Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 761

761 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد Y عن أبيه يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : أعظم المسلمين في المسلمين جرما من سأل عن أمر لم يحرم على الناس فحرم على الناس من أجل مسألته K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے معاملہ میں سوال کرے جسے حرام نہیں کیا گیا تھا اس کے سوال کرنے سے وہ لوگوں کے لیے حرام ہو جائے ۔

«أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ ← أبيه يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 761

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 762

762 - حدثنا القواريري حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أعظم المسلمين جرما من سأل عن أمر لم يكن حرم على الناس فحرم من أجل مسألته K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے معاملہ میں سوال کرے جسے حرم نہیں کیا گیا تھا اس کے سوال کرنے سے وہ لوگوں کے لیے حرام ہو جائے ۔

أمر لم يكن حرم على الناس فحرم من أجل مسألته إسناده صحيح ← أعظم المسلمين جرما من سأل ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 762

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 763

763 - حدثناه إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد Y عن أبيه يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم نحوه K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس جیسی حدیث ذکر کرتے ہیں ۔

أبيه يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم نحوه إسناده صحيح ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 763

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 764

764 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا سفيان بن عيينة قال أحفظ كما أحفظ بسم الله الرحمن الرحيم عن الزهري عن عامر بن سعد Y عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعظم المسلمين في المسلمين جرما من يسأل عن أمر لم يحرم على الناس فحرم من أجل مسألته K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے معاملہ میں سوال کرے جسے حرام نہیں کیا گیا تھا اس کے سوال کرنے سے وہ لوگوں کے لیے حرام ہو جائے ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أحفظ كما أحفظ بسم الله الرحمن الرحيم ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 764

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 765

765 - حدثنا عبد الله بن مطيع حدثنا هشيم عن خالد الحذاء عن أبي عثمان النهدي قال Y لما ادعى زياد لقيت أبا بكرة قال : فقلت ما هذا الذي صنعتم ؟ قال : سمعت سعدا يحدث يقول : سمعت أذناني ووعاه قلبي النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من ادعى إلى أب في الإسلام وهو يعلم أنه غير أبيه حرم الله عليه الجنة . فقال أبو بكرة : وأما سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت ابو عثمان النبدی سے روایت ہے کہ جب زیاد نے دعویٰ میں ابو بکرہ سے ملا تو میں نے کہا: تم نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے کہا : میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے دونوں کانوں سے سنا اور اپنے دل میں اس کو یاد کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مسلمان ہونے کی حالت میں اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا باپ اس کا علاوہ ہے تو اس پر جنت حرام ہے ۔ ابو بکرہ فرماتے ہیں : میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے ۔

أذناني ووعاه قلبي النبي صلى الله عليه و سلم ← سَعْدًا، ← فقلت ما هذا الذي صنعتم ← لما ادعى زياد لقيت أبا بكرة ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 765

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 766

766 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا أبان بن يزيد حدثنا يحيى بن أبي كثير أن الحضرمي بن لاحق حدثه أن سعيد بن المسيب حدث Y عن حديث سعد بن أبي وقاص أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : لا هامة ولا عدوى ولا طيرة فإن يك شيء في الطير ففي المرأة والفرس والدار . وكان يقول : إذا كان الطاعون بأرض فلا تهبطوا عليه وإذا كان بأرض وأنتم بها فلا تفروا منه K إسناده حسن

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے : مقتول کے سر سے پرندے کا نکلنا ، چھوت چھات اور بری فال کوئی شی نہیں ہے اگر نحوست کسی شی میں ہوتی تو عورت اور گھوڑے اور گھر میں ہوتی ۔ وہ فرماتے تھے : جب طاعون کسی ملک میں ہو تو وہاں نہ جاؤ اگر ایسے ملک میں ہو جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو۔

حديث سعد بن أبي وقاص ← أن سعيد بن المسيب حدث ← يحيى بن أبي كثير أن الحضرمي بن لاحق ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 766

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 767

767 - حدنا يحيى بن معين قال : حدثنا أبو مسهر حدنا مالك حدثني أبو النضر مولى عمر بن عبيد الله عن عامر بن سعد Y عن أبيه قال : ما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لأحد إنه من أهل الجنة إلا لعبد الله بن سلام K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کے لیے کہا ہو کہ یہ اہل جنت سے ہے مگر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے لیے ۔

لأحد إنه من أهل الجنة إلا لعبد الله بن سلام إسناده صحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مَا ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← أبو النضر مولى عمر بن عبيد الله ← أبو مسهر حدنا مالك ← حدنا يحيى بن معين

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 767

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 768

768 - حدثنا أبو صالح محمد بن يحيى بن سعيد القطان حدثنا أبي حدثني موسى الجهني حدثني مصعب بن سعد Y عن أبيه أن أعرابيا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله علمني كلاما أقوله قال : قل : لا إله إلا الله وحده لا شريك له الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله رب العالمين لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم قال : هؤلاء لربي فما لي ؟ قال : قل : اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وارزقني وعافني K إسناده صحيح

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کوئی کلام سکھائیں تاک ہمیں اس کو پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : پڑھا کر " لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ " ۔ اس نے عرض کی : یہ میرے رب کے لیے ہے ، میرے لیے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو یہ پڑھا کر " اللھم اغفرلی الیٰ آخرہ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← أَبِي ← أبو صالح محمد بن يحيى بن سعيد القطان

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 768

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 769

769 - حدنا مصعب بن عبد الله الزبيري حدنا عبد العزيز عن سهيل عن ابن عائذ عن عامر بن سعد Y عن أبيه سعد قال : جاء رجل والنبي صلى الله عليه و سلم يصلي لنا فقال : اللهم آتني خير ما تؤتي الصالحين فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من المتكلم آنفا ؟ قال الرجل : أنا قال : إذا يعقر جوادك وتقتل في سبيل الله

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اس حالت میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے ۔ جس وقت سے وہ صف تک پہنچا۔ اس نے کہا : اے اللہ مجھے عطا کر جو تو نے اپنے نیک بندوں کو دیا ہے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کس نے ابھی کلام کی ہے ؟ اس آدمی نے عرض کی : میں نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آ پ نے فرمایا : یہ اس وقت ہوگا جب تو اپنے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دے گا اور اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے گا۔

أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← ابْنُ عَائِذٍ ← سُهَيْلٍ، ← حدنا مصعب بن عبد الله الزبيري حدنا عبد العزيز

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 769

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 770

770 - حدثنا محمود بن خداش حدثنا مروان بن معاوية حدثنا قنان بن عبد الله النهمي حدنا مصعب بن سعد بن أبي وقاص Y عن أبيه قال : كنت جالسا في المسجد أنا ورجلين معي فنلنا من علي فأقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم غضبان يعرف في وجهه الغضب فتعوذت بالله من غضبه فقال : ما لكم وما لي ؟ من آذى عليا فقد آذاني الحديث

حضرت مصعب ن سعد رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور دو آدمی میرے ساتھ تھے ۔ ہماری طرف سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہم نے اپنے دل میں کوئی چیز پائی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غصہ کی حالت میں متوجہ ہوئے ، غصہ آپ کے چہرے سے معلوم ہو رہا تھا۔ اس کے بعد میں نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غصہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تم کو اور مجھے کیا ہے ؟ جس نے علی کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔

كنت جالسا في المسجد ← أَبِيهِ ← قنان بن عبد الله النهمي حدنا مصعب بن سعد بن أبي وقاص ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 770

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 771

771 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا عبيدة بن حميد عن عبد الملك عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعلمنا هذه الكلمات : اللهم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر K إسناده صحيح

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں یہ کلمات سکھاتے تھے : اللھم انی الیٰ آخرہ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← عبيدة بن حميد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 771

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 772

772 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن عمر حدثنا يونس بن أبي إسحاق حدثنا إبراهيم بن محمد بن سعد قال : حدثني والدي محمد Y عن أبيه سعد قال : مررت بعثمان بن عفان في المسجد فسلمت عليه فملأ عينيه مني ثم لم يرد علي السلام فأتيت أمير المؤمنين عمر بن الخطاب فقلت : يا أمير المؤمنين هل حدث في الإسلام شيء ؟ قال : وما ذاك ؟ قلت : لا إلا أني مررت بعثمان آنفا في المسجد فسلمت عليه فملأ عينيه مني ثم لم يرد علي السلام قال : فأرسل عمر إلى عثمان فدعاه فقال : ما يمنعك أن تكون رددت على أخيك السلام ؟ قال عثمان : ما فعلت قال سعد : قلت : بلى قال : حتى حلف وحلفت قال : ثم إن عثمان ذكر فقال : بلى فاستغفر الله وأتوب إليه إنك مررت بي آنفا وأان أحدث نفسي بكلمة سمعتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم لا والله ما ذكرتها قط إلا تغشى بصري وقلبي غشاوة فقال سعد : فأنا أنبئك بها إن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر لنا فاتبعته فلما أشفقت أن يسبقني إلى منزله ضربت بقدمي الأرض فالتفت إلي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من هذا أبو إسحاق ؟ قال : قلت : نعم يا رسول الله قال : فمه ؟ قال : قلت : ولا والله إلا أنك ذكرت لنا أول دعوة ثم جاء هذا الأعرابي فقال : نعم دعوة ذي النون ( لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين ) فإنه لم يدع بها مسلم ربه في شيء قط إلا استجاب له K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پس سے مسجد میں گزار تو میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ نے اپنی دونوں آنکھیں بھر کر میری طرف دیکھا، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، میں امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : اے امیر المومنین کیا اسلام میں کوئی شی نازل ہوئی ہے ؟ حضرت عمر نے فرمایا : کیا ہوا ہے ؟ میں نے عرض کی کچھ نہیں مگر : یہ کہ میں ابھی مسجد میں حضرت عثمان کے پاس سے گزرا ہوں ، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اپنی دونوں آنکھیں بھر کر میری طرف دیکھا اور میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کسی کو بھیجا ، وہ آ پ کو بلا کر لایا، اس کے بعد فرمایا : آپ کو کون سی شی اپنے بھائی کے سلام کا جواب دینے سے رکاوٹ تھی ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نہیں کیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : کیوں نہیں ! یہاں تک کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اور میں نے قسم اٹھائی پھر حضرت عثمان نے فرمایا : جی ہاں ! کیوں نہیں ، میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ، اپ ابھی میرے پاس سے گزرے تو میں اپنے آپ سے ایسے کلمہ سے گفتگو کر رہا تھا جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا ، نہیں اللہ کی قسم ! جب بھی میں یاد کرتا ہوں تو میری آنکھوں اور میرے دل پر پردہ پڑ جاتا ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک دعا یاد کروائی ، پھر ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ کو مشغول کیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے ، میں آپ کے پیچھے چل پڑا ، جب مجھے خوف ہوا کہ آپ گھر چلے جائیں گے تو میں نے اپنا قدم زمین پر مارا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری طرف توجہ فرمائی ، فرمایا : کون ابو اسحاق ہو؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : نہیں اللہ کی قسم ! آپ ہمیں دعا یاد کروا رہے تھے پھر دیہاتی آ گیا تھا۔ آپ نے فرمایا : جی ہاں وہ دعا حضرت یونس علیہ السلام کی تھی : " لا الہ الا انت الیٰ آخرہ " ۔ جو مسلمان اس کے ذریعہ دعا کرتا ہے تو اس کی دعا اس کے لیے قبول ہوتی ہے ۔

أَبِيهِ سَعْدٍ ← وَالِدِي مُحَمَّدٌ ← إبراهيم بن محمد بن سعد ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← إسماعيل بن عمر ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 772

chevron_left Previous
1…678…13
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter