Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 701

701 - حدثنا موسى بن محمد بن حيان البصري حدثنا عمر بن علي بن عطاء بن مقدم عن عبد الرحمن بن أبي بكر بن عبيد الله عن إسماعيل بن محمد عن أبيه Y عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من سعادة المرء استخارته لربه ورضاه بما قضى وإن شقاوة العبد تركه الاستخارة وسخطه بما قضى K إسناده ضعيف

حضرت اسماعیل بن محمد اپنے باپ اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : آدمی کی سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے رب سے مشورہ کرے اس کی رضا پر راضی ہو جائے ۔ آدمی کی بد بختی کی نشانی یہ ہے کہ مشورہ کو چھوڑ دیتا ہے اس پر ناراض ہونا جو اللہ نے فیصلہ کیا ہے اس کے لیے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عبد الرحمن بن أبي بكر بن عبيد الله ← عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ ← موسى بن محمد بن حيان البصري

Hadith 701

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 702

702 - حدثنا موسى بن محمد بن حيان حدثنا محمد بن أبي الوزير أبو المطرف عن عبد الله بن جعفر عن إسماعيل بن محمد عن عامر بن سعد Y عن أبيه قال : أمر العبد أن يسجد على سبعة آراب منه : وجهه وكفيه وركبتيه وقدميه أيها لم يضع فقد انتقض K إسناده حسن

حضرت عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کرتے ہیں کہ بندہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سات اعضاء پر سجدہ کرے ( 1) چہرے پر ( 2) ہتھیلیوں پر ( 3) گھٹنوں پر ( 4) دونوں قدموں پر جو کوئی نہیں کرے گا اس نے کم کیا۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو الْمُطَرِّفِ ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ

Hadith 702

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 703

703 - حدثنا موسى حدثني محمد بن إسماعيل بن جعفر الطحان حدثنا غسان بن بشر الكاهلي عن مسلم عن خيثمة Y عن سعد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سد أبواب الناس في المسجد وفتح باب علي فقال الناس في ذلك فقال : ما أنا فتحته ولكن الله فتحه K إسناده ضعيف جدا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : لوگوں کے مسجد میں آنے والے دروازے بند کیے جائیں ، علی کا دروازہ کھول دیا جائے ۔ لوگوں نے اس کے متعلق گفتگو کی ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : میں نے نہیں کھولا ، بلکہ اللہ نے اس کا دروازہ کھولا ہے ۔

سَعْدٍ، ← خيثمة ← مُّسْلِمٍ ← غسان بن بشر الكاهلي ← محمد بن إسماعيل بن جعفر الطحان ← مُوسَى

Hadith 703

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 704

704 - حدثنا أبو الربيع حدثنا حماد عن عاصم عن مصعب بن سعد قال Y قلت لأبي : يا أبتاه أرأيت قوله : { الذين هم عن صلاتهم ساهون } [ الماعون : 6 ] أينا لا يسهو ؟ أينا لا يحدث نفسه ؟ قال : ليس ذلك إنما هو إضاعة الوقت يلهو حتى يضيع الوقت K إسناده حسن

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے عرض کی : اے ابو جان ! آپ بتائیں کہ اللہ کہ اس ارشاد کے متعلق ، وہ لوگ جو نمازوں میں سستی کرتے ہیں ، ہم میں کون سستی کرتا ہے جو سستی نہ کرتا ہو ؟ ہم میں کون بے وضو نہیں ہوتا ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ مراد نہیں ہے بلکہ مراد وقت ضائع کرنا ہے ، سستی کرتے رہنے سے یہاں تک کہ وقت گزر جائے ۔

ليس ذلك إنما هو إضاعة الوقت يلهو حتى يضيع الوقت إسناده حسن ← نفسه ← صلاتهم ساهون الماعون أينا لا يسهو أينا لا ← قلت لأبي يا أبتاه أرأيت قوله الذين هم ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Hadith 704

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 705

705 - حدثنا زكريا بن يحيى الواسطي حدثنا صالح بن عمر حدثنا حاتم عن سماك عن مصعب قال Y سألت أبي سعداء فقلت : يا أبه : { الذين هم عن صلاتهم ساهون } [ الماعون : 6 ] أسهو أحدنا في صلاته حديث نفسه ؟ قال سعد : أو ليس كلنا يفعل ذلك ؟ ولكن السهي عن صلاته : الذي يصليها لغير وقته فذلك الساهي عنها قال مصعب مرة أخرى : تركه الصلاة في مواقيتها K إسناده حسن

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے عرض کی : اے ابو جان ! آپ بتائیں کہ اللہ کے اس ارشاد کے متعلق ، وہ لوگ جو نمازوں میں سستی کرتے ہیں ، کیا ہم میں سے کوئی اپنی نماز میں سستی کرتا ہے کوئی بے وضو ہوتا ہے ؟ حضرت سعد نے فرمایا : کیا ہم سب یہ کرتے ہیں ؟ لیکن مراد یہ ہے کہ نماز میں سستی کرنا اور اس کے وقت کے علاوہ ادا کرنا ، یہ سستی ہے ۔ حضرت مصعب نے دوسری مرتبہ فرمایا کہ انہوں نے نماز وقت کے علاوہ پڑھی ۔

مصعب مرة أخرى تركه الصلاة في مواقيتها إسناده حسن ← صلاته الذي يصليها لغير وقته فذلك الساهي عنها ← سعد أو ليس كلنا يفعل ذلك ولكن السهي ← صلاتهم ساهون الماعون أسهو أحدنا في صلاته حديث نفسه ← سألت أبي سعداء فقلت يا أبه الذين هم ← مصعب ← سِمَاكٍ، ← حَاتِمٌ، ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ،

Hadith 705

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 706

706 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي حدثنا يزيد عن أبي عثمان قال : حدثت أبا بكرة قلت Y سمعت سعدا يقول : سمعته أذناي ووعاه قلبي من محمد صلى الله عليه و سلم : من ادعى إلى غير أبيه في الإسلام وهويعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام قال : وأنا سمعته أذناي ووعاه قلبي من محمد صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت ابی عثمان فرماتے ہیں کہ مجھے ابو بکر نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے سنا، میں اپنے سے یاد کیا حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا ، جو اپنے باپ کے علاوہ سلام کسی کی طرف دعویٰ کرے ، وہ جانتا ہے اس کا باپ کوئی اور ہے جنت میں اس پر حرام ہے ۔ میں نے اپنے دل سے سنا اور اپنے دل سے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے یاد کیا ۔

سَعْدًا، ← أَبَا بَكْرَةَ، قُلْتُ: ← أَبِي عُثْمَانَ ← يَزِيدُ: ← الحسن بن عمر بن شقيق الجرمي

Hadith 706

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 707

707 - حدثنا أبو هشام الرفاعي حدثنا أبو خالد الأحمر حدثنا كثير بن يزيد عن المطلب بن عبد الله بن حنطب عن مصعب بن سعد Y عن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من دعا بدعاء يونس استجيب له K رجاله ثقات

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جو یونس رضی اللہ عنہ والی دعا مانگے کا اس کی دعا قبول کی جائے گی( یعنی لا الٰہ الا انت سبحان کانی کنت من الظالمین ) ۔

سَعْدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← كثير بن يزيد ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ،

Hadith 707

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 708

708 - حدثنا أبو هشام حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن عامر عن جابر قال Y قال سعد بن أبي وقاص لرجل : لا جمعة لك فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لم يا سعد ؟ قال : لأنه كان يتكلم وأنت تخطب فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدق سعد K إسناده ضعيف

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو فرمایا : تیرا جمعہ نہیں ہوا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے فرمایا : اے سعد ! کیوں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ گفتگو کرتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : سعد رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔

لأنه كان يتكلم وأنت تخطب ← النبي صلى الله عليه و سلم لم يا سعد ← سعد بن أبي وقاص لرجل لا جمعة لك ← جَابِرٍ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو هشام

Hadith 708

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 709

709 - حدثنا عبيد الله بن معاذ حدثنا أبي حدثنا شعبة عن علي بن يزيد - قال : شعبة : قبل أن يختلط - قال : سمعت سعيد بن المسيب قال : سمعت سعد بن مالك يقول Y خلف النبي صلى الله عليه و سلم عليا فقال : أتخلفني ؟ فقال : أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي ؟ قال : رضيت رضيت

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے فرمایا : کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک میں پیچھے چھوڑا عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : کیا علی رضی اللہ عنہ تو اس بات کو پسند نہیں کرتا، تو میرے ہاں بمثل ہارون علیہ السلام کے ہے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کو پچھے چھوڑا تھا، اس طرح میرے ساتھ تیرا مقام ہارون علیہ السلام کی طرح ( لیکن فرق ہے ) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبوت برقرار تھی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ حضرت علی نے عرض کی ، میں راضی ہو گیا میں راضی ہو گیا۔

شعبة قبل ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Hadith 709

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 710

710 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن سعيد بن أبي هلال حدثه عن عائشة بنت سعد بن أبي وقاص Y عن أبيها أنه دخل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم على امرأة وبين يديها نوى وحصى تسبح فقال : أخبرك بما هو أيسر عليك من هذا أو : أفضل ؟ ! قول : سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك ولا إله إلا الله مثل ذلك ولا قوة إلا بالله مثل ذلك K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں اپنے باپ کے حوالہ سے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس آئے اس عورت کے آگے گٹھلیاں پڑی ہوئی تھیں۔ جس پر تسبیحات پڑھ رہی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : میں تم کو اس سے آسان نہ بتاؤں یا اس سے افضل نہ بتاؤں وہ سبحان اللہ عدد ماخلق فی السماء الیٰ آخرہ۔

عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف

Hadith 710

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 711

711 - حدثنا داود بن رشيد حدثنا علي بن هاشم بن البريد قال : سمعت الأعمش يذكره عن أبي إسحاق عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل خلة يطبع - أو قال : يطوى - [ عليها ] المؤمن - شك علي بن هاشم - إلا الخيانة والكذب K رجاله رجال الصحيح

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : مومن کی ہر عادت اچھی ہے ۔ مگر خیانت اور جھوٹ ۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الأعمش يذكره ← عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ،

Hadith 711

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 712

712 - حدثنا سويد بن سعيد عن مالك عن عبد الله بن يزيد مولى الأسود أن زيدا أبا عياش أخبره Y أنه سأل سعدا عن البيضاء - يعني بالسلت - فقال سعد : أيتهما أفضل ؟ فقال : البيضاء فنهاه عن ذلك وقال سعد : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن شراء التمر بالرطب فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أينقص الرطب إذا يبس ؟ قالوا : نعم فنهى عن ذلك

حضرت ابو عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا ہیضاء کے متعلق ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پاچھا : ان میں سے افضل کون ہے ؟ اس نے کہا : بیضاء کے متعلق آپ نے اس سے منع کر دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے پوچھا گیا خشک کھجور کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنے کا۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : کیا تر کھجوریں جب خشک ہو جاتی ہیں وہ کم نہیں ہو جاتی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس سے منع کیا ۔

ذَلِكَ ← نعم فنهى ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أينقص الرطب إذا يبس ← شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ، ← رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل ← سَعْدٍ، ← ذَلِكَ ← الْبَيْضَاءُ، فَنَهَاهُ ← سعد أيتهما أفضل ← الْبَيْضَاءِ يَعْنِي بِالسُّلْتِ ← أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدًا ← عبد الله بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ← مَالِكٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 712

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter