Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 537

537 - حدثنا أبو موسى الزمن حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن عجلان حدثني إبراهيم بن عبد الله بن حنين عن أبيه عن ابن عباس قال Y قال علي : نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم عن خاتم الذهب وأن أقرأ وأنا راكع وعن القسي والمعصفر K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے اور شام و مصر کا ریشمی کپڑا اور عصفر رنگ کا لباس پہننے سے منع کیا۔

خاتم الذهب وأن أقرأ وأنا راكع وعن القسي والمعصفر إسناده صحيح ← علي نهاني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أبو موسى الزمن

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 537

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 538

538 - حدثنا أبو موسى حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان حدثني سليمان عن إبراهيم التيمي عن الحارث بن سويد Y عن علي قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الدباء والمزفت K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء اور مزفت کے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا۔

الدباء والمزفت إسناده صحيح ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 538

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 539

539 - حدثنا أبو موسى حدثنا محمد بن فضيل عن مغيرة عن أم موسى قالت Y سمعت عليا يقول : امر رسول الله صلى الله عليه و سلم ابن مسعود أن يصعد شجرة فيأتيه بشيء منها فنظر أصحابه إلى حموشة ساقيه فضحكوا منها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما تضحكون ؟ لرجل عبد الله يوم القيامة أثقل من أحد K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو درخت پرچڑھنے کا حکم دیا تاکہ اس سے کوئی چیز لائیں ، آپ رضی اللہ عنہ درخت کے اوپر چڑھے تو صحابہ کرا م رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی پتلی پنڈلی کی طرف دیکھا وہ مسکرا پڑے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں مسکرا رہے ہو؟ عبداللہ کی پنڈلی قیامت کے دن احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوگی۔

عَلِيًّا ← أُمِّ مُوسَى، ← مُغِيرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 539

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 540

540 - حدثنا الحسن بن عرفة حدثنا المبارك بن سعيد أخو سفيان الثوري عن سعيد بن مسروق عن حبيب عن عبد خير الهمداني قال Y سمعت علي بن أبي طالب يقول على هذا المنبر : ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد نبيها ؟ قال : فذكر أبا بكر قال : ثم قال : ألا أخبركم بالثاني ؟ قال : فذكر عمر بن الخطاب قال : ثم قال : لئن شئت لأخبرتكم بالثالث قال ثم سكت قال : ثم ظننا أنه يعني نفسه قال حبيب : فقلت لعبد خير : أنت سمعت هذا من علي ؟ قال : نعم ورب الكعبة وإلا فصمتا K إسناده صحيح

۵۳۶-حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ منبر پر ارشاد فرمایا: کیا میں تم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں بہتر آدمی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ فرمایا: وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر فرمایا: ان کے بعد اچھے آدمی کے متعلق نہ بتاؤں ؟ فرمایا: وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ پھر میں تیسرے کے متعلق نہ بتاؤں اگر میں چاہوں ۔ پھر آپ خاموش ہوئے ۔ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے اپنے متعلق بتانا تھا ۔ حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ میں نے عبدخیر سے کہا : آپ نے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ہے ؟ فرمایا: رب کعبہ کی قسم ! میں نے سنا ہے ۔

نعم ورب الكعبة وإلا فصمتا إسناده صحيح ← هذا من علي ← حبيب فقلت لعبد خير أنت ← ثم ظننا أنه يعني نفسه ← ثم سكت ← لئن شئت لأخبرتكم بالثالث ← ثُمَّ ← فذكر عمر بن الخطاب ← ألا أخبركم بالثاني ← ثُمَّ ← فذكر أبا بكر ← على هذا المنبر ألا أخبركم بخير هذه الأمة بعد نبيها ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدَ خَيْرٍ الْهَمْدَانِيَّ ← حَبِيبٍ ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← المبارك بن سعيد أخو سفيان الثوري ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 540

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 541

541 - حدثنا محمد بن المثنى حدثنا عبيد الله بن موسى أخبرني الربيع بن حبيب عن نوفل بن عبد الملك عن أبيه Y عن علي قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن السوم قبل طلوع الشمس وعن ذبح ذوات الدر

۵۳۷-حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے سورج کے طلوع سے پہلے گفتگو کرنے سے منع کیا اور بتوں کے پاس ذبح کرنے سے منع کیا ۔

السوم قبل طلوع الشمس وعن ذبح ذوات الدر ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← نوفل بن عبد الملك ← الرَّبِيعِ بْنِ حَبِيبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 541

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 542

542 - حدثنا أبو موسى حدثنا منصور بن وردان الأسدي حدثنا علي بن عبد الأعلى عن أبيه عن أبي البختري Y عن علي قال : لما نزلت هذه الآية { ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا } [ آل عمران : 97 ] قالوا : يا رسول الله أفي كل عام ؟ فسكت ثم قالوا : في كل عام ؟ قال : لا ولو قلت نعم لوجبت فأنزل الله { يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم } إلى آخر الآية [ المائدة : 101 ]

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت وللہ علی الناس الیٰ آخرہ نازل ہوئی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ! کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ دو مرتبہ عرض کی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم خاموش رہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ دو مرتبہ عرض کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! فرمایا : اگر میں ہاں کر دیتا تو واجب ہو جاتا ۔ اللہ عزو جل نے یہ آیت نازل فرمائی : یا ایھا الذین الیٰ آخرہ ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← منصور بن وردان الأسدي ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 542

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 543

543 - حدثنا أبو موسى حدثنا أبو أحمد حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي الخليل Y عن علي قال : كان للمغيرة بن شعبة رمح فكنا إذا خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزاة فركزه فيمر به الناس فيحملونه فقلت له : لئن أتيت النبي صلى الله عليه و سلم لأخبرنه فقال : إنك إن فعلت لم ترفع ضالة K رجاله ثقات

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس نیزہ تھا جب ہم حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں نکلتے تھے تو آپ اس کو آگے گاڑ لیتے ، لوگ آگے سے گزرتے اس کو اٹھا لیتے ، میں نے ان کو کہا : اگر میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آیا تو میں آپ کو ضرور بتاؤں گا ، اس نے کہا : اگر تو نے ایسا کیا تو ذلت ہی اٹھائے گا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 543

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 544

544 - حدثنا أبو موسى حدثنا أبو أحمد حدثنا سفيان عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن أبي ربيعة عن زيد بن علي عن أبيه عن عبيد الله بن أبي رافع Y عن علي قال : وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفة فقال : هذه عرفة وهذ الموقف وعرفة كلها موقف ثم أفاض حين غابت الشمس فأردف أسامة وجعل يسير على هينته والناس يضربون يمينا وشمالا لا يلتفت إليهم وهو يقول : يا أيها الناس عليكم بالسكينة ثم أتى جمعا فصلى بهم الصلاتين جميعا فلما أصبح أتى قزح فوقف عليه فقال : هذا قزح وهذا الموقف وجمع كلها موقف ثم أفاض فلما انتهى إلى وادي محسر قرع ناقته فخبت حتى جاز الوادي وقف وأردف الفضل ثم أتى الجمرة فرماها ثم أتى المنحر فقال : هذا المنحر ومنى كلها منحر واستفتته جارية من خثعم فقالت : إن أبي شيخ كبير قد أفند وقد أدركته فريضة الله في الحج فيجزئ أن أحج عنه ؟ قال : حجي عن أبيك ولوى عنق الفضل فقال له العباس : لم لويت عنق ابن عمك ؟ قال : رأيت شابا وشابة فلم آمن الشيطان عليهما وأتى رجل فقال : يا رسول الله إني أفضت قبل أن أحلق قال : احلق وقصر ولا حرج وجاء رجل آخر فقال : يا رسول الله إني ذبحت قبل أن أرمي قال : ارم ولا حرج ثم أتى البيت فطاف به ثم أتى زمزم فقال : يا بني عبد المطلب سقايتكم لولا أن يغلبكم الناس لنزعت بها K رجاله ثقات

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میدان عرفات میں ٹھہرے اور فرمایا : یہ میدان عرفات ہے یہ عرفات ساری ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ( میدان عرفات ) سے روانہ ہوئے جس وقت سورج غروب ہوا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا ، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے : آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے لوگو ! تم اطمینان سے چلو ، پھر میدان مزولفہ میں آئے یہاں آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے دو نمازیں مغرب و عشاء اکٹھی پڑھیں۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ( جبل ) قزح کے پاس آئے پھر یہاں ٹھہرے اس کے بعد فرمایا : یہ جبل قرع ہے ، یہ ہمارے ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر آپ لوٹے ، جب آپ وادی محسر آئے اور اپنی اونٹنی کو تیر کیا، وادی محسر کو پار کیا پھر یہاں رکے پھر اپ نے حضرت فضؒ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا۔ پھر جمرہ کے پاس آئے پھر قربان گاہ کی جگہ آئے اور فرمایا : یہ قربان گاہ کی جگہ ہے اور منیٰ شریف ساری قربان گاہ کی جگہ ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں وہاں قبیلہ خثعم کی عورت نے مسئلہ پوچھا ، عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرا باپ بوڑھا ہے ، وہ چل پھر نہیں سکتا ہے اور پر حج فرض ہو گیا ہے ۔ کیا اگر میں اس کی طرف سے حج کروں تو اس کا حج ادا ہو جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : تو اپنے باپ کی طرف سے حج کر۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کک گردن پھیر دی ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم آپ نے اپنے چچا کے بیٹے کی گردن کو کیوں پھیر دیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : یہ اور یہ عورت دونوں نوجوان ہیں ، مجھے ان کے متعلق شیطان سے امن کی امید نہیں تھی ۔ پھر ایک اور آدمی آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں نے حلق سے پہلے کنکریاں ماری ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : حلق کر دیا قصر کرو یعنی بال کاٹ لو تو کوئی حرج نہیں ، پھر ایک اور آدمی آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ہے ، فرمایا : کنکریاں ماری ہیں یا نہیں کوئی حرج نہیں پھر خانہ کعبہ کے پاس آئے اس کا طواف کیا پھر آب زم زم کے پاس آئے اور فرمایا اے بنی عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تم حاجیوں کو پانی پلاتے رہو اگر تم لوگ غالب نہ آتے تو میں بھی ڈول نکالتا۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 544

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 545

545 - حدثنا أبو موسى حدثنا وهب بن جرير حدثنا أبي عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري Y عن علي قال : قال عمر بن الخطاب : ما ترون في فضل فضل عندنا من هذا المال ؟ فقال الناس : يا أمير المؤمنين قد شغلناك عن أهلك وضعيتك وتجارتك فهو لك قال لي : ما تقول أنت ؟ قلت : أشاروا عليك قال : قل فقلت : لم تجعل يقينك ظنا وعلمك جهلا ؟ قال : لتخرجن مما قلت أو لأعاقبنك فقلت : أجل والله لأخرجن منه أما تذكر حيث بعثك نبي الله صلى الله عليه و سلم ساعيا فأتيت العباس بن عبد المطلب فمنعك صدقته فقلت لي انطلق معي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فلنخبرنه بالذي صنع العباس فانطلقنا إلى النبي صلى الله عليه و سلم فوجدناه خاثرا فرجعنا ثم عدنا عليه الغد فوجدناه طيب النفس فأخبرته بالذي صنع العباس فقال : أما علمت أن عم الرجل صنو أبيه وذكرنا له الذي رأينا من خثوره في اليوم الأول وما رأينا من طيب نفسه في اليوم الثاني فقال : إنكما أتيتماني في اليوم الأول وقد بقي عندي من الصدقة دينار فكان الذي رأيتما لذلك وأتيتماني اليوم وقد وجهت فذلك الذي رأيتما من طيب نفسي فقال عمر : صدقت أما والله لأشكرن - يعني لك - الأولى والآخرة فقلت : يا أمير المؤمنين فلم تعجل العقوبة وتؤخر الشكر ؟ K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کیا خیال کرتے ہیں اس مال کے متعلق جو ہمارے پاس اضافی ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کی : اے امیر المومنین آپ ہمارے لیے کام کرتے ہیں ، آپ تجارت بھی نہیں کر سکتے ہیں ، آپ ہی کا ہے ۔ مجھے حضرت عمر نے فرمایا : تم کیا سمجھتے ہو ؟ میں نے کہا : انہوں نے آپ پر اشارہ کیا ہے ، فرمایا : تم بولو میں نے کہا کہ آپ یقین کو گمان اور علم کو جہالت میں کیوں لے جاتے ہیں ، آپ نے جو فرمایا تھا اس سے ضرور نکل جائیں گے یا آپ کو سزا ملے گی ۔ میں نے کہا جی ہاں ، میں آپ سے نکل جاؤں گا ، کیا آپ کو یاد نہیں ہے جس وقت حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے آپ کو بھیجا تھا عامل بنا کر ۔ آپ حضرت عباس کے پاس آئے تھے ۔ حضرت عباس نے زکوٰۃ نہیں دی تھی تو آپ نے مجھے کہا تھا: میرے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں چلیں ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ جو حضرت عباس نے کیا ہے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی بارگاہ میں گئے تھے ۔ ہم نے آپ ک پریشان کی حالت میں پایا تھا ہم واپس آ گئے تھے ، پھر دوسرے دن گئے تھے تو ہم نے آپ کو خوش حال پایا تھا ، آپ نے بتایا جو حضرت عباس نے کیا تھا تو آپ نے فرمایا : تھا کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ آدمی کا چچا باپ کے قائم مقام ہوتا ہے ۔ ہم نے یاد کرو وہ معاملہ جو ہم نے آپ کو پریشانی کی حالت میں دیکھا تھا کہ ہم نے آپ کو پہلے دن پریشانی میں دیکھا ، دوسرے دن خوشی میں دیکھا۔ آپ نے فرمایا : جب تم پہلے دن میرے پاس آئے تھے تو میں پریشان اس لیے تھا کہ میرے پاس صدقہ کا ایک دینار تھا اس لیے میں پریشان تھا ۔ دوسرے دن میں خوش تھا اس لیے کہ میں نے وہ دے دیا تھا ۔ حضرت عمر نے فرمایا : آپ نے سچ فرمایا : اللہ کی قسم میں ضرور بضرور آپ کا پہلے اور آخر میں شکریہ ادا کروں گا۔ میں نے کہا : اے امیر المومنین آپ نے سزا کے معاملہ میں جلدی کی اور شکر کو مؤخر کیوں کیا ؟

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 545

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 546

546 - حدثنا أبو موسى حدثنا محمد بن مروان العقيلي عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة قال Y قال علي : لما انجلى الناس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد نظرت في القتلى فلم أر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : والله ما كان ليفر وما أراه في القتلى ولكن أرى الله غضب علينا بما صنعنا فرفع نبيه صلى الله عليه و سلم فما في خير من أن أقاتل حتى أقتل فكسرت جفن سيفي ثم حملت على القوم فأفرجوا لي فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه و سلم بينهم K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے احد کے دن پیچھے ہوئے ( کیونکہ اطلاع ملی تھی کہ معاذ اللہ حضوڑ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اس لیے صحابہ پیچھے ہو گئے تھے ) میں نے لڑائی کی جگہ دیکھا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو نہیں دیکھا ، میں نے دل میں خیال کیا کہ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم بھاگنے والے تو نہیں ہیں ۔ اللہ کا غضب ہو جو ہم نے کیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اٹھے مجھے سے بہتر لڑنے والا کوئی نہیں تھا میں لڑا یہاں تک کہ میری تلوار ٹوٹ گئی میں قوم کے پاس گیا ، مجھے امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کے درمیان ہوں گے ۔

عَلِيٌّ لَمَّا انْجَلَى النَّاسُ ← عِكْرِمَةَ، ← عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 546

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 547

547 - حدثنا أبو موسى حدثنا أبو عاصم أخبرنا ابن جريج أخبرني ابن شهاب عن علي بن حسين عن أبيه Y عن علي قال : أصبت شارفا في مغنم بدر مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وأعطاني رسول الله صلى الله عليه و سلم شارفا فأنختهما عند باب رجل من الأنصار أريد أن أحمل عليهما إذخرا أبيعه ومعي رجل صائغ من بني قينقاع قال علي : أستعين به على وليمة فاطمة و حمزة بن عبد المطلب في البيت يشرب ومعه قينة تغنيه تقول : ألا يا حمز للشرف النواء فثار إليهما بالسيف فجب أسنمتهما وبقر خواصرهما وأخذ من أكبادهما قال : قلت لابن شهاب : ومن السنام ؟ قال : قد جب أسنمتهما قال : فنظرت إلى أمر أفظعني فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه زيد بن حارثة فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه زيد بن حارثة وخرجت معه حتى قام على حمزة قال : فتغيظ عليه قال : فرفع حمزة بصره فقال : وهل أنتم إلا عبيد آبائي ؟ قال : فرجع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقهقر عنه K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے مال غنیمت میں میرے حصہ میں مجھے ایک بوڑھی اونٹنی ملی اور مجھے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ایک اور بوڑھی اونٹنی دی ۔ میں نے ان دونوں کو ایک انصاری آدمی کے گھر کے پاس بٹھایا ۔ میں چاہتا تھا ان دونوں پر ازخر گھاس لا کر اس کو فروخت کروں گا ۔ حال یہ تھا کہ بنو قینقاع کا ایک سنار میرے ساتھ تھا ( میرا اس کے ساتھ ارادہ یہ تھا ) کہ اس سے فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ولیمہ پر مدد لے لوں ۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس گھر میں شراب پی رہے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک باندی تھی جو اشعار بول رہی تھی ، خبردار اے حمزہ رضی اللہ عنہ شرف نوا ہے ۔ ( حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ان دنوں مسلمان نہیں تھے ) آپ نے اونٹنیوں پر غصے سے تلوار سونت لی ۔ ان دونوں کی کوہانیں کاٹ ڈالیں ان کو چیر دیا ان کی جگر سے کلیجی لے لی ۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے ابن شہاب سے عرض کی : سنام سے کیا ؟ انہوں نے ان دونوں کو چیر دیا۔ حضرت علی فرماتے ہیں جب یہ معاملہ میں نے دیکھا تو مجھے پریشانی لاحق ہوئی ۔ میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ حضرت زید بن حارثہ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ حضرت حمزہ کے پاس کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوئے ۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آنکھ اٹھائی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے تم سب میرے آباؤ اجداد کے غلام ہو نہیں ہو ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم الٹے پاؤں واپس آ گئے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 547

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 548

548 - حدثنا أبو موسى حدثنا أبو أسامة حدثني عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده Y أن عليا كان إذا سافر سار بعد ما تغرب الشمس حتى يكاد أن يظلم ثم ينزل فيصلي المغرب ثم يدعو بعشائه فيتعشى ثم يصلي العشاء ثم يرتحل ويقول : هكذا كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابو طالب اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج کے غروب ہونے کے بعد تک چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جاتا ، پھر اترتے ، مغرب کی نماز پڑھتے پھر رات کا کھانا مانگتے اور اسے کھاتے ، پھر عشاء کی نماز پڑھتے ، پھر سواری پر بیٹھتے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ایسے ہی کرتے تھے ۔

أَبِيهِ ← عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 548

chevron_left Previous
1…232425…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter