Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1070

1070 - حدثنا داود بن رشيد حدثنا إسماعيل عن برد بن سنان عن أبي هارون Y عن أبي سعيد أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا ضرب أحدكم خادمه فذكر الله فارفعوا أيديكم K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی اپنے خادم کو مارے وہ خادم اللہ کا ذکر کرے اس سے تم اپنے ہاتھ اٹھا دو۔

إذا ضرب أحدكم خادمه فذكر الله فارفعوا أيديكم إسناده ضعيف ← أبي سعيد أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هَارُونَ ← بُرْدِ بْنِ سِنَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1070

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1071

1071 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا فليح بن سليمان عن عمرو بن يحيى بن عمارة عن أبيه Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس فيما دون خمس أواق صدقة وليس فيما دون خمسة أوسق صدقة وليس فيما دون خمس ذود صدقة K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ پانچ اوراق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے او ر پانچ وسقوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1071

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1072

1072 - حدثنا عقبة بن مكرم حدثنا يونس بن بكير حدثنا محمد بن إسحاق عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبي سعيد عن أبيه Y عن جده أبي سعيد قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مسجد بني عمرو بن عوف فمر بقرية بني سالم فهتف برجل وذكر الحديث K رجاله ثقات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد بنی عمرو بن عوف کی طرف نکلے ' بنی سالم کی بستی کے پاس سے گزرے ' آپ نےایک آدمی کو پکارا اور راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔

جده أبي سعيد ← أَبِيهِ ← سَعِيْد بن عبد الرحمن بن أبي سَعِيْد ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1072

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1073

1073 - حدثنا سفيان بن وكيع حدثنا محمدبن بكر عن ابن جريج أخبرني أبو بكر بن عبد الله بن محمد أن شريك بن عبد الله بن أبي نمر حدثه عن عطاء بن يسار Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم أن عليا أتاه بدينار وجده في السوق فقال : عرفه ثلاثا فلم يجد من يعرفه فرجع إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال : كله أو : شأنك به فابتاع منه بثلاثة دراهم شعيرا وبثلاثة دراهم تمرا وابتاع بدرهم لحما وبدرهم زيتا وفضل عنده درهم - وكان الصرف أحد عشر بدينار - حتى إذا كان بعد ذلك جاء صاحبه فعرفه فقال له علي : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بأكله فانطلق صاحبه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له كله فقال لعلي : رده على الرجل فقال : قد أكلته قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن جاءنا شيء أديناه إليك K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دینار لے کر آئے۔ آپ رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ کو بازار سے ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تین دن تک تشہیر کرو، تشہیر کی تو کوئی نہیں آیا۔ دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے اس معاملہ کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خود اس کو کھالو یا کسی اور کام میں استعمال کر لو۔ حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ نے اس سے تین درہم کی جو خریدے اور تین درہم کے بدلے کھجوریں خرید لیں' ایک درہم کا گوشت اور ایک درہم کا زیتون ، ایک درہم بچ گیا' صرف گیارہ دینار کا تھا یہاں تک کہ وہ آدمی آ گیا جو مالک تھا۔ اس کو حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ کھالو، وہ مالک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا۔ یہ ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ سے فرمایا: اس آدمی کو واپس کر دو۔ عرض کی : میں نے اس کو کھالیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے پاس کوئی شے آئی ہم اس کو واپس کر دیں گے۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1073

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1074

1074 - حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي حدثنا حماد بن سلمة عن الحجاج عن عطية العوفي Y عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنه لم يكن نبي إلا قد أنذر الدجال قومه وإني أنذركموه إنه أعور ذو حدقة جاحظة ولا يخفى كأنها نخاعة في جنب جدار وعينه اليسرى كأنها كوكب دري ومعه مثل الجنى والنار فجنته عين ذات دخان وناره روضة خضراء وبين يديه رجلان ينذران أهل القرى كلما خرجا من قرية دخل أوائلهم فليسلط على رجل لا يسلط على غيره فيذبحه ثم يضربه بعصاه ثم يقول : قم فيقول لأصحابه : كيف ترون ؟ ألست بربكم ؟ فيشهدون له بالشرك فيقول الرجل المذبوح : يا أيها الناس إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فيعود أيضا فيذبحه ثم يضربه بعصاه فيقول له : قم فيقول لأصحابه : كيف ترون ألست بربكم ؟ فيشهدون له بالشرك فيقول المذبوح : يا أيها الناس ها إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ما زادني هذا فيك إلا بصيرة ويعود فيذبحه الثالثة فيضربه بعصاه فيقول : قم فيقول لأصحابه : كيف ترون ألست بربكم ؟ فيشهدون له بالشرك فيقول : يا أيها الناس إن هذا المسيح الدجال الذي أنذرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ما زادني هذا فيك إلا بصيرة ثم يعود فيذبحه الرابعة فيضرب الله على حلقه بصفحة نحاس فلا يستطيع ذبحه - قال أبو سعيد : فوالله ما رأيت النحاس إلا يومئذ - قال : فيغرس الناس بعد ذلك ويزرعون . قال أبو سعيد : كنا نرى ذلك الرجل عمر بن الخطاب لما نعلم من قوته وجلده K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی علیہ السلام ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا نہ ہو میں بھی تم کو اس سے ڈراتا ہوں ، وہ ایک آنکھ سے کانا ہو گا' وہ اُبھری ہوئی کالی سیاہ آنکھ والا ہو گا، کسی پر پوشیدہ نہیں ہو گا' ایسے محسوس ہو گا جس طرح دیوار کی ایک تھوک ہے' اس کی بائیں آنکھ ایسے ہو گی گویا چمکتا ہوا ستارہ، اس کے ساتھ جنت اور دوزخ بھی ہو گی' اس کی حقیقت چمکتا ہوا دھواں ہو گا اس کی آگ کی حقیقت سر سبز باغ ہو گا' اس کے آگے دو آدمی ہوں گے ' وہ دونوں بستی والوں کو ڈرا رہے ہوں گے' جب وہ دونوں بستی سے نکلیں گے تو اس کے گروہ کے پہلے لوگ داخل ہو ں گے' وہ ایک آدمی پر مسلبط ہو گا اسکے علاوہ کسی پر مسلط نہیں ہو گا' وہ اس کو ذبح کرے گا ' پھر اس کے عصا کے ساتھ مارے گا' پھر وہ کہے گا: اُٹھ! وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم کیسےدیکھتے ہو ! کیامیں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ اس کے لیے شرک کی گواہی دیں گے' وہ ذبح شدہ آدمی کہے گا: اے لوگو! یہ مسیح دجال ہے' یہ وہی ہے جس ے متعلق ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈرایا ہے' وہ اس کی طرف لوٹیں گے' وہ اس کو ذبح کریں گے' پھر اس کو عصا کے ساتھ ماریں گے' وہ اس کو کہے گا: اُٹھ ! وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم دیکھتے ہو کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ وہ اس کے لیے شرک کی گواہی دیں گے' وہ ذبح شدہ آدمی کو کہے گا: اے لوگو ! یہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈرایا ہے ' اس نے میری بصیرت میں اضافہ کیا ہے ' ایک اور مرتبہ وہ آدمی آئے گا' وہ تیسری بار اس کو ذبح کرے گا' وہ اس کو اپنے عصا کے ساتھ مارے گا' وہ کہے گا: اُٹھ ! وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم کیا دیکھتے ہو کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ وہ ان کو شرک کی گواہی دلا دے گا' وہ کہے گا: اے لوگو! وہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈرایا ہے' میری بصیرت میں ہی اضافہ ہوا ہے۔ پھر ایک بار لوٹ کر آئے گا' چوتھی بار اس کو ذبح کرے گا' اس کے بعد اللہ عزوجل اس کے حلق پر تانبہ مارے گا'اس کے بعد وہ اس کو ذبح کی طاقت نہیں رکھے گا۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں: اللہ کی قسم ! میں نے نحاس نہیں دیکھا مگر اس دن۔ فرمایا: لوگ اس کے بعد اس کو گاڑیں گے اور کھیتی باڑی کریں گے۔ حضرت ابو سعید فرماتے ہیں : ہم خیال کرتے ہیں کہ وہ آدمی عمر بن خطاب ہو گا کیونکہ ہم اس کی قوت اور طاقت جانتے ہیں ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← الْحَجَّاجِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1074

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1075

1075 - قرأت على الحسن بن يزيد الطحان هذا الحديث فقال : هو ما قرأت على سعيد بن خثيم عن فضيل عن عطية Y عن أبي سعيد قال : لما نزلت هذا الآية { وآت ذا القربى حقه } [ الإسراء : 26 ] دعا النبي فاطمة وأعطاها فدك K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ قریبی رشتہ دار کو اس کا حق دو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ ٹعالیٰ عنہا کو بلوایا اور ان کو باغ فدک دیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← فُضَيْلٍ ← على سعيد بن خثيم ← هو ما ← على الحسن بن يزيد الطحان هذا الحديث

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1075

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1076

1076 - حدثنا وهب بن بقية أخبرنا خالد عن الجريري عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : اعتكف رسول الله صلى الله عليه و سلم العشر الأوسط من رمضان يلتمس ليلة القدر ثم أمر بالبناء فنقض ثم بيني له في العشر الأواخر فأمر به فأعيد فخرج إلينا فقال : إنها بينت ليلة القدر وإني خرجت لأبينها لكم فتلاحى رجلان فنسيتها فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة قلت : يا أبا سعيد إنكم أعلم بالعدد منا فأي ليلة : التاسعة والسابعة والخامسة ؟ فقال : أجل ونحن أحق بذلك إذا كانت ليلة إحدى وعشرين ثم دع ليلة ثم التي تليها هي الثالثة ثم دع الليلة والتي تليها الخامسة . قال الجريري : فحدثني أبو العلاء عن مطرف أنه سمع معاوية يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والثالثة . قال الجريري : فحدثني أبو العلاء عن مطرف أنه سمع معاوية يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والثالثة K إسناده صحيح

حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے درمیان عشرہ میں اعتکاف کیا پھر لیلۃ القدر تلاش کرنے لگے' پھر بناء کا حکم دیا ' اس کو ختم دیا گیا' پھر اس کو بیان کیا گیا ' آخری عشرہ میں آپ نے اس کا حکم دیا' اس کو لوٹا یا گیا' آپ ہماری طرف نکلے ' فرمایا: لیلۃ القدر کوواضح کر دیا گیا تھا ' میں نکلا تاکہ تمہارے لیے بیان کروں تو دو آدمی جھگڑ رہے تھے تو یہ مجھے بھلا دی گئی ' تو اب لیلۃ القدر تلاش کرو: پانچ ' سات اور نو رمضان میں ۔ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے ابو سعید !تم تعداد کو ہم سے زیادہ جانتے ہو کہ کون سی رات پانچ' سات یا نو ہے؟ حضرت ابوسعید نے فرمایا: جی ہاں ! ہم اس کے زیادہ حق دار ہیں'جب اکیسویں رمضان کی رات ہو تو اس کو چھوڑ دو وہ پانچویں جو اسکے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔ حضرت جریری فرماتے ہیں : مجھے ابو العلاء نے بیان کی ' انہوں نے مطرف سے ' انہوں نے معاویہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین!

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1076

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1077

1077 - حدثنا عبد الغفار حدثنا علي بن مسهر عن أبي سفيان عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مفتاح الصلاة الوضوء وتحريمها التكبير وإحلالها التسليم وفي كل ركعتين تسليم ولا تجوز صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب وشيء معها

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی وضو ہے ' اس کو حرام کرنے والی تکبیر ہے اس کو حلال کرنے والا اسلام ہے۔ ہر دورکعتوں میں التحیات ہے کوئی نماز مکمل نہیں ہوتی جس میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی آیت یا سورۃ نہ ملائی جائے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي سُفْيَانَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عبد الغفار

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1077

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1078

1078 - حدثنا وهب بن بقية أخبرنا خالد عن الجريري عن أبي نضرة قال أراه Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يا أهل المدينة لا تأكلوا لحوم الأضاحي فوق ثلاثة الأيام قال : فشكوا إليه أن لهم عيالا وخدما فقالى : كلوا وأطعموا واحتبسوا K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اہل مدینہ ! قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھاؤ' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ انکے بچہ اور غلام بھی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور کھلاؤ اور رکھ بھی لو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أُرَاهُ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1078

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1079

1079 - وعن أبي نضرة قال : أراه Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا اكتسى ثوبا سماه باسمه : عمامة أو قميص أو رداء ويقول : اللهم لك الحمد أنت كسوتني أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی کپڑے پہنتے تھے تو اس کا نام رکھتے تھے عمامہ یا قمیص ، یا چادر اور یہ دعا کرتے: " اللھم لک الحمد الیٰ آخرہٖ " ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أُرَاهُ ← وعن أبي نضرة

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1079

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1080

1080 - وعن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم على نهر من ماء وهو على بغل والناس صيام والمشاة كثير فقال : اشربوا فجعلوا ينظرون إليه فقال : اشربوا فإني أيسركم فجعلوا ينظرون إليه فحول وركه فشرب وشرب الناس K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ' حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کی ایک نہر کے پاس سے گزرے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خچر پر سوار تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین روزہ کی حالت میں تھے، سفر بھی کافی تھا۔ صحابہ کرام آپ کا انتظارکرنے لگے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیوا، میں تم پر آسانی کرنے کے لیے آیا ہوں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خچر سے نیچے اترے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی پیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی پیا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1080

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1081

1081 - وعن أبي سعيد قال Y دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم المسجد فبصر بنخامة في قبلة المسجد فاستبانها بعود كان معه أو قصبة ثم أقبل على القوم يعرفون الغضب في وجهه فقال : من صاحب هذا ؟ فسكت القوم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيحب أحدكم إذا قام في مصلاه أن يستقبله رجل فينخع في وجهه ؟ قالوا : يا رسول الله ما تحب ذلك قال : فإن الله بين أيديكم فلا يواجهن أحدكم بشيء من الأذى بين يديه ولكن عن يساره أو تحت قدمه K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ ٹعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی قبلہ کی جانب تھوک کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھڑی کے ساتھ یا لکڑی کے ساتھ اس کو صاف کر دیا۔ پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانب متوجہ ہوئے۔ صحابہ کرام آپ کا غصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کس نے کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خاموش ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ایک پسند کرتا ہے کہ جب نماز کی حالت میں کھڑا ہو اس کے منہ پر کوئی تھوک دے؟ عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی بھی پسند نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کی رحمت کی تجلیات تمہارے آگے ہوتی ہیں ' تم میں سے کوئی اپنے سامنے کوئی تکلیف دہ چیز نہ پھینکے، لیکن اپنے بائیں جانب اور اپنے قدموں کے نیچے پھینکے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1081

chevron_left Previous
1…89101112
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter