Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 641

641 - حدثنا موسى بن حيان البصري حدثنا أبو زيد الحرشي حدثنا شعبة عن إسماعيل قال سمعت الشعبي عن رجل عن سعدى امرأة طلحة بن عبيد الله Y عن طلحة أنه قال : سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم كلمة لم أسأله عنها حتى مات أو قبض قال : إني لأعلم كلمة لا يقولها رجل عند موته إلا كانت له نورا في صحيفته وإن روحه وجسده ليجدان لها راحة عند الموت فقال عمر : إني لأعلمها هي الكلمة التي أراد عليها عمه لا أراها إلا إياها K إسناده ضعيف

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا تھا ۔ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی اپنی موت کے وقت یہ کلمہ کہہ لے اس کی روح اس کی وجہ سے راحت پائے گی یہاں تک کہ جس سے روح نکل جائے گی ۔ قیامت کے دن وہ کلمہ اس کے لیے نور ہو گا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا نہیں اور نہ ہی مجھے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بتایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا وصال ہو گیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کلمہ کو جانتا ہوں ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں وہ کیا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہی کلمہ جو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابو طالب سے کہے تھے میرے خیال ہے ، وہی ہے ۔

طَلْحَةَ أَنَّهُ ← سعدى امرأة طلحة بن عبيد الله ← رَجُلٌ: ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← شُعْبَةُ، ← أبو زيد الحرشي ← موسى بن حيان البصري

Hadith 641

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 642

642 - حدثنا هارون بن إسحاق حدثني محمد بن عبد الوهاب القناد عن مسعر عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي عن يحيى بن طلحة عن أمه سعدى المرية قالت Y مر عمر بطلحة بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما لي أراك مكتئبا ؟ أيسوؤك إمرة ابن عمك ؟ قال : لا ولكن سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقول : إني لأعلم كلمة لا يقولها عند موته إلا كانت نورا لصحيفته وإن جسده وروحه ليجدان لها روحا عند الموت فقال : أنا أعلمها هي التي أراد عليها عمه ولو علم أن شيئا أنجى له منها لأمره K إسناده صحيح

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہ کی حالت پریشان ہے ، جب سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا انتقال ہوا ہے ، شاید آپ رضی اللہ عنہ کو اپنے چچا زاد کی حکومت اچھی نہ معلوم ہوتی ہو۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : نہیں ، بلکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر کوئی اپنی موت کے وقت یہ کلمہ کہہ لے اس کی روح اس کلمہ سے راحت پائی گی یہاں تک کہ جس سے روح نکل جائے گی ۔ قیامت کے دن اس کے لیے وہ کلمہ نور ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کلمہ کو جانتا ہوں ۔ وہی کلمہ جو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب سے کہا تھا ، اگر حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اس سے نجات دینے والی کوئی چیز جانتے تو انہیں اس کا حکم دیتے ۔

اُمِّہٖ سُعْدَی الْمُرِّیَّۃِ ← يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مِسْعَرٍ، ← محمد بن عبد الوهاب القناد ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ

Hadith 642

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 643

643 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن سالم المكي Y أن أعرابيا قال : قدمت المدينة بحلوبة لي فنزلت على طلحة بن عبيد الله فقلت : إنه لا علم لي بأهل السوق فلو بعت لي فقال : إن النبي صلى الله عليه و سلم نهى أن يبيع حاضر لباد ولكن اذهب إلى السوق فانظر من يبايعك فشاورني حتى آمرك أو أنهاك

حضرت سالم المکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آدمی نے کہا کہ میں مدینہ شریف میں اپنی اونٹنی لایا ۔ میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کی : مجھے بازار والوں کے متعلق کوئی پتا نہیں اگر آپ میرا سامان فروخت کریں ۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے منع فرمایا کہ شہری دیہاتی کے بیع کرے لیکن آپ بازار جا کر دیکھیں کہ کون آپ سے خریدتا ہے ۔ مجھ سے مشورہ لے لینا یہاں تک کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو حکم دوں گا دینے کا یا آپ کو منع کر دوں گا۔

سَالِمٍ الْمَكِّيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Hadith 643

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 644

644 - حدثنا القواريري ن حدثنا يزيد بن زريع حدثنا محمد بن إسحاق حدثنا سالم أبو النضر عن شيخ من بني تميم قال Y جلس إلي وأنا في مسجد البصرة في زمن الحجاج بن يوسف وفي يده عصاه وصحيفة يحملها في يده فقال : يا عبد الله ترى هذا الكتاب نافعي عند صاحبكم هذا ؟ قلت : وما هذا الكتاب ؟ قال : كتاب كتبه لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت : وكيف كتبه لكم ؟ قال : قدمت المدينة مع أبي وأنا غلام شاب في إبل جلبناها إلى المدينة لنبعها - قال : وكان طلحة بن عبيد الله صديقا لأبي - فنزلنا عليه فقال أبي : أبا محمد اخرج معنا فبع لنا ظهرنا فإنه لا علم لنا بهذه السوق قال : أما أن أبيع لك فلا إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن يبيع حاضر لباد ولكن سأخرج معكما إلى السوق فإذا رضيت لكما رجلا ممن يبايعكما أمرتكما ببيعه قال : فخرجنا وخرج معنا فجلس في ناحية من السوق وساومنا الرجال بظهرنا حتى إذا أعطانا رجل ما يرضينا أتيناه فاستأمرناه في بيعه فقال : نعم فبايعوه فقد رضيت لكما وفاءه وملأه قال : فبايعناه وأخذنا الذي لنا فقال له أبي : خذ لنا كتابا من رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يتعدى علينا في صدقاتنا قال : ذاك لكل مسلم فقلنا : وإن كان قال : فمشى بنا فقال : يا رسول الله إن هذين يحبان أن تكتب لهما أن لا يتعدى عليهما في صدقاتهما قال : ذاك لكل مسلم قال : يا رسول الله إنهما يحبان أن يكون عندهما منك كتاب قال : فكتب لهما هذا الكتاب فتراه نافعي عند صاحبكم هذا فقد والله تعدي علينا في صدقاتنا قال : قلت : لا أظن والله K رجاله ثقات

حضرت سالم ابو النضر روایت فرماتے ہیں کہ بنی تمیم کا ایک شیخ میرے پاس بیٹھا ہوا تھا اور میں بصرہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، حجاج بن یوسف کے زمانہ میں اس کے ہاتھ عصا تھا اور ایک صحیفہ جو وہ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے اس نے کہا : اے عبداللہ آپ یہ کتاب دیکھ رہے ہیں ، کیا یہ مجھ کو تمہارے صاحب کے پاس نفع مند ہے ؟ میں نے کہا : یہ کتاب کیا ہے ؟ اس نے کہا : ایسی کتاب ہے کہ اس میں ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے لکھا ہے ، میں نے کہا : کیا تمہارے لیے اس میں لکھا ہے ؟ اس نے کہا : میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ آیا، میں نوجوان تھا ، ہم مدینہ میں اونٹ فروخت کرنے کے لیے آئے ۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ میرے والد کا دوست تھا، ہم ان کے گھر گئے ، میرے والد نے کہا : ابو محمد ! آپ ہمارے ساتھ نکلیں ! آپ ہماری سواریاں فروخت کریں کیونکہ ہمیں اس بازار کے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ حضرت طلحہ نے فرمایا : میں آپ کے لیے فروخت نہیں کروں گا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ شہری دیہاتی کے لیے کوئی شی فروخت کرے ، لیکن میں آپ کے ساتھ بازار چلتا ہوں ، جب میں تمہارے لیے راضی ہو جاؤں گا ، ایسے آدمی کے متعلق جس کو تم فروخت کر رہے ہو تو میں تمہیں اس کے لیے فروخت کرنے کا حکم دوں گا۔ ہم نکلے آپ ہمارے ساتھ نکلے ، مردوں نے ہماری سواریوں کی قیمت لگائی یہاں تک کہ جب ہم نے ایسے ادمی کو دیا جس کو دینے پر ہم راضی تھے تو ہم نے اس سے فروخت کنرے کی قیمت لگائی ۔ حضرت طلحہ نے فرمایا : ٹھیک ہے اس کو فروخت کرو، میں تمہارے لیے راضی ہوں تم کو پورا دے گا، ہم نے اس کو فروخت کر دیا، ہم نے اس کے لیے جو ہم نے مقرر کیا تھا ، اس کو میرے والد نے کہا : آپ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا خط لیں کہ ہم اپنے صدقات میں تجاوز نہ کریں ۔ فرمایا : یہ ہر مسلمان کے لیے ہے ۔ ہم نے کہا ؛ اگر ہے تو آپ ہمارے ساتھ چلیں ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ !یہ ہر مسلمان کے لیے ہے ۔ ہم نے کہا : اگر ہے تو آپ ہمارے ساتھ چلیں ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ یہ دونوں پسند کرتے ہیں کہ آپ ان دونوں کے لیے لکھ دیں کہ ہم پر صدقات میں تجاوز نہ کی جائے ۔ آپ نے فرمایا : یہ تو ہر مسلمان کے لیے ہے ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دونوں پسند کرتے ہیں کہ ان دونوں کے پاس آپ کا خط ہو ان دونوں کو یہ خط لکھ دیا ، آپ کے اس صاحب کے پاس مجھے نفع دیں اللہ کی قسم آپ نے ہم پر صدقات کے معاملہ میں تجاوز کیا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ کی قسم میں گمان نہیں کرتا ہوں۔

شَيْخٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، ← سَالِمُ أَبُو النَّضْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← القواريري ن

Hadith 644

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 645

645 - حدثنا عبد الأعلى بن حماد حدثنا عبد الجبار ابن الورد قال : سمعت ابن أبي مليكة يقول Y كان طلحة بن عبيد الله يقول : لا أخبركم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء إلا أني سمعته يقول : عمرو بن العاص من صالحي قريش ونعم أهل البيت أبو عبد الله و أم عبد الله و عبد الله K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ کو وہی خبر دوں گا جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : عمرو بن العاص قریش کے صالحین سے ہیں ، سب سے اچھے گھر والے ابو عبداللہ یا ام عبداللہ ہیں اور عبداللہ ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء إلا أني ← لا أخبركم ← كان طلحة بن عبيد الله ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عبد الجبار ابن الورد ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ،

Hadith 645

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 646

646 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن حدثنا عبد الجبار بن الورد عن ابن أبي مليكة قال Y قال طلحة بن عبيد الله : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن عمرو بن العاص من صالحي قريش ونعم أهل البيت عبد الله و أبو عبد الله و أم عبد الله K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ کو وہی خبر دوں گا جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : عمرو بن العاص قریش کے صالحین سے ہیں ، سب سے اچھے گھر والے ابو عبداللہ یا ام عبداللہ ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عبد الجبار بن الورد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 646

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 647

647 - حدثنا القواريري حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا عبد الجبار عن ابن أبي مليكة قال Y قال طلحة بن عبيد الله سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن عمرو بن العاص من صالحي قريش ونعم أهل البيت عبد الله و أبو عبد الله و أم عبد الله K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں آپ کو وہی خبر دوں گا جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنی ہے ، آپ کو وہی خبر دوں گا جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : عمرو بن العاص قریش کے صالحین سے ہیں ، سب سے اچھے گھر والے ابو عبداللہ یا ام عبداللہ ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْقَوَارِيرِيُّ

Hadith 647

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 648

648 - حدثنا يحيى بن أيوب حدثنا إسماعيل يعني ابن جعفر أخبرني محمد يعني ابن عمرو عن أبي سلمة Y عن طلحة بن عبيد الله أن رجلين من بلي أسلما فقتل أحدهما في سبيل الله وأخر الآخر بعد المقتول سنة ثم مات قال طلحة : رأيت الجنة في المنام فرأيت الآخر من الرجلين أدخل الجنة قبل الأول فأصبحت فحدثت الناس بذلك فبلغت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أليس قد صام بعده رمضان وصلى بعده آلاف ركعة وكذا وكذا ركعة K رجاله رجال الصحيح

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی مقام بگی کے مسلمان ہوئے ، ان میں سے ایک اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا دوسرا مقتول کے ایک سال بعد تک زندہ رہا پھر وہ مرا۔ حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنت خواب میں دیکھی ، میں نے دیکھا کہ دونوں آدمیوں سے دوسرا پہلے والے سے بھی پہلے جنت میں داخل ہو گیا ہے ، میں نے صبح کی تو میں نے لوگوں کو یہ معاملہ بتایا ، اس کے بعد یہ بات حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم تک پہنچ گئی تو آپ نیف رمایا : کیا اسن اس کے بعد رمضان کے روزے نہیں رکھے تھے کیا اس نے اس کے بعد 6 ہزار رکعتیں نہیں پڑھی ہیں اور اتنی اتنی رکعتیں ؟

طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ

Hadith 648

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 649

649 - حدثنا عبد الأعلى و محمد بن أبي بكر المقدمي قالا : حدثنا المعتمر بن سليمان قال : سمعت أبي حدثنا أبو عثمان قال Y لم يبق مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في تلك الأيام التي كان يقاتل بها رسول الله صلى الله عليه و سلم غير طلحة و سعد عن حديثهما K إسناده صحيح

حضرت معتمر بن سلیمان رحمتہ اللہ علیہ بن سلیمان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہ ہم کو ابو عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا ان دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی نہیں تھا ۔

أَبُو عُثْمَانَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عبد الأعلى و محمد بن أبي بكر المقدمي

Hadith 649

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 650

650 - وحدثنا عدة عن معتمر Y بإسناده نحوه

حضرت معتمر رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ساتھ اس جیسی حدیث روایت کرتے ہیں ۔

معتمر بإسناده نحوه ← وحدثنا عدة

Hadith 650

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 651

651 - حدثنا أبو كريب حدثنا يونس بن بكير عن طلحة بن يحيى عن يحيى و عيسى ابني طلحة Y عن أبيهما قال : مر على رسول الله صلى الله عليه و سلم ببعير قد وسم في وجهه فقال : لو أن أهل هذا البعير عزلوا النار عن هذه الدابة ؟ قال : فقلت لأسمن في أبعد مكان من وجهها قال : فوسمت في عجب الذنب K إسناده صحيح

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا گزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا، اس کے چہرے کو داغا گیا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اگر اس اونٹ کے مالک اس جانور کو آگ سے جدا رکھتے ؟ طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں چہرے کے علاوہ کسی اور جگہ پر داغا کروں ؟ فرماتے ہیں میں نے دم سے اس کو داغا۔

أَبِيهِمَا، ← يحيى و عيسى ابني طلحة ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Hadith 651

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 652

652 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن بشر العبدي حدثنا مجمع بن يحيى عن عثمان بن موهب عن موسى بن طلحة Y عن أبيه قال : قلنا : يا رسول الله قد علمنا كيف السلام عليك فكيف الصلاة ؟ قال : قولوا : اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد K إسناده صحيح

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر سلام کا طریقہ تو جانتے ہیں ، درود کسی طرح بھیجیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اس طرح بھیجو ! اللھم صلی علیٰ محمد و علیٰ آل محمد الیٰ آخرہ ۔

قُلْنَا ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ← مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَی ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 652

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter