Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 725

725 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق عن داود بن عامر بن سعد عن أبيه Y عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه لم يكن نبي إلا وقد وصف الدجال لأمته ولأصفنه صفة لم يصفها أحد قبلي : إنه أعور وإن الله ليس بأعور K رجاله ثقات

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی نے اپنی امت کو دجال کے متعلق بتایا ہے کہ وہ ( کیسا بد صورت ہوگا) میں اپنی امت کو ضرور اس کے متعلق ایسے بتاؤں گا کہ مجھ سے پہلے اس کے متعلق ایسا کسی نے نہیں بتایا ہوگا وہ کانا ہوگا، بے شک اللہ عزوجل عیب سے پاک ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← داود بن عامر بن سعد ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 725

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 726

726 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا الحجاج بن أرطأة عن يحيى بن عبيد البهراني عن محمد بن سعد قال وكان يتوضأ براوية من ماء قال : فخرج من الخلاء قال : فتوضأ ومسح على خفيه فتعجبنا من ذلك فقلنا له فقال Y حدثني أبي أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل مثل هذا K إسناده صحيح

حضرت یحییٰ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ محمد بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ آپ پانی کی مشک سے وضو کرتے تھے ، آپ بیت الخلاء سے نکلے ، وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۔ ہم نے اس پر تعجب کیا ۔ ہم نے آپ سے اس کے متعلق عرض کی ؟ آپ نے مجھے فرمایا : مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔

فتوضأ ومسح على خفيه فتعجبنا من ذلك فقلنا له ← فخرج من الخلاء ← وكان يتوضأ براوية من ماء ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← يَحْيَی بْنِ عُبَيْدٍ الْبَهْرَانِيِّ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 726

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 727

727 - حدثنا زهير حدثنا وكيع حدثنا هشام بن عروة عن أبيه Y عن سعد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : الثلث والثلث كبير أو كثير في الوصية K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تہائی بہت زیادہ ہے یا وصیت میں زیادہ ہے ۔

سَعْدٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 727

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 728

728 - حدثنا زهير حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن إبراهيم بن سعد Y عن سعد بن مالك و أسامة بن زيد و خزيمة بن ثابت قالوا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الطاعون رجز وبقية عذاب عذب به قوم قبلكم فإذا وقع بالأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه وإذا سمعتم به بأرض فلا تدخلوا عليه K إسناده صحيح

حضرت سعد بن مالک اور اسامہ بن زید اور خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا طاعون ایک بیاری ہے تم سے پہلی امتوں کو جو عذاب دیا گیا تھا، اس سے بچا ہوا ہے جب کسی ملک میں آئے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو اور جب تم سنو کہ کسی ملک میں آیا ہے اور تم وہاں موجود نہیں ہو تو وہاں نہ جاؤ۔

سعد بن مالك و أسامة بن زيد و خزيمة بن ثابت ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 728

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 729

729 - حدثنا أبو خيثمة ن حدثنا وكيع عن إسرائيل عن سماك عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : أصبت سيفا يوم بدر فأعجبني فقلت يا رسول الله هبه لي فنزلت : { يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول } [ الأنفال : 1 ]

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن ایک تلوار ملی ، مجھے پسند آئی تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے ہبہ کر دیں اللہ عزوجل نے یہ ایت نازل فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : فرما دیجیے مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ہیں ۔

أصبت سيفا يوم بدر فأعجبني فقلت ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← أبو خيثمة ن

Hadith 729

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 730

730 - حدثنا زهير حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن سعد بن إبراهيم عن عامر Y عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إنك مهما أنفقت على أهلك من نفقة فإنك تؤجر حتى اللقمة ترفعها إلى في امرأتك K إسناده صحيح

حضرت عامر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے گا تو اس کا ثواب ملے گا یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ میں رکھے ۔

أَبِيهِ ← عَامِرٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 730

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 731

731 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا أسامة بن زيد عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة Y عن سعد بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير الرزق ما يكفي وخير الذكر الخفي K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت سعد بن ابی مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بہتر رزق وہ ہے جو کفایت کرتا ہے بہترین ذکر ذکر خفی ہے ۔

سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 731

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 732

732 - حدثنا زهير حدثنا وكيع عن ابن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال Y سمعت سعدا يقول : إني لأول رجل من العرب رمى بسهم في سبيل الله ولقد رأيتنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وما لنا طعام إلا السمر وورق الحبلة حتى إن كان أحدنا ليضع كما تضع العنز ما له خلط K إسناده صحيح

حضرت ابو حازم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عرب میں ، میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر مارا تھا۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے کوئی شے نہیں ہوتی تھی ۔ سوائے ببول کے درخت اور لوبیا جیسی سبزی کے پتوں کے یہاں تک کہ ہم میں کوئی بول و براز کرتا تو اس طرح کرتا جس طرح بکری بول و براز کرتی ہے ۔

سَعْدًا، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← وَكِيعٌ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 732

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 733

733 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن عامر بن سعد Y عن أبيه أن نفرا أتوا النبي صلى الله عليه و سلم فسألوه فأعطاهم إلا رجلا منهم قال سعد : فقلت يا رسول الله أعطيتهم وتركت فلانا ؟ والله إني لأراه مؤمنا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو مسلما قال سعد : قال ذلك ثلاثا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لأعطي الرجل العطاء لغيره أحب إلي وما أفعل ذلك إلا مخافة أن يكبه الله في نار جهنم على وجهه K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک گروہ نے آ کر مانگا ، حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو دیا ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کو نہیں دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فلاں کے لیے کیوں نہیں ؟ اللہ کی قسم میں اس کو مومن خیال کرتا ہوں ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا مسلمان ہے ، حضرت سعد کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں اس آدمی کو دیتا ہوں ۔ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ ( سے دیتا ہوں ) کہ وہ اوندھے میں جہنم میں نہ گرے ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 733

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 734

734 - حدثنا زهير حدثنا مروان بن معاوية الفرازي عن عثمان بن حكيم أخبرنا عامر بن سعد Y عن أبيه أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فمر بمسجد بني معاوية فدخل فركع فيه ركعتين ثم قام فناجى ربه وانصرف فقال : سألت ربي ثلاثا فأعطاني اثنتن ومنعني واحدة : سألته أن لا يهلك أمتي بالغرق ولا بالسنة - يعني الرجوع - فأعطانيهما وسألته أن لا يجعل بأسهو بينهم فمنعنيها K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہی کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنی معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرے ، اس مسجد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم داخل ہوئے اس میں دو رکعتیں ادا کی ۔ پھر کھڑے ہوئے اپنے رب سے گفتگو کی اور چلے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے رب سے تین چیزیں مانگیں : دو مجھے عطا کی گئیں اور ایک کے بارے سوال کرنے سے روک دیا گیا ۔ میں نے مانگا کہ میری امت غرق اور بھوک سے ہلاک نہ ہو مجھے دونوں دی گئیں میں نے مانگا کہ آپس میں لڑیں نہ مجھے اس سے منع کیا گیا۔

عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← مروان بن معاوية الفرازي ← زُهَيْرٍ

Hadith 734

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 735

735 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا أبو بكر بن عياش عن عاصم عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : لما كان يوم بدر جئت بسيف معي فقلت : يا رسول الله إن هذا السيف قد شفى صدري فهبه لي فقال : إن هذا السيف قد شفى صدري فهبه لي فقال : إن هذا السيف ليس هو لك ولا لي : فخرجت وأنا أقول : عسى أن يعطيه من ليس بلاؤه مثل بلائي فجاءني رسول رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أجب فظننت أنه قد نزل في شيء بكلامي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنك سألتنيه وليس هو لي وإن الله قد جعله لي فهو لك

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو میں ایک تلوار لے کر آیا، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں ! میرا سینہ ٹھنڈا ہو جائے گا ۔ آپ نے فرمایا : یہ نہ تیری ہے نہ میری ہے ۔ میں نکلا تو میں کہہ رہا تھا کہ مجھے ایسی آزمائش دی جائے جو کسی کو نہ دی جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اور آپ نے فرمایا : جواب دو ! میں نے گمان کیا کہ میرے متعلق کوئی آیت نازل ہوئی ہے جو میں نے گفتگو کی تھی ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس وقت تو نے مانگی تھی وہ میری نہیں تھی ، بے شک اللہ نے مجھے دی ہے ( میں ) تجھے دیتا ہوں ۔

لما كان يوم بدر جئت بسيف معي فقلت ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Hadith 735

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 736

736 - حدثنا موسى بن حيان حدثنا سلم بن قتيبة حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : قلت للنبي صلى الله عليه و سلم : حلفت باللات والعزى والعهد حديث فقال النبي صلى الله عليه و سلم : قلت هجرا قل لا إله إلا الله ثلاثا واتفل عن يسارك ثلاثا وتعوذ من الشيطان ولا تعد

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں ابھی نیا نیا اسلام لایا ہوں ، میں نے لات و عزی کی قسم اٹھائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو تین مرتبہ لا الہ الا اللہ کہو اور اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکو اور شیطان سے پناہ مانگو آئندہ نہ کرنا۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← موسى بن حيان

Hadith 736

chevron_left Previous
12345…13
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter