مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 749
749 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثنا أبي عن شريك بن عبد الله بن أبي نمر - وهو أحد بني بن الحارث بن عبد مناة بن كنانة - أخبرني عامر بن سعد بن أبي وقاص Y أن أباه حين رأى اختلاف أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وتفرقهم اشترى له ماشية ثم خرج فاعتزل فيها بأهله على ماء يقال له : قلهي قال : وكان سعد أحد الناس بصرا فرأى ذات يوم شيئا يزول فقال لمن تبعه : ترون شيئا ؟ قالوا : نرى شيئا كالطير قال : أرى راكبا على بعير ثم جاء بعد قليل عمر بن سعد على بختي - أو بختية - ثم قال : اللهم إنا نعوذ بك من شر ما جاء به فسلم عمر ثم قال لأبيه : أرضيت أن تتبع أذناب هذه الماشية بين هذه الجبال وأصحابك يتنازعون في أمر الأمة ! ؟ فقال سعد بن أبي وقاص : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنها ستكون بعدي فتن - أو قال : أمور - خير الناس فيها الغني الخفي التقي فإن استطعت يا بني أن تكون كذلك فكن فقال له عمر : أما عندك غير هذا ؟ فقال له سعد : لا يا بني فوثبت عمر ليركب ولم يكن حط عن بعيره فقال له سعد : أمهل حتى نغذيك قال : لا حاجة لي بغدائكم قال سعد : فنحلب لك فنسقيك قال : لا حاجة لي بشرابكم ثم ركب فانصرف مكانه K رجاله رجال الصحيح
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ ان کے والد نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں اختلاف دیکھا تو ان سے جدا ہو گئے جانور خریدے پھر اپنے بھر والوں کو لے کر نکلے اور ایک مقام پر چلے گئے اس کو قلھی کہا جاتا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ صاحب بصارت لوگوں میں شامل ہوتے تھے ، آپ نے ایک دن کوئی شی زائل ہوتی دیکھی تو جو آپ کے ساتھ تھے ان سے فرمایا کہ تم کوئی شی دیکھتے ہو؟ انہوں نے کہا ہم پرندہ کی طرح کی شی دیکھتے ہیں ۔ فرمایا : میں ایک سوار کو دیکھ رہا ہوں جو اونٹ پر ہے ، پھر تھوڑی دیر بعد عمر بن سعد اونٹ یا اونٹنی پر سوار ہو کر آئے ، پھر فرمایا : اے اللہ ! میں اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو یہ لے کر آیا ہے ۔ عمر نے سلام کیا پھر اپنے والد سے کہا : کیا آپ خوش ہیں ؟ آپ اپنے جانوروں سے پہاڑوں میں رہیں اور آپ کے اصحاب اس امت کے معاملہ میں جھگڑیں ؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : عنقریب میرے بعد فتنے ہوں گے ، یا ایسے کام ہوں تو ایسے وقت میں وہ لوگ بہتر ہوں گے جو بے پروا چھپے اور پرہیزگار ، اے بیٹے اگر تو ایسا ہونا چاہتا ہے تو ہو جا۔ عمر نے حضرت سعد سے عرض کی : کیا اس کے علاوہ کوئی ہے ؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا : نہیں اے بیٹے ! عمر نے جلدی کی اور سوار ہوا اور اونٹ پر بیٹھنے میں دیر نہ کی۔ حضرت سعد نے انہیں فرمایا : ٹھہرو ! یہاں تک کہ میں تجھے صبح کا کھانا کھلاؤں ۔ اس نے عرض کی : مجھے صبح کے کھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم تیرے لیے دودھ دوھتے ہیں ، ہم تجھے پلاتے ہیں ۔ اس نے عرض کی : مجھے آپ کے دودھ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ پھر سوار ہوا اور اس جگہ سے چلا گیا۔
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 749
