Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 85

85 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن علي الوساوسي حدثنا زيد بن الحباب العكلي عن عبد الرحمن بن سليمان بن الغسيل عن شرحبيل بن سعد عن جابر بن عبد الله Y عن أبي بكر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم على أعواد المنبر يقول : اتقوا النار ولو بشق تمرة فإنها تقيم العوج وتدفع ميتة السوء وتقع من الجائع موقعها من الشبعان K إسناده ضعيف

حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے منبر کی سیڑھیوں پر سناآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جہنم کی آگ سے بچو اگر چہ ایک کھجور کے ساتھ ہو۔ بے شک یہ تیڑ ھا پن کو درست رکھتی ہے، برائی کو مٹا دیتی ہے، بھوک کوختم کر دیتی ہے اور پیٹ بھر جاتا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم على أعواد المنبر ← أَبِي بَكْرٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل بن سعد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ الْعُكْلِيُّ ← محمد بن إسماعيل بن علي الوساوسي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 85

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 86

86 - حدثنا إسحاق بن اسماعيل الطالقاني حدثنا يحيى بن أبي بكير حدثنا زهير بن محمد عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن معاذ بن رفاعه بن رافع الأنصاري عن أبيه رفاعة قال Y سمعت أبا بكر الصديق يقول على المنبر : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وبكى أبو بكر حين ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سري عنه ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وبكى أبو بكر حين ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سري عنه ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا القيظ عام الأول يقول : سلوا الله العفو والعافية واليقين في الآخرة والأولى

حضرت معاذ بن رفاعہ بن رافع انصاری اپنے باپ رفاعہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، حضرت ابو بکر رو پڑے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر کرنا شروع کیا ، پھر آپ کے بارے آہستہ بات کی پھر فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے جس وقت رسول اللہ سلام کا ذکر کیا پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے آہستہ بات کی پھر فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا گزرے سال اس گرمی میں یہ فرماتے ہوئے کہ اللہ عز وجل سے عفو اور عافیت مانگو اور ایمان مانگود نیا و آخرت میں ۔

سلوا الله العفو والعافية واليقين في الآخرة والأولى ← رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا القيظ عام الأول ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سري عنه ثم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم وبكى أبو بكر حين ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سري عنه ثم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم وبكى أبو بكر حين ← عَلَى الْمِنْبَرِ:، ← أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، ← أبيه رفاعة ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 86

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 87

87 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا أبو عامر عبد الملك بن عمرو العقدي حدثنا زهير عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن معاذ بن رفاعة بن رافع الأنصاري عن أبيه قال Y سمعت أبا بكر الصديق على منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : فبكى أبو بكر حين ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سري عنه ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في مثل هذا القيظ عام الأول : سلوا الله العفو والعافية واليقين في الآخره والأولى

حضرت معاذ بن رفاعہ بن رافع انصاری اپنے پاپ رفاعہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا ہے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر کرنا شروع کیا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے آہستہ گفتگو کی پھر فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے آہستہ گفتگو کی پھر فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناگزرے سال اس گرم دن میں یہ فرماتے ہوۓ کہ اللہ عز وجل سے عفو اور عافیت مانگو دنیا و آخرت میں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم سري عنه ثم ← فبكى أبو بكر حين ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبا بكر الصديق على منبر رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 87

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 88

88 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة حدثني هود بن عطاء عن أنس بن مالك قال Y قال أبو بكر : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ضرب المصلين

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نمازیوں کو مارنے سے منع فرمایا ۔

ضرب المصلين ← أبو بكر نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هود بن عطاء ← موسى بن عبيدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 88

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 89

89 - حدثنا عمرو بن الضحاك حدثنا أبي عن موسى بن عبيدة عن هود بن عطاء عن أنس Y عن أبي بكر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ضرب المصلين K إسناده ضعيف

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیوں کو مارنے سے منع فرمایا۔

ضرب المصلين إسناده ضعيف ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ، ← أَنَسٍ، ← هود بن عطاء ← موسى بن عبيدة ← أَبِي ← عمرو بن الضحاك

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 89

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 90

90 - حدثنا محمد بن الفرج حدثنا محمد بن الزبرقان حدثنا موسى بن عبيدة أخبرني هود بن عطاء Y عن أنس بن مالك قال : كان في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم رجل يعجبنا تعبده واجتهاده فذكرناه لرسول الله صلى الله عليه و سلم باسمه فلم يعرفه ووصفناه بصفته فلم يعرفه فبينما نحن نذكره إذ طلع الرجل قلنا : ها هو ذا قال : إنكم لتخبروني عن رجل إن على وجهه سفعة من الشيطان فأقبل حتى وقف عليهم ولم يسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنشدتك بالله هل قلت حين وقفت على المجلس : ما في القوم أحد أفضل مني أو أخيرمني ؟ ! قال : اللهم نعم ثم دخل يصلي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يقتل الرجل ؟ فقال : أبو بكر : أنا فدخل عليه فوجده قائما يصلي فقال : سبحان الله أقتل رجلا يصلي وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتل المصلين ؟ فخرج فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما فعلت ؟ قال : كرهت أن أقتله وهو يصلي وقد نهيت عن قتل المصلين قال عمر : أنا فدخل فوجده واضعا وجهه فقال عمر : أبو بكر أفضل مني فخرج فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم : مه ؟ قال وجدته واضعا وجهه فكرهت أن أقتله فقال : من يقتل الرجل ؟ فقال علي : أنا قال : أنت إن أدركته قال : فدخل علي فوجده قد خرج فرجع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : مه ؟ قال : وجدته قد خرج قال : لو قتل ما اختلف في أمتي رجلان كان أولهم وآخرهم قال موسى سمعت محمد بن كعب يقول هو الذي قتله علي ذا الثدية K إسناده ضعيف

حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مقدس میں ایک آدمی تھا ہم اس کی عبادت وریاضت پر تعجب کرتے ہم نے حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا نام ذکر کیا ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: میں اس کو نہیں جانتا ۔ ہم نے اس کے اوصاف ذکر کیے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: میں اس کو نہیں جانتا ۔ ہم اس حالت میں اس کے متعلق گفتگو کر رہے تھے کہ وہ آدمی آ گیا۔ ہم نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسے آدمی کے متعلق بتلاتے ہو جس کے چہرے پر شیطانی اثرات نظر آتے ہیں ۔ وہ آدمی آیا جس کے پاس کھڑا ہو گیا اور اس نے سلام نہیں کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ کی قسم دیکھ کر کہتا ہوں جب تو مجلس کے پاس کھڑا تھا) تیرے دل کے اندر یہ بات تھی ( اس مجلس میں مجھ سے افضل کوئی نہیں ہے یا مجھ سے بہتر نہیں ۔ اس نے کہا، جی ہاں ۔ پھر مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس آدمی کو کون قتل کرے گا؟ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ۔ آپ رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اس کو قیام کی حالت میں پایا۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، سبحان اللہ! میں ایسے آدمی کوقتل کروں جو نماز پڑھتا ہے حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نمازیوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ پھر واپس آگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکررضی اللہ عنہ تو نے کیا کیا؟ عرض کی ، یا رسول اللہ " میں نے ناپسند کیا کہ میں نمازی کو قتل کروں اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نمازیوں کو مارنے سے منع بھی فرمایا ہے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اجازت دیں آپرضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوۓ ، اس نے اپنا سر سجدہ میں رکھا ہوا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے افضل ہیں ۔ وہ نکلے تھے تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تھا چھوڑ دیا۔ میں نے اس کو سجدہ کی حالت میں پایا ہے، پس میں نے اس حالت میں اس کو مارنا نا پسند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اس آدمی کو مارے گا؟ مولاۓ کائنات سید نا علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم رضی اللہ عنہ نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں اس بد بخت کوقتل کرتا ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ اگر تو نے اس کو پا لیا تو یقینا قتل کر دے گا ) حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ، وہ بد بخت دفع ہو گیا تھا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آۓ توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: چھوڑ دیا؟ آپ رضی اللہ عنہ کے نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں گیا تو وہ چلا گیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فر مایا اگر آج اس کو قتل کر دیا جا تا میری امت اولین و آخرین میں دو آدمی اختلاف نہ کرتے ۔ حضرت موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن کعب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس کو حضرت علی نے قتل کیا تھا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هود بن عطاء ← موسى بن عبيدة ← مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← محمد بن الفرج

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 90

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 91

91 - حدثنا عبد العزيز بن أبي سلمة بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب حدثني إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت حدثه قال Y أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده فقال أبو بكر : إن عمر أتاني فقال : إن القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القرآن وإني أخشى أن يستحر القتل بقراء القرآن في المواطن فيذهب كثير من القرآن وإني أرى أن تأمر فيجمع قال : قلت : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : فقال عمر : هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك إلى أن شرح الله لذلك صدري ورأيت في ذلك الذي رأى عمر قال زيد بن ثابت : قال أبو بكر : إنك فتى شاب عاقل لا نتهمك وقد كنت تكتب الوحي للنبي صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن فاجمعه قال زيد : والله لو كلفني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي من الذي أمرني به من جمع القرآن قال : قلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو والله خير فلم يزل يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبي بكر و عمر ورأيت في ذلك الذي رأيا فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع واللخاف والعسب وصدور الرجال حتى فقدت آخر سورة التوبة فوجدتها مع خزيمة بن ثابت الأنصاري { لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رؤوف رحيم } [ التوبة آية : 128 ] إلى خاتمة براءة وكانت الصحف عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله ثم عند عمر حتى توفاه الله ثم عند حفصة K الحديث صحيح

حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری طرف کسی کو بھیجا جنگ یمامہ میں آپ کے پاس حضرت عمر بن خطاب بھی تھے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آیا ہے اس نے عرض کیا ہے کہ جنگ یمامہ سے بڑے قاری قرآن شہید ہوۓ ہیں ، میں خوف کرتا ہوں کہ اس طرح قاری شہید ہوتے رہے تو سارا قرآن چلا جاۓ گا۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: کیا میں ایسا کام کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی اللہ کی قسم! یہ بہتر جمع کرتا ، مسلسل حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے عرض کر تے رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا ہوا تھا۔ میری بھی وہی راۓ ہوگئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نو جوان سمجھدار ہیں ہم آپ کو متہم بھی نہیں کر تے حالانکہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وحی لکھتے تھے، آپ قرآن کو تلاش کر لیں ، آپ جمع کر لیں ۔ حضرت زید فرماتے ہیں اگر مجھے ایک پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کر نے کا مکلف بنایا جا تا تو مجھے ایسے کرنا زیادہ آسان تھا۔ میں نے عرض کی میں وہ کام کیسے کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ میں مجھے مسلسل ابھارتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے کو کھولا تھا ۔ میں نے قرآن تلاش کرنا شروع کیا، میں نے جمع کیا پرچوں اور شانے کی ہڈیوں اور کھجور کے پتوں سے ۔ اور مردوں کے سینوں سے، میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت خزیمہ بن ثابت سے پائی ۔ وہ آیت یہ ہے: لقد جاء کم رسول من انفیکم . ومصاحف جو ہم نے جمع کیا تھا جس میں قرآن تھا وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ان کی زندگی میں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو پھر حضرت حفصہ کےپاس رہا۔

أَبُو بَکْرٍ ← أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 91

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 92

92 - حدثنا عبد العزيز بن أبي سلمة العمري حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن أنس بن مالك Y أن حذيفة بن اليمان قدم على عثمان بن عفان فكان يغازي أهل الشام في فتح أرمينية وأذربيجان مع أهل العراق فأفزع حذيفة اختلافهم في القراءة فقال حذيفة لعثمان : يا أمير المؤمنين أدرك هذه الأمة قبل أن يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصارى فأرسل عثمان إلى حفصة أن أرسلي إلينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها إليك فأرسلت بها حفصة إلى عثمان فأمر عثمان زيد بن ثابت و عبد الله بن الزبير و سعيد بن العاص و عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ينسخونها في المصاحف وقال للرهط القرشيين الثلاثة : إذا أنتم اختلفتم و زيد بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بلسان قريش فإنما نزل بلسانهم ففعلوا حتى إذا نسخت الصحف رد عثمان الصحف إلى حفصة وأرسل إلى كل أفق بمصحف مما نسخوا وأمر بما سواه مما فيه القرآن في كل صحيفة ومصحف أن يمحا أو يحرق قال إبراهيم : قال الزهري : فأخبرني خارجة ابن زيد بن ثابت أنه سمع زيد بن ثابت يقول : فقدت آية من سورة الأحزاب حين نسخت المصاحف وقد كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرؤها فالتمستها فوجدتها عند خزيمة بن ثابت الأنصاري { من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه } [ سورة الأحزاب آية : 23 ] فألحقتها في سورتها في المصحف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان ، حضرت عثمان کے پاس آۓ ، حضرت حذیفہ اہل شام کے ساتھ ارمینیہ اور آذربائیجان میں اہل عراق کے ساتھ جنگ لڑ رہے تھے ، حضرت حذیفہ کو ان کی قرأت کے اختلاف نے پریشان کر دیا۔ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے عرض کی: اے امیر المومنین! اس امت کو سنبھالیں ایسا نہ ہو کہ یہ یہود اور عیسائیوں کی طرح اللہ کی کتاب میں اختلاف کر یں حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ میری طرف مصحف کو بھیجیں ۔ ہم اس کو مصاحف میں لکھتے ہیں پر ہم یہ آپ کو واپس کر دیں گے ۔ حضرت حفصہ نے وہ حضرت عثمان کی طرف بھیجا۔ حضرت عثمان نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص ، عبد الرحمٰن بن حارث بن ہشام کو مصاحف میں نقل کر نے کا حکم دیا اور قریش کے تین افراد سے فرمایا: جب تم اختلاف کرو اور زید بن ثابت کسی آیت کے لکھنے کے متعلق تو اس کو قریش کی زبان میں لکھو کیونکہ قرآن ان کی زبان میں نازل ہوا ہے ، حضرت عثمان نے مصحف حضرت حفصہ کو واپس کر دیا اور ہر شہر میں ایک ایک نسخہ بھیجا جو اس سے نقل کیا گیا تھا اور حکم دیا: جواس کے علاوہ کسی کے پاس قرآن ہو اس کو مٹا دیا جاۓ یا جلا دیا جاۓ ۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ زہری نے فرمایا: مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے بتایا ، انہوں نے زید بن ثابت کو فرماتے ہوۓ سنا کہ سورہ احزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی جس سے مصحف کو نقل کیا گیا ، وہ حال یہ ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پڑھی ہے ، اس کو تلاش کرو ۔ میں حضرت خزیمہ بن ثابت کے پاس پائی ۔ وہ آیت سیتی من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه ۔ میں نے اس کو مصحف میں نقل کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عبد العزيز بن أبي سلمة العمري

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 92

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 93

93 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا عبد الصمد حدثنا صدقة بن موسى حدثنا فرقد عن مرة Y عن أبي بكر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة خب ولا سيىء الملكة وإن أول من يقرع باب الجنة المملوك والمملوكة إذا أحسنا عبادة ربهما ونصحا لسيدهما K إسناده ضعيف

حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں چند لوگ نہیں جائیں گے: (1) دھوکہ باز (2) برے اخلاق والا ۔ جنت میں سب سے پہلے غلام اور لونڈیاں دروازہ کھٹکھٹا ئیں گے بشرطیکہ دونوں اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرتے ہوں ، دونوں اپنے آقا کے لیے بھی خیر خواہ ہوں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ، ← مُرَّۃُ ← فَرْقَدٌ، ← صدقة بن موسى ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 93

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 94

94 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن مغيرة بن مسلم أبي سلمة عن فرقد السبخي عن مرة الطيب Y عن أبي بكر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخا الجنة سيئ الملكة قال : فقال رجل : يا رسول الله أليس أخبرتنا أن هذه الأمة أكثر الأمم مملوكين وأيتاما ؟ قال : فأكرموهم كرامة أولادكم وأطعموهم مما تأكلون واكسوهم مما تلبسون قال : فما تنفعنا الدنيا يا رسول الله ؟ قال : فرس ترتبطه في سبيل الله ومملوك يكفيك فإذا صلى فهو أخوك فإذا صلى فهو أخوك K إسناده ضعيف

حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں بداخلاق نہیں جاۓ گا۔ ایک آدمی نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا نہیں کہ اس امت میں زیادہ غلام اور یتیم ہوں گے؟ فرمایا، جی ہاں ۔ فرمایا: تم ان کی ایسے ہی عزت کرو جس طرح اپنی اولاد کی کر تے ہو ۔ جو تم خود کھاتے ہو ان کو بھی کھلاؤ ، جوتم خود پہنتے ہو، ان کو بھی پہناؤ۔ صحابہ نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دنیا میں اس کا کیا فائدہ ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ گھوڑا جو اللہ کی راہ میں تو نے باندھا، تمہارا غلام تمہاری کفایت کرے گا۔ جب وہ نماز پڑھیں وہ تمہارے بھائی ہیں جب وہ نماز پڑھیں وہ تمہارے بھائی ہیں ۔

أَبِي بَكْرٍ، ← مُرَّةَ الطَّيِّبِ ← فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ← مغيرة بن مسلم أبي سلمة ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 94

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 95

95 - حدثنا عمرو بن محمد الناقد حدثنا يزيد بن هارون حدثنا همام بن يحيى عن فرقد السبخي عن مرة الطيب Y عن أبي بكر الصديق عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة خب ولا بخيل ولا منان ولا سيئ الملكة وأن أول من يدخل الجنة المملوك إذا أطاع الله وأطاع سيده K إسناده ضعيف

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جنت میں چند لوگ نہیں جائیں گے: (1) دھوکہ باز (2) بخیل (3) احسان جتانے والا (4) برے اخلاق والا۔ سب سے پہلے جنت میں غلام جائے گا بشرطیکہ وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہو اور اپنے آقا کی بھی اطاعت کرتا ہو ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← مُرَّةَ الطَّيِّبِ ← فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 95

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 96

96 - حدثنا أبو كريب حدثنا معاوية بن هشام عن شيبان عن عامر عن مرة Y عن أبي بكر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة سيئ ملكته ملعون من ضار مسلما أو غره K إسناده حسن

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق ر ضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جنت میں برے اخلاق والا اور لعنتی جس نے مسلمان کو نقصان دیا یا دھوکہ دینے والا داخل نہیں ہو گا ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ، ← مُرَّۃُ ← عَامِرٍ، ← شَيْبَانَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 96

chevron_left Previous
1…789…12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter