Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 597

597 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن فضيل عن مطرف عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة Y عن علي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يوتر في أول الليل وفي وسطه وفي آخره ثم أثبت له الوتر في آخره K حديث صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم رات کے اول ، درمیان ، آخر میں وتر پڑھتے تھے پھر رات کے آخر میں وتر پڑھتے تھے ۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُطَرِّفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 597

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 598

598 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن سعيد بن أبي عروبة عن عبد الله الداناج عن حضين أبي ساسان Y أنه ركب ناس من أهل الكوفة إلى عثمان بن عفان فأخبروه بما كان من أمر الوليد أي يشرب الخمر فكلمه في ذلك علي فقال له عثمان : دونك ابن عمك فأقم عليه الحد قال : قم يا حسن فاجلده قال : فيم أنت من هذا ؟ ول غيري قال : بل ضعفت ووهنت قم يا عبد الله بن جعفر فاجلده فجعل يجلده ويعد علي حتى بلغ أربعين فقال : كف أو أرسله جلد رسول الله صلى الله عليه و سلم أربعين و أبو بكر أربعين وكملها عمر ثمانين وكل سنة K إسناده صحيح

حضرت حسین بن منذر الرقاشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ولید بن عقبہ کو لایا گیا تو لوگوں نے ولید کے اس معاملے کی خبر دی ، یدنی اس نے شراب پی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے کوئی گفتگو کی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : اپنے چچا کے بیٹے پر حد لگائیں۔ فرمایا اے ابو الحسن اٹھو اور اس کے کوڑے مارو آپ نے کہا : آپ کتنے کوڑے لگوائیں گے ؟ میرے علاوہ کسی اور کو مقرر فرمائیں ۔ انہوں فرمایا : بلکہ آپ کمزور ہو گئے ، اٹھو اے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اس پر حد لگاؤ ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوڑا پکڑا اس کو کوڑے لگانے شروع کیے ۔ حضرت علی شمار کر رہے تھے ۔ جب چالیس ہوئے ۔ فرمایا : بس کرو ۔ یا کہا: اسے چھوڑ دو ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے چالیس لگائے تھے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسی لگائے تھے ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۔

حُضَيْنٍ أَبِي سَاسَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 598

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 599

599 - حدثنا زهير حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن أبي جعفر قال Y جلد علي رجلا من قريش الحد في الخمر أربعين جلدة بسوط له طرفان K إسناده ضعيف

حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قریش کے ایک آدمی کو شراب کی حد میں چالیس کوڑے لگوائے وہ ایسا کوڑا تھا کہ اس کی دو شاخیں تھیں۔

أَبِي جَعْفَرٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← زُهَيْرٍ

Hadith 599

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 600

600 - حدثنا زهير حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن محمد بن إسحاق حدثني محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة عن عبيد الله الخولاني عن ابن عباس قال Y دخلت على علي بيته وقد بال فدعا بوضوءه فجئناه بعس يملأ المد أو قريبه حتى وضع بين يديه فقال : ألا أتوضأ لك وضوء رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قلت : بلى فداك أبي وأمي قال : فوضع له الإناء فغسل يديه ثم مضمض واستنشق ثم أخذ بيديه فصك بهما في وجهه والتقم إبهاماه ما أقبل من أذنيه ثم أعاد بمثل ذلك ثلاثا ثم أخذ كفامن ماء بيده اليمنى فأفرغها على ناصيته ثم أرسلها تستن على وجهه ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاثا ثم يده الأخرى مثل ذلك ثم مسح برأسه وأذنيه من ظهورهما ثم أخذ بكفيه من الماء فصك بهما على قدميه وفيهما النعل ثم قلبها ثم على الأخرى مثل ذلك قلت : في النعلين ؟ قال : في النعلين ثلاثا K رجاله رجال الصحيح خلا محمد بن طلحة وهو ثقة

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ۔ آپ اپنے گھر میں تھے ۔ آپ نے پیشاب کیا۔ آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا ہم آپ کے پاس ایک تھالی لے کر آئے ۔ اس میں پانی بھرا ہوا تھا۔ آپ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا : کیا میں آپ کو ایسے وضو کر کے نہ بتاؤں جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کرتے تھے ؟ میں نے عرض کی : کیوں نہیں ؟ میرے ماں باپ آپ رضی اللہ عنہ پر قربان ہوں ، آپ رضی اللہ عنہ کیلئے برتن رکھ دیا گیا ، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، پھر پانی ہاتھ میں لیا اس کے ساتھ اپنے چہرے کو دھویا اور اپنے دونوں انگوٹھوں کو اپنے کانوں سے ملایا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ ایسے کیا پھر اپنے دائیں ہاتھ میں پانی لیا اس کو اپنی پیشانی پر رکھا پھر اس کو چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ گیا ۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا پھر بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا ۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا اور کانوں کا مسح ان کے ظاہر سے کیا پھر پانی ہتھیلی سے پکڑا اپنے پاؤں پر مارا جبکہ ان میں نعلین تھے پھر اسی طرح دوسرے پر۔ میں نے عرض کی : حضور ! نعلین میں ؟ آپ نے فرمایا نعلین میں ، تین بار۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ ← محمد بن طلحة بن يزيد بن ركانة ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← زُهَيْرٍ

Hadith 600

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 601

601 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب عن نافع عن إبراهيم بن حنين عن جده حنين Y عن علي قال : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبس المعصفر وعن القسي وعن خاتم الذهب وعن القراءة في الركوع قال أيوب : أو قال : أو أن أقرأ وأنا راكع . قال أبو خيثمة إن إسماعيل رجع عن قوله عن جده فقال بعد : عن إبراهيم بن فلان بن حنين عن أبيه K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے منع فرمایا معصفر لباس پہننے سے قسی لباس یعنی ریشم پہننے سے ، سونے کی انگوٹھی اور رکوع کی حالت میں تلاوت قرآن سے ۔ ایوب نے یا شاید کسی اور نے کہا : میں رکوع میں قرآت کروں ۔ حضرت خیثمہ فرماتے ہیں : حضرت اسماعیل نے اپنے قول سے رجوع کیا عن جدہ سے اس کے بعد فرماتے تھے : ابراہیم بن فلاں بن حنین عن ابیہ ۔

أبيه إسناده ضعيف ← إبراهيم بن فلان بن حنين ← جده فقال بعد ← قوله ← أبو خيثمة إن إسماعيل رجع ← أو أن أقرأ وأنا راكع ← أيوب أو ← لبس المعصفر وعن القسي وعن خاتم الذهب وعن القراءة في الركوع ← نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← جده حنين ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُنَيْنٍ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 601

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 602

602 - قال أبو خيثمة حدثنا مروان بن معاوية الفزاري حدثنا منصور بن حيان قال : حدثنا أبو الطفيل عامر بن واثلة قال Y كنت عن علي بن أبي طالب فأتاه رجل فقال : ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يسر إليك ؟ فغضب وقال : ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يسر إلي شيئا كتمه الناس غير أنه قد حدثني بكلمات أربع : قال : فقال : ما هن يا أمير المؤمنين ؟ قال : قال : لعن الله من لعن والديه ولعن الله من ذبح لغير الله ولعن الله من آوى محدثا ولعن الله من غير منار الأرض K إسناده صحيح

حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا آپ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے کہا : آپ کو حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کس شے کے راز کے ساتھ خاص کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے کسی شے کے راز کے ساتھ خاص نہیں کیا جو لوگوں سے چھپا ہو، اتنا ضرور ہے مجھے آپ نے چار کلمات بتائے ہیں ، اس نے عرض کی : وہ کیا کلمات ہیں ؟ فرمایا : وہ کلمات یہ ہیں ( 1) اللہ کی لعنت ہو ، اس پر جو اپنے والدین پر لعنت کرے ۔ ( 2) اللہ کی لعت ہو اس پر جو ذبح کے وقت اللہ کے علاوہ کسی اور کا نام لے ( 3) اللہ کی لعنت ہو اس پر جو بدعتی کو پناہ دے (4) اللہ کی لعنت ہو اس پر جو زمین پر جو زمین سے نشانات کو تبدیل کرے ۔

Hadith 602

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 603

603 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا أبو عامر العقدي حدثنا داود بن قيس عن ابن حنين عن أبيه عن ابن عباس Y عن علي قال : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ثلاث : - لا أقول نهى الناس عن تختم الذهب وعن لبس القسي والمعصفر المفدم وأن أقرأ راكعا أو ساجدا K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے تین چیزوں سے منع فرمایا میں نہیں کہتا ہوں کہ تم کو منع کیا سونے کی انگوٹھی پہننے سے شام و مصر کا ریشمی کپڑا اور زرد رنگ کا لباس پہننے سے اور رکوع و سجود کی حالت میں قرآت کرنے سے ۔

تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ← ثَلَاثٍ، لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ ← نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابنِ حُنَيْنٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Hadith 603

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 604

604 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أبو عامر العقدي حدثنا داود بن قيس حدثني إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه عن ابن عباس Y عن علي قال : نهاني حبي صلى الله عليه و سلم عن ثلاث : لا أقول نهى الناس - عن تختم الذهب وعن لبس القسي والمعصفر المفدم وأن أقرأ راكعا أو ساجدا K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے تین چیزوں سے منع فرمایا میں نہیں کہتا ہوں کہ تم کو منع کیا سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، شام و مصر کا ریشمی کپڑا اور زرد رنگ کا لباس پہننے سے اور رکوع و سجود کی حالت میں قرآت کرنے سے ۔

تَخَتُّمِ الذَّهَبِ ← ثَلَاثٍ، لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ ← نهاني حبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 604

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 605

605 - حدثنا زهير حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق حدثنا زكريا عن أبي إسحاق عن هبيرة بن يريم Y عن علي قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن خاتم الذهب وعن القسي وعن المياثر الحمر K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے منع فرمایا سونے کی انگوٹھی پہننے سے شام کا ریشمی کپڑا لباس پہننے سے اور وہ جو عورتیں کجادوں پر بیٹھنے کی خاطر اپنے خاوندوں کے لیے تیار کرتی ہیں ۔

خاتم الذهب وعن القسي وعن المياثر الحمر إسناده حسن ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَکَرِیَّا، ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← زُهَيْرٍ

Hadith 605

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 606

606 - حدثنا زهير حدثنا يونس بن محمد حدثنا صالح بن عمر حدثنا عاصم بن كليب عن أبي بردة بن أبي موسى قال : كنت جالسا مع أبي Y فأتانا علي بن أبي طالب بأمر من أمر الناس ثم قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : قل اللهم اهدني وسددني واذكر بالهدى هدايتك الطريق واذكر بالسداد تسديد السبابة السهم ونهاني أن أجعل خاتمي في هذه وأومأ أبو بردة بإبهامه إلى السبابة أو الوسطى قال عاصم : فأنا اشتبه علي أيتهما هي قال : وقال علي : ونهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الميثرة والقسية قال : فأما الميثرة فشيء كانت تصنعه النساء لبعولتهن يجعلونه على رحالهم وأما القسية فثياب الشام - قيل : شام أو مصر مضلعة فيها حرير وفيها أمثال الأترج قال أبو بردة : فلما رأينا السبني عرفنا أن هي هي K إسناده صحيح

حضرت ابو بردہ بن ابو موسیٰ فرماتے ہیں : میں اپنے والد گرامی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، تو حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ لوگوں کے کاموں میں سے کسی کام کے ساتھ ہمارے پاس تشریف لائے ، پھر فرمایا : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے خاص کر کے مجھے فرمایا: تو کہہ اے اللہ مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ اور مجھے سیدھا سیدھا رکھ ہدایت کے ساتھ سیدھے راستے کو ذکر کر دو اور سداد کے ساتھ اپنی سبابہ انگلی کو سیدھا رکھو اور اس میں انگوٹھی پہننے سے مجھے منع فرمایا : اور ابو بردہ نے اپنے انگوٹھے کے ساتھ اپنی شہادت والی یا درمیانی انگلی کی طرف اشارہ فرمایا ۔ حضرت عاصم نے کہا : مجھے ان دونوں کے حوالے سے شک ہے ۔ راوی کا بیان ہے : حض علی / نے مزید فرمایا : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے منع کیا : ( 1) میثرہ سے ( 2) شامی ریشمی کپڑے سے بہرحال میثرہ سے مراد وہ شی ہے جو عورتوں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی ہیں جسے وہ اپنے کجادوں کے اوپر رکھتے ہیں ، دوسرا قسیہ پس یہ شام کا کپڑا ہے ۔ ایک قول ہے : شام یا مصر کا ، جس میں ریشم ہوتا ہے ۔ حضرت ابو بردہ کا قول ہے : جب ہم نے سبنی دیکھا تو ہم نے پہچان لیا کہ یہی ہے ۔

أبي بردة بن أبي موسى ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زُهَيْرٍ

Hadith 606

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 607

607 - حدثناه زكريا حدثنا صالح Y بإسناده نحوه K إسناده صحيح

حضرت صالح اپنی سند کے ساتھ اس جیسی حدیث روایت کرتے ہیں ۔

صالح بإسناده نحوه إسناده صحيح ← زَکَرِیَّا،

Hadith 607

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 608

608 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا مروان بن معاوية الفزاري حدثنا أزهر بن راشد الكاهلي عن الخضر بن القواس البجلي عن أبي سخيلة قال Y قال : علي : ألا أخبركم بأفضل آية في كتاب الله حدثنا بها رسول الله صلى الله عليه و سلم : { ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم ويعفو عن كثير } [ الشورى : 30 ] وقال صلى الله عليه و سلم : وسأفسرها لك يا علي ما أصابك من مرض أو عقوبة أو بلاء في الدنيا فبما كسبت أيديكم والله أكرم من أن يثني عليكم العقوبة في الآخرة وما عفا الله عنه في الدنيا فالله أجل أن يعود بعد عفوه K إسناده ضعيف

حضرت ابی سخیلہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : کیا میں تم کو قرآن کی افضل آیت نہ بتاؤں : جو مجھے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بتائی ہے ! وہ آیت یہ ہے : " ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر، حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اے علی میں تمہارے لیے اس کی تفسیر کرتا ہوں جو تم کو دنیا میں آزمائش یا بیماری یا سزا ملے وہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ زیادہ معزز ہے اس بات سے کہ وہ تمہیں آخرت میں دوبارہ سزا دے عذاب کے معاملہ میں جو تم کو دنیا میں معاف کیا اللہ زیادہ بزرگ ہے کہ وہ اس کو معاف کرنے کے بعد دوبارہ سزا دے ۔

بها رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٌّ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلِ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ ← أبي سخيلة ← الخضر بن القواس البجلي ← أزهر بن راشد الكاهلي ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 608

chevron_left Previous
1…28293031
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter