Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 285

285 - حدثنا أبو خيثمة قال : حدثنا عبد الرحمن مهدي حدثنا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة قال : حدثني عمي الماجشون بن أبي سلمة عن عبد الرحمن الأعرج عن عبيد الله بن أبي رافع Y عن علي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا افتتح الصلاة كبر ثم قال : ( وجهت وجهي للذي فطر السماوات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين ) قال وذكر الحديث K إسناده صحيح

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ اکبر کہتے ، پھر فرماتے : میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف کیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، میں دین حنیف پر ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہو، یہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت تمام کائنات کے پالنے والے اللہ کے لیے ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ بے شک میں اول مسلمان ہوں ۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عبد الرحمن مهدي ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 285

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 286

286 - حدثنا زهير و عبيد الله القواريري حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا زائدة بن قدامة عن خالد بن علقمة الهمداني عن عبد خير قال Y دخل علي الرحبة بعد ما صلى الفجر فجلس في الرحبة ثم قال لغلام له : ائتيني بطهور فجاء الغلام بإناء فيه ماء وطست قال عبد خير : ونحن جلوس ننظر إليه فأخذ بيمينه الاناء فأكفأ على يده اليسرى فغسل كفيه ثلاث مرات قال عبد خير : كل ذلك لا يدخل يده في الإناء حتى يغسلها ثلاث مرات ثم أدخل يده اليمنى في الإناء وملأ فمه ماء فمضمض واستنشق ونثر بيده اليسرى ثلاث مرات ثم غسل وجهه ثلاث مرات ثم غسل يده اليمنى ثلاث مرات إلى المرفق ثم غسل يده اليسرى ثلاث مرات ثم أدخل يده اليمنى في الإناء حتى غمرها الماء ثم رفعها بما حملت من الماء ثم مسحها بيده اليسرى ثم مسح رأسه بيديه جميعا ثم أدخل يده اليمنى في الإناء ثم صب على رجله اليمنى فغسلها ثلاث مرات بيده اليسرى ثم أدخل يده اليمنى في الإناء فملأها ثم صب بيده اليمنى على قدمه اليسرى فغسلها ثلاث مرات بيده اليسرى ثم أدخل يده اليمنى في الإناء فملأها من الماء فشرب منه ثم قال : هذا طهور نبي الله صلى الله عليه و سلم فمن أحب أن ينظر إلى طهور رسول الله صلى الله عليه و سلم فلينظر إلى هذا K إسناده صحيح

حضرت عبد خیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ مقام رہبہ میں داخل ہوئے ، فجر کی نماز پڑھنے کے بعد۔ آپ رضی اللہ عنہ رہبہ میں بیٹھ ےپھر غلام سے وضو کا پانی لانے کے لیے کہا، غلام ایک برتن لایا، اس میں پانی اور تھال تھا۔ عبد خیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، ہم بیٹھ گئے ار آپ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا۔ عبد خیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہین : آپ رضی اللہ عنہ نے جب تک اپنے ہاتھ تین مرتبہ نہیں دھوئے ، اس وقت تک آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ برتن میں نہیں ڈالا۔ پھر دائیں ہاتھ برتن میں ڈالا اور پانی منہ میں ڈالا کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور ناک کو جھاڑا بائیں ہاتھ سے تین مرتبہ پھر اپنے چہرے کو دھویا تین مرتبہ پھر اپنے دائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا کہنیوں تک پھر بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا کہنیوں سمیت ۔ پھر دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا یہاں تک کہ اچھی طرح ڈوب گیا ، پھر اس کو نکالا اس پر جو پانی لگا پھر بائیں ہاتھ کے ساتھ ملا پھر دونوں ہاتھوں کے ساتھ سر کا مسح کیا، پھر دائیں ہاتھ کو برتن میں داخل کیا ، پانی لیا پھر اس کو دائیں پاؤں پر ڈالا اس کو تین مرتبہ بائیں ہاتھ کے ساتھ دھویا پھر دائیں پہ پانی لیا اور اس کو بھرا پھر دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں قدم پر پانی ڈالا اس کو بائیں ہاتھ کے ساتھ تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں ہاتھ کو برتن میں داخل کیا اس کو پانی سے بھر کر اس کو پیا پھر فرمایا یہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وضو ہے ۔ جس کو یہ پسند ہو کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کو دیکھے اس کو چاہیے کہ اس کو دیکھے ۔

عبد خير ← خالد بن علقمة الهمداني ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زهير و عبيد الله القواريري

Hadith 286

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 287

287 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا شعبة عن عمرو عن عبد الله بن سلمة Y عن علي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخرج من الخلاء فيقرأ القرآن ويأكل معنا اللحم ولا يحجبه - أو لا يحجزه - شيء عن القرآن إلا من الجنابة

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت الخلاء سے قضا حاجت کر کے نکلتے ( بغیر وضو کے ) آپ قرآن پڑھتے اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے ، آپ کو قربان پڑھنے سے کوئی شے رکاوٹ نہیں بنتی تھی سوائے جنابت کے ۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرٍو، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Hadith 287

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 288

288 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا شعبة عن محمد بن المنكدر قال سمعت مسعود بن الحكم يحدث Y عن علي قال : رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فقمنا وقعد فقعدنا - يعني في الجنازة - K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنازہ میں کھڑا ہوتے ہوئے دیکھتے ، ہم بھی کھڑے ہو جاتے اگر بیٹھے ہوئے دیکھتے ، ہم بھی بیٹھ جاتے تھے ۔

عَلِيٍّ، ← مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Hadith 288

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 289

289 - حدثنا زهير حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن عبد الله بن يسار Y أن عمرو بن حريث عاد الحسن بن علي فقال له علي : أتعود حسنا وفي النفس ما فيها ؟ فقال : يا علي إنك لست برب قلبي تصرفه حيث شاء قال : أما إن ذلك لا يمنعني أن أؤدي إليك النصيحة سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من مسلم يعود مريضا إلا صلى عليه سبعون ألف ملك أية ساعات النهار حتى يمسي وأية ساعات الليل كان حتى يصبح K إسناده ضعيف

حضرت عمرو بن حریث رحمتہ اللہ علیہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے تشریف لائے ۔ مولیٰ کائنات نے ان کو فرمایا : کیا آپ حسن کی عیادت کرنے کے لیے آئے ہیں اور دل میں کیا چھپا رکھا ہے ؟ حضرت عمرو رحمتہ اللہ علیہ نے کہا : آپ میرے دل کے مالک نہیں ہیں کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں ۔ مولیٰ کائنات رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ میں نصیحت کا حق ادا نہ کروں ، میں نے خود اپنے پیارے کریم آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرماای جو مسلمان کسی مریض کی عیادت کے لیے آتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کر رہے ہوتے ہیں ، دن کی کسی گھڑی میں کرے ۔ یہاں تک کہ شام ہوجانے اور رات کی کسی بھی گھڑی میں عیادت کرے یہاں تک کہ صبح ہو جائے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أما إن ذلك لا يمنعني أن أؤدي إليك النصيحة ← يا علي إنك لست برب قلبي تصرفه حيث شاء ← له علي أتعود حسنا وفي النفس ما فيها ← عبد الله بن يسار أن عمرو بن حريث عاد الحسن بن علي ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← زُهَيْرٍ

Hadith 289

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 290

290 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي Y عن علي أنه أتي بزان محصن قال : فجلده يوم الخميس قال : ثم رجمه يوم الجمعة قال : فقيل له : جمعت عليه حدين قال : فقال : جلدته بكتاب الله ورجمته بسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم K رجاله ثقات

حضرت امام شعبی رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک غیر شادی شدہ زانہ لایا گیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو جمعرات کے دن کوڑے مارے ، پھر جمعہ کے دن رجم کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ سے عرض کی گئی آپ رضی اللہ عنہ نے دو حدیں جمع کی ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوڑے کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مارے ہیں اور رجم سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے مطابق کیا ہے ۔

فقيل له جمعت عليه حدين ← ثم رجمه يوم الجمعة ← فجلده يوم الخميس ← علي أنه أتي بزان محصن ← الشَّعْبِيِّ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 290

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 291

291 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا الأعمش عن عدي بن ثابت عن زر بن حبيش Y عن علي قال : والذي فلق الحبة وبرا النسمة إنه لعهد رسول الله صلى الله عليه و سلم إلي أنه لا يحبك إلا مؤمن ولا يبغضك إلا منافق K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ذات جس نے دانہ کو پھاڑا اور اس دانہ سے گندم اگائی۔ مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وعدہ لیا کہ اے علی ! تجھ سے مومن پیار کرے گا اور منافق بغض رکھے گا۔

عَلِيٍّ، ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 291

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 292

292 - حدثنا زهير حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا نعيم بن حكيم عن أبي مريم قال Y حدثنا علي قال : انطلقت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلا حتى أتينا الكعبة فقال لي : إجلس فجلست فصعد رسول الله صلى الله عليه و سلم على منكبي ثم نهضت به فلما رأى ضعفي تحته قال : اجلس فجلست فنزل رسول الله صلى الله عليه و سلم وجلس لي فقال : اصعد الى منكبي ثم صعدت عليه ثم نهض بي حتى إنه ليخيل إلي أني لو شئت نلت أفق السماء وصعدت على البيت فأتيت صنم قريش وهو تمثال رجل من صفر أو نحاس فلم أزل أعالجه يمينا وشمالا وبين يديه وخلفه حتى استمكنت منه قال ورسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : هيه هيه وأنا أعالجه فقال لي : اقذفه فقذفته فتكسر كما تكسر القوارير ثم نزلت فانطلقنا نسعى حتى استترنا بالبيوت خشية أن يعلم بنا أحد فلم يرفع عليها بعد

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک رات چلا یہاں تک کہ کعبہ شریف تک پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا : تو بیٹھ ۔ میں بیٹھ گیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے کندھے پر سوار ہوئے ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر کھڑا ہوا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری کمزوری دیکھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جا، میں بیٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اترے ، خود بیٹھ گئے ، پھر فرمایا : میرے کندھوں پر سوار ہو جا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سوار ہوا، پھر مجھے لے کر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ مجھے خیال آیا کہ اگر میں چاہوں تو میں آسمان کے افق تک پہنچ جاؤں ۔ میں بیت اللہ پر چڑھا ، میں قریش کے بت کے پاس آیا ، وہ مفریا تابنے سے بنا ہوا آدمی کی مثل مجسمہ تھا۔ میں اس کو مسلسل دائیں اور بائیں آگے اور پیچھے گھماتا رہا یہاں تک کہ میں مکمل قادر ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : چھوڑ دے چھوڑ دے اور میں گھومتا رہا۔ پھر مجھے فرمایا : اس کو پھینکو میں نے نیچے پھینکا وہ ٹوٹ گیا جیسے شیشہ ٹوٹ جاتا ہے ، پھر میں اترا ، ہم جلدی سے چلے یہاں تک کہ ایک گھر میں چھپ گئے ، اس خوف سے کہ کہیں ہم کو کئی جان نہ لے اور کے بعد کوئی نہیں اٹھا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي مَرْيَمَ ← نعيم بن حكيم ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← زُهَيْرٍ

Hadith 292

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 293

293 - حدثنا زهير حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا شيبان عن أبي إسحاق عن عمرو بن حبشي Y عن علي قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن فقلت : يا رسول الله تبعثني إلى قوم شيوخ ذوي أسنان وإني أخشى أن لا أصيب ؟ قال : إن الله سيثبت لسانك ويهدي قلبك

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یمن کی طرف ( قاضی ) بنا کر بھیجا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں ، جو بزرگ عمر رسیدہ ہوں گے ، میں خوف کرتا ہوں کہ میں درست فیصلہ نہ کر سکوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تیری زبن کو مضبوط کرے گا اور تیرے دل کو ہدایت دے گا۔

بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن فقلت ← عَلِيٍّ، ← عمرو بن حبشي ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← زُهَيْرٍ

Hadith 293

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 294

294 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبيد الله بن موسى حدثنا نعيم بن حكيم عن أبي مريم Y عن علي أن امرأة الوليد بن عقبة جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم تشتكي الوليد أنه يضربها فقال لها : ارجعي فقولي له : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أجارني قال : فانطلقت فمكثت ساعة ثم جاءت فقالت : يا رسول الله ما أقلع عني قال : فقطع رسول الله صلى الله عليه و سلم هدبة من ثوبه فأعطاها فقال : قولي : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أجارني هذه هدبة من ثوبه فمكثت ساعة ثم إنها رجعت فقالت : يا رسول الله ما زادني إلا ضربا فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم يديه فقال : اللهم عليك بالوليد مرتين أو ثلاثا K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ کی بیوی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور ولید کی شکایت کرنے لگی کہ اس نے مارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا : واپس چلی جاؤ اور تو اس کو کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پناہ دی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ چلی اس کے بعد تھوڑی دیر ٹھہری پھر وہ آئی اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ میرے لیے کوئی نشانی بتائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے ایک کپڑے کا ٹکڑا کاٹ کر دیا ، اس کے بعد فرمایا : تو اس کو کہنا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پناہ دی ہے اور یہ آپ کے کپڑے کا ٹکڑا ہے ۔ وہ تھوڑی دیر کی ، پھر واپس آئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے اور زیادہ مارنا شروع کیا ہے ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک اٹھائے ، عرض کی : اے اللہ ! ولید کی اصلاح تیرے اوپر ہے ، دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہ کلمات فرمائے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي مَرْيَمَ ← نعيم بن حكيم ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 294

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 295

295 - حدثنا محمد بن عبد الله بن عمار حدثنا المعافى بن عمران عن مختار التمار عن أبي مطر البصري قال Y كنت مع علي فانتهينا إلى سوق الكبير فتوسم شيخا منهم فقال : يا شيخ أحسن بيعتي في قميص بثلاثة دراهم قال : نعم يا أمير المؤمنين فلما عرفه لم يشتر منه شيئا وأتى غلاما حدثا فاشترى منه قميصا بثلاثة دراهم فلبسه من الرصغين إلى الكعبين يقول في لباسه : الحمد لله الذي رزقني من الرياش ما أتجمل به في الناس وأواري به عورتي فقال المسلمون : شيئا تحدثه عن نفسك أو عن النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول ذلك إذا لبس ثوبا K إسناده ضعيف

حضرت ابی مطہر البصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم ایک بڑے بازار میں پہنچے وہاں ایک شیخ سے ملاقا ت کی ، حضرت علی نے فرمایا : اے میری بیع میں اچھائی کرنا ، ایک قمیص تین درہم کی دینا۔ اس نےعرض کی : اے امیر المومنین ! ٹھیک ہے ، جب آپ نے اس کو پہچانا تو آپ نے اس سے کوئی شے نہیں خریدی۔ آپ اپنے غلام کے پاس آئے اور اس کو بتایا تو اس نے اس سے قمیص خرید لی تین درہموں کی ۔ اور آپ نے اس کو پہنا گھٹنوں تک اور پہنتے وقت یہ دعا پڑھی : الحمد للہ الذی الیٰ آخرہ۔ مسلمانوں نے کہا : آپ یہ دعا اپنی طرف سے پڑھ رہے ہیں یا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالہ سے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے حجور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب آپ کپڑے پہنتے تھے ۔

أَبِي مَطَرٍ الْبَصْرِيِّ، ← مختار التمار ← الْمُعَافِیُّ بْنُ عِمْرَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ

Hadith 295

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 296

296 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد الرحمن حدثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه Y عن علي قال : ما عندنا إلا كتاب الله وهذه الصحيفة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن المدينة حرام ما بين عائر إلى ثور من أحدث فيها حدثا أو أوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل وقال ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ومن تولى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں : ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور یہ صحیفہ ہے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : مدینہ حرم ہے عائر پہاڑ سے لے کر غار ثور تک ، جس نے اس میں بدعت ایجاد کی یا بدعتی کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس کے نہ فرض نہ نفل قبول کئے جائیں گے ، مسلمانوں میں سے کسی ایک پناہ سب کی پناہ ہے ، جس نے کسی مسلمان کے لیے کوئی گڑھے جیسی شے کھودی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، اس کے نہ فرض اور نہ نفل قبول کئے جائیں گے جو کسی قوم کا ولی بنے تو اپنے موالیوں کی اجازت کے بغیر اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اس کے نہ فرض نہ نفل قبول کیے جائیں گے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Hadith 296

chevron_left Previous
1234…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter