Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 749

749 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثنا أبي عن شريك بن عبد الله بن أبي نمر - وهو أحد بني بن الحارث بن عبد مناة بن كنانة - أخبرني عامر بن سعد بن أبي وقاص Y أن أباه حين رأى اختلاف أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وتفرقهم اشترى له ماشية ثم خرج فاعتزل فيها بأهله على ماء يقال له : قلهي قال : وكان سعد أحد الناس بصرا فرأى ذات يوم شيئا يزول فقال لمن تبعه : ترون شيئا ؟ قالوا : نرى شيئا كالطير قال : أرى راكبا على بعير ثم جاء بعد قليل عمر بن سعد على بختي - أو بختية - ثم قال : اللهم إنا نعوذ بك من شر ما جاء به فسلم عمر ثم قال لأبيه : أرضيت أن تتبع أذناب هذه الماشية بين هذه الجبال وأصحابك يتنازعون في أمر الأمة ! ؟ فقال سعد بن أبي وقاص : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنها ستكون بعدي فتن - أو قال : أمور - خير الناس فيها الغني الخفي التقي فإن استطعت يا بني أن تكون كذلك فكن فقال له عمر : أما عندك غير هذا ؟ فقال له سعد : لا يا بني فوثبت عمر ليركب ولم يكن حط عن بعيره فقال له سعد : أمهل حتى نغذيك قال : لا حاجة لي بغدائكم قال سعد : فنحلب لك فنسقيك قال : لا حاجة لي بشرابكم ثم ركب فانصرف مكانه K رجاله رجال الصحيح

حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں اختلاف دیکھا تو ان سے جدا ہو گئے جانور خریدے پھر اپنے بھر والوں کو لے کر نکلے اور ایک مقام پر چلے گئے اس کو قلھی کہا جاتا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ صاحب بصارت لوگوں میں شامل ہوتے تھے ، آپ نے ایک دن کوئی شی زائل ہوتی دیکھی تو جو آپ کے ساتھ تھے ان سے فرمایا کہ تم کوئی شی دیکھتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم پرندہ کی طرح کی شی دیکھتے ہیں ۔ فرمایا : میں ایک سوار کو دیکھ رہا ہوں جو اونٹ پر ہے ، پھر تھوڑی دیر بعد عمر بن سعد اونٹ یا اونٹنی پر سوار ہو کر آئے ، پھر فرمایا : اے اللہ ! میں اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو یہ لے کر آیا ہے ۔ عمر نے سلام کیا پھر اپنے والد سے کہا : کیا آپ خوش ہیں ؟ آپ اپنے جانوروں سے پہاڑوں میں رہیں اور آپ کے اصحاب اس امت کے معاملہ میں جھگڑیں ؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے ، یا ایسے کام ہوں تو ایسے وقت میں وہ لوگ بہتر ہوں گے جو بے پروا چھپے اور پرہیزگار ، اے بیٹے اگر تو ایسا ہونا چاہتا ہے تو ہو جا۔ عمر نے حضرت سعد سے عرض کی : کیا اس کے علاوہ کوئی ہے ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا : نہیں اے بیٹے ! عمر نے جلدی کی اور سوار ہوا اور اونٹ پر بیٹھنے میں دیر نہ کی۔ حضرت سعد نے انہیں فرمایا : ٹھہرو ! یہاں تک کہ میں تجھے صبح کا کھانا کھلاؤں ۔ اس نے عرض کی : مجھے صبح کے کھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم تیرے لیے دودھ دوھتے ہیں ، ہم تجھے پلاتے ہیں ۔ اس نے عرض کی : مجھے آپ کے دودھ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ پھر سوار ہوا اور اس جگہ سے چلا گیا۔

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 749

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 750

750 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا قتيبة بن سعيد حدثنا ليث عن عياش بن عباس عن بكير عن بسر بن سعيد Y أن سعد بن أبي وقاص قال عند فتنة عثمان : أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنها ستكون فتنة القاعد فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي خير من الساعي قال : أرأيت إن دخل علي بيتي وبسط يده ليقتلني ؟ قال : كن كابن آدم K إسناده صحيح

حضرت بسر بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ( وفات) کے فتنہ کے وقت فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ضرور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب فتنہ ہوں گے ، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑے ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا ۔ چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ کیا خیال ہے آپ کا کہ اگر میرے گھر میں کوئی داخل ہو وہ اپنا ہاتھ کشادہ کرے گا تاکہ مجھے قتل کرے ؟ آدم کے بیٹھے کی طرح ہو جاؤ۔

بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرٍ، ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← لَيْثٌ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 750

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 751

751 - حدثنا زهير حدثنا وكيع حدثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : في نزل تحريم الخمر شربت مع قوم من الأنصار قبل أن تحرم فضربني رجل منهم على أنفي بلحيي جمل فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فأنزل تحريم الخمر K رجاله رجال الصحيح

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ شراب کی حرمت میرے حق میں نازل ہوئی، میں شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے انصار کے ایک آدمی کے ساتھ پی رہا تھا ، ان میں سے ایک آدمی نے اونٹ کی نکیل مجھے ماری جو میرے ناک پر لگی ، میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا تو اس وقت شراب کی حرمت نازل ہوئی ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 751

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 752

752 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن علية عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال Y قال سعد إني لأول رجل رمى بسهم في المشركين وما جمع رسول الله صلى الله عليه و سلم أبويه لأحد قبلي ولقد سمعته يقول : إرم يا سعد فداك أبي و أمي K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں پہلا وہ آدمی ہوں جس نے مشرکین کو تیر مارا مجھ سے پہلے کسی کے لیے اپنے ماں باپ جمع نہیں کیے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا : اسے سعد ! پھینکو ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 752

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 753

753 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا سفيان بن عيينة حدثني العلاء بن أبي العباس قال : سمعت أبا الطفيل يحدث عن بكر بن قرواش Y عن سعد بن مالك أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم - وذكر يعني ذا الثدية الذي وجد مع أهل النهر فقال : شيطان ردهة يحدره رجل من بجيلة يقال له الأشهب أو ابن الأشهب علامة في قوم ظلمه . قال سفيان : فقال عمار الدهني حين حدث : جاء به رجل منا من بجيلة فقال : أراه فلان من دهن يقال له : الأشهب أو ابن الأشهب

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ نے ذکر کیا یعنی ( ایک آدمی کا ) کہ اس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہوگا، اس کو اہل نہروان کے ساتھ پایا گیا، ردھہ کے شیطان نے کہا : ا س کو بجیلہ کے ایک آدمی نے گرایا، اس کو اشھب یا ابن اشھب کہا جاتا اتھا ، اس کی نشانی قوم میں اس کا ظلم تھا۔ حضرت سفیان نے کہا : عمار الدھنی نے کہا : جس وقت حدیث بیان کی گئی تو ہم میں سے ایک آدمی بجیلہ سے اس کو لے کر آیا ، مجھے خیال ہے کہ وہ دھن سے تھا ، اس کو اشھب یا ابن شھب کہا جاتا ہے ۔

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← بكر بن قرواش ← أَبَا الطُّفَيْلِ ← الْعَلاَءِ بْنِ أَبِي الْعَبَّاسِ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 753

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 754

754 - حدثنا زهير حدثنا عفان بن مسلم حدثنا حماد بن سلمة أخبرنا عاصم بن بهدلة عن مصعب بن سعد Y عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتي بقصعة فأكل منها ففضلت فضلة فقال : يجيء رجل من هذا الفج من أهل الجنة يأكل هذه الفضلة قال : سعد : وكننت تركت أخي عميرا يتوضأ فقلت : هو عمير قال : فجاء عبد الله بن سلام فأكلها K إسناده حسن

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا، اس حالات میں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پا س بچا ہوا کھانا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ضرور بضرور تمہارے پاس ایک آدمی آئے گا اس راستہ سے وہ بچے ہوئے کو کھائے گا وہ جتنی ہوگا۔ میں عمیر بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا وہ وضو کر رہے تھے ، میں نے اپنے دل میں کہا یہی ہو سکتا ہے کہ ہم آنکھیں اٹھا کر دیکھنے لگے کہ کون ہم پر آتا ہے ، حضرت عبداللہ بن سلام آئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بچا ہوا لنگر منگوایا ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس لنگر کو تناول فرمایا۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 754

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 755

755 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سليمان بن داود الهاشمي حدثنا يوسف بن الماجشون أخبرني محمد بن المنكدر عن سعيد بن المسيب عن عامر بن سعد Y عن أبيه سعد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعلي : أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه ليس بعدي نبي . قال سعيد : فأحببت أن أشافه بذلك سعدا فليقيته فذكرت له ما ذكر لي عامر فقال : نعم سمعت قلت : أنت سمعته ؟ فأدخل إصبعيه في أذنيه فقال : نعم وإلا فاصطكتا K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا : آپ کا میرے ہاں وہی مقام ہے جو حضرت ہارون کا حضرت موسیٰ کے ہاں تھا مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ حضرت سعید فرماتے ہیں : میں نے پسند کیا کہ میں حضرت سعد کو اس کے حوالے سے ملوں ۔ میں ملا اور اس کا ذکر کیا جو مجھے عامر نے بتایا تھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں میں نے سنا ہے ، میں نے عرض کی : کیا آپ نے سنا ہے ؟ آپ نے دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں اس کے بعد فرمایا : جی ہاں ورنہ دونوں ٹکرا گئیں۔

أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 755

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 756

756 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا ابن وهب أخبرني أبو صخر أن أبا حازم حدثه عن ابن سعد قال Y سمعت أبي يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الإيمان بدأ غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء يومئذ إذا فسد الناس والذي نفس أبي القاسم بيده ليأرزن الإسلام بين هذين المسجدين كما تأرز الحية في جحرها K إسناده صحيح

حضرت ابن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : ایمان غریبوں سے شروع ہوا تھا ، واپس بھی غریبوں میں آ جائے گا، جس طرح غریبوں سے شروع ہوا تھا غریبوں کے لیے خوشخبری ہے اس دن جب لوگوں میں فساد ہوگا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابو القاسم کی جان ہے ، سلام سمٹ کر ان دو مسجدوں میں آ جائے گا ( مسجد حرام ، مسجد نبوی ) جس طرح سانپ سمٹ ر اپنی سوراخ میں آ جاتا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي ← ابْنُ سَعْدٍ، ← أبو صخر أن أبا حازم ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 756

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 757

757 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا أحمد بن المفضل حدثنا أسباط بن نصر قال : زعم السدي عن مصعب ابن سعد Y عن أبيه قال : لما كان يوم فتح مكة أمن رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس إلا أربعة نفر وامرأتين وقال : اقتلوهم ولو وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة عكرمة بن أبي جهل و عبد الله بن خطل و مقيس بن صبابة و عبد الله بن سعد بن أبي سرح . فأما عبد الله بن خطل فأدرك وهو متعلق بأستار الكعبة فاستبق إليه سعيد بن حريث و عمار بن ياسر فسبق سعيد عمارا - وكان أشب الرجلين - فقتله . وأما مقيس بن صبابة فأدركه الناس في السوق . وأما عكرمة فركب البحر فأصابتهم عاصف فقال أصحاب السفينة لأهل السفينة : أخلصوا فإن آلهتكم لا تغني عنكم شيئا ها هنا فقال عكرمة : لئن لم ينجني في البحر إلا الإخلاص فما ينجيني في البر غيره اللهم إن لك علي عهدا إن أنت عافيتني مما أنا فيه [ أن ] آتي محمدا حتى أضع يدي في يده فلأجدنه عفوا كريما قال : فجاء فأسلم . وأما عبد الله بن سعد بن أبي سرح فإنه اختبأ عند عثمان بن عفان فلما دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس إلى البيعة جاء به حتى أوقفه على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله بايع عبد الله فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثا كل ذلك يأبى فبايعه بعد الثلاث ثم أقبل على أصحابه فقال : ما كان فيكم رجل شديد يقوم إلى هذا - حين رآني كففت يدي عن بيعته - فيقتله ؟ قالوا : ما يدرينا يا رسول الله ما في نفسك ؟ [ هلا أومأت إلينا بعينك ] ؟ قال : إنه لا ينبغي لنبي أن تكون له خائنة أعين K رجاله رجال الصحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فتح مکہ دن تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سارے لوگوں کو امن دے دیا۔ مگر چار مردوں اور دو عورتوں کو نہیں دیا۔ ان کے متعلق فرمایا کہ ان کو قتل کر دو جہاں بھی ان کو پاؤ اگرچہ تم انہیں کعبہ کے پردہ میں چھپے ہوئے پاؤ۔ ( 1) عکرمہ بن ابی جہل ( 2) عبداللہ بن خطل ( 3) مقیس بن صبابہ ( 4) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ۔ بہر حال عبداللہ بن خطل اس کو کعبہ کے پردہ میں چھپا ہوا پایا گیا ، اس کو قتل کرنے کے لیے حضرت سعید بن حریث اور عمار بن یاسر آگے بڑھے ۔ حضرت عمار پر حضرت سعید سبقت لے گئے ۔ دونوں نوجوان مرد تھے ۔ حضرت سعید نے اس کو قتل کر دیا۔ بہر حال مقیس بن صبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا وہاں قتل کر دیا۔ بر حال عکرمہ سمندر میں سوار ہو گیا ، ان کشتی والوں کو ہوا نے آ لیا ، کشتی والوں نے کہا: کشتی والوں سے مخلص ہو جاؤ، بے شک تمہارے خدا تمہیں یہاں نہیں بچائیں گے ۔ عکرمہ نے کہا : سمندر سے نجات مجھے صرف اخلاص سے ملی ، اس نیکی کے علاوہ کوئی نجات کا ذریعہ نہیں ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے عافیت دی جس میں ، میں ہوں تو میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آؤں گا یہاں تک کہ اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں دوں گا، میں ضرور بضرور آپ کو معاف کرنے والا پاؤں گا۔ عکرمہ آیا اور مسلمان ہو گیا ، بہر حال عبداللہ بن سعد بن سعد بن ابی سرح تو وہ حضرت عثمان کے پاس چھپا ہوا تھا، جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلوایا تو حضرت عثمان اس کو لائے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھڑا کیا۔ حضرت عثمان نے عرض کی : یا رسول اللہ !عبداللہ نے بیعت کرنی ہے ! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف سر اٹھایا ، آپ نے اس کی طرف تین مرتبہ دیکھا ، ہر مرتبہ آپ نے بیعت کی ، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم میں کوئی سخت آدمی نہیں تھا کہ وہ اس کی طرف کھڑا ہوتا جس وقت ا س نے مجھے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے روکا تھا اور وہ اسے قتل کر دیتا ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں معلوم نہیں تھا جو آپ کے دل میں تھا؟ آپ نے فرمایا : کیا میں اپنی آنکھوں سے اشارہ نہیں کر رہا تھا اور فرمایا : کسی نبی کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس کی آنکھیں خیانت کریں ۔

أَبِيهِ ← مصعب ابن سعد، ← زَعَمَ السُّدِّيُّ ← أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 757

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 758

758 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا بكر بن عبد الرحمن حدثنا عيسى بن المختار عن عبد الكريم عن مجاهد عن عامر بن سعد بن مالك Y عن سعد بن مالك أنه خطب امرأة بمكة وهو مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ليت عندي من يراها ومن يخبرني عنها ؟ فقال رجل يدعى هيت : أنا أنعتها لك إذا أقبلت قلت : تمشي على ست وإذا أدبرت قلت : تمشي على أربع فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرى هذا منكرا أراه يعرف أمر النساء وكان يدخل على سودة فنهاه أن يدخل عليها فلما قدم المدينة نفاه وكان كذلك حتى إمرة عمر فجهد فكان يرخص له أن يدخل المدينة يوم الجمعة فيتصدق عليه K إسناده ضعيف

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مکہ میں ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا اس حالت میں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش میرے پاس کوئی ہوتا جو اس کو دیکھتا اور مجھے اس کے متعلق بتاتا ؟ ایک آدمی نے کہا جسے ھیت کہا جاتا تھا ، اس نے کہا: میں اس کے متعلق بتاتا ہوں ، جب وہ آگے چلے تو ، تو کہے : چھ پر چل رہی ہے اور جب پیچھے مڑے تو ، تو کہے : چار پر چل رہے ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں اس کو بے حیاء دیکھتا ہوں ، میرا خیال ہے کہ یہ عورتوں کے معاملات دیکھتا ہوں ، میرا خیال ہے کہ یہ عورتوں کے معاملات دیکھتا ہے ، وہ آدمی حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتا تھا ، آپ نے اس کو ان کے پا س آنے سے منع کر دیا ، جب مدینہ آئے تو آپ نے وہاں سے اس کو جلا وطن کر دیا، معاملہ ایسے ہی رہا یہاں تک کہ عمر کی بیوی نے انکا کیا، اس کو جمعہ کے دن آنے کی اجازت دی ، اس پر صدقہ کیا گیا۔

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 758

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 759

759 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا أبو معاوية محمد بن خازم حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال Y صلى بنا سعد بن أبي وقاص فنهض في الركعتين فسبحنا به فاستتم قائما قال : فمضى في قيامه حتى فرغ فقال : أكنتم تروني أن أجلس ؟ إنما صنعت كما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع . قال أبو عثمان عمرو بن محمد الناقد : لم نسمع أحدا يرفع هذا غير أبي معاوية K إسناده صحيح

حضرت قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ، آپ رضی اللہ عنہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہو گئے ۔ ہم نے کہا: سبحان اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ سیدھے کھڑے ہو گئے ، قیام میں رہے یہاں تک کہ فارغ ہو گئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم مجھے دیکھتے تھے کہ میں بیٹھ جاؤں ؟ میں نے وہی کیا جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ابو عثمان عمرو بن محمد الناقد فرماتے ہیں : ہم میں سے کسی نے یہ حدیث ابو معاویہ کے علاوہ کسی سے مرفوعا بیان نہیں کی ۔

قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 759

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 760

760 - حدثنا عمرو حدثنا وكيع بن الجراح حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال Y صلى بنا سعد بن مالك فذكر نحوا من حديث أبي معاوية ولم يذكر النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی ، اس کے بعد ابو معاویہ والی حدیث ذکر کی لیکن اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر نہیں کیا۔

صَلَّى بِنَا سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ← عَمْرٍو،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 760

chevron_left Previous
1…567…13
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter