Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 357

357 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا الصمد بن عبد الوارث أخبرني أبي حدثنا الحسن بن ذكوان عن حبيب بن أبي ثابت عن عاصم بن ضمرة Y عن علي أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن أكل كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير وعن ثمن الميتة وعن الخمر والحمر الأهلية وكسب البغي وعن عسب كل ذي فحل K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر پھاڑنے والے درندے اور ہر پنچے سے شکار کرنے والے پرندے سے اور مردار کے پیسوں سے اور شراب اور پالتو گدھوں کے گوشت اور زانیہ کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← أَبِي ← الصمد بن عبد الوارث ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 357

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 358

358 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا شبابة حدثني نعيم بن حكيم حدثني أبو مريم Y حدنا علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن قوما يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم طوبى لمن قتلهم وقتلوه علامتهم رجل مخدج اليد K إسناده حسن

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم اسلام سے اس طرح نکل جائے گی کہ جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے قرآن پڑھیں گے ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ خوشخبری اس کے لیے جو ان کو مارے اور وہ اس کو ماریں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ایک آدمی ہو گا اس کا ہاتھ ناقص ہو گا۔

أبو مريم حدنا علي بن أبي طالب ← نعيم بن حكيم ← شَبَابَةُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 358

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 359

359 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث حدثنا شعبة حدثنا فضيل عن أبي حريز عن الشعبي Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حين رجعت من جنازة قولا ما أحب أن لي به الدنيا جميعا K إسناده ضعيف

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں ایک جنازہ سے واپس آ رہا تھا ، وہ بات مجھے دنیا مافیہا سے زیادہ پسند ہے ۔

عَلِيٍّ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَرِيزٍ، ← فُضَيْلٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 359

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 360

360 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا الحسن بن موسى حدثنا عبد الله بن لهيعة حدثنا عبد الله بن هبيرة عن عبد الله بن زرير Y عن علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى أن تنكح المرأة على عمتها أو على خالتها K إسناده ضعيف

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا، عورت اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کو ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، ← عبد الله بن هبيرة ← عبد الله بن لهيعة ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 360

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 361

361 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن أبي إسحاق عن الحارث Y عن علي بن أبي طالب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يرث الرجل أخاه لأبيه وأمه دون إخوته لأبيه K إسناده ضعيف

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے سگے بھائی کا وارث ہوتا ہے، سوتیلے بھائی کا نہیں ہوتا ہے۔

يرث الرجل أخاه لأبيه وأمه دون إخوته لأبيه إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 361

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 362

362 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا حميد بن عبد الرحمن حدثنا حسن عن بيان عن حصين بن صفوان Y عن علي قال : كنت غلاما مذاء فلما رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم الماء قد آذاني قال : إنما الغسل من الماء الدافق K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایسا نوجوان تھا کہ مجھے مذی بہت آتی تھی، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی دیکھا تو مجھے آپ نے بلوایا، فرمایا: غسل ٹپکتے ہوئے پانی سے ہوتا ہے۔

عَلِيٍّ، ← حصين بن صفوان ← بَيَانٍ ← حَسَنٌ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 362

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 363

363 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن عبيد أخبرنا شرحبيل بن مدرك عن عبد الله بن نجي عن أبيه Y أنه سار مع علي وكان صاحب مطهرته فلما حاذى نينوى وهو منطلق إلى صفين فنادى علي : إصبر أبا عبد الله إصبر أبا عبد الله بشط الفرات قلت : وماذا يا أبا عبد الله ؟ قال : دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم وعيناه تفيضان قال : قلت : يا نبي الله : أغضبك أحد ؟ ما شأن عينيك تفيضان ؟ قال : بل قام جبريل قبل فحدثني أن الحسين يقتل بشط الفرات قال : فقال : هل لك أن أشمك من تربته ؟ قال قلت : نعم قال : فمد يده فقبض قبضة من تراب فأعطانيها فلم أملك عيني أن فاضتا K إسناده حسن

حضرت شرجیل بن مسدوک رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن رخبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے باپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہے تھے ، آپ رضی اللہ عنہ کی مسواک اٹھاتے تھے ، جب وادی نینویٰ کے قریب پہنچے وہ صفین کی طرف جارہا تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو بلوایا اور فرمایا: اے ابو عبداللہ رک ، فرات کے کنارہ پرمیں نے عرض کی : اے ابو عبداللہ ! کون ہے ؟ فرمایا: میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس نے غصہ دلایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو کیوں جاری ہیں ؟ فرمایا: ابھی میرے پاس سے جبرائیل اٹھے ہیں تھوڑی دیر پہلے ، اس سے پہلے مجھے بتایا کہ فرات کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لخت جگر حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا جائے گا۔ عرض کی: اس جگہ کی مٹی کی خوشبو دکھاؤں ؟ میں نے فرمایا: جی ہاں! حضرت جبریل نے اپنا ہاتھ بلند کیا، اس کی ایک مٹھی مٹی لی ، مجھے دی، میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ پاسکا ان دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← شُرَحْبِيل بن مدرك ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 363

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 364

364 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن عبيد حدثنا هاشم بن البريد عن حسين بن ميمون عن عبد الله بن عبد الله قاضي الري عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال Y سمعت أمير المؤمنين عليا يقول : اجتمعت أنا و فاطمة و العباس و زيد بن حارثة فقال العباس : يا رسول الله كبر سني ورق عظمي وكثرت مؤنتي فإن رأيت يا رسول الله أن تأمر لي بكذا وكذا وسقا من طعام فافعل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم فعلت فقالت فاطمة : يا رسول الله إن رأيت أن تأمر لي بما أمرت فافعل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فعلت ذلك فقال زيد بن حارثة : يا رسول الله كنت أعطيتني أرضا كانت معيشتي منها ثم قبضتها مني فإن رأيت أن تردها علي فافعل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فعلت ذلك فقلت يا رسول الله إن رأيت أن توليني هذا الحق الذي جعل الله لنا في كتابه في هذا الخمس فأقسمه في حياتك فلا ينازعنيه أحد بعدك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فعلت ذلك فولانيه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقسمته في حياته ثم ولانيه أبو بكر فقسمته في حياته ثم ولانيه عمر فقسمته في حياته حتى كان آخر سنة من سني عمر وإنه أتاه مال كثير فعزل خمسا ثم أرسل فقال : يا علي هذا حقكم فخذ فقلت يا أمير المؤمنين بنا العام عنه غنى وبالمسلمين إليه حاجة فاردده إليهم فرده عمر تلك السنة ثم لم يدعني إليه أحد بعد عمر حتى قمت مقامي هذا فلقيني العباس فقال : يا علي لقد نزعت منا اليوم شيئا لا يرد علينا أبدا K إسناده لين

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے فرمایا: کہ میں اور فاطمہ رضی اللہ عنہ و عباس رضی اللہ عنہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جمع ہوئے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور میری ذمہ داریاں زیادہ ہو گئی ہیں ،اگر آپ یا رسول اللہ دیکھیں میرے لیے اتنے اتنے کھانے کے وسق کا حکم دیں ، تو کر دیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کروں گا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے حکم دیں جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کوحکم دیا ، آپ کریں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کروں گا! یہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے مجھے زمین دی تھی، اس میں میری زندگی اچھی طرح گزر رہی تھی۔ پھر آپ نے مجھ سے لے لی تھی۔ اگر آپ مجھے واپس کردیں آپ کریں گے۔مناسب سمجھیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایسا کروں گا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ مناسب سمجھیں اگر مجھے آپ ولی بنا دیں اس حق کا جس کا اللہ نے ہمارے لیے اس کتاب میں خمس بنا ہے۔ اس کی آپ اپنی زندگی میں تقسیم کر دیں تاکہ آپ کے بعد کوئی جھگڑا نہ کرے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو اس زندگی میں تقسیم کیا پھر ابو بکر نے مجھے وہی بتایا میں نے اس کو تقسیم کیا۔آپ کی زندگی میں یہاں تک کہ حضرت عمر کی حکومت کے آخری موقع پر آپ کے پاس بہت زیادہ مال آیا۔آپ نے خمسکو علیحدہ کیا۔پھر وہ میری طرف بھیجی فرمایا: اے علی ! یہ تمہارا حق ہے اس کو لے لو، میں نے کہا: اے امیر المومنین ! اس سال اس سے آپ نے غنی کو دیا ہے، مسلمانوں کو اس کی ضرورت ہے ،آپ ان کو واپس کردیں۔حضرت عمر نے اس سال واپس کر دیا پھر مجھے اس کی طرح کسی نے نہیں بلوایا یعنی حضرت عمر کےبعد، یہاں تک کہ میں اپنی جگہ سے اٹھا ۔ مجھے حضرت عباس ملے ، فرمایا: اے علی ! آپ ہم سے اس دن جھگڑ رہے تھے ۔ ایک شے کے متعلق ہم پر وہ ہمیشہ واپس نہیں کی جائے گی۔

و فاطمة و العباس و زيد بن حارثة فقال العباس ← اجتمعت ← أمير المؤمنين عليا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عبد الله بن عبد الله قاضي الري ← حسين بن ميمون ← هاشم بن البريد ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 364

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 365

365 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عائذ بن حبيب حدثني عامر بن السمط عن [ أبي ] الغريف قال Y أتي علي بالوضوء فمضمض واستنشق ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا وغسل يديه وذراعيه ثلاثا ثلاثا ثم مسح رأسه وغسل رجليه ثم قال : هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ ثم قرأ شيئا من القرآن ثم قال : هكذا لمن ليس بجنب فأما الجنب فلا والله K إسناده قوي

حضرت ابو غریف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی کے پاس وضو کے لیے پانی لایا گیا۔ آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا ، تین مرتبہ پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ اور بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا پھر آپ قرآن سے کوئی شئے پڑھتے تھے۔ پھر حضرت علی نے فرمایا: یہ وہ کرے گا جو حالت جناب میں نہ ہو بہرحال جنبی ایسے نہیں کرے گا۔

الغريف ← عَامِرٌ بْنِ السِّمْطِ ← عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 365

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 366

366 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن أبي إسحاق حدثني حكيم بن حكيم بن عباد بن حنيف عن محمد بن مسلم الزهري عن علي بن حسين عن أبيه Y عن جده علي بن أبي طالب قال : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى فاطمة من الليل فأيقظنا للصلاة قال : ثم رجع إلى بيته فصلى هونا من الليل فلم نسمع له حسا قال : فرجع إلينا فأيقظنا فقال : قوما فصليا قال : فجلست وأنا أعرك عيني وأنا أقول : والله ما نصلي إلا ما كتب الله لنا إنما أنفسنا بيد الله فإذا شاء أن يبعثنا بعثنا قال : فولى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يقول : ويضرب على فخذه : ما نصلي إلا ما كتب لنا ما نصلي إلا ما كتب الله لنا قالها مرتين { وكان الإنسان أكثر شيء جدلا } [ الكهف : 54 ] K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اور فاطمہ کے پاس رات کو آئے ہم کو نماز کے لیے جگایا پھر آپ اپنے گھر چلے گئے آپ نے رات کو مختصر نماز پڑھی ۔ ہم نے سنا نہیں پھر آپ ہمارے پاس واپس تشریف لائے ہم اٹھے ، فرمایا: دونوں اٹھو اور نماز پڑھو۔ میں بیٹھ گیا۔ میں اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم ! ہم نے نماز نہیں پڑھی مگر وہی جو ہم پر فرض ہے ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ جب چاہے گا ہم کو اٹھائے گا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے اور فرما رہے تھے اور اپنی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا اور فرمایا: کہ ہم نے نماز وہی پڑھی ہے جو ہم پر فرض ہے یہ کلمہ دو مرتبہ پڑھا کہ انسان اکثر چیزوں میں جھگڑا لو ہے۔

جده علي بن أبي طالب ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 366

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 367

367 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثني أبي عن ابن إسحاق وذكر محمد بن كعب عن الحارث بن عبد الله الأعور Y عن علي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أتاني جبريل فقال : يا محمد إن أمتك مختلفة بعدك فقلت : فأين المخرج يا جبريل ؟ قال : كتاب الله يقصم الله كل جبار ومن اعتصم به نجا ومن تركه هلك قول فصل وليس بالهزل لا تختلقه الألسن ولا ينفذ عن طول الرد ولا تفنى عجائبه فيه نبأ من كان قبلكم وخبر ما هو كائن بعدكم K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے ، عرض کی : اے محمد ! آپ کی امت آپ کے بعد اختلاف کرے گی میں نے فرمایا : اے جبرائیل ! نکلنے کی صورت کہاں ؟ حضرت جبرئیل نے عرض کی : اللہ کی کتاب اللہ ہر جبار پر آفت نازل کرے گا، جس نے کتاب اللہ کو پکڑا وہ نجات پاگیا۔ جس نے اس کو چھوڑا وہ ہلاک ہو گیا قرآن فیصلہ کن بات ہے ، ہنسی کی بات نہیں ہے ۔ ان کی زبانیں قرآن کو جھوٹا نہیں کہیں گی۔ اور لمبے چوڑے رد سے بھی قرآن محفوظ ہوگا، اس کے عجابات بھی فنا نہیں ہوں گے اس میں خبر ہے جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور ان کی خبر ہے جو تمہارے بعد ہیں ۔

أَتَانِي جِبْرِيلُ ← عَلِيٍّ، ← الحارث بن عبد الله الأعور ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 367

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 368

368 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن منصور عن عبد الملك عن النزال بن سبرة قال Y صليت مع علي الظهر ثم انطلق الى مجلس كان يجلسه في الرحبة فقعد وقعدنا حوله حتى حضرت العصر فأتي بإناء فيه ماء فأخذ منه كفا فتمضمض ثم استنشق ومسح وجهه وذراعيه ومسح برأسه ومسح برجليه ثم قام فشرب فضل إنائه ثم قال : إني حدثت أن رجالا يكرهون أن يشرب أحدهم وهو قائم وإني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل ذلك وهذا وضوء من لم يحدث K إسناده صحيح

حضرت نزال بن سبرہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی پھر آپ مجلس کی طرف چلے آپ شہر میں مجلس لگاتے تھے ۔ آپ تشریف فرما ہوئے ہم آپ کے ارد گرد بیٹھے ۔ یہاں تک عصر کا وقت ہو گیا آپ کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں پانی تھا آپ نے ہتھیلی میں پانی لیا آپ نے کلی کی پھر ناک میں پانی ڈالا اپنے چہرے اور کہنیوں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی نوش کیا پھر فرمایا: مجھے بتایا گیا ہے کہ لوگ کھڑا ہو کر پانی پینے کو نا پسند کرتے ہیں ۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا، یہ وضو کسی کو نہیں بتایا گیا۔

النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 368

chevron_left Previous
1…8910…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter