مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 641
641 - حدثنا موسى بن حيان البصري حدثنا أبو زيد الحرشي حدثنا شعبة عن إسماعيل قال سمعت الشعبي عن رجل عن سعدى امرأة طلحة بن عبيد الله Y عن طلحة أنه قال : سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم كلمة لم أسأله عنها حتى مات أو قبض قال : إني لأعلم كلمة لا يقولها رجل عند موته إلا كانت له نورا في صحيفته وإن روحه وجسده ليجدان لها راحة عند الموت فقال عمر : إني لأعلمها هي الكلمة التي أراد عليها عمه لا أراها إلا إياها K إسناده ضعيف
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا تھا ۔ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی اپنی موت کے وقت یہ کلمہ کہہ لے اس کی روح اس کی وجہ سے راحت پائے گی یہاں تک کہ جس سے روح نکل جائے گی ۔ قیامت کے دن وہ کلمہ اس کے لیے نور ہو گا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا نہیں اور نہ ہی مجھے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بتایا ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا وصال ہو گیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کلمہ کو جانتا ہوں ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں وہ کیا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہی کلمہ جو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے چچا حضرت ابو طالب سے کہے تھے میرے خیال ہے ، وہی ہے ۔
طَلْحَةَ أَنَّهُ ← سعدى امرأة طلحة بن عبيد الله ← رَجُلٌ: ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← شُعْبَةُ، ← أبو زيد الحرشي ← موسى بن حيان البصري
Hadith 641
