Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 333

333 - حدثنا عبيد الله حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان بن سعيد عن سلمة بن كهيل عن حجية ابن عدي قال Y سألت عليا عن البقرة فقال : عن سبعة قال : المكسورة القرن ؟ قال : لا بأس به قال : العرجاء ؟ قال : إذا بلغت المنسك وأمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نستشرف العين والأذن K إسناده حسن

حضرت حجیہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گائے کی قربانی کے متعلق پوچھا کہ کتنے آدمی اس میں شرکت کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساتھ آدمی ۔ پھر عرض کی : اگر اس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ، پھر عرض کی : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ لنگڑی ہو؟ فرمایا: جب قربان گاہ تک چل سکتی ہو تو کوئی حرج نہیں اور ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آنکھ اور کان کے دیکھنے کے متعلق فرماتے تھے ۔

الْعَرْجَاءُ؟ ← لاَ بَأْسَ بِهِ. ← الْمَكْسُورَةُ الْقَرْنِ، ← سَبْعَةٍ» ← الْبَقَرَةُ ← سألت عليا ← حجية ابن عدي ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 333

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 334

334 - حدثنا عبيد الله حدثنا هشام بن عبد الملك حدثنا شعبة عن أبي اسحاق عن عاصم بن ضمرة Y عن علي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يصلي الضحى K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 334

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 335

335 - حدثنا عبيد الله حدثنا يحيى بن سعيد و عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان بن سعيد عن أبي إسحاق : قال يحيى في حديثه : حدثنا أبو إسحاق عن عبد الله بن الخليل : عن علي . وقال عبد الرحمن : عن أبي إسحاق عن أبي الخليل Y عن علي قال سمعت رجلا يستغفر لأبويه وهما مشركان فقلت له فقال : ألم يستغفر إبراهيم لأبيه ؟ قال : فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فأنزل الله : { وما كان استغفار إبراهيم لأبيه إلا عن موعدة وعدها إياه } [ التوبة : 113 ] K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سنا وہ اپنے مشرک والدین کے لیے دعا بخشش مانگ رہا تھا ۔ میں نے اس سے کیا کیا تو اپنے مشرک والدین کے لیے بخشش مانگ رہا ہے ؟ اس نے کہا، کیا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے بخشش کی دعا نہیں مانگی تھی؟ ( یاد رہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ سے مراد ان کے چچا زاد تھا ، جبکہ بالاتفاق محدثین و مفسرین کے نزدیک آپ علیہ السلام کے باپ کا نام تارخ تھا۔ غلام دستگیر سیالکوٹی غفرلہ) آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس بات کا اظہار کیا۔ اللہ عزوجل نے قرآن پاک کی یہ آیات کریمہ اتاریں۔

ألم يستغفر إبراهيم لأبيه ← رجلا يستغفر لأبويه وهما مشركان فقلت له ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يحيى بن سعيد و عبد الرحمن بن مهدي ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 335

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 336

336 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سفيان عن أبي حصين عن عمير بن سعيد Y عن علي قال : ما كنت لأقيم حدا على أحد فيموت فأجد في نفسي إلا صاحب الخمر فإنه لو مات وديته لأن النبي صلى الله عليه و سلم لم يسنه K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی کوئی حد قائم کروں وہ ا س دوران مرجائے تو میں اپنے د ل میں کوئی بات محسوس نہیں کرتا ہوں ، اگر دوران سزا مر جائے تو اس کی دیت ادا کروں گا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرابی کی کوئی سزا مقرر نہیں کی۔

عَلِيٍّ، ← عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 336

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 337

337 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا حماد بن زيد عن أيوب عن محمد عن عبيدة قال Y ذكر علي أهل النهروان فقال : فيهم رجل مودن اليد أو مثدون اليد لولا أن تبطروا لنبأتكم ما وعد الله الذين يقتلونهم على لسان محمد صلى الله عليه و سلم قال : قلت : آنت سمعته ؟ قال : إي ورب الكعبة K إسناده صحيح

حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل النہروان کا ذکر کیا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں ایک آدمی ہے، اس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہوگا ، اگر تم حد سے آگے نہ بڑھ جاؤ تو میں تم کو اس چیز سے آگاہ کرتا ہوں جو وعدہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر لوگوں سے کیا ہے ، جو ان کو قتل کریں ۔ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں عرض کیا: آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم ! میں نے سنا ہے ۔

علي أهل النهروان ← عُبَيْدَةُ ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 337

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 338

338 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن قيس ابن عباد قال Y انطلقت إلى علي أنا ورجل قال : فقلت له عهد إليك رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا لم يعهد به إلى أحد ؟ قال : لا إلا ما في قرابي هذا قال : فأخرج كتابا فإذا في كتابه ذلك : المؤمنون تكافأ دماؤهم ويسعى بذمتهم أدناهم وهم يد على من سواهم ولا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده من أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين K رجاله ثقات

حضرت قیس بن عباد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے کس چیز کا معاہدہ کیا تھا اور کس شے معاہدہ نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: ایسے نہیں ہے مگر جو کچھ اس صحیفہ میں ہے ۔ آپ نے اس خط کو نکالا اس میں لکھا ہوا تھا کہ مومنوں کے خون برابر ہیں، ان میں سے کوئی ادنی بھی کسی کی امان دے دے تو اس کے امان کا خیال رکھا جائے گا۔ لوگ اپنے علاوہ ایک ہاتھ کی طرح ہیں ۔ کسی مومن کو کافر کے بدلے نہیں قتل کیا جائے گا نہ کسی ایسے آدمی کو قتل کیا جائے گا جس کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو۔ جس نے کوئی ( بری )بدعت ایجاد کی یا کسی ( بری ) بدعت والے کو پناہ دی ، اس پر اللہ اور تمام فرشتو اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

وَرَجُلٌ ← انطلقت إلى علي ← قَيْسِ ابن عُبَادٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 338

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 339

339 - حدثنا عبيد الله حدثنا سفيان عن ليث عن مجاهد قال Y مر على علي بجنازة فقام ناس فقال ما هذا ؟ قالوا : أبو موسى فقال علي : إنما قام رسول الله صلى الله عليه و سلم مرة ثم لم يقم

حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک جنازہ کے پاس سے گزرے ، لوگ کھڑے ہوگئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے کھڑے ہونے کا حکم دیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک مرتبہ کھڑے ہوئے پھر کبھی بھی کھڑے نہیں ہوئے ۔

أَبُو مُوسَى، ← «مَا هَذَا؟» ← مر على علي بجنازة فقام ناس ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 339

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 340

340 - حدثنا عبيد الله حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير حدثنا مسعر عن أبي عون عن أبي صالح الحنفي Y عن علي قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم بدر و لأبي بكر : مع أحدكم جبريل ومع الآخر ميكائيل و إسرافيل ملك عظيم يشهد القتال أو يكون في القتال K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے اور ابو بکر کو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ تم میں سے کسی ایک کے ساتھ جبرائیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے کے ساتھ حضرت میکائیل علیہ السلام ہیں اور اسرافیل علیہ السلام بہت بڑے بادشاہ ہیں جنگ میں شریک ہوتے ہیں یا جنگ میں ہیں۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ← أَبِي عَوْنٍ، ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 340

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 341

341 - حدثنا عبيد الله حدثنا وكيع عن الأعمش عن [ ابن ] أبي الجعد عن عبد الله بن سبع قال Y قيل لعلي : ألا تستخلف ؟ قال : لا ولكني أترككم إلى ما ترككم رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن سبع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رحمۃ اللہ علیہ سے کہا گیا کہ آپ کس کو اپنا خلیفہ مقرر کریں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہں، میں بھی خلافت کے معاملہ کو ایسے ہی چھوڑتا ہوں جس طرح رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑا ہے ۔

قِيلَ لِعَلِيٍّ: أَلا تَسْتَخْلِفُ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْعٍ ← ابن أبي الجعد ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 341

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 342

342 - حدثنا عبيد الله حدثنا غندر حدثنا شعبة عن عمرو بن مرة عن سعيد بن المسيب قال Y اجتمع علي و عثمان وكان عثمان ينهى عن المتعة أو عن العمرة فقال علي : ما تريد إلى أمر فعله رسول الله صلى الله عليه و سلم تنهى عنه ؟ فقال عثمان : دعنا منك قال : إني لا أستطيع أن أدعك قال : فلما رأى علي ذلك أهل بهما جميعا K إسناده صحيح

حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دونوں مقام عسفان میں اکٹھے ہوئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج ( تمتع) عمرہ سے منع فرماتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا: آپ اس سے کیا چاہتے ہیں کہ جس کام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ہے ، آپ اس سے منع کرتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ہم کو اس معاملہ میں چھوڑ دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس کو چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا ، آپ نے ( حج تمتع ) کا احرام باندھا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 342

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 343

343 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن هارون اخبرنا المسعودي عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي الهياج قال Y قال علي : أبعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تدع قبرا إلا سويته ولا تمثالا إلا طمسته K إسناده منقطع وفيه ضعيف

حضرت ابی الھیاج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تم کو اس مقصد کے لیے نہ بھیجوں جس مقصد کے لیے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا؟ وہ مقصد یہ تھا کوئی قبر نہ چھوڑو مگر اس کو برابر کردو اور کسی تصویر کو نہ چھوڑو مگر اس کو مٹا دو۔ (فائدہ) یا رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جن قبروں کے برابر کرنے کا حکم دیا تھا وہ کافروں کی قبریں تھیں نہ کہ مسلمانوں کی قبریں ۔ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کی قبر پر بھاری پتھر رکھا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبر پر پاؤں رکھنے سے بہتر ہے اپنا پاؤں آگ پر رکھ لے ۔( غلام دستگیر سیالکوٹی)

أَبِي الْهَيَّاجِ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 343

Daif

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 344

344 - حدثنا عبيد الله حدثنا غندر حدثنا شعبة عن الحكم عن مصعب بن سعد عن سعد بن أبي وقاص Y قال : خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب في غزوة تبوك فقال : يا رسول الله تخلفني بالنساء والصبيان ؟ قال : أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى غير أنه لا نبي بعدي ؟ K إسناده صحيح

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک میں پیچھے چھوڑا، عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا علی تو اس بات کو پسند نہیں کرتا ، تو میرے ہاں تیرا مقام بمثل ہارون علیہ السلام کے ہو جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہاروں علیہ السلام کو پیچھے چھوڑا تھا، اس طرح میرے ساتھ تیرا مقام ہاروں علیہ السلام کی طرح ہے ( لیکن فرق ہے ) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبوت برقرار تھی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 344

chevron_left Previous
1…678…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter