Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 309

309 - حدثتا عبيد الله حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير حدثنا مسعر عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال Y أتي علي بماء فشرب قائما ثم قال : إن ناسا يكرهون الشرب قائما وإني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يشرب قائما ثم أتي بماء فتمسح به ثم قال : هذا وضوء من لم يحدث K إسناده صحيح

حضرت نزال بن سبرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پانی لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھڑے ہو کر پیا۔ پھر فرمایا: لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔ میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑے ہو کر پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے پھر آپ کے پاس پانی لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ساتھ مسح کیا، پھر فرمایا: یہ اس کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہیں ہوا۔

النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← حدثتا عبيد الله

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 309

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 310

310 - حدثنا عبيد الله حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير حدثنا سفيان عن موسى بن أبي عائشة عن عبد الله بن زرير قال : Y قال علي للعباس : قل للنبي صلى الله عليه و سلم أن يعطيك الخزانة فسأله العباس فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : أعطيكم ما هو خير لكم من ذلك : ما ترزؤكم ولا ترزؤنها فأعطاهم السقاية K رجاله ثقات إلا أن محمد بن عبدالله بن الزبير قد يخطىء في حديث الثوري

حضرت عبداللہ بن زریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہیں کہ آپ کو خزانہ دیں ۔حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے مانگا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں آپ کو اس سے بہتر نہ دوں؟ وہ یہ کہ تم کسی پر بوجھ نہ ڈالو، نہ وہ تم پر ڈالے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو مشکیزہ عطا فرمایا:

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 310

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 311

311 - حدثنا عبيد الله حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الخليل Y عن علي قال : كان للمغيرة رمح فكنا إذا خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزاة ركزها فيمر الناس عليه فيحملونه قال : قلت : لأخبرن به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إذا لا ترفع ضالة فتركته K رجاله ثقات

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے پاس نیزہ تھا ۔ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں نکلتے تو اس کو گاڑ دیا جاتا ، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اس کو اٹھا لیتے ، میں نے کہا اس بات کی اطلاع حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گمشدہ چیز نہیں اٹھائی جاتی ہے میں نے اس کو چھوڑ دیا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 311

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 312

312 - حدثنا عبيد الله حدثنا محمد بن عبد الله حدثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة عن زيد بن علي عن أبيه عن عبيد الله بن أبي رافع Y عن علي قال : وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفة وقال : هذه عرفة وهذا الموقف وعرفة كلها موقف ثم أفاض حين غابت الشمس وأردف أسامة والناس يضربون عن يمينه وشماله لا يلتفت إليهم وهو يقول : أيها الناس عليكم السكينة فلما أتى جمعا صلى بها الصلاتين جميعا فلما أصبح أتى قزح فوقف عليه قال : هذا قزح وهذا الموقف وجمع كلها موقف ثم أفاض فلما أتى محسر قرع ناقته حتى جاوز الوادي وقف ثم أردف الفضل ثم أتى الجمرة ثم المنحر فقال : هذا المنحر ومنى كلها منحر قال : واستفتته جارية من خثعم فقالت : يا رسول الله إن أبي شيخ كبير قد أفند وقد أدركته فريضة الحج أفيجزيء أن أحج عنه ؟ قال : حجي عن أبيك ولوى عنق الفضل فقال له العباس : يا رسول الله لم لويت عنق ابن عمك ؟ قال : رأيت شابا شابة فلم آمن عليهما الشيطان قال وأتاه رجل فقال : يا رسول الله رميت قبل أن أحلق قال : أحلق أو قصر ولا حرج قال وأتاه آخر فقال : يا رسول الله نحرت قبل أن أرمي قال : إرم ولا حرج قال ثم أتى البيت فطاف به ثم أتى زمزم فقال : يا بني عبد المطلب سقايتكم لولا أن يغلبكم الناس لنزعت K رجاله ثقات

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میدان عرفات میں ٹھہرے اور فرمایا: یہ میدان عرفات ہے یہ عرفات ساری ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( میدان عرفات ) سے روانہ ہوئے جس وقت سورج غروب ہوا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا ، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم اطمینان سے چلو، پھر میدان مزدلفہ میں آئے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو نمازیں مغرب و عشاء اکٹھی پڑھیں۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( جیل ) قزح کے پاس آئے پھر یہاں ٹھہرے ، اس کے بعد فرمایا: یہ جبل قزح ہے ، یہ ہمارے ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔ پھر آپ لوٹے ، جب آپ وادی محسر آئے اور اپنی اونٹنی کو تیز کیا، وادی محسر کو پار کیا پھر یہاں رکے پھر آپ نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا۔ پھر جمرہ کے پاس آئے پھر قربان گاہ کی جگہ آئے اور فرمایا: یہ قربان گاہ کی جگہ ہے اور منیٰ شریف ساری قربان گاہ کی جگہ ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہاں قبیلہ خثعم کی عورت نے مسئلہ پوچھا، عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا باپ بوڑھا ہے ، وہ چل پھر نہیں سکتا ہے اور اس پر حج فرض ہو گیا ہے ۔ اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو کیا اس کا حج ادا ہو جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے باپ کی طرف سے حج کر ، اس کا حج ہو جائے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کی گردن پھیر دی۔ حضرت عباس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے اپنے چچا کے بیٹے کی گردن کو کیوں پھیر دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اور یہ عورت دونوں نوجوان ہیں، مجھے ان کے متعلق شیطان سے امن کی امید نہیں تھی۔ پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے حلق سے پہلے کنکریاں ماری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حؒق کر و یا قص کرو یعنی بال کاٹ لو تو کوئی حرج نہیں ، پھر ایک اور آدمی آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ہے ، فرمایا: کنکریاں ماری ہیں یا نہیں کوئی حرج نہیں پھر خانہ کعبہ کے پاس آئے اس کا طواف کیا پھر آب زمزم کے پاس آئے اور فرمایا: اے بنی عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ! تم حاجیوں کو پانی پلاتے رہو اگر تم لوگ غالب نہ آتے تو میں بھی ڈول نکالتا۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 312

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 313

313 - حدثنا عبيد الله أخبرنا هشام بن عبد الملك حدثنا شعبة عن علي بن مدرك قال : سمعت أبا زرعة يحدث عن عبد الله بن نجي عن أبيه قال Y سمعت عليا يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا تدخل الملائكة بيتا فيه صورة ولا جنب ولا كلب K إسناده جيد

حضرت عبداللہ بن نخی رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ فرماتے ہیں کہ میں مولیٰ کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس گھر میں کتا اور تصویر اور جس پر غسل فرض ہوا ہو اس گھر میں ( رحمت ) کے فرشتے نہیں آتے ہیں۔

لا تدخل الملائكة بيتا فيه صورة ولا جنب ولا كلب إسناده جيد ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَلِيًّا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← أَبَا زُرْعَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← شُعْبَةُ، ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 313

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 314

314 - حدثنا عبيد الله حدثنا أيوب بن واقد الكوفي حدثنا يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى Y عن علي بن أبي طالب قال : كنت رجلا مذاء فأمرت المقداد بن الأسود أن يسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المذي فقال : منه الوضوء ومن المني الغسل K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی ۔ میں نے حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذی کے متعلق پوچھیں ( کہ اس کے متعلق کیا حکم ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مذی سے وضو واجب ہو جاتا ہے اور منی سے غسل واجب ہوتا ہے ۔

كنت رجلا مذاء فأمرت المقداد بن الأسود ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ وَاقِدٍ الْکُوفِيُّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 314

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 315

315 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا أسباط بن محمد حدثنا موسى بن عبيدة الربذي عن عبد الله بن حنين عن أبيه قال - وكان أبوه من كتاب علي - Y عن علي قال : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقرأ و أنا راكع و قال : يا علي مثل الذي لا يقيم صلبه في صلاته كمثل الحبلى حملت فلما دنا نفاسها أسقطت فلا هي ذات حمل ولا ذات ولد K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کی حالت میں قرآن پاک پڑھنے سے منع فرمایا: اور فرمایا: اے علی ! اس آدمی کی مثال جو آدمی نماز میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا وہ اس حامل عورت کی طرح ہے جو حاملہ ہو لیکن جب حمل قریب المدۃ ہو تو اس کا حمل گر جائے ، وہ نہ حاملہ رہے نہ بچہ والی رہے۔

راكع و ← نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقرأ و ← عَلِيٍّ، ← وكان أبوه من كتاب علي ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← موسى بن عبيدة الربذي ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 315

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 316

316 - حدثنا عبيد الله حدثنا غندر حدثنا شعبة عن عمرو قال : سمعت أبا البختري قال : Y أخبرني من سمع عليا يقول : لما بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن فقلت : تبعثني وأنا حديث رجل السن وليس لي علم بكثير من القضاء ؟ قال : فضرب صدري وقال : أذهب فإن الله يثبت لسانك ويهدي قلبك قال : فما أعياني قضاء بين اثنين K إسناده ضعيف \

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف )قاضی) بنا کر بھیجا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ بھیج رہے ہیں میں کم عمر آدمی ہوں میرے پاس فیصلہ کے لیے زیادہ علم نہیں ہے ؟ آپ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: جاؤ ! بے شک اللہ عزوجل تیری زبان کو ثابت رکھے گا اور تیرے دل کو ہدایت دے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں تردد نہیں ہوا۔

عَلِيًّا ← مَنْ ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرٍو، ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 316

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 317

317 - حدثنا عبيد الله حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق قال سمعت عاصم بن ضمرة يحدث Y عن علي أنه قال : ليس الوتر بحتم كالصلاة ولكنه سنة فلا تدعه قال شعبة : فوجدته مكتوبا عندي فقد أوتر رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت عاصم بن خمثہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وتر نماز کی طرح فرض نہیں ہیں، یہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہیں اس کو مت چھوڑنا ۔ حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو اپنے پاس لکھا ہوا پایا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وتر پڑھے ہیں۔

ليس الوتر بحتم كالصلاة ولكنه سنة فلا تدعه ← عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 317

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 318

318 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع و محمد بن جعفر قالا : حدثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت عاصم بن ضمرة يقول Y سألنا عليا عن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم من النهار فقال : إنكم لا تطيقون ذلك قال : قلنا : من أطاق ذلك منا فقال : كان إذا كانت الشمس من هاهنا كهيئتها من هاهنا عند العصر صلى ركعتين وإذا كانت الشمس من ها هنا كهيئتها من ها هنا عند الظهر صلى أربعا يفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملائكة المقربين والنبيين ومن تبعهم من النبيين والمرسلين K إسناده صحيح

حضرت عاصم بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دن کی نماز کے متعلق پوچھا کہ وہ کیا کیا تھی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ، ہم نے عرض کی جتنی ہم طاقت رکھیں گے اس پر عمل کریں گے ۔ بتاؤ تو سہی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سورج اس قدر بلند ہو جاتا جتنا ( عصر کے بعد سے لے کر مغرب تک ہوتا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 2 رکعت نفل ادا کرتے تھے ، پھر جب اس قدر بلند ہو جاتا یعنی ظہر کے وقت ) ( دو پیر کے بعد ) تو آپ 4 رکعت ادا کرتے تھے ، ہر دو رکعتعں کے درمیان ملائکہ مقربین اور انبیاء اور جن نیک لوگوں نے انبیاء و رسولوں علیہم السلام کی اتباع کی ان پر سلام بھیجتے تھے ۔ (فائدہ) یہاں حدیث پاک مختصر ہے ، صحیح ابن خزیمہ اور مسند امام احمد بن حنبل اور دیگر کتب احادیث میں تفصیل درج ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے فر ضوں سے پہلے چار رکعت اور فرضوں کے بعد 2 رکعت ادا کرتے تھے ۔ غلام دستگیر غفرلہ)

قلنا من أطاق ذلك منا ← إِنَّکُمْ لا تُطِيقُونَ ذَلِکَ ← صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم من النهار ← سَأَلْنَا عَلِيًّا ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← يزيد بن زريع و محمد بن جعفر ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 318

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 319

319 - حدثنا عبيد الله حدثنا غندر حدثنا شعبة عن أبي إسحاق عن هبيرة يحدث Y عن علي أن النبي صلى الله عليه و سلم أهديت له حلة من حرير قال فكسانيها قال علي : فخرجت فيها فقال لي النبي صلى الله عليه و سلم : إني لست أرضى لك ما أكره لنفسي قال : وأمرني فشققتها بين نسائي خمرا : فاطمة و عمته K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک ریشم کا حلّہ پیش کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو میری طرف بھیج دیا، میں اس کو پہن کر نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے وہ پسند نہیں کرتا جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں ۔ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر میں نے اد کو دو ٹکڑے کر کے ایک ٹکڑا حضرت فاطمہ کو ، ایک اپنی پھوپھی صاحبہ کو دے دیا۔

عَلِيٍّ، ← هُبَيْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 319

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 320

320 - حدثنا عبيد الله حدثنا يزيد بن زريع و عبد الله بن داود عن سفيان عن عبد الأعلى عن أبي جميلة Y عن علي قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى جارية فجرت فقال : أقم عليها الحد فوجدتها في دمها لم تعلل من نفاسها فأتيته فذكرت ذلك له فقال : إذا تعللت من نفاسها فطهرت فأقم عليها الحد قال : ثم قال : أقيموا الحد على ما ملكت أيمانكم K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لونڈی کی طرف بھیجا، اس نے زنا کیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر حد قائم کرو۔ میں نے اس کو خون کی حالت میں ، یعنی حیض آ رہا تھا وہ خون نفاس کا نہیں تھا۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اس بات کا ذکر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اپنے نفاس سے فارغ ہو جائے ، پاک ہو جائے اس پر حد قائم کرو۔ جو تمہاری ملکیت میں ہیں ان پر حد قائم کرو۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي جَمِيلَةَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← سُفْيَانَ، ← يزيد بن زريع و عبد الله بن داود ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 320

chevron_left Previous
1…456…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter