Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 585

585 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن منصور عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله وتر يحب الوتر فأوتروا يا أهل القرآن K رجاله ثقات

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے وتر پڑھا کرو اے اہل قرآن۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 585

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 586

586 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن منصور عن أبي إسحاق عن علي بن ربيعة الأسدي قال Y رأيت عليا أتى بدابة فوضع رجله في الركاب قال : بسم الله فلما استوى عليها قال : الحمد لله ثم قال : { سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون } [ الزخرف : 13 ] ثم كبر ثلاثا وحمد ثلاثا ثم قال : سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت ثم استضحك فقلت : مم استضحكت ؟ قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوما مثل ما قلت ثم استضحك فقلت مم استضحكت يا رسول الله ؟ قال : تعجب ربنا من قول عبده : سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت قال : علم عبدي أن له ربا يغفر الذنوب K رجاله ثقات

حضرت علی بن ربیعہ الاسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ۔ آپ کے پاس سواری لائی گئی ۔ آپ نے اپنا پاؤں اس کی رکاب میں رکھا اور بسم اللہ بھی پڑھی جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو الحمد للہ پڑھی پھر پڑھا سبحان الذی الیٰ آخرہ ، پھر تین مرتبہ اللہ اکبر پڑھا، پھر سبحانک انی ظلمت الیٰ آخرہ ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے ۔ میں نے عرض کی مسکرانے کی وجہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو ایک دن ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔ میں نے عرض کی تھی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کیوں مسکرائے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ہمارا رب اپنے بندہ کی بات سے تعجب کرتا ہے جب وہ کہتا ہے اس کو معلوم ہے کہ میرے گناہ میرا رب ہی معاف کر سکتا ہے ۔

إلى ربنا لمنقلبون الزخرف ثم كبر ثلاثا وحمد ثلاثا ثم ← {سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ}؟ ← الحمد لله ثم ← بسم الله فلما استوى عليها ← رأيت عليا أتى بدابة فوضع رجله في الركاب ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 586

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 587

587 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن عطاء بن السائب عن أبي ظبيان قال Y أتي عمر بامرأة قد فجرت فأمر بها أن ترجم فمر بها على علي فعرفها فخلى سبيلها فأتي عمر فقيل له : إن عليا أخذها من أيدينا فأرسلها فقال : ادعوه لي فأتاه فقال : لم أرسلتها ؟ قال : والله لقد علمت يا أمير المؤمنين أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قد رفع القلم عن ثلاثة : عن النائم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يبلغ وعن المجنون حتى يبرأ وإن هذه مجنونة بني فلان ولعل الذي فجر بها أتاها وهي في بلائها K إسناده ضعيف

حضرت ابو طبیان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی اس سے زنا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے وہ گزرے آپ نے اس کو پہچان لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو۔ وہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ عرض کی آپ سے کہ حضرت علی نے اس کو پکڑا اور اس کو چھوڑ دیا ۔ حضرت عمر نے فرمایا : علی کو بلاؤ ، آپ کو لایا گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے اس کو کیوں چھوڑا ؟ حضرت علی نے فرمایا : اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ! آپ کو معلوم نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ۔ ( 1) سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگ جائے ، ( 2) بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے اور ( 3) مجنون سے یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے اور یہ بنی فلان مجنونہ کی عورت ہے ہو سکتا ہے اس کے ساتھ حالت جنون میں زنا کیا گیا ہو۔

أَبِي ظَبْيَانَ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 587

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 588

588 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن ثعلبة الحماني قال Y سمعت عليا يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار وأشهد أنه مما كان يشير إلي ليخضبن هذا من دم هذا - يعني لحيته من دم رأسه

حضرت ثعلبہ حمانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے میری طرف اشارہ کیا تھا کہ اس کی داڑھی اور سر خون آلود ہو گا۔

عَلِيًّا ← ثعلبة الحماني ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 588

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 589

589 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن ابراهيم التيمي عن الحارث بن سويد Y عن علي قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ينبذ في الدباء والمزفت

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے دباء اور مزفت کے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 589

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 590

590 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن سلمة بن كهيل عن سالم بن أبي الجعد عن عبد الله بن سبع قال Y خطبنا علي بن أبي طالب فقال : والذي فلق الحبة وبرأ النسمة لتخضبن هذه من هذه - يعني لحيته من دم رأسه - قال : فقال رجل : والله لا يقول ذاك أحد إلا أبرنا عترته فقال : أذكر الله أو أنشد الله أن تقتل بي إلا قاتلي فقال رجل : ألا تستخلف يا أمير المؤمنين ؟ قال : لا ولكم أترككم إلى ما ترككم اليه رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا : فما تقول لله إذا لقيته ؟ قال : أقول : اللهم تركتني فيهم ما بدا لك ثم توفيتني وتركتك فيهم فإن شئت أصلحتهم وإن شئت أفسدتهم K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن سبع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم کو خطبہ دیا ، فرمایا : وہ ذات جس نے دانہ کو پھاڑ ا اور جان کو پیدا کیا ، ضرور بضرور داڑھی اور سرخون سے رنگا جائے گا۔ ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم ! ایسا کوئی نہیں کرے گا، ہم اپنی اولاد کو سمجھائیں گے آپ نے فرمایا : میں اللہ کو یاد کرتا ہوں ، یا میں اللہ کی قسم کھاتا ہو ں کہ مجھے قتل ہی کیا جائے گا۔ ایک ادمی نے عرض کی : اے امیر المومنین کیا آپ خلیفہ نہیں مقرر کریں گے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ، لیکن میں تم کو ویسے ہی چھوڑوں گا جس طرح حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے چھوڑا ہے ۔ انہوں نے آپ سے عرض کی : آپ اللہ کے حضور کیا کہیں گے جب اس سے ملیں گے ؟ آپ نے فرمایا : میں عرض کروں گا کہ اے اللہ تو نے مجھے ان میں چھوڑے رکھا سامنے ہے جو تیرے لیے واضح ہوا پھر مجھے موت دی اور میں نے ان میں تجھے چھوڑا ، اگر تو چاہے ان کی اصلاح فرما اور اگر چاہے تو ان کو تباہ کر۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْعٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 590

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 591

591 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن أبي عبد الرحمن السلمي قال Y قال علي : إذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا فظنوا به الذي هو أهيأ والذي هو أهدى والذي هو أتقى K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تم کو حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے حوالہ سے حدیث بیان کروں تو اس سے انہوں نے خیال کیا اس ہستی کو جو خوش منظر ہدایت والی ہے اور وہ جو صاحب تقوی ہے ۔

عَلِيٌّ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 591

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 592

592 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير حدثنا عبد الله بن نجي Y عن علي بن أبي طالب قال : كانت لي من رسول الله صلى الله عليه و سلم ساعة من السحر آتيه فيها فكنت إذا أتيت استأذنت فإن وجدته يصلي سبح فدخلت وإن وجدته فارغا أذن لي فأتيته ليلة فأذن لي فقال : أتاني الملك أو قال : جبريل فقلت : ادخل فقال : إن في البيت ما لا أستطيع أن أدخل قال : فنظرت فقلت : لا أجد شيئا فطلبت فقال لي : انظر فنظرت فإذا جرو للحسين بن علي مربوطا بقائم السرير في بيت أم سلمة فقال : إن الملائكة أو أنا معشر الملائكة لا ندخل بيتا فيه تمثال أو كلب أو جنب K إسناده صحيح

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ سحری کے وقت ایک گھڑی تھی میں جس میں آپ کے پاس آتا میں جب آپ کے پاس آتا تو میں اجازت لیتا اگر میں پاتا نفل نماز پڑھتے ہوئے آپ بلند آواز سے تسبیح پڑھتے تو میں داخل ہوتا ، اگر میں فارغ پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے میں ایک رات کو آیا تو مجھے اجازت دی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میرے پا س فرشتہ آیا یا جبرائیل آئے میں نے کہا : داخل ہو جاؤ ! فرمایا : اس گھر میں میں داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا ہوں میں نے دیکھا میں نے کہا : میں کوئی شے نہیں پاتا ہوں ، میں نے تلاش کیا مجھے کہا : دیکھو، میں نے دیکھا تو حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے کھیلنے والا گھوڑا حضرت ام سلمہ کے گھر میں ان کی چار پائی کے پائے سے بندھا ہوا تھا ۔ فرمایا : بے شک فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس گھر میں تصاویر کتا یا جنبی آدمی ہوتا ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← الْحَارِثِ ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 592

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 593

593 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن مغيرة عن أم موسى قالت Y سمعت عليا يقول : ما رمدت ولا صدعت منذ مسح رسول الله صلى الله عليه و سلم وجهي وتفل في عيني يوم خيبر حين أعطاني الراية K إسناده حسن

حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت علی سے سنا فرماتے ہوئے کہ میری آنکھ اور میرے سر پر درد نہیں ہوئی جب سے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا ہے اور میری آنکھ میں تھوک مبارک لگایا خیبر کے دن جس وقت مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔

عَلِيًّا ← أُمِّ مُوسَى، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 593

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 594

594 - حدثنا زهير حدثنا جرير عن مغيرة عن أم موسى قالت Y إستأذن قاتل الزبير على علي فقال : ليدخل النار سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لكل نبي حواري وحواري الزبير K إسناده حسن

حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں کہ حضرت زبیر کے قاتل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : چاہیے کہ وہ جہنم میں داخل ہو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا : ہر نبی کا حواری ہے میرا حواری زبیر ہے ۔

لكل نبي حواري وحواري الزبير إسناده حسن ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إستأذن قاتل الزبير على علي فقال ليدخل النار ← أُمِّ مُوسَى، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 594

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 595

595 - وبه عن أم موسى قالت Y ذكر عبد الله بن مسعود عند علي فذكر من فضله ثم قال : لقد ارتقى مرة شجرة أراد أن يجتني لأصحابه فضحك أصحابه من دقة ساقه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما تضحكون ؟ فلهو أثقل في الميزان يوم القيامة من أحد K إسناده حسن

حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا، ان کی فضیلت بیان کرنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو درخت پر چڑھنے کا حکم دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ درخت کے اوپر چڑھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی پتلی پنڈلی کی طرف دیکھا وہ مسکرا پڑے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں مسکرا رہے ہو ؟ عبداللہ کی پنڈلی قیامت کے دن احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہو گی۔

من فضله ثم ← عبد الله بن مسعود عند علي ← أُمِّ مُوسَى، ← وبه

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 595

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 596

596 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن فضيل حدثنا مغيرة عن أم موسى Y عن علي قال : كان آخر كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصلاة الصلاة اتقوا الله فيما ملكت أيمانكم K إسناده حسن

حضرت ام موسیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی زندگی کا آخری کلام تھا ، نماز ، نماز اور اللہ سے ڈرو ان کے متعلق جو تمہاری ملکیت میں ہیں ۔

عَلِيٍّ، ← أُمِّ مُوسَى، ← مُغِيرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 596

chevron_left Previous
1…2728293031
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter