مسند أبي يعلى · أيمن بن خريم الأسدي ‹ أيمن بن خريم الأسدي · حديث 947
947 - حدثنا زحمويه حدثنا صالح بن عمر عن مطرف عن عامر قال Y لما قاتل مروان الضحاك بن قيس أرسل إلى أيمن بن خريم الأسدي فقال : إنا نحب أن تقاتل معنا فقال : إن أبي و عمي شهدا بدرا فعهدا إلي أن أقاتل أحدا يشهد أن لا إله إلا الله فإن جئتني ببراءة من النار قاتلت معك فقال : اذهب ووقع فيه وسبه فأنشأ أيمن يقول : ( ولست مقاتلا رجلا يصلي على سلطان آخر من قريش ) . ( له سلطانه وعلي إثمي معاذ الله من جهل وطيش ) . ( أقاتل مسلما في غير شيء ؟ فليس بنافعي ما عشت عيشي ) K رجاله ثقات
حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مروان نے ضحاک بن قیس کو قتل کیا اس نے ایمن بن خریم اسدی کی طرف بھیجا ، اس نے کہا : ہم پسند کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ لڑیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے باپ و چچا بدر میں شریک تھے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں اس سے نہ لڑوں گا جو اللہ کی توحید اور حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی رسالت کی گواہی دے ۔ اگر تو مجھے جہنم سے بری کرا سکتا ہے تو میں تیرے ساتھ مل کر جہاد کروں گا ۔مروان نے کہا: جاؤ ، اسے غصہ آیا اور اس نے انہیں گالی دی ۔حضرت ایمن نے یہ اشعار پڑھے : " میں نہیں لڑوں گا ایسے آدمی سے جو نماز پڑھتا ہے بادشاہ کےکہنے پر جو قریش سے ہے ، اس کے لیے بادشاہی ہے اور مجھ پر گنا ہ ہے اللہ کی پناہ جہالت سے اور طیش سے ، میں مسلمان سے لڑوں بغیر کسی وجہ کے ، تو میرے لیے نفع نہیں ہے جب تک میں زندہ ہوں " ۔
نحب أن تقاتل معنا ← لما قاتل مروان الضحاك بن قيس أرسل إلى أيمن بن خريم الأسدي ← عَامِرٍ، ← مُطَرِّفٍ ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← زحمويه
Musnad Abu Yaalaa · Ayman bin Khuraim al-Asadi › Chapter · Hadith 947
