Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 321

321 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا يزيد بن زريع عن محمد بن إسحاق حدثني أبان بن صالح عن عكرمة قال Y دفعت مع الحسين بن علي من المزدلفة فلم أزل اسمعه يقول : لبيك لبيك حتى انتهى إلى الجمرة فقلت له : ما هذا الإهلال يا أباعبد الله ؟ قال : سمعت أبي علي بن أبي طالب يهل حتى انتهى الى الجمرة وحدثني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أهل حتى انتهى إليها قال : فرجعت إلى ابن عباس فأخبرته بقول حسين فقال : صدق قال : وأخبرني أخي الفضل بن عباس وكان رديف رسول الله صلى الله عليه و سلم يهل حتى انتهى إلى الجمرة K إسناده صحيح

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہ میں نواسہ سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدان مزدلفہ سے اٹھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ تک تلبیہ پڑھتے رہے مسلسل ۔ میں نے عرض کی، حضور ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ تلبیہ کون سا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنے والد ماجد مولیٰ کائنات علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ بھی جمرہ تک تلبیہ پڑھتے رہتے تھے ۔ حضرت عکمرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا یہ سارے معاملہ کی رپورٹ پیش کی حضرت مولیٰ حسین رضی اللہ عنہ کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نواسہ سید کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچ کہا: اور فرمایا: مجھے میرے بھائی فضل رضی اللہ عنہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔

عِكْرِمَةَ، ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 321

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 322

322 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع حدثنا شعبة عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة Y عن علي قال : من كل الليل قد أوتر رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أوله وأوسطه وآخره فانتهى وتره إلى آخر الليل K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے ہر حصہ اول درمیان و آخر میں وتر پڑھتے تھے اور رات کے آخری حصہ میں اس کو ( زیادہ ) پڑھتے تھے۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 322

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 323

323 - حدثنا عبيد الله حدثنا الضحاك بن مخلد حدثنا سفيان عن محمد بن السائب عن أصبغ بن نباته Y عن علي أنه قال : إن النبي صلى الله عليه و سلم صالح بني تغلب على أن يثبتوا على دينهم ولا ينصروا أبناءهم وإنهم قد نقضوا وإنه إن يتم لي الأمر قتلت المقاتلة وسبيت الذرية K إسناده ضعيف جدا

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی تغلب سے اس بات پر صلح کی تھی کہ وہ اپنے دین پر ثابت رہیں گے اور اپنے بیٹوں کو مغلوب کریں ۔ لیکن انہوں نے اس وعدہ کو توڑ دیا۔ اگر میرے لیے کام کو مکمل کیا ہوتا ، میں مقاتلہ کرتا اور میں ان کے بچوں کو قیدی بناتا۔

عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← أصبغ بن نباته ← محمد بن السائب ← سُفْيَانَ، ← الضحاك بن مخلد ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 323

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 324

324 - حدثنا عبيد الله حدثنا وكيع حدثنا الأعمش عن خيثمة عن سويد بن غفلة قال Y قال علي سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يخرج في آخر الزمان قوم أحداث الأسنان سفهاء الأحلام يقولون من خير قول البرية يقرؤون القرآن لا يجاوز حناجرهم فإذا لقيتموهم فاقتلوهم فإن في قتلهم أجرا لمن قتلهم عند الله يوم القيامة K إسناده صحيح

حضرت سوید بن غفلہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: آخر زمانہ میں ایسی قوم پیدا ہو گی جن کی عمریں تھوڑی ہوں گی اور بے وقوف ہوں گے ، بہترین گفتگو کریں گے لیکن ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا ان کو جہاں بھی پاؤ ان کو قتل کردو۔ بے شک ان کا قتل کرنا قیامت کے دن کے لیے ثواب ہوگا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 324

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 325

325 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن عبد العزيز بن أبي الصعبة عن أبي أفلح الهمداني عن عبد الله بن زرير الغافقي قال Y سمعت عليا يقول أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ذهبا بيمينه وحريرا بشماله وقال : هذان حرام على ذكور أمتي K إسناده حسن

حضرت علی المر تضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کو دائیں ہاتھ میں اور ریشم کو بائیں ہاتھ میں پکڑا اور فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔

هذان حرام على ذكور أمتي إسناده حسن ← أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم ذهبا بيمينه وحريرا بشماله ← عَلِيًّا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ← أَبِي أَفْلَحَ الْهَمْدَانِيِّ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 325

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 326

326 - حدثنا عبيد الله حدثنا سليمان بن داود حدثنا زائدة عن السدي عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي قال Y خطب علي فقال : أيها الناس أقيموا على أرقائكم الحد : من أحصن منهم ومن لم يحصن فإن أمة لرسول الله صلى الله عليه و سلم زنت فأمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أجلدها فأتيتها وإذا هي قريبة عهد بنفاس فخشيت إن جلدتها أن تموت فأتيت رسول الله فأخبرته فقال : قد أحسنت K إسناده حسن

حضرت ابی عبدالرحمٰن اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مولیٰ کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ای خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو: اپنے غلاموں لونڈیوں پر حد قائم کیا کرو۔ جو شادی شدہ ہوں یا شادی شدہ نہ ہوں ۔ بے شک رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈی نے زنا کیا تھا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اس کو کوڑے ماروں ۔ میں اس کو کوڑے مارنے کے لیے آیا وہ نفاس کے قریب تھی ، میں ڈر گیا اگر اس کو کوڑے مارے تو یہ مر جائے گی۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس کے متعلق خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اچھا کیا۔

خَطَبَ عَلِيٌّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← السُّدِّيِّ ← زَائِدَۃَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 326

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 327

327 - حدثنا عبيد الله حدثنا عثمان بن عمر حدثنا شيخ من أهل الكوفة يقال له أبو المحياة التيمي قال حدثني أبو مطر Y أن عليا أتى أصحاب الثياب فقال لرجل : بعني قميصا بثلاثة دراهم قال : فأعطاه ثوبا فلبسه ما بين كعبه إلى رصغه فلما لبسه قال : الحمد لله الذي كساني من الرياش ما أواري به عورتي وأتجمل به في الناس ثم قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا لبس ثوبا جديدا قال هكذا K إسناده ضعيف

حضرت ابو مطر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک کپڑے والے کے پاس آئے اور فرمایا: ، مجھے یہ کپڑا تین درہموں کا فروخت کردیں اس نے آپ کو کپڑا دے دیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو پہن لیا، ٹخنوں سے لے کر کانوں تک پہن لیا اور یہ دعا پڑھی:" الحمد للہ الذی الیٰ آخرہٖ"۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی یہی دعا مانگتے تھے۔

أَبُو مَطَرٍ ← شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالَ لَهُ أَبُو الْمَحْيَاةِ التَّيْمِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 327

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 328

328 - حدثنا عبيد الله حدثنا عثمان بن عمر حدثنا هذا الشيخ أيضا أبو المحياة التيمي قال : قال أبو مطر Y رأيت عليا أتي برجل فقالوا : إنه قد سرق جملا فقال : ما أراك سرقت ! قال : بلى قال : فلعله شبه لك ؟ قال : بلى قد سرقت قال : إذهب به يا قنبر فشد أصبعه وأوقد النار وادع الجزار يقطعه ثم انتظر حتى أجيء فلما جاء قال له : سرقت ؟ قال : لا فتركه قالوا : يا أمير المؤمنين لم تركته وقد أقر لك ؟ قال : أخذته بقوله وأتركه بقوله ثم قال علي : أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم برجل قد سرق فأمر بقطعه ثم بكى فقيل : يا رسول الله لم تبكي ؟ فقال : وكيف لا أبكي وأمتي تقطع بين أظهركم ؟ قالوا : يا رسول الله أفلا عفوت عنه ؟ قال : ذاك سلطان سوء الذي يعفو عن الحدود ولكن تعافوا بينكم K إسناده ضعيف

حضرت ابو مطر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ کے پاس ایک آدمی لایا گیا ، اس نے ایک اونٹ چوری کیا تھا توحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں خیلا کرتا ہوں کہ تو نے اونٹ چوری نہیں کیا۔ اس نے عرض کی: میں نے کیا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایارضی اللہ عنہ ہو سکتا ہے کہ تجھے شبہ ہو گیا ہو؟ اس نے عرض کی : کیوں نہیں ! میں نے چوری کی ہے ۔ آپ نے فرمایا: اے قنبر ! اس کو لے جاؤ اور اس کی انگلیاں باندھ کر آگ جلاؤ۔ جزار کو بلواؤ کہ اس کو کاٹے پھر انتظار کرو یہاں تک کہ میں آؤں ۔ جب آپ آئے تو آپ نے اس کو کہا: تو نے چوری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : نہیں ! آپ نے اس کو چھوڑ دیا، لوگوں نے عرض کی : اے امیر المومنین! آپ نے اس کو کیوں چھوڑ دیا حالانکہ اس نے اقرار کر لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: میں نے اس کی بات سے ایک کو پکڑا تھا اور میں اس کی بات پر اس کو چھوڑ رہا ہوں ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا اس نے چوری کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، پھر آپ رو پڑے اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کیوں روئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: میں کیوں نہ روؤں کہ میری امت کے ہاتھ میری موجودگی میں کاٹے جا رہے ہیں ۔ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے اس کو معاف کیوں نہیں کر دیا؟ آپ نے فرمایا: وہ برا بادشاہ ہے جو حدود کو معاف کرتا ہے لیکن تم آپ میں معافی تلافی کر لیا کرو۔

أبو مطر رأيت عليا أتي برجل ← هذا الشيخ أيضا أبو المحياة التيمي ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 328

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 329

329 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع حدثنا محمد بن إسحاق حدثني إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه قال Y سمعت علي بن أبي طالب يقول : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم عن خاتم الذهب ولبس القسي والمعصفر وقراءة القرآن وأنا راكع وكساني حلة سيراء فخرجت فيها أو رحت فيها فلما رآها علي قال : إني لم أكسكها لتلبسها قال : فرجعت فأعطيت فاطمة ناحيتها كأنها تطويها معي قال : فشققتها باثنين قال : فقالت : تربت يداك فماذا صنعت ؟ قلت : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم عن لبسها فالبسي واكسي نساءك K إسناده صحيح

حضرت ابراہیم بن عبداللہ حنین اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی اور ریشمی کپڑا اور عصفر ( جس رنگ کے ریشم کے کپڑے کو رنگا جاتا ہے ) سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع کیا اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ، میں نے سیراء کا حلّہ پہنا ، میں اس کو پہن کر نکلا یا اس میں راحت حاصل کی ، جب آپ نے مجھ پر وہ حلّہ دیکھا ، آپ نے فرمایا: میں نے تجھے پہننے کے لیے نہیں دیا تھا ۔ میں گھر واپس لوٹا ، میں نے فاطمہ کو اس کا ایک حصہ دیا، گوایا وہ میرے ساتھ لپٹا ہوا تھا ، میں نے اس کے دو حصے کیے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرا ہاتھ خاک آلود ہو ! تو نے یہ کیا کیا؟ میں نے کہا : مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہننے سے منع کیا تھا۔ تو اور تیرے ساتھ دوسری عورتیں پہنیں ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 329

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 330

330 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن هارون حدثنا محمد بن إسحاق عن أبي جعفر محمد بن علي عن أبيه عن جده قال Y وجدت مع قائم سيف رسول الله صلى الله عليه و سلم صحيفة مربوطة : إن أشد الناس على الله عداء القاتل غير قاتله والضارب غير ضاربه ومن جحد نعمة مواليه فقد برئ مما أنزل الله على محمد صلى الله عليه و سلم K رجاله ثقات

حضرت ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے نانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار مبارک کے ساتھ یہ صحیفہ باندھا ہوا دیکھا ( اس میں لکھا ہوا تھا کہ دشمنی کے لحاظ سے اللہ ہاں برا انسان وہ ہو گا جو اپنے قاتل کے علاوہ کو قتل کرے اور اپنے مارنے والے کی بجائے دوسرے کو مارے ، اور اپنے مارنے والے کے علاوہ کسی اور کو مارے ۔ جس نے اپنے غلاموں کے احسان کا انکار کیا وہ اس سے بری ہوا جو اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتارا ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 330

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 331

331 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد أبو خالد البيسري حدثنا ابن جريج قال : حدثنا حبيب بن أبي ثابت عن عاصم بن ضمرة Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبرز فخذك ولا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت K رجاله ثقات

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ران کو ننگا نہ کر اور زندہ اور مردے کی ران کی طرف نہ دیکھ۔

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يزيد أبو خالد البيسري ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 331

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 332

332 - حدثنا عبيد الله حدثنا عبد الرحمن بن عثمان البكراوي حدثنا الكلبي عن الأصبغ بن نباتة Y عن علي قال : شهدت النبي صلى الله عليه و سلم صالح نصارى بني تغلب على أن لا ينصروا أولادهم فإن فعلوا فقد برئت منهم الذمة قال : فقال علي : فقد والله فعلوا فو الله لئن تم لي الأمر لأقتلن مقاتلتهم ولأسبين ذراريهم K إسناده ضعيف جدا

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے نبی تغلب کے عیسائیوں سے صلح کی اس بات پر کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائی بنائیں گے ، اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ ذمہ سے بری ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! انہوں نے ایسے کیا، اللہ کی قسم ! اگر میرا معاملہ ہوا تو میں ان کو ماروں گا اور ان کی اولاد کو قیدی کروں گا۔

عَلِيٍّ، ← الأصبغ بن نباتة ← الكلبي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 332

chevron_left Previous
1…567…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter