مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 140
140 - حدثنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت Y عن أنس قال : كنا عند عمر بن الخطاب بالمدينة فتراءينا الهلال وكنت رجلا حديد البصر فرأيته وليس أحد يزعم أنه رآه غيري قال : فجعلت أقول لعمر : أما تراه ؟ فجعل لا يراه قال : يقول عمر : سأراه وأنا مستلق على فراشي ثم أنشأ يحدثنا عن أهل بدر قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يرينا مصارع أهل بدر بالأمس قال يقول : هذا مصرع فلان غدا إن شاء الله قال : فقال عمر فوالذي بعثه بالحق ما أخطؤوا الحدود التي حد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فجعلوا في بئر بعضهم على بعض فانطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى انتهى إليهم فقال : يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان هل وجدتم ما وعدكم الله ورسوله حقا ؟ فإني قد وجدت ما وعدني الله حقا قال عمر : يا رسول الله تكلم أجسادا لا أرواح فيها ؟ فقال : ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يستطيعون أن يردوا علي شيئا K إسناده صحيح
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ہم نے چاند دیکھا۔ میں تیز بصارت والا آدمی تھا۔ میرا خیال تھا کہ میرے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاند دیکھا ہے؟آپ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے نہیں دیکھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ابھی دیکھتا ہوں، میں اس وقت بستر پر چت لیٹا ہوا تھا ۔ پھر حضرت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہمیں بدر والوں کے متعلق بیان کرنے لگے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اہل بدر کے کافروں کے متعلق ایک دن پہلے ہی دکھا دیا تھا کہ یہ فلاں کا فر کے گرنے کی جگہ ہے، آئند ہ دن ان شاء اللہ ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے جس جگہ کا تعین حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا اس جگہ سے ( وہ کافر ) ذرا ادھر ادھر نہیں ہوۓ ، پس ان کافروں کو ایک کنواں میں ڈالا گیا ایک دوسرے کے او پر، پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آۓ اس جگہ پہنچے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اس چیز کو پالیا جس چیز کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا؟ بے شک میں نے پالیا ہے جو میرے اللہ نے میرے ساتھ حق وعدہ کیا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی، یا رسول اللہ ! آپ ایسے جسموں کے ساتھ کلام کرتے ہیں جن میں رحیں نہیں رہی ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: اے عمر ! تم ان سے زیادہ نہیں سن رہے جو میں ان کو کہہ رہا ہوں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ یہ کافر کسی چیز کا جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي
Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 140
