مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1022
1022 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا أبو معشر حدثنا أفلح بن عبد الله بن المغيرة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود Y عن أبي سعيد قال : حضرت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين وهو يقسم بين الناس قسمة رجل من بني أمية فقال له : اعدل يا رسول الله : فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : خبت إذا وخسرت إن لم أعدل فمن يعدل ويحك ؟ فاستأذن عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه و سلم في قتله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أنا بالذي أقتل أصحابي سيخرج ناس يقولون مثل قوله يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية فأخذ سهما فنظر إلى رصافه فلم ير فيه شيئا ثم نظر إلى نصله - يعني القدح - فلم ير فيه شيئا ثم نظر إلى قذذه فلم ير فيه شيئا سبق الفرث والدم علامتهم رجل يده كثدي المرأة كالبضعة تدردر فيها شعرات كأنها سبلة سبع . قال أبو سعيد : وحضرت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم حنين وحضرت مع علي يوم قتلهم بنهروان قال : فالتمسه علي فلم يجده قال : ثم وجده بعد ذلك تحت جدار على هذا النعت فقال علي : أكم يعرف هذا ؟ فقال رجل من القوم : نحن نعرفه هذا حرقوس وأمه هاهنا قال : فأرسل علي إلى أمه فقال لها : من هذا ؟ فقالت : ما أدري يا أمير المؤمنين إلا أني كنت أرعى غنما لي في الجاهلية بالربذة فغشيني شيء كهيئة الظلة فحملت منه فولدت هذا K إسناده ضعيف
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا حنین کے دن جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا تھا۔ بنی امیہ میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا' اس نے بکواس کی: اے اللہ کے رسول! عدل کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے نقصان اور حسرت ہے کہ میں عدل نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ ! اجازت دیں میں اس کی گردن اڑا دوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے صحابی کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسے لوگ آئیں گے اس کی طرح وہ لوگ قران پڑھیں گے ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔ وہ اپنے تیر کو پکڑ کر اس کے پہلے کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا پھر اس کے بیٹھنے کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا پھر اس کی لکڑی کو دیکھتا اس میں کوئی شے نہیں دیکھا' ان کی نشانی ایک آدمی ہو گا جس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کے میں حنین کے دن موجود تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ نہروان کے قتل کرنے والے دن موجود تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو تلاش کیا اس کو نہیں پایا۔ پھر اس کے بعد اس کو ایک دیوار کے نیچے پایا اس صفت پر۔ حضرت مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس کو کون پہچانتا ہے؟ قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کی: ہم پہچانتے ہیں اس کو' یہ حرقوس ہے اس کی امی یہیں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ماں کو بلوانے کےلیے بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا : اس سے یہ کون تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتی ہوں! اے امیر المومنین ! مگر میں بکریاں چراتی تھی۔ جاہلیت میں ربذہ کے مقام پر مجھے کسی شے اندھیرے کی طرح ڈھانپ لیا۔ میں اس سے حامل ہو گئی۔ میں نے اس کو جنا تھا۔
اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَفْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ← أبو معشر ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ
Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1022
