Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 236

236 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل و أبو جعفر خالي قالا : حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا عبد الله بن عمر القرشي قال : حدثني سعيد بن عمرو بن سعيد أنه سمع أباه يوم المرج يقول Y سمعت عمر بن الخطاب يقول : لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يمنع الدين بنصارى من ربيعة على ساحل الفرات ما تركت عربيا إلا قتلته أو يسلم K إسناده حسن

حضرت سعید بن عمرو بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کو جنگ کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوۓ سنا کہ اگر میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ بے شک اللہ عز وجل دین کو منع کرتا ہے نصاری کے ساتھ قبیلہ ربیہ سے فرات کے کنارہ پر تو میں کسی عربی کو نہ چھوڑ تا مگر میں اس کو قتل کر دیا ہوتا یا وہ مسلمان ہو جا تا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لَوْلَا أَنِّي ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أباه يوم المرج ← سعيد بن عمرو بن سعيد أنه ← عبد الله بن عمر القرشي ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إسحاق بن إسماعيل و أبو جعفر خالي

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 236

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 237

237 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني حدثنا جرير عن حصين عن سالم بن أبي الجعد قال Y قال عمر : فذكر كلاما - إن ناسا يقولون : لو استخلفت ؟ فلا أجد أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي النبي صلى الله عليه و سلم وهو عنهم راض فأيهم استخلفوه فهو الخليفة من بعدي K إسناده ضعيف

حضرت سالم بن ابی جعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی کہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ خلیفہ بنائیں؟ میں اس خلافت کا حق دار ان افراد سے زیادہ کسی کو نہیں پاتا ہوں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال اس حالت میں ہوا کہ آپ ان سے راضی تھے آپ ان میں سے جس کو بھی خلیفہ بنائیں گے وہ میرے بعد خلیفہ ہو گا۔

عُمَرَ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 237

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 238

238 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل حدثنا سفيان عن الزهري سمع أبا عبيد يعني مولى ابن أزهر Y قال : شهدت العيد مع عمر بن الخطاب فبدأ بالصلاة قبل الخطبة وقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن صيام هاذين اليومين : أما يوم الفطر ففطركم من صيامكم وأما يوم الأضحى فكلوا من لحم نسككم K إسناده صحيح

حضرت مولی بن از ہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عید کی نماز میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا عیدالفطر کے دن اس لیے کہ یہ تمہارے روزوں کا اختتام کا دن ہے اور عیدالاضحی کے دن اس لیے کہ یہ تمہاری قربانی کا گوشت کھانے کا دن ہے۔

شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَبَدَأَ بِالصَّلاَةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ وَقَالَ ← أبا عبيد يعني مولى ابن أزهر ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 238

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 239

239 - حدثنا زهير حدثنا يحيى بن سعيد عن شعبة قال : أخبرني أبو بكر بن حفص عن سالم عن ابن عمر Y أن عمر رأى على رجل من العطارد قباء من ديباج أو حرير فقال : يا رسول الله لو اشتريته فقال : إنما يلبس هذا من لا خلاق له قال : فأهدي لرسول الله صلى الله عليه و سلم حلة سيراء فأرسل بها إلي قال : أرسلت بها وقد سمعتك قلت فيها ما قلت ؟ فقال : إنما بعثت بها إليك لتستمتع بها K إسناده صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آل عطارد میں سے ایک آدمی پر دیباج یا ریشم کی قبا دیکھی عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اس کو خرید لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوریشم کا خلہ ہدیہ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ میری طرف بھیج دیا۔ میں نے عرض کی: آپ نے اس کو میری طرف بھیجا ہے؟ میں نے آپ سے اس کے خلاف سنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری طرف اس لیے بھیجا تھا تا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ( یعنی اس کو فروخت کر کے ) ۔

سَالِمٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 239

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 240

240 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عاصم بن عمر Y عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أقبل الليل وأدبر النهار من ها هنا فقد أفطر الصائم K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات ادھر سے آۓ اور دن یہاں سے یہاں پلٹ جاۓ تو روزہ دار افطار کر لے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 240

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 241

241 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا سفيان عن زبيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى Y عن عمر قال : صلاة السفر ركعتان وصلاة الفطر ركعتان وصلاة الأضحى ركعتان وصلاة الجمعة ركعتان تمام غير قصر على لسان نبيكم صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسافر کی نماز دو رکعتیں ہیں ، عید الفطر کی نماز دو رکعتیں ہیں ،عید الاضحیٰ کی نماز دو رکعتیں ہیں، جمعہ کی نماز کی مکمل دو رکعتیں ہیں ۔ ساری یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے قصر نہیں ہیں۔

عُمَرَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 241

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 242

242 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا كهمس عن عبد الله بن بريدة عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر Y عن عمر أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما الإيمان ؟ قال : أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وباليوم الآخر وبالقدر خيره وشره فقال جبريل : صدقت فتعجبنا منه يسأله ويصدقه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ذاك جبريل أتاكم يعلمكم دينكم K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے،عرض کی ، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی ، آپ نے سچ کہا۔ ہم کو تعجب ہو کہ سوال اور تصدیق دونوں کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام تھے تم کو دین سکھانے آئے تھے ۔

جبريل صدقت فتعجبنا منه يسأله ويصدقه ← أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وباليوم الآخر وبالقدر خيره وشره ← ما الإيمان ← عمر أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← كَهْمَسٍ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 242

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 243

243 - حدثنا الحارث بن مسكين المصري حدثنا عبد الله بن وهب أخبرنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه Y عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال موسى : يا رب أبونا آدم أخرجنا ونفسه من الجنة فأراه الله آدم فقال : أنت آدم ؟ فقال له آدم : نعم قال : أنت الذي نفخ الله فيك من روحه وأسجد لك ملائكته وعلمك الأسماء كلها ؟ قال : نعم قال : فما حملك على أن أخرجتنا ونفسك من الجنة ؟ فقال له آدم : من أنت ؟ قال : أنا موسى قال : أنت موسى بني إسرائيل الذي كلمك الله من وراء الحجاب فلم يجعل بينك وبينه رسولا من خلقه ؟ قال : نعم قال : فتلومني على أمر قد سبق من الله القضاء قبلي ؟ قال رسول الله صلى الله عليه و سلم عند ذلك : فحج آدم موسى فحج آدم موسى K إسناده جيد

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض، اے رب ہمارے باپ آدم علیہ السلام نے ہم کو جنت سے نکالا اور اپنے آپ کو۔ اللہ عزو جل نے موسیٰ علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام دکھائے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : آپ آدم علیہ السلام ہیں ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے کہا: جی ہاں ! پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : آپ میں اللہ عزو جل نے اپنی روح پھونگی ، آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا ، آ کو تمام ناموں کے متعلق علم دیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : جی ہاں ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : آپ کو کس نے ابھارا تھا ہم کو جنت سے نکلوانے کے لیے اور اپنے آپ کو جنت سے نکالنے پر ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: آپ کون ہیں ؟ آپ نے عرض کی : میں موسیٰ ہوں ، فرمایا : بنی اسرائیل والے موسیٰ ہو، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پردے کے پیچھے کلام کیا ، اس نےت تیرے اور اپنے درمیان مخلوق کو واسطہ نہیں بنایا، عرض کی : جی ہاں ، حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : مجھے ملامت کرتے ہو اس کام پر، جس پر میرے پیدا ہونے سے پہلے اللہ کا حکم لکھا جا چکا تھا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اس وقت آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الحارث بن مسكين المصري

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 243

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 244

244 - حدثنا محمد بن المثنى الزمن حدثنا عبد الملك بن الصباح المسمعي أخبرنا عمران عن الرديني بن أبي مجلز عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر Y عن عمر - قال : أبو محمد أكثر ظني أنه رفعه - قال : التقى آدم و موسى قال موسى لآدم : أنت أبو الناس أسكنك الله جنته وأسجد لك ملائكته قال آدم لموسى : أما تجده مكتوبا ؟ قال : فحج آدم موسى فحج آدم موسى

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، ابو محمد فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ حدیث مرفوعاً ہے کہ حضرت آدم اور موسیٰ کی آپس میں ملاقات ہوئی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے عرض کی : آپ تمام لوگوں کے باپ ہیں، آپ کو اللہ نے جنت میں ٹھہرایا ، آپ کو فرشتوں نے سجدہ کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا : کیا آپ علم الہی میں لکھا ہوا نہیں پاتے ہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔ دو بار فرمایا۔

فحج آدم موسى فحج آدم موسى ← آدم لموسى أما تجده مكتوبا ← موسى لآدم أنت أبو الناس أسكنك الله جنته وأسجد لك ملائكته ← التقى آدم و موسى ← أبو محمد أكثر ظني أنه رفعه ← عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← الرديني بن أبي مجلز ← عِمْرَانُ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الزَّمِنُ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 244

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 245

245 - حدثنا أبو خيثمة و هارون بن معروف وغيرهما قالوا : حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ : حدثنا سعيد بن أبي أيوب عن عطاء بن دينار عن حكيم بن شريك عن يحيى ابن ميمون الحضرمي عن ربيعة الجرشي عن أبي هريرة Y عن عمر بن الخطاب قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تجالسوا أهل القدر ولا تفاتحوهم K إسناده ضعيف

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا : تقدیر کا انکار کرنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور نہ ان کو حکمرانی دو۔

لا تجالسوا أهل القدر ولا تفاتحوهم إسناده ضعيف ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ← يحيى ابن ميمون الحضرمي ← حَکِیْمِ بْنِ شَرِیْکٍ ← عَطَاءِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أبو خيثمة و هارون بن معروف وغيرهما

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 245

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 246

246 - حدثنا القواريري حدثنا عبد الله بن يزيد Y بإسناده نحوه

حضرت عبداللہ بن یزید اپنی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

عبد الله بن يزيد بإسناده نحوه ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 246

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 247

247 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الله بن يزيد عن حيوة بن شريح عن بكر بن عمرو عن عبد الله بن هبيرة عن أبي تميم الجيشاني Y عن عمر بن الخطاب قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو توكلون على الله حق توكله لرزقكم كما يرزق الطير : تغدو خماصا وتروح بطانا K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا : اگر تم اللہ کی ذات پر بھروسہ کرو جس طرح بھروسہ کرنے کا حق ہے ۔ تم کو پرندوں کی طرح رزق دیا جائے گا ، وہ صبح کرتے ہیں خالی پیٹ شام کو واپس آتے ہیں گھونسلے میں پیٹ بھر کر۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ← عبد الله بن هبيرة ← بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 247

chevron_left Previous
1…891011
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter