس المرأة منك وتوضأ وضوءك للصلاة فإن الماء من الماء K إسناده ضعيف

حضرت ا بی سلمہ بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم انصار کے ایک آدمی کی تلاش میں چلے ، آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے اس کو بلوایا ، انصاری نکلا ، اپنے گھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی طرف آیا ، اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا تیرے سر سے کیا ٹپک رہا ہے ؟ اس نے عرض کی : آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے مجھے بلوایا تو میں اپنی بیوی کے پاس تھا ، میں نے خوف کیا اگر اس کے پاس رکا رہا ، میں نے جلدی کی ، میں کھڑا ہوا اپنے اوپر پانی ڈالا پھر میں نکلا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : کیا تجھے انزال ہوا تھا ؟ اس نے عرض کی : نہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جب تو ایسے کرے تو غسل نہ کیا کرو ۔ جو عورت کے ساتھ مس ہوا اس کو دھو لیا کر اور نماز جیسا وضو کت لیا کر بے شک پانی پانی سے ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← زيد بن سعد ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Hadith 857

مسند أبي يعلى · من مسند عبد الرحمن بن عوف ‹ من مسند عبد الرحمن بن عوف · حديث 858

858 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا زيد بن الحباب حدثنا موسى بن عبيدة حدثني قيس بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه Y عن جده عبد الرحمن قال : كان لا يفارق رسول الله صلى الله عليه و سلم منا خمسة أو أربعة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم لما ينويه من حوائجه بالليل والنهار قال : فجئته وقد خرج فاتبعته فدخل حائطا من حيطان الأسواف فصلى فسجد فأطال السجود وقلت : قبض الله روحه قال : فرفع رأسه فدعاني فقال : مالك ؟ فقلت : يا رسول الله : أطلت السجود ؟ قلت : قبض الله روح رسوله لا أراه أبدا قال : سجدت شكرا لربي فيما أبلاني في أمتي من صلى علي صلاة من أمتي كتب له عشر حسنات ومحي عنه عشر سيئات K إسناده ضعيف

حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ہم میں سے پانچ یا چار حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے اصحاب آپ سے جدا نہیں ہوتے تھے جب آپ رات یا دن کو کسی ضرورت کے لیے جاتے ، کہتے ہیں : ایک بار میں آیا تو آپ نکل گئے تھے ، آپ اسواف کے باغ میں داخل ہوئے ، آپ نے نماز پڑھی اور سجدہ کیا ، آپ نے لمبا سجدہ کیا ، میں نے دل میں خیال کیا کہ اللہ نے آپ کی روح لے لی ہے ، آپ نے سجدہ سے سر اٹھا یا ، مجھے بلوایا ، آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے لمبا سجدہ کیا ، میں نے دل می خیال کیا کہ اللہ نے اپنے رسول کی روح لے لی ہے ، میں آپ کو ہمیشہ نہیں دیکھ سکوں گا ۔ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے رب کے لیے سجدہ شکر کیا اس میں جو اللہ نے مجھے انعام دیا میری امت کے حوالہ سے کہ جو میری امت سے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور دس گناہ معاف کیے جائیں گے ۔

جده عبد الرحمن ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← قَيْسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 858

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter