Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 501

501 - حدثنا أبو معمر إسماعيل بن إبراهيم عن محمد بن القاسم أبي إبراهيم الأسدي عن سعيد [ بن ] عبيد عن علي بن ربيعة Y عن علي قال : لا أعلمه إلا عن النبي صلى الله عليه و سلم : إذا هاج بأحدكم الدم فليهرقه ولو بمشقص K إسناده ضعيف جدا

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جانور ذبح کرے تو اس کا خون بہائے اگرچہ تراشے کے ساتھ ہو۔

لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← عَلِيٍّ، ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الأَسَدِيِّ، ← أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 501

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 502

502 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا وهب بن جرير حدثنا أبي عن ابن إسحاق عن يزيد بن رومان القرظي عن رجل سماه ونسيته Y عن علي بن أبي طالب قال : خرجت في غداة شاتية جائعا وقد أوبقني البرد فأخذت ثوبا من صوف قد كان عندنا ثم أدخلته في عنقي وحزمته على صدري أستدفيء به والله ما في بيتي شيء آكل منه ولو كان في بيت النبي صلى الله عليه و سلم شيء لبلغني فخرجت في بعض نواحي المدينة فانطلقت إلى يهودي في حائطه فاطلعت عليه من ثغرة جداره فقال : ما لك يا أعرابي ؟ هل لك في دلو بتمرة ؟ قلت : نعم افتح لي الحائط ففتح لي فدخلت فجعلت أنزع الدلو ويعطيني تمرة حتى ملأت كفي قلت : حسبي منك الآن فأكلتهن ثم جرعت من الماء ثم جئت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فجلست إليه في المسجد وهو مع عصابة من أصحابه فطلع علينا مصعب بن عمير في بردة له مرقوعة بفروة وكان أنعم غلام بمكة وأرفهه عيشا فلما رآه النبي صلى الله عليه و سلم ذكر ما كان فيه من النعيم ورأى حاله التي هو عليها فذرفت عيناه فبكى ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنتم اليوم خير أم إذا غدي على أحدكم بجفنة من خبز ولحم وريح عليه بأخرى وغدا في حلة وراح في أخرى وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة ؟ قلنا : بل نحن يومئذ خير نتفرغ للعبادة قال : بل أنتم اليوم خير K إسناده ضعيف

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں سردیوں کی ایک صبح نکلا مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی ، مجھے ٹھنڈ لگ رہی تھی ، میں نے صوف کا ایک کپڑا لیا جو ہمارے پاس ہوتا تھا ، پھر میں نے اسے اپنی گردن میں داخل کیا ، اس کو اپنے سینے تک چڑھایا، میں اس سے گرمی حاصل کر رہا تھا، اللہ کی قسم ! میرے گھر میں کوئی شئے کھانے کی نہیں تھی، اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں ہوتی تو مجھے ضرور پہنچا دیتے ، میں مدینہ کے کسی گاؤں کی طرف نکلا، میں ایک یہودی کے باغ میں داخل ہوا، میں نے دیوار کے سوراخ سے جھانک کر دیکھا تو اس نے کہا : اے دیہاتی کیا ہے ؟ کیا آپ ایک ڈول کے بدلے کھجور لینے کو تیار ہیں مزدوری پر ؟ میں نے کہا! جی ہاں ! اس نے میرے لیے باغ کا دروازہ کھولا ، میں داخل ہوا، میں ڈول کھینچنے لگا ، وہ مجھے کھجوریں دینے لگا یہاں تک کہ میری ہتھیلی بھر گئی ، میں نے کہا: مجھے تیری طرف سے اب کافی ہیں ، میں نے ان کو کھایا پھر پانی پیا، پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، میں آپ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ، آپ اپنے صحابہ کرے گروہ کے ساتھ تھے ، ہمارے پاس مصعب بن عمیر ایک پرانی چادر میں آئے حالانکہ وہ مکے میں بڑے مال دار تھے ، جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھا تو اس کا ذکر کیا جو مال دار تھا اور اس کی حالت دیکھی جو موجود تھی ، آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، آپ روئے ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم آج بہتر ہو کہ یا تم پر ایسا وقت آئے گا کہ تمہارے پاس روٹی اور گوشت اور طرح طرح کے کھانے ہوں گے ، ایک کپڑے کا جوڑا صبح اور ایک شام کو پہنو گے اور تم اپنے گھروں میں پردے اس طرح لٹکاؤ گے جس طرح کعبہ پر لٹکائے ، جائیں گے ۔ ہم نے عرض کی : ہم اس دن اچھے ہوں گے ، ہم اچھی طرح عبادت کریں گے ۔ آپ نے فرمایا: آج بہتر ہو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رجل سماه ونسيته ← يزيد بن رومان القرظي ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 502

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 503

503 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا عبد الرحيم بن سليمان حدثنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي نجيح عن مجاهد قال Y قال علي بن أبي طالب : زوجني رسول الله صلى الله عليه و سلم فاطمة على درع حديد حطمية وكان سلحنيها وقال : ابعث بها إليها تحللها بها فبعثت بها إليها والله ما ثمنها كذا وأربع مئة درهم K إسناده ضعيف

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لوہے کی زرہ مہر پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح مجھ سے کر دیا جبکہ آپ نے وہ مجھے بطور ہتھیار دی تھی اور فرمایا: اسے ان کی طرف لے جاؤ اور اس کے بدلے ان کو لباس لے کر پہناؤ میں اس کو لے کر گیا، تو قسم بخدا! اس کی قیمت چار سو درہم لگائی گئی۔

مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 503

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 504

504 - حدثنا أبو الربيع الزهراني حدثنا عبد العزيز بن المختار الأنصاري عن عبد الله بن فيروز حدثني حضين بن المنذر الرقاشي قال Y شهدت عثمان بن عفان وأتي بالوليد بن عقبة قد صلى بأهل الكوفة الصبح أربعا ثم قال أزيدكم ؟ قال : شهد عليه حمران ورجل آخر شهد أحدهما أنه رآه يشربها - يعني الخمر - وشهد الآخر أنه رآه يتقيؤها فقال عثمان : إنه لم يتقيأها حتى شربها فقال لعلي بن أبي طالب : أقم عليه الحد فقال علي لابنه الحسن : أقم عليه الحد فقال الحسن : ول حارها من تولى قارها فقال لعبد الله بن جعفر ابن أخيه : أقم عليه الحد فأخذ سوطا فجلده و علي يعد فلما بلغ أربعين قال : أمسك جلد النبي صلى الله عليه و سلم أربعين و أبو بكر أربعين و عمر ثمانين وكل سنة وهذا أحب إلي K إسناده صحيح

حضرت حصین بن منذر الرقاشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا ، آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ولید بن عقبہ کو لایا گیا اس نے صبح کی نماز میں اہل کوفہ کو چار رکعتیں پڑھائی تھیں ۔ پھر فرمایا: کیا تم نے اضافہ کیا ہے ؟ اس پر حمران نے گواہی دی ، ایک دوسرے آدمی نے کہا کہ ان میں ایک کو دیکھا ہے اس نے شراب پی۔ دوسرے نے گواہی دی اس نے دیکھا ہے اس کو اس نے شراب کی قے کی ہے ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس نے شراب کی قے کی ہے ، اس کا مطلب ہے کہ اس نے شراب پی ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا اس پر حد لگائیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لخت جگر مولا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : اس پر حد لگاؤ ۔ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس پر حد لگاؤ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کوڑا پکڑا اور کو کوڑے لگانے شروع کیے ۔ حضرت علی شمار کر رہے تھے۔ جب چالیس ہوئے ۔ فرمایا: بس کرو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے چالیس لگائے تھے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسی لگائے تھے ۔ سارے سنت ہیں یہ طریقہ بنا لو ۔

أزيدكم ← أتي بالوليد بن عقبة قد صلى بأهل الكوفة الصبح أربعا ثم ← شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ← حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← عبد العزيز بن المختار الأنصاري ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 504

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 505

505 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا منصور بن عبد الله الثقفي حدثنا محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه Y عن علي بن أبي طالب قال : كان شعار النبي صلى الله عليه و سلم ياكل خير !

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک تھی، اسے ساری خیر ہے ۔

كان شعار النبي صلى الله عليه و سلم ياكل خير ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ← منصور بن عبد الله الثقفي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 505

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 506

506 - حدثنا أمية بن بسطام حدثنا يزيد بن زريع حدثنا شعبة عن الحكم عن أبي المورع Y عن علي قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة فقال : ألا رجل يذهب إلى المدينة فلا يدع قبرا إلا سواه ولا صورة إلا طلخها ولا وثنا إلا كسره ؟ فقام رجل وهاب أهل المدينة فقام علي فقال : أنا يا رسول الله قال : فذهب ثم جاء فقال : يا رسول الله لم آتك حتى لم أدع فيها قبرا إلا سويته ولا صورة إلا لطختها ولا وثنا إلا كسرته قال : من عاد إلى صنعة شيء منه فقد كفر بما أنزل على محمد صلى الله عليه و سلم لا تكونن فتانا ولا مختالا ولا تاجرا إلا تاجر خير فإن أولئك المسبقون في العمل

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنازہ پڑھانے کے لیے نکلے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی آدمی جاتا ہے مدینہ کی طرف وہ قبروں کو برابر کر دے اور تصویروں کو ختم کردے ؟ بتوں کو گرا دے ایک آدمی کھڑا ہوا اہل مدینہ نے اس کو ہدیہ دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی : میں جاتا ہوں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ پھر ( میں ) آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نہیں آؤں گا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مگر ہر قبر کو برابر کروں گا اور تصویروں کو گرادوں گا اور پھر بت کو توڑ دوں گا ۔ پھر جن نے ان میں سے کوئی چیز بنائی ، اس نے اس کا انکار کیا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ہے ۔ فتنہ باز نہ بنو، نہ تکبر کرو اور اچھے تاجر بنو ۔ یہی لوگ نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي الْمُوَرِّعِ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 506

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 507

507 - حدثنا عبد الغفار بن عبد الله حدثنا علي بن مسهر عن أشعث عن سعيد بن أشوع عن حنش الكناني Y عن علي بن أبي طالب أنه دعا صاحب شرطته فقال : انطلق فلا تدع قبرا إلا سويته ولا زخرفا إلا وضعته ثم قال : هل تدري فيما بعثتك ؟ بعثتك فيما بعثني فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده ضعيف

حضرت حنش الکنانی فرماتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو بلوایا اس کے بعد فرمایا: جاؤ ہر قبر کو برابر کردو اور سجاوٹ کو گرا دو اور پھر فرمایا: میں جانتا ہوں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیوں بھیجا ہے کیونکہ مجھے بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقصد کے لیے بھیجا تھا۔ ( فائدہ) اس حدیث سے بعض لوگ استدلال کرتے ہیں کہ قبروں پر گنبد وغیرہ بنانا جائز نہیں ہے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ حدیث تو کافروں کی قبریں گرانے کے لیے ہے خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون کی قبر پر پتھر لگایا تھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ وہ اتنا اونچا تھا کہ ہم اس کو پار نہیں کر سکتے تھے باقی رہی یہ بات گنبدوں کی اس کی دلیل خو د حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر شریف پر بنے گنبد ہے ۔(سیالکوٹی غفرلہ)

انطلق فلا تدع قبرا إلا سويته ولا زخرفا إلا وضعته ثم ← علي بن أبي طالب أنه دعا صاحب شرطته ← حَنشٍ الْكِنَانِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَشْوَعَ ← أَشْعَثَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عبد الغفار بن عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 507

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 508

508 - حدثنا عبد الغفار حدثنا علي بن مسهر عن الأشعث بن سوار عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى Y عن علي بن أبي طالب قال : أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أنحر البدن وأن أتصدق بلحومها فرجعت إليه أسأله عن جلالها وجلودها فأمرني أن أتصدق بها K إسناده ضعيف

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا بڑا جانور نحر کرنے کا اور اس کا گوشت صدقہ کرنے کا میں واپس آیا پوچھا : اس کی کھال اور پالان کے متعلق آپ مجھے حکم دیا اس کو بھی صدقہ کرنے کا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عبد الغفار

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 508

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 509

509 - حدثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري حدثنا يحيى بن نصر بن حاجب حدثنا هلال بن خباب عن زاذان Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حق المسلم على المسلم ست : يسلم عليه إذا لقيه ويجيبه إذا دعاه وينصح له بالغيب ويشمت عليه إذا عطس ويعوده إذا مرض ويشهد جنازته إذا مات K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے پر چھ حق ہیں : (1) جب ملاقات کرے تو سلام کرے ۔ (2) جب دعوت دے تو قبول کرے ۔(3) جب موجود نہ ہو تو خیر خواہی کرے ۔(4) چھینک آئے تو جوب دے ۔ (5) بیمار ہوتو عیادت کرے ۔(6) مر جائے تو جنازہ میں شریک ہو۔

عَلِيٍّ، ← زَاذَانَ ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← يحيى بن نصر بن حاجب ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 509

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 510

510 - حدثنا إبراهيم بن سعيد حدثنا حسين بن محمد عن عمرو بن ثابت عن أبيه عن أبي فاختة Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لفاطمة : إني وإياك وهذ - يعنيني - وهذين : الحسن و الحسين يوم القيامة في مكان واحد K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدہ فاطمہ اور میرے اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم اور میرے متعلق فرمایا: یہ جنت میں ایک جگہ ہوں گے ۔

عَلِيٍّ، ← أَبِي فَاخِتَةَ ← أَبِيهِ ← عمرو بن ثابت ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 510

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 511

511 - حدثنا إبراهيم بن سعيد حدثنا حسين بن محمد عن الهذيل بن هلال عن عبد الرحمن بن مسعود العبدي Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سره أن ينظر إلى رجل تسبقه بعض أعضائه إلى الجنة فلينظر إلى زيد بن صوحان

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ وہ دیکھے اس آدمی کو جس کے بعض اعضاء جنت میں جلدی چلے گئے ہیں تو وہ زید بن صوحان کو دیکھ لے ۔

عَلِيٍّ، ← عبد الرحمن بن مسعود العبدي ← الهذيل بن هلال ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 511

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 512

512 - حدثنا إبراهيم بن سعيد حدثنا أبو أحمد الزبيري عن إسرائيل عن عبد الأعلى عن محمد بن علي Y عن علي قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأكل الثريد ويشرب اللبن ويصلي ولا يتوضأ

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثرید کھاتے تھے اور دودھ پیتے تھے اور نماز پڑھتے اور وضو دوبارہ نہیں کرتے تھے ۔

عَلِيٍّ، ← محمد بن علي ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 512

chevron_left Previous
1…202122…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter