Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 224

224 - حدثنا أبو همام الوليد بن شجاع حدثنا عبد الله بن المبارك عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه Y عن عمر بن الخطاب يقول : والله لولا أن نترك آخر الناس ببانا ليس لهم شيء ما فتح الله على أهل الإسلام قرية إلا قسمتها كما قسم رسول الله صلى الله عليه و سلم خيبر K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو کوئی نبی نہیں ہوگی؟ جو اللہ تعالی اہل اسلام کو کسی بستی پر فتح دے مگر اس کو تقسیم کر دوں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر تقسیم کیا تھا ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 224

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 225

225 - حدثنا أبو كريب محمد بن العلاء حدثنا وكيع عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه Y عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل الذي يعود في صدقته كمثل الكلب يعود في قيئه K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی مثال جو صدقے دے کر واپس لے لیتے ہے۔ اس کی طرح ہے جیسے کتا قے کر کے واپس چاٹ لیتا ہے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← وَكِيعٌ، ← أبو كريب محمد بن العلاء

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 225

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 226

226 - حدثنا أبو كريب حدثنا وكيع حدثنا إسحاق بن عثمان الكلابي حدثنا إسماعيل بن عبد الرحمن بن عطية الأنصاري قال Y حدثتني جدتي أم عطية قالت : لما قدم النبي صلى الله عليه و سلم المدينة جمع نساء الأنصار في بيت ثم بعث إلينا عمر فقام فسلم فرددنا عليه السلام فقال : إني رسول رسول الله إليكن قلنا : مرحبا برسول الله وبرسول رسول صلى الله عليه و سلم قالت : فقال : أتبايعنني على أن لا تزنين ولا تسرقن ولا تقتلن أولادكن ولا تأتين ببهتان تفترينه بين أيديكن وأرجلكن ولا تعصين في معروف ؟ قلنا : نعم قالت : فمددنا أيدينا من داخل البيت ومد يده من خارجه وأمرنا أن نخرج الحيض والعواتق في العيدين ونهانا عن اتباع الجنائز ولا جمعة علينا قال : قلت : فما المعروف الذي نهيتن عنه ؟ قالت : النياحة K إسناده حسن

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ شریف آۓ ، انصار کی عورتیں ایک گھر میں جمع ہو گئیں، پھر ہماری طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا ، آپ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوۓ ، آپ رضی اللہ عنہ نے سلام کیا، ہم نے آپ رضی اللہ عنہ کو سلام کا جواب دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بھیجا ہوا ہوں ۔ ہم نے کہا: خوش آمدید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندہ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی خوش آمدید ۔ اس کے بعد فرمایا: کیا تم میری بیعت کرتی ہو؟ اس پر کہ تم زنا اور چوری نہیں کرو گی اور نہ اپنی اولاد کوقتل کرو گی ، نہ بہتان لگاؤ گی ۔ جو تمہارے ہاتھوں اور پاؤں نے اپنی طرف سے لیے ہیں اور نیکی میں نافرمانی نہیں کرو گی؟ ہم نے کہا: جی ہاں! حضرت عطیہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھ لمبے کیے، گھر کے اندر سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو لمبا کیا ، باہر سے ۔ ہم کو حکم دیا کہ ہم حیض والیاں عید ین کے لیے نکلیں ( دعا میں شرکت کے لیے ) ہم کو منع کیا جنازہ میں جانے سے ، جمعہ کے لیے منع نہیں کیا۔ میں نے عرض کی : وہ کون سی مشہور چیز ہے جس سے منع کیا گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ فرماتی ہیں: نوحہ ہے ۔

إسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيِّ ← إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 226

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 227

227 - حدثنا أبو هشام الرفاعي حدثنا إسحاق بن سليمان حدثنا معاوية بن يحيى عن الزهري عن سعيد بن المسيب Y عن عمر قال : سمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا يقول لرجل : تعال أقامرك فأمره أن يتصدق بصدقة K إسناده ضعيف

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو کہتے ہوۓ سنا کہ وہ دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا آؤ جوا کھیلیں ! آ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو صدقہ کرنے کا حکم دیا۔

لرجل تعال أقامرك فأمره أن يتصدق بصدقة إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم رجلا ← عُمَرَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 227

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 228

228 - حدثنا أبو هشام حدثنا أبو أسامة حدثنا عمر بن حمزة عن عمر بن حمزة عن سالم عن ابن عمر Y عن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن لكل أمة أمينا وإن أمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح K إسناده ضعيف

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہرامت کا کوئی امین ہے، میری اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ← عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو هشام

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 228

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 229

229 - حدثنا أبو هشام حدثنا زيد بن الحباب حدثنا عبد الله بن بديل بن ورقاء عن الزهري عن سالم بن عبد الله عن أبيه Y عن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الشؤم في ثلاثة : في الدابة والمسكن والمرأة . قال أبو هشام : هو خطاء K إسناده حسن قال أبو هشام الرفاعي هو خطاء

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے: (1) سواری ( یعنی اس کا سرکش ہونا ) ( 2 ) گھر (یعنی اس کا تنگ ہونا ) ( 3) عورت میں ( یعنی ان کا برا ہونا مراد ہے )۔

عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عبد الله بن بديل بن ورقاء ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أبو هشام

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 229

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 230

230 - حدثنا أبو هشام حدثنا ابن فضيل حدثنا ابن أبي زياد عن عاصم بن عبيد الله بن عاصم عن أبيه Y عن جده عمر قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في غزاة فقلنا : يا رسول الله إن العدو قد حضر وهم شباع والناس جياع فقالت الأنصار : ألا ننحر نواضحنا فنطعمها الناس ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من كان معه فضل طعام فليجيء به فجعل يجيء بالمد والصاع وأكثر وأقل فكان جميع ما في الجيش بضعا وعشرين صاعا فجلس النبي صلى الله عليه و سلم إلى جنبه ودعا بالبركة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : خذوا ولا تنتهبوا فجعل الرجل يأخذ في جرابه وفي غرارته وأخذوا في أوعيتهم حتى إن الرجل ليربط كم قميصه فيملأه ففرغوا والطعام كما هو ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : أشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله لا يأتي بهما عبد محق إلا وقاه الله حر النار K إسناده فيه ضعيفان

حضرت عاصم بن عبیداللہ بن عاصم اپنے والد اور اپنے دادا عمرو سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، ایک جنگ میں ، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! بے شک دشمن سامنے ہے، ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھو کے ہیں ، انصار صحابہ نے کہا عرض کی: کیا ہم اپنی سواریاں ذبح نہ کر لیں تا کہ ہم ان کو کھائیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زیادہ کھانا ہو وہ اس کو لے آۓ ۔ لوگ بچا ہوا کھانا لانے گئے کوئی ایک مد اور کوئی زیادہ اور کم لایا جولشکر کے پاس تھا وہ ۲۰ صاع سے زیادہ ہو گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ایک طرف تشریف فرما ہوۓ اور برکت کی دعا فرمائی ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پکڑو! اس کو اچکنانہ ۔ ایک آدمی اپنے تھیلے میں ڈالنے لگا ۔ کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے برتن بھر لیے ۔ ایک آدمی نے اپنی قمیص کی جھولی بھری جب صحابہ کرام فارغ ہوئے تو کھانا ویسے کا ویسے تھا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ! جو آدمی ان دونوں کا اقرار کرتا ہے مگر اللہ عز وجل اس کو آگ کی تپش سے محفوظ رکھے گا۔

كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في غزاة فقلنا ← جَدِّهِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عاصم بن عبيد الله بن عاصم ← ابن أبي زياد ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أبو هشام

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 230

Daif

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 231

231 - حدثنا أبو هشام حدثنا النضر يعني ابن منصور حدثنا أبو الجنوب قال Y رأيت عليا يستقي ماء لوضوئه فبادرته أستقي له فقال : مه يا أبا الجنوب فإني رأيت عمر يستقي ماء لوضوئه فبادرته أستقي له فقال : مه يا أبا الحسن فإني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يستقي ماء لوضوئه فبادرته أستقي له فقال : مه يا عمر فإني أكره أن يشركني في طهوري أحد K إسناده ضعيف

حضرت ابو الجند ب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مولا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ صلی رضی اللہ عنہ نے وضو کے لیے پانی مانگا ۔ میں نے جلدی کی تا کہ آپ کو پانی دوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوالجند ب! چھوڑ دو! میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ آپ نے وضو کے لیے پانی مانگا میں جلدی سے آپ کے لیے پانی لایا تو آپ نے فرمایا اے ابو الحسن ! چھوڑ دو! میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کے لیے پانی مانگا، میں نے جلدی کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پانی دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! چھوڑ دو! میں ناپسند کرتا ہوں کہ میرے وضو کے ثواب میں کوئی اور شریک ہو ۔

أَبُو الْجَنُوبِ ← النضر -يعني: ابن منصور-، ← أبو هشام

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 231

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 232

232 - حدثنا عقبة بن مكرم حدثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن سعيد بن عبيد مولى ابن أزهر قال Y سمعت عمر بن الخطاب يقول : إن هذين اليومين نهاكم رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صيامهما يوم فطركم من صيامكم ويوم تأكلون فيه من لحم نسككم K رجاله ثقات إلا أن فيه عنعنة ابن إسحاق

حضرت مولی ابی از ھر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دو دنوں کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع کیا ہے، بہر حال عید الفطر کے دن اس لیے کہ یہ روزوں کے اختتام کا دن ہے اور عید الاضحیٰ کے دن اس لیے کہ تم قربانی کا گوشت کھاؤ۔

إن هذين اليومين نهاكم رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سعيد بن عبيد مولى ابن أزهر ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 232

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 233

233 - حدثنا هدبة حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس Y أن عمر لما طعن عولت عليه حفصة فقال : يا حفصة أما سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن المعول عليه يعذب K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا ، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ پر رونے لگیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے حفصہ ! کیا تو نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس پر رویا جاۓ اس کو عذاب دیا جاۓ گا ۔

إن المعول عليه يعذب إسناده صحيح ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أنس أن عمر لما طعن عولت عليه حفصة فقال يا حفصة أما ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 233

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 234

234 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا مالك عن ابن شهاب عن مالك بن أوس بن الحدثان Y أنه أخبره أنه التمس صرفا بمئة دينار قال فدعاني طلحة بن عبيد الله فتراضينا في الصرف حتى اصطرف مني و أخذ الذهب يقلبها في يده قال : حتى يأتي خازني من الغابة و عمر بن الخطاب يسمع . فقال عمر : لا والله لا تفارقه حتى تأخذ منه ثم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذهب بالذهب ربا إلا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا إلا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا إلا هاء وهاء K رجاله رجال الصحيح

حضرت مالک بن اوس بن حدثان روایت کرتے ہیں کہ کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ نے مجھ سے چاندی کی سونے کے بدلے فرمایا کہ مجھے مہلت دو یہاں تک کہ ہمارے پاس غابہ سے میرا خزانچی آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سنا تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم !نہیں! تو اس سے جدا نہ ہو یہاں تک کہ معاملہ پورا کر کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر ہو تو جائز ہے گندم گندم کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر کھجور کھجور کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر جائز ہے ۔

مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 234

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 235

235 - حدثنا أحمد بن عيسى حدثنا عبد الله بن وهب عن يونس عن ابن شهاب أن السائب ابن يزيد و عبيد الله بن عبد الله أخبراه عن عبد الرحمن بن عبد القارئ قال Y سمعت عمر بن الخطاب يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه ما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنه قرأه من الليل K أخرجه مسلم

حضرت عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں ہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوۓ سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا رات کا وظیفہ رہ گیا جو وہ ہر رات پڑھتا تھا یا ایسی شے جو وہ پڑھتا تھا اور وہ اس وظیفہ کو فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو اس کے لیے وہی ثواب لکھا جاۓ جو رات کو پڑھتا تھا۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 235

chevron_left Previous
1…7891011
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter