Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 678

678 - حدثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري حدثنا حسين بن محمد حدثنا عمرو بن صفوان المزني أخبرنا عروة بن الزبير Y عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غدوة أو روحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : صبح و شام اللہ کی راہ میں کرنی دنیا و مافیہا سے بہتر ہے ۔

أَبِيهِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عمرو بن صفوان المزني ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ

Hadith 678

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 679

679 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن علي الأنصاري حدثنا خلف بن تميم المصيصي عن عبد الجبار بن عمر الأيلي عن عبد الله بن عطاء بن إبراهيم عن جدته أم عطاء مولاة الزبير بن العوام قالت Y سمعت الزبير بن العوام يقول : لما نزلت : { وأنذر عشيرتك الأقربين } [ الشعراء : 214 ] صاح رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي قبيس : يا آل عبد مناف إني نذير فجاءته قريش فحذرهم وأنذرهم فقالوا : تزعم أنك نبي يوحى إليك وأن سليمان سخر له الريح والجبال وأن موسى سخر له البحر وأن عيسى كان يحيي الموتى ؟ فادع الله أن يسير غنا هذه الجبال ويفجر لنا الأرض أنهارا فنتخذها محارث فنزرع ونأكل وإلا فادع الله أن يحيي لنا موتانا فنكلمهم ويكلمونا وإلا فادع الله أن يصير هذه الصخرة التي تحتك ذهبا فننحت منها ويغنينا عن رحلة الشتاء والصيف فإنك تزعم أنك كهيئتهم ! فبينما نحن حوله إذ نزل عليه الوحي فلما سري عنه قال : والذي نفسي بيده لقد أعطاني ما سألتم ولو شئت لكان ولكنه خيرني بين أن تدخلوا من باب الرحمة فيؤمن مؤمنكم وبين أن يكلكم إلى أن ما اخترتم لأنفسكم فتضلوا عن باب الرحمة ولا يؤمن مؤمنكم فاخترت باب الرحمة فيؤمن مؤمنكم وأخبرني إن أعطاكم ذلك ثم كفرتم أنه معذبكم عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين فنزلت : { وما منعنا أن نرسل بالآيات إلا أن كذب بها الأولون } [ الإسراء : 59 ] حتى قرأ ثلاث آيات ونزلت : { ولو أن قرآنا سيرت به الجبال أو قطعت به الأرض أو كلم به الموتى } الآية : [ الرعد : 31 ] K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عطا بن ابراہیم اپنی دادی ام عطا زبیر بن عوام کی لونڈی فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : " اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں " ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جب ابی قبیس پر آواز دی: اے آل عبدمناف ! میں ڈرانے والا ہوں ، قریش آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان کو ڈرایا۔ قریش کے لوگ کہنے لگے ، آپ کا خیال ہے کہ آپ نبی ہیں ، آپ کی طرف وحی آتی ہے ( دیکھو ) حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع ہوا اور پہاڑ کر دئیے گئے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے سمند تابع کر دیا گیا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ کرتے تھے ، آپ اللہ سے دعا کریں کہ یہ پہاڑ ہمارے ساتھ چلیں ! ہماری زمین سے نہریں بہیں، ہم کھیت چلائیں ، ہم کھیتی اگائیں اور ہم کھائیں ، ورنہ اللہ سے دعا کریں کہ ہمارے مردوں کو زندہ کرے ، ہم ان سے کلام کریں ، تو وہ ہم سے کلام کریں ورنہ اللہ سے دعا کریں کہ یہ چٹان جو آپ کے نیچے ہے وہ سونا ہو جائے ، ہم اس کو کھودیں ، ہم گرمیوں و سردیوں میں سواری چلانے سے بے نیاز ہو جائیں ، آپ گمان کرتے ہیں اس طرح کرنے کا ، ہم آپ کے اردگرد ہیں ۔ اچانک آپ پر وحی آنا شروع ہو گئی ، جب وحی ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، بے شک اللہ نے مجھے عطا کیا ہے جو تم نے مانگا ہے ، اگر میں چاہوں تو ہو جائے گا لیکن مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ تم رحمت کے دروازے سے داخل ہو ، تمہارے مؤمن ایمان لائیں اور اس کے درمیان تم اختیار کرو اپنے لیے وہ رحمت کے دروازے سے گمراہ ہو جائیں گے اور تمہارے مؤمن ایمان نہیں لائیں گے میں نے رحمت کا دروازہ اختیار کیا ، تمہارے مؤمن ایمان لائیں گے مجھے بتایا کہ اگر میں آپ کوعطا کروں پھر تم نے انکار کیا تو تم کو ایسا عذاب دوں گا کہ ایسا عذاب جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہو گا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : " وما منعنا الی آخرہ" یہ آیتیں آپ نے تین مرتبہ پڑھیں، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی : " ولو ان قرانا الی آخرہ" ۔

الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← جدته أم عطاء مولاة الزبير بن العوام ← عبد الله بن عطاء بن إبراهيم ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ، ← خلف بن تميم المصيصي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَنْصَارِيُّ

Hadith 679

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 680

680 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا ابن أبي طالب عن مسلم بن جندب Y عن الزبير بن العوام قال : كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم نبتدر في الأجام فما نجد إلا مواضع أقدامنا K رجاله ثقات

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے ( مطلب نماز جمعہ ) پھر ہم جلدی گھنے درختوں میں آتے تو ہم سایہ اپنے قدموں کی جگہ کے علاوہ نہیں پاتے تھے ۔

الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ ← ابن أبي طالب ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 680

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 681

681 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن كناسة حدثنا هشام بن عروة عن عثمان بن عروة عن أبيه Y عن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غيروا الشيب ولا تشبهوا باليهود K رجاله ثقات

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا سفیدی کو بدلو ( یعنی سر اور داڑھی کے سفید بالوں کی سفیدی ) یہودی کی مشابہت اختیار نہ کرو۔

الزُّبَيْرِ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 681

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 682

682 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن الحسن المدني حدثتني أم عروة - فيما أحسب - ابنة جعفر بن الزبير بن العوام عن ابيها عن جدها الزبير بن العوام أنه سمعه يقول Y دعا لي رسول الله صلى الله عليه و سلم ولولدي ولولد ولدي قال : فسمعت أبي يقول لأخت لي - كانت أسن مني - يا بنية يعني : أنك ممن أصابه دعوة رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف جدا

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میرے لیے اور میرے والدین اور میری اولاد کے لیے دعا فرمائی ۔ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا وہ میری بہن سے کہہ رہے تھے ، وہ مجھ سے عمر میں بڑی تھی ، اے بیٹی ! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی دعا پہنچ گئی ہے ۔

Hadith 682

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 683

683 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن الحسن المدني حدثتني أم عروة عن أبيهما Y عن جدها الزبير قال : لما خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم نساءه بالمدينة خلفهن في فارع وفيهن صفية بنت عبد المطلب وخلف فيهم حسان بن ثابت وأقبل رجل من المشركين ليدخل عليهن فقالت صفية لحسان : عندك الرجل ! فجبن حسان وأبى عليه فتناولت صفية السيف به المشرك حتى قتلته فأخبر بذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فضرب لصفية بسهم كما كان يضرب للرجال K إسناده ضعيف جدا

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جب مدینہ شریف میں عورتوں کو پیچھے چھوڑ گئے ۔ فارع میں چھوڑ گئے ان میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ،بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی تھیں ۔ ان میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ گئے تھے ، مشرکین میں سے ایک آدمی ان کے پاس آیا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت حسان سے تیرے پاس ایک آدمی آیا ہے ۔ حضرت پریشان ہوئے اور انکار کر دیا۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ نے تلوار پکڑ لی اس کے ساتھ مشرک کا مارا یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے حصہ مقرر کیا جس طرح مردوں کے لیے مقرر کیا تھا۔

جدها الزبير ← أَبِيهِمَا، ← محمد بن الحسن المدني حدثتني أم عروة ← زُهَيْرٍ

Hadith 683

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 684

684 - حدثنا زهير حدثنا محمد بن الحسن المدني قال حدثني أم عروة عن أختها عائشة بنت جعفر عن أبيها Y عن جدها الزبير عن رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنه أعطاه يوم فتح مكة لواء سعد بن عبادة فدخل الزبير مكة بلواءين K إسناده ضعيف جدا

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کو فتح مکہ کے دن حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا جھنڈا دیا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں داخل ہوئے دو جھنڈوں کے ساتھ ۔

جدها الزبير ← أَبِيهَا ← أختها عائشة بنت جعفر ← أم عروة ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَدَنِيُّ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 684

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 685

685 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا هاشم بن القاسم حدثنا حزام بن إسماعيل العامري عن موسى بن عبيدة عن أبي حكيم مولى الزبير Y عن الزبير بن العوام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من صباح يصبح العباد إلا صارخ يصرخ : أيها الخلائق سبحوا القدوس K إسناده ضعيف جدا

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جب بھی صبح ہوتی ہے ان کو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے : اے مخلوق خدا ! مالک القدس کی تسبیح بیان کرو۔

الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، ← أبي حكيم مولى الزبير ← موسى بن عبيدة ← حزام بن إسماعيل العامري ← هاشم بن القاسم ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 685

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 686

686 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سليمان بن داود أخبرني ابن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن عروة Y أخبرني أبي الزبير : أنه لما كان يوم أحد أقبلت امرأة تسعى حتى كادت تشرف على القتلى قال : فكره النبي أن تراهم فقال : المرأة المرأة قال الزبير : فتوسمت أنها أمي صفية قال : فخرجت أسعى إليها فأدكتها قبل أن تنتهي إلى القتلى قال : فلكمت في صدري وكانت امرأة جلدة وقالت : إليك لا أم لك ! قال : فقلت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم عزم عليك قال : فوقفت وأخرجت ثوبين معها فقالت : هذان ثوبان جئت بهما لأخي حمزة فإذا إلى جنبه رجل من الأنصار قتل قد جعل به كما فعل بحمزة فوجدنا غضاضة وحياء أن يكفن حمزة في ثوبين والأنصاري لا كفن له فقلنا : لحمزة ثوب وللأنصاري ثوب فقدرناهما فكان أحدهما أكبر من الآخر فأقرعنا بينهما فجعل كل واحد منهما في الثوب الذي صار له K إسناده حسن

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب احد کا دن تھا ایک عورت بہت تیزی سے آئی ، قریب تھا کہ شہداء کے پاس آتی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اس کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ وہ عورت ان کو دیکھے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : عورت، عورت یعنی اس کو روکو۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اندازہ لگایا کہ یہ میری امی جان حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ ہیں ، میں ان کے پاس جانے کے لیے تیزی سے نکلا۔ میں شہدا تک پہنچنے سے پہلے ان کو ملوں ۔ انہوں نے میرے سینہ پر زور سے مارا، آپ رضی اللہ عنہ مضبوط خاتون تھیں ۔ انہوں نے فرمایا : میں تیری امی نہیں ہوں ( پیچھے ہٹو ) میں نے ان سے عرض کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے آپ کو روکنے سے عزم دلایا ہے کہ ( یہ دیکھے ) ( یہ سنا کر ) رک گئیں ۔ انہوں نے دو کپڑے نکالے جو ان کے پاس تھے ، فرمایا : یہ دو کپڑے ہیں میں ان دونوں کو اپنے بھائی حمزہ رضی اللہ عنہ کے لیے لائی ہوں ( حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس ) پہلو میں ایک انصاری آدمی شہید کیے ہوئے تھے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا تھا جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ہم نے حیاء محسوس کی ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیں اور انصاری کے لیے کفن نہ ہو، ہم نے کہا : حمزہ کے لیے ایک کپڑا اور انصاری کے لیے بھی ایک کپڑا ہم نے اندازہ لگایا کہ ان میں سے ایک کا قدم دوسرے سے زیادہ لمبا ہے ۔ ہم نے ان دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کی ۔ ان میں سے ہر ایک کو اسی کپڑے میں دفن کیا گیا۔

أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 686

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 687

687 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سمينة حدثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن عمرو عن ابن حاطب عن عبد الله بن الزبير قال Y لما نزلت { ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون } [ الزمر : 31 ] قال الزبير : قلت : يا رسول الله وتكرر علينا خصومتنا في الدنيا ؟ قال : نعم قال : قلت : إن الأمر إذا لشديد K إسناده حسن

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت : " ثم انکم الیٰ آخرہ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم پر دنیا کے جھگڑے کا تکرار ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : معاملہ اس وقت بہت سخت ہو گا۔

الزبير قلت ← لما نزلت ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون الزمر ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابن حاطب ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ،

Hadith 687

مسند أبي يعلى · من مسند الزبير بن العوام ‹ من مسند الزبير بن العوام · حديث 688

688 - حدثنا سعيد بن أبي الربيع السمان حدثنا محمد بن دينار الطاحي حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عبد الله بن الزبير Y عن الزبير عن النبي صلى الله عليه و سلم لا تحرم المصة والمصتان والإملاجة والإملاجتان K إسناده حسن

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ایک چسکی اور دو چسکیاں ، ایک دفعہ منہ میں ڈالنے سے دو مرتبہ منہ میں ڈالنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے ۔

الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ، ← سعيد بن أبي الربيع السمان

Hadith 688

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter