مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 37
37 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال Y أرسلت فاطمة إلى أبي بكر فقالت : ما لك يا خليفة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ أنت ورثت رسول الله أم أهله ؟ قال : لا بل أهله قالت : فما بال سهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : إني سمعته يقول : إن الله إذا أطعم نبيا طعمة ثم قبضه إليه جعله للذي يقوم بعده . فرأيت - أنا بعده - أن أرده على المسلمين قالت : أنت وما سمعته من رسول الله K رجاله رجال الصحيح
حضرت ابوطفیل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدہ طیبہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: اے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین! آپ کو کیا ہے؟ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کے آپ رضی اللہ عنہ وارث ہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والے؟ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میں تو نہیں وارث بلکہ آپ کے خاندان کے لوگ وارث ہیں ۔ حضرت سیدہ طیبہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حصہ کہاں ہے؟ حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ بے شک اللہ جب تک اپنے نبی کو کھلاتا ہے پھر اپنے پاس بلاتا ہے اس کو اس کے قبضہ میں دیتا ہے جو اس کے بعد قائم مقام ہوتا ہے اس میں میری راۓ یہ ہے کہ میں آپ کے بعد یہ مال مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دوں۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:آپ رضی اللہ عنہ نے جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سناہے، وہ ٹھیک ہے ۔
أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 37
