Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 713

713 - حدثنا عبد الله بن عون حدثنا مالك عن عبد الله بن يزيد عن أبي عياش Y عن سعد عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه K إسناده حسن

حضرت سعد رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کرتے ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه إسناده حسن ← سَعْدٍ، ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ،

Hadith 713

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 714

714 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا ابن أخي ابن شهاب عن عمه قال أخبرني عامر بن سعد بن أبي وقاص Y عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطى رهطا و سعد جالس فيهم قال سعد : فترك رسول الله صلى الله عليه و سلم من لم يعطه وهو أعجبهم إلي فقلت : يا رسول الله ما لك عن فلان ؟ فوالله إني لأراه مؤمنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو مسلما قال : فسكت قليلا ثم غلبني ما أعلم منه فقلت : يا رسول الله ما لك عن فلان ؟ فوالله إني لأراه مؤمنا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو مسلما قال : فسكت قليلا ثم غلبني ما علمت منه فقلت : يا رسول الله ما لك عن فلان ؟ فوالله إني لأراه مؤمنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو مسلما إني لأعطي الرجل وغيره أحب إلي منه خشية أن يكب في النار على وجهه K إسناده صحيح

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کسی ایک گروہ کو دیا، اس حالت میں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے پھر کسی کو نہیں دیا حالانکہ وہ مجھے زیادہ پسند تھے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم فلاں کے لیے کیوں نہیں ؟ اللہ کی قسم میں ان کو مومن خیال کرتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : کیا مسلمان ہے ، میں تھوڑی دیر خاموش رہا ۔ مجھے مغلوب کر دیا، میں اس کو نہیں جانتا تھا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فلاں کو کیوں نہیں دیا ؟ اللہ کی قسم ! میں اس کو مومن خیال کرتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ مسلمان ہے ؟ میں تھوڑی دیر خاموش رہا ، پھر میں مغلوب ہو گیا۔ میں اس کو نہیں جانتا تھا، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فلاں کو کیوں نہیں دیا ؟ اللہ کی قسم ! میں اس کو مومن خیال کرتا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ مسلمان ہے ۔ میں اس آدمی کو دیتا ہوں ۔ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ۔ اس خوف کی وجہ ( سے دیتا ہوں ) کہ وہ اوندھے منہ جہنم میں نہ گرے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عَمِّہٖ ← ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 714

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 715

715 - حدثنا زهير حدثنا شبابة بن سوار حدثنا شعبة عن زياد بن مخراق عن ابن عباية عن مولى لسعد Y أن سعدا رأى ابنا له يصلي وهو يدعو يقول : أسألك الجنة ومن ثمارها ونعيمها وأزواجها ونحوهذا أكثر وأعوذ بك من النار وسلاسلها وأغلالها وسعيرها ونحو هذا و سعد يسمع فلما قضى صلاته قال له سعد : لقد سألت نعيما طويلا وتعوذت من شر طويل وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنه سيكون قوم يعتدون في الدعاء وقرأ سعد : { ادعوا ربكم تضرعا وخفية إنه لا يحب المعتدين } [ الأعراف : 55 ] - قال : فلا أدري عن النبي صلى الله عليه و سلم رفعه أم من قول سعد - وإنه بحسبك أن تقول : أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما إليها نت قول أو عمل K إسناده ضعيف

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے لخت جگر کو نماز پڑھتے دیکھا وہ دعا کر رہے تھے : اسالک الجنۃ الیٰ آخرہ ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے سن رہے تھے جب نماز سے فارغ ہوئے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا: تو نے بڑی لمبی نعمتوں کے متعلق سوال کیا اور بڑی لمبی شر سے پناہ مانگی ہے ۔ میں نے آقا دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : عنقریب ایک قوم آئے گی وہ دعاؤں میں تجاوز کرے گی ، پھر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی ۔ اپنے رب کو پکارو عاجزی و انکساری و آہستہ ۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے ( سورۃ الاعراف : 55 ) راوی حدیث بیان کرتے ہیں میں نہیں جانتا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اس کو مرفوعاً نقل کرتے ہیں یا ان کا اپنا قول ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیرے لیے اتنا ہی کافی تھا : اسالک الجنۃ الیٰ آخرہ۔

مَوْلًى لِسَعْدٍ ← ابن عباية ← زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 715

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 716

716 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا شعبة عن عبد الملك بن عمير عن مصعب بن سعد قال Y كان سعد يعلمنا خمسا يذكرهن عن النبي صلى الله عليه و سلم : اللهم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر قال شعبة : فسألت ابن عمير عن فتنة الدنيا فقال : الدجال K إسناده صحيح

حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ہمیں پانچ ( چیزوں سے پناہ ماننے کا طریقہ ) سکھاتے تھے ۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یاد کی تھیں : اے اللہ میں تجھ سے بخل سے پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ میں سستی سے پناہ مانگتا ہوں اور میں پناہ مانگتا ہوں ہ میں لوٹا دیا جاؤں گھٹتی عمر کی طرف اور میں دنیا کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں اور میں پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ۔ حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمیر سے دنیا کے فتنے کے متعلق پوچھا تو فرمایا : اس سے مراد دجال ہے ۔

أعوذ بك من الج بن وأعوذ بك ← كان سعد يعلمنا خمسا يذكرهن ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 716

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 717

717 - حدثنا زهير حدثنا مكي بن إبراهيم حدثنا هاشم بن هاشم عن عامر بن سعد بن أبي وقاص Y عن سعد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من تصطبح سبع تمرات عجوة لم يضره ذلك اليوم سم ولا سحر قال هاشم : لا أعلم أن عامرا ذكره إلا من العجوة العالية K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جو ادمی صبح کے وقت نہار منہ سات عجوہ کھجور کھائے اس کو اس کوئی زہر اور جادو نقصان نہیں دے گا۔ ہاشم فرماتے ہیں میں نہیں جانتا ہوں کہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے عجوہ عالیہ کا ذکر کیا ہو گا۔

سَعْدٍ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 717

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 718

718 - حدثنا زهير حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا شعبة حدثني سعد بن إبراهيم عن إبراهيم بن سعد بن مالك Y عن أبيه قال : قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى K إسناده صحيح

حضرت ابراہیم بن سعد بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تو راضی نہیں ہے ا س پر کہ تیرا مقام میرے ہاں وہی ہے جو حضرت ہارون کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاں تھا۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← هاشم بن القاسم ← زُهَيْرٍ

Hadith 718

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 719

719 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن عبد الله الأسدي حدثنا إسرائيل عن ابن إسحاق عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : حلفت باللات والعزى فقال لي أصحابي : قد قلت هجرا فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله إني حديث العهد و ي حلفت باللات والعزى فقال : قل : لا إله إلا الله ثلاثا وانفث عن يسارك ثلاثا وتعوذ من الشيطان ولا تعد K رجاله رجال الصحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں لات اور عزی کی قسم اٹھائی ، میرے ساتھی نے مجھے کہا : تو نے بے شک ناشکری کی ہے ، میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں ابھی نیا نیا اسلام لایا ہوں ، میں نے لات و عزی کی قسم اٹھائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : تو تین مرتبہ " لا الہ الا اللہ : کہو اور اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکو اور شیطان سے پناہ مانگو آئندہ نہ کرنا۔

حلفت باللات والعزى ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 719

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 720

720 - حدثنا أبو خيثمة حثنا محمد بن عبد الله الأسدي حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن محمد بن سعد Y عن أبيه يرفع الحديث قال : لا يحل لأحد أن يهجر أخاه فوق ثلاث K رجاله رجال الصحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کسی مسلمان کے لیے حلال نہی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن تک چھوڑے رکھے ( یعنی اس سے بول چال ختم کر دے یہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے ) ۔

لا يحل لأحد أن يهجر أخاه فوق ثلاث رجاله رجال الصحيح ← أبيه يرفع الحديث ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أبو خيثمة حثنا محمد بن عبد الله الأسدي

Hadith 720

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 721

721 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا أبان حدثنا عاصم عن مصعب بن سعد Y عن أبيه قال : دفعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وعنده فضلة من طعام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليطلعن عليكم من هذا الفج رجل يأكل هذه الفضلة من أهل الجنة قال : فمررت بعمير بن مالك وهو يتوضأ فقلت في نفسي : هو صاحبها فجعلنا نتشرف شخوص من يطلع علينا فطلع عبد الله بن سلام على رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعا له بالفضلة فأكلها K إسناده حسن

حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا ، اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بچا ہو ا کھانا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ضرور بضرور تمہارے پاس ایک آدمی آئے گا اس راستہ سے وہ بچے ہوئے کھائے گا وہ جنتی ہوگا۔ میں عمیر بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا وہ وضو کر رہے تھے ، میں نے اپنے دل میں کہا یہی ہو سکتا ہے کہ ہم آنکھیں اٹھا کر دیکھنے لگے کہ کون ہم پر آتا ہے ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ، آ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بچا ہوا لنگر منگایا، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس لنگر کو تناول فرمایا۔

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَاصِمٍ، ← أَبَانُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 721

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 722

722 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يونس بن محمد حدثنا ليث بن سعد عن الحكم بن عبد الله بن قيس قال أبو خيثمة : - وبعضهم يقول : حكيم بن عبد الله - عن عامر بن سعد Y عن أبيه سعد عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من قال حين يسمع المؤذن : وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا غفر له من ذنبه K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس نے اذان سننے کے وقت یہ کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ میں اللہ کے رب اور محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں ، اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔

حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ ← مَنْ ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← حَكِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبو خيثمة وبعضهم ← الحكم بن عبد الله بن قيس ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 722

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 723

723 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن موسى الجهني قال : حدثني مصعب بن سعد Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أيعجز أحدكم أن يكسب كل يوم ألف حسنة ؟ قال : فسأله إنسان من جلسائه كيف يكسب أحدنا ألف حسنة ؟ قال : يسبح مئة تسبيحة فيكسب ألف حسنة ويحط عنه ألف سيئة K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمائے ؟ ان بیٹھنے والوں میں سے ایک نے کہا : ہم میں سے کوئی کیسے ایک ہزار نیکیاں کما سکتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ایک سو مرتبہ سبحان اللہ کہنے سے ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی ۔ ایک ہزار گناہ مٹا دئیے جائیں گے ۔

يسبح مئة تسبيحة فيكسب ألف حسنة ويحط عنه ألف سيئة إسناده صحيح ← فسأله إنسان من جلسائه كيف يكسب أحدنا ألف حسنة ← أيعجز أحدكم أن يكسب كل يوم ألف حسنة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 723

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 724

724 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يحيى عن ابن عجلان قال : حدثني عبد الله بن أبي سلمة Y أن سعد بن مالك سمع رجلا يقول : لبيك ذا المعارج قال : إن الله ذو المعارج ولكن لم نكن نقول ذلك مع نبينا صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی کو سنا ، وہ کہہ رہا تھا : لبیک ذا المعارج اور کہا : بے شک اللہ ذوالمعارج ہے ، لیکن ہم یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نہیں کہتے تھے ۔

لَبَّيْكَ ذَا الْمَعَارِجِ. ← رَجُلًا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 724

chevron_left Previous
1234…13
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter