Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1022

1022 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا أبو معشر حدثنا أفلح بن عبد الله بن المغيرة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود Y عن أبي سعيد قال : حضرت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين وهو يقسم بين الناس قسمة رجل من بني أمية فقال له : اعدل يا رسول الله : فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : خبت إذا وخسرت إن لم أعدل فمن يعدل ويحك ؟ فاستأذن عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في قتله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنا بالذي أقتل أصحابي سيخرج ناس يقولون مثل قوله يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فأخذ سهما فنظر إلى رصافه فلم ير فيه شيئا ثم نظر إلى نصله - يعني القدح - فلم ير فيه شيئا ثم نظر إلى قذذه فلم ير فيه شيئا سبق الفرث والدم علامتهم رجل يده كثدي المرأة كالبضعة تدردر فيها شعرات كأنها سبلة سبع . قال أبو سعيد : وحضرت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين وحضرت مع علي يوم قتلهم بنهروان قال : فالتمسه علي فلم يجده قال : ثم وجده بعد ذلك تحت جدار على هذا النعت فقال علي : أكم يعرف هذا ؟ فقال رجل من القوم : نحن نعرفه هذا حرقوس وأمه هاهنا قال : فأرسل علي إلى أمه فقال لها : من هذا ؟ فقالت : ما أدري يا أمير المؤمنين إلا أني كنت أرعى غنما لي في الجاهلية بالربذة فغشيني شيء كهيئة الظلة فحملت منه فولدت هذا K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا حنین کے دن جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا تھا۔ بنی امیہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا' اس نے بکواس کی: اے اللہ کے رسول! عدل کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے نقصان اور حسرت ہے کہ میں عدل نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ ! اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے صحابی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے لوگ آئیں گے اس کی طرح وہ لوگ قران پڑھیں گے ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔ وہ اپنے تیر کو پکڑ کر اس کے پہلے کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا پھر اس کے بیٹھنے کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھا' ان کی نشانی ایک آدمی ہو گا جس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کے میں حنین کے دن موجود تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نہروان کے قتل کرنے والے دن موجود تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو تلاش کیا اس کو نہیں پایا۔ پھر اس کے بعد اس کو ایک دیوار کے نیچے پایا اس صفت پر۔ حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو کون پہچانتا ہے؟ قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کی: ہم پہچانتے ہیں اس کو' یہ حرقوس ہے اس کی امی یہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ماں کو بلوانے کےلیے بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا : اس سے یہ کون تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتی ہوں! اے امیر المومنین ! مگر میں بکریاں چراتی تھی۔ جاہلیت میں ربذہ کے مقام پر مجھے کسی شے اندھیرے کی طرح ڈھانپ لیا۔ میں اس سے حامل ہو گئی۔ میں نے اس کو جنا تھا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَفْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1022

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1023

1023 - حدثنا أبو الربيع الزهراني حدثنا يحيى بن ميمون وكان جليسا للمعتمر حدثنا علي بن زيد عن أبي نضرة Y عن أبي سعيد قال : جاء شاب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله علمني دعاء أصيب به خيرا قال له : ادنه فدنا حتى كادت ركبته تمس ركبة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : قل : اللهم اعف عني فإنك عفو تحب العفو وأنت عفو كريم K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک نوجوان آیا' اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ! مجھے کوئی دعا سکھائیں کہ میں اس سے بھلائی پاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: قریب ہو! وہ قریب ہوا یہاں تک کہ اس کے گھٹنے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں سے مس ہونے لگے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو یہ دعا مانگا کر! "اللھم اعف عنی الیٰ آخرہٖ "۔

جاء شاب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← يحيى بن ميمون وكان جليسا للمعتمر ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1023

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1024

1024 - حدثنا الحسن بن عيسى أخبرنا ابن المبارك حدثنا سفيان عن هشام أبي كليب عن ابن أبي نعم Y عن أبي سعيد قال : نهى عن عسب الفرس وقفيز الطحان K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ گھوڑا چڑھانے کا معاوضہ لینے اور چکی پر کام کرنے والے کا گندم کا قفیز لینے سے منع کیا ہے۔

عسب الفرس وقفيز الطحان إسناده صحيح ← نُهِيَ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← ابْنِ أَبِي نُعَمٍ، ← هشام أبي كليب ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1024

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1025

1025 - حدثنا أبو بكر حدثنا محمد بن بشر حدثنا زكريا حدثني عطية Y عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ألا إن عيبتي التي آوي إليها أهل بيتي وكرشي الأنصار فاعفوا عن مسيئهم واقبلوا من محسنهم K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! بے شک میرا ٹھکانہ میرے اہل بیت ہیں' جن کی طرف میں پناہ لیتا ہوں اور انصار میرے ساتھی ہیں ' ان کی برائیاں معاف کرو، ان کی اچھائیاں قبول کرو۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← زَکَرِیَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1025

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1026

1026 - وعن أبي سعيد Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا، وہ جنت میں د اخل ہو گیا۔

من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← وعن أبي سعيد

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1026

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1027

1027 - عن أبي سعيد Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إني تارك فيكم الثقلين أحدهما أكبر من الآخر : كتاب الله حبل ممدود بين السماء والأرض وعترتي أهل بيتي ولن يفترقا حتى يردا علي الحوض K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ (1) کتاب اللہ : یہ اللہ کی رسی ہے زمین و آسمان کے درمیان (2) اپنی اولاد کہ یہ دونوں جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ دونوں مجھے حوض کوثر پہ ملیں گی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1027

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1028

1028 - حدثنا أبو بكر حدثنا محمد بن بشر حدثنا زكريا حدثني عطية Y عن أبي سعيد ا النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن لي حوضا طوله ما بين الكعبة إلى بيت المقدس أبيض من اللبن آنيته عدد النجوم وإني أكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة K إسناده ضعيف

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا ایک حوض ہے جس کی لمبائی کعبہ سے بیت المقدس تک ہے' اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے' اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت قیامت کے دن میرے تابع زیادہ ہوں گے۔

أبي سعيد ا النبي صلى الله عليه و سلم ← عَطِيَّةَ، ← زَکَرِیَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1028

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1029

1029 - حدثنا أبو بكر حدثنا حاتم بن إسماعيل عن حميد بن صخر عن أبي سلمة Y عن أبي سعيد قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم فسألته عن المسجد الذي أسس على التقوى فقبض قبضة من الحصى ثم ضرب بها الأرض ثم قال : هذا يعني مسجد المدينة K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے مسجد کے متعلق پوچھا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنکریوں کی مٹھی پکڑی پھر اس کو زمین پر مارا پھر فرمایا: یہ مدینہ کی مسجد ہے۔

دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم فسألته ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1029

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1030

1030 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا أبو داود حدثنا عمران عن قتادة عن عبد الله بن أبي عتبة Y عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليحجن هذا البيت وليعتمرن بعد خروج يأجوج ومأجوج K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور اس گھر کا حج اور عمرہ کیا جاتا رہے گا یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1030

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1031

1031 - حدثنا أبو بكر حدثنا خلف بن خليفة عن العلاء بن المسيب عن أبيه Y عن أبي سعيد رفعه إن الله يقول : وإن عبدا أصححت له جسمه وأوسعت عليه في المعيشة تمضي عليه خكسة أعوام لا يفد إلي إلا محروم K رجاله ثقات

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل فرمائے گا: بے شک بندہ کو میں نے اس کے جسم کے لحاظ سے صحت دی اور اس پر کاروبار کی وسعت کی۔ اس پر پانچ سال گزرے میری طرف صرف محروم ہی قاصد بن کر آئے گا۔

أبي سعيد رفعه إن الله ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1031

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1032

1032 - حدثنا أبو بكر حدثنا بكر بن عبد الرحمن أخبرنا عيسى بن المختار عن ابن أبي ليلى عن العوفي Y عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الولد ثمر القلب وإنه مجبنة مبخلة محزنة K إسناده ضعيف جدا

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچہ دل کا پھل ہے' اس کی وجہ سے کنجوسی اور بخل اور پریشان ہوتا ہے۔

الولد ثمر القلب وإنه مجبنة مبخلة محزنة إسناده ضعيف جدا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← العوفي ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1032

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1033

1033 - حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري حدثنا أبي حدثنا شعبة عن قتادة سمع أبا الصديق الناجي Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم : أن رجلا قتل تسعة وتسعين فجاء يسأل : هل له من توبة ؟ فأتى راهبا فسأله فقال : ليست لك توبة فقتل الراهب ثم جعل يسأل ثم خرج من قرية إلى قرية فيها قوم صالحون قال : فلما كان في بعض الطريق أدركه الموت فنأى بصدره ثم مات فاجتمعت ملائكة الرحمة وملائكة العذاب وكان إلى القرية الصالحة أقرب بشبر فجعل من أهلها K إسناده صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے 99 آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ وہ آیا یہ پوچھنے کے لیے کہ اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ وہ ایک راہب کے پاس آیا، اس نے اس سے پوچھا۔ اس نے کہا: تیری توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔ اس نے راہب کو قتل کیا۔ پھر اس نے پوچھنا شروع کر دیا۔ پھر وہ ایک بستی کی طرف نکلا۔ اس بستی میں نیک لوگ رہتے تھے۔ ابھی اس نے بعض راستہ طے کیا تھا کہ اس کو موت نے آ لیا۔ اس نے سینہ آگے کیا پھر اس کو موت آئی۔ رحمت والے فرشتے اور عذاب والے فرشتے جمع ہو گئے اس کو ایک بالشت کے برابر زیادہ قریب پایا نیک لوگوں کی بستی کے اس کا شمار ان نیک لوگوں میں کر دیا گیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1033

chevron_left Previous
1…456…12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter