Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 737

737 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا أبو بكر الحنفي حدثنا بكير بن مسمار عن عامر بن سعد Y أن أباه سعدا كان في إبل له وغنم فجاءه ابنه عمر فلما رآه قال : أعوذ بالله من شر هذا الراكب فلما انتهى إليه قال : أرضيت أن تكون أعرابيا في إبلك وغنمك والناس بالمدينة يتنازعون الملك ؟ قال : فضرب صدره بيده وقال : يا بني اسكت فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يحب العبد التقي الغني الخفي K إسناده حسن

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے باپ سعد رضی اللہ عنہ کے پاس بکریاں اور اونٹ تھے ۔ ان کے پاس ان کے بیٹے حضرت عمر آئے ۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو دیکھا کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس سوار کے شر سے ۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاش پہنچے ، عرض کی : کیا آپ خوش ہیں اس پر کہ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس دیہات میں رہیں ، لوگ مدینہ میں جھگڑ رہے ہیں حکومت کے متعلق؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان کے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اے بیٹے ! خاموش رہو ، میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ عزوجل اس بندہ کو پسند کرتا ہے جو ڈرنے والا اور بے واہ اور چھپا ہوا ہو۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Hadith 737

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 738

738 - حدثنا بشر بن هلال الصواف حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا حرب بن شداد عن سعيد بن المسيب Y عن سعد قال : لما غزا رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة تبوك خلف عليا بالمدينة فقال الناس : مله وكره صحبته فبلغ ذلك عليا فخرج حتى لحق بالنبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله خلفتني بالمدينة مع النساء والصبيان والذراري حتى قال الناس : مله وكره صحبته ؟ فقال : يا علي إنما خلفتك على أهلي أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي ؟ K رجاله رجال الصحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ شریف میں چھوڑ گئے ۔ لوگوں نے کہا: اکتا گیا ہے اور اس نے ساتھ جانے کو ناپسند کیا ہے ۔ یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملے ، عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے مدینہ میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑ گئے یہاں تک کہ لوگوں نے کہا: تھک گیا ہے اور اس نے ساتھ جانے کو ناپسند کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اے علی ! میں نے تجھے اپنے گھروں میں پیچھے چھوڑا تھا ، کیا تو راضی نہیں کہ میرے ہاں تیرا مقام وہی ہو جو حضرت ہارون کا حضرت موسیٰ کے ہاں تھا، فرق یہ ہے کہ میرے بعد نبی نہیں ہے ۔

سَعْدٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ

Hadith 738

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 739

739 - حدثنا سعيد بن مطرف الباهلي حدثنا يوسف بن يعقوب عن ابن المنكدر عن سعيد بن المسيب عن عامر بن سعد Y عن سعد أنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لعلي : أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه ليس معي نبي . قال سعيد : فأحببت أن أشافه بذلك سعدا فلقيته فذكرت له ما ذكر لي عامر فقلت له فقال : نعم سمعته فقلت : أنت سمعته ؟ فأدخل إصبعيه في أذنيه فقال : نعم وإلا فاستكتا

حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہوئے سنا : تیرا میرے ہاں وہی مقام ہے جو جناب ہارون کا حضرت موسیٰ کے ہاں تھا مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ حضرت سعید فرماتے ہیں : میں نے پسند کیا کہ میں اس کے ساتھ سعد کو بالمشافہ کہوں ، میں آپ سے ملا میں نے ذکر کیا جو مجھے عامر نے بتایا ، میں نے ان سے کہا : حضرت سعد نے کہا : جی ہاں میں نے سنا ہے میں نے کہا : آپ نے سنا ہے آپ نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں ۔ فرمایا : جی ہاں دونوں خاموش ہو گئے ۔

فأدخل إصبعيه في أذنيه فقال نعم وإلا فاستكتا ← فقلت أنت ← لي عامر فقلت له فقال نعم ← سعيد فأحببت أن أشافه بذلك سعدا فلقيته فذكرت له ما ← لعلي أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه ليس معي نبي ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعْدٍ أَنَّهُ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← سعيد بن مطرف الباهلي

Hadith 739

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 740

740 - حدثنا الحسين بن عمرو بن محمد العنقزي حدثنا أبي حدثنا خلاد بن مسلم الصفار عن عمرو بن قيس عن عمرو بن مرة عن مصعب بن سعد Y عن أبيه في قول الله : { الر تلك آيات الكتاب المبين * إنا أنزلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون * نحن نقص عليك أحسن القصص } الآية [ يوسف : 1 - 2 - 3 ] قال : نزل القرآن على رسول الله صلى الله عليه و سلم فتلاه عليهم زمانا فقالوا : يا رسول الله لو قصصت علينا فأنزل الله علينا : { الر تلك آيات الكتاب المبين * إنا أنزلناه قرآنا عربيا } الآية [ يوسف : 1 - 2 ] فتلاه عليهم زمانا قالوا : يا رسول الله لو حدثتنا فأنزل الله : { الله نزل أحسن الحديث كتابا متشابها } الآية [ الزمر : 23 ] كل ذلك يؤمرون بالقرآن . قال أبي : قال خلاد : وزادني فيه غيره : قالوا يا رسول الله لو ذكرتنا فأنزل الله : { ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله وما نزل من الحق } [ الحديد : 16 ] K إسناده ضعيف

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے اس ارشاد کے متعلق یہ روشن کتاب کی نشانیاں ہیں ۔ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اس کو سمجھو ، ہم آپ سب سے اچھا قصہ بیان کرتے ہیں ( الر : 30 ) حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قرآن رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہا کو تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھایا۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم پر یہ قصہ بیان کریں ۔ اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی : " الر تلک الیٰ آخرہ " آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر پڑھی تھوڑی تھوڑی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم کو بیان کریں اللہ نازل فرمایا : اللہ نزل احسن الحدیث الیٰ آخرہ۔ یہ ایک قرآن حکم دیتا ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم کو ڈرائیں ! اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : الم یان الیٰ آخرہ۔

أنزلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون نحن نقص عليك أحسن القصص الآية يوسف ← أَبِيهِ فِي قَوْلِ اللَّهِ: {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← خَلَّادُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، ← أَبِي ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ

Hadith 740

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 741

741 - حدثنا علي بن عبد الله بن جعفر بن نجيح المديني حدثنا يحيى بن سعد حدثنا شعبة حدثنا أبو عون قال سمعت جابر بن سمرة يقول Y قال عمر لسعد : لقد شكاك أهل الكوفة في كل شيء حتى في الصلاة فقال : أمد في الأوليين وأحذف في الأخريين وما آلوا ما اقتديت به من صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ذاك الظن بك أو ظني بك K إسناده صحيح

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کوفے والے آپ کی ہر شی کی شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز کی بھی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا ہے اور آخری دو مختصر ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے اس میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کی ، جس میں میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء کی تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کے متعلق میرا یہی گمان تھا۔

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← أَبُو عَوْنٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنِ سَعْدٍ، ← علي بن عبد الله بن جعفر بن نجيح المديني

Hadith 741

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 742

742 - حدثنا علي بن المديني حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة نحوا من حديث يحيى إلا إنه قال في حديثه Y ذاك الظن بك ولم يشك K إسناده صحيح

حضرت شعبہ نے یحییٰ والی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی مگر اس کی حدیث میں ذاک الظن بک بغیر شک کے ہے ۔

في حديثه ذاك الظن بك ولم يشك إسناده صحيح ← شعبة نحوا من حديث يحيى إلا إنه ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ،

Hadith 742

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 743

743 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا ابن عيينة عن عبد الملك بن عمير عن جابر بن سمرة قال Y سمعت عمر يقول لسعد : لقد شكاك أهل الكوفة حتى قالوا : لا يحسبن يصلي قال : أنا ؟ قال : نعم [ قال ] : فوالله ما كنت لآلو بهم عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم أركد في الأوليين وأحذف في الأخريين فسمعت عمر يقول له : ذلك الظن بك ذلك الظن بك K إسناده صحيح

حضرت جبر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کوفے والے آپ کی ہر شی کی شکایت کرے ہیں یہاں تک کہ نماز کی بھی کہ پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا ہے اور آخری دو مختصر۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے اس میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں کی ، جس میں ، میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء کی تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کے متعلق میرا یہی گمان تھا ، میرا یہی گمان تھا۔

عُمَرَ، ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 743

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 744

744 - حدثنا محمد بن عباد المكي حدثنا حاتم عن حمزة بن أبي محمد عن بجاد بن موسى عن عامر بن سعد قال Y قال سعد : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ شيئا من الأرض بغير حله طوقه من سبع أرضين لا يقبل منه صرفا ولا عدلا ومن ادعى إلى غير أبيه أو لغير مولاه فقد كفر K إسناده ضعيف

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس نے کوئی شے لی زمین کے بغیر حق کے سات زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا ، اس کے فرض و نفل قبول نہیں کیے جائیں گے ، جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی یا اپنے مولا کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کی اس نے کفر کیا۔

سَعْدٍ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← بجاد بن موسى ← حمزة بن أبي محمد ← حَاتِمٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ

Hadith 744

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 745

745 - حدثنا إبراهيم بن سعيد حدثنا أبو فلان حدثنا أبو بكر بن أبي مريم عن راشد بن سعد Y عن سعد بن أبي وقاص قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن هذه الآية { قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم أو من تحت أرجلكم } [ الأنعام : 65 ] فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما إنها كائنة ولم يأت تأويلها K إسناده ضعيف جدا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا : قل ھو القادر الیٰ آخرہ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : یہ ہوگا ( ابھی ) اس کی تاویل نہیں ہوگی ( یعنی ظاہر نہیں ہوگی ) ۔

هَذِهِ الْآيَةِ: ← سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو فُلَانَ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Hadith 745

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 746

746 - حدثنا ابن نمير حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن قال Y قال سعد بن أبي وقاص : في سن الثلث مرضت مرضا فعادني فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : هل أوصيت ؟ قلت : أوصيت بمالي كله قال : فما تركت لورثتك ؟ قلت : إنهم أغنياء قال : أوص بالعشر واترك سائره لورثتك وذكر الحديث K إسناده ضعيف

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا، اس بیماری میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری عیادت فرمائی ، آپ نے فرمایا : کیا تو نے وصیت کی ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے اپنے تمام مال کی وصیت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو نے اپنے ورثاء کے لیے کیا چھوڑا ہے ؟ میں نے عرض کی : وہ مال دار ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : دسویں حصہ کی وصیت کر۔ باقی سارا اپنے ورثاء کے لیے چھوڑ دے ۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Hadith 746

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 747

747 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عامر بن سعد Y عن أبيه قال : مرضت عام الفتح مرضا أشفيت منه على الموت أتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم يعودني فيه فقلت : يا رسول الله لي مال كثير ليس يرثني إلا ابنتي أفأوصي بثلثي مالي ؟ قال : لا قال : قلت : فالشطر ؟ قال : لا : قلت : فالثث قال : الثلث والثلث كبير - أو كثير - إنك أن تترك ورثتك أغنياء خير من أن تتركهم عالة يتكففون الناس إنك لن تنفق نفقة إلا أجرت فيها حتى اللقمة ترفعها إلى في امرأتك قال : قلت : يا رسول الله أخلف عن هجرتي ؟ قال : إنك لن تخلف بعدي فتعمل عملا تريد به وجه الله إلا ازددت رفعة ودرجة اللهم أمض لأصحابي هجرتهم ولا تردهم على أعقابهم لكن البائس سعد بن خولة يرثي له أن مات بمكة K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں فتح کے سال بیمار ہو گیا۔ میں نے اس سے خوف کیا کہ میں اس بیماری میں مر جاؤں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری عیادت فرمائی اس بیماری میں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے ۔ میرا وارث سوائے میرے بیٹی کے اور کوئی نہیں ہے آپ بتائیں کہ کیا میں 3 تہائی کی وصیت کر جاؤں اپنے مال سے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : نہیں ۔ میں نے عرض کی : ایک تہائی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تہائی اور تہائی بہت بڑا ہے یا بہت زیادہ ہے ، اگر تو اپنے ورثاء کو مال دار چھوڑے تو تیرے لیے بہتر ہے کہ تو ان کو محتاج نہ چھوڑے وہ لوگوں سے مانگتے رہیں ، جو تو ان پر خرچ کرے گا اس پر ثواب پائے گا، یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالے ( اس پر بھی ثواب ملے گا ) ۔ میں نے عرض کی : میں ہجرت کرنے سے پیچھے رہ گیا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو میرے بعد ہر گز پیچھے نہیں رہے گا۔ تو عمل کرے گا اس کے ساتھ اللہ کی رضا کو مدنظر رکھ کر ایسا عمل کرے گا اس کے ساتھ اللہ کی رضا کو مدنظر رکھ کر ایسا عمل جس کے ساتھ درجہ بلند ہو گا یقیناً تو لمبی عمر پائے گا ، ایک قوم کو تیری وجہ سے فائدہ ہو گا اور ایک کو نقصان ہو گا۔ اے اللہ میرے صحابہ کی ہجرت پوری فرما ان کو ایڑیوں کے بل نہ لوٹانا لیکن بیچارہ سعد بن خولہ اس کے لیے مرثیہ کہا کہ وہ مکہ میں فوت ہو گیا ہے ۔ ( مرثیہ : میت کی خوبیاں بیان کرنا ) ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 747

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 748

748 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن ابن أبي مليكة عن عبيد الله بن أبي نهيك Y عن سعد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس منا من لم يتغن بالقرآن قال سفيان : يعني يستغني به K رجاله ثقات

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اس کا تعلق ہم سے نہیں جو اچھی طرز میں قرآن نہ پڑھے ۔ حضرت سفیان فرماتے ہیں : یعنی خوبصورت آواز میں ۔

سفيان يعني يستغني به رجاله ثقات ← لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآن۔ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← سَعْدٍ، ← عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ نَھِیکٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرٍو، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 748

chevron_left Previous
1…456…13
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter