Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 465

465 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا أبو داود عمر بن سعد عن ياسين عن إبراهيم بن محمد عن أبيه Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المهدي منكم أهل البيت يصلحه الله في ليلة K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہدی تم سے ہے ، اے اہل بیت ! اللہ عزوجل اس کی اصلاح کرے گا ایک رات کے اندر۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَاسِينَ ← أَبُو دَاوُدَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 465

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 466

466 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عبد الله بن نجي Y عن علي قال : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم وهو نائم فذكرنا الدجال فاستيقظ محمرا وجهه فقال : غير الدجال أخوف عندي عليكم من الدجال : أئمة مضلون K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے دجال کا ذکر کیا تو آپ اٹھے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا آپ نے فرمایا: مجھے دجال کے علاوہ تم پر خوف ہے : گمراہ کن ائمہ کا۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← جَابِرٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 466

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 467

467 - حدثنا أبو بكر حدثنا إسحاق بن منصور حدثنا أبو كدينة عن مطرف عن المنهال عن نعيم بن دجاجة قال Y كنت جالسا عند علي إذ جاءه أبو مسعود فقال علي : قد جاء فروخ فجلس فقال علي : إنك تفتي الناس ؟ فقال : أجل وأخبرهم أن الآخرة شر قال : فأخبرني هل سمعت منه شيئا ؟ قال : نعم سمعته يقول : لا يأتي على الناس سنة مئة وعلى الأرض عين تطرف فقال علي : أخطأت استك الحفرة : وأخطأت في أول فتياك إنما قال ذاك لمن حضره يومئذ هل الرخاء إلا بعد المئة ؟ K إسناده حسن

حضرت نعیم بن دجاجہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھاہوا تھا اچانک ابو مسعود آئے حضرت علی نے فرمایا: فروخ آیا ہے ۔ پس وہ بیٹھ گئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو لوگوں کو فتویٰ دیتا ہوں سو بعد میں آنے والا وقت شر ہے مجھے بتائیے کیا آپ نے اس حوالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی شئے سنی ہے؟ عرض کی: جی ہاں ! میں نے سنا ہے فرماتے ہوئے کہ لوگوں پر ایک سو سال آئے گا اور زمین پر آنکھ جھپکنے والا نہیں رہے گا۔ حضرت علی نے فرمایا: تیری پیٹھ نے گڑھا کھودنے میں خطا ء کر دی اور تو نے پہلے فتویٰ میں غلطی کی ہے اور فرمایا: یہ اس کے لیے ہے جو اس دن حاضر ہو گا، کیا خوشحالی سو سال کے بعد آئے گی؟

علي أخطأت استك الحفرة وأخطأت في أول فتياك إنما ← لا يأتي على الناس سنة مئة وعلى الأرض عين تطرف ← نَعَمْ ← مِنْهُ شَيْئًا. ← هَلْ ← أن الآخرة شر ← أَجَلْ ← علي إنك تفتي الناس ← علي قد جاء فروخ فجلس ← كنت جالسا عند علي إذ جاءه أبو مسعود ← نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ ← الْمِنْهَالُ ← مُطَرِّفٍ ← أَبُو كُدَيْنَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 467

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 468

468 - حدثنا أبو بكر حدثنا مصعب بن المقدام حدثنا مندل عن الحسن بن الحكم عن أسماء بنت عابس عن أبيها Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن السقط ليراغم ربه إن أدخل أبويه النار حتى يقال له : أيها السقط المراغم ربه ارجع فإني قد أدخلت أبويك الجنة قال : فيجرهما بسرره حتى يدخلهما الجنة K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بچہ ماں کے پیٹ سے گر جاتا ہے ، اگر اس کے والدین کو اللہ عزوجل جہنم میں داخل کرے گا تو وہ اپنے رب سے جھگڑے گا یہاں تک کہ اس کو کہا جائے گا: اے گر جانے والے بچے ! واپس چلا جا میں نے تیرے والدین کو جنت میں داخل کر دیا وہ گرنے والا بچہ اپنی انتڑیوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کو کھینچ کر جنت میں داخل کرے گا۔

عَلِيٍّ، ← أَبِيهَا ← أسماء بنت عابس ← الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ ← مِنْدَلٌ ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 468

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 469

469 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا زيد بن الحباب حدثنا جعفر بن إبراهيم من ولد ذي الجناحين قال : حدثنا علي بن عمر عن أبيه Y عن علي بن حسين أنه رأى رجلا يجيء إلى فرجة كانت عند قبر النبي صلى الله عليه و سلم فيدخل فيها فيدعو فنهاه فقال : ألأ أحدثكم حديثا سمعته من أبي . عن جدي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : لا تتخذوا قبري عيدا ولا بيوتكم قبورا فإن تسليمكم يبلغني أينما كنتم K إسناده ضعيف

حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک آدمی دیکھا وہ خالی جگہ کی طرف آیا جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرکے پاس تھی، اس میں داخل ہوا، اس کو بلوایا اور اس کو منع کیا اور فرمایا: کیا میں آپ کو حدیث بیان کروں جو میں نے اپنے ابو سے ، انہوں نے میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے کہ آپ نے فرمایا: میری قبر کو عید نہ بناؤ اور قبروں کو گھروں میں نہ بناؤ بے شک تمہارا سلام مجھے پہنچا دیا جاتا ہے تم جہاں بھی ہوتے ہو۔

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ ← جَعْفَرُ بْنُ إبْرَاهِيمَ مِنْ وَلَدِ ذِي الْجَنَاحَيْنِ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 469

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 470

470 - حدثنا نصر بن علي أخبرني العباس بن جعفر بن زيد بن طلق الشني العبدي عن أبيه عن جده Y عن علي قال : لما تزوجت فاطمة قلت : يا رسول الله ما أبيع فرسي أو درعي ؟ قال : بع درعك فبعتها بثنتي عشرة أوقية فكان ذاك مهر فاطمة K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں نے فاطمہ سے شادی کی، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنا گھوڑا یا اپنی ذرہ فروخت کروں ؟ آپ نے فرمایا: اپنی ذرہ فروخت کرو! میں نے وہ فروخت کی بارہ اوقیہ چاندی کے بدلے ، وہ حضرت فاطمہ کا مہر تھا۔

لما تزوجت فاطمة قلت ← عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← العباس بن جعفر بن زيد بن طلق الشني العبدي ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 470

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 471

471 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان و أبو هشام الرفاعي قالا : حدثنا ابن فضيل حدثنا مجالد عن الشعبي عن الحارث Y عن علي قال : ما كان لنا ليلة أهدى إلي فاطمة شيء ننام عليه إلا جلد كبش K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے رات کو سونے کے لیے فاطمہ کی طرف سے کوئی شئے ہدیہ نہیں دی گئی سوائے مینڈھے کے چمڑے کے۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عبد الله بن عمر بن أبان و أبو هشام الرفاعي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 471

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 472

472 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة و أبو هشام الرفاعي وهذا لفظ أبي بكر حدثنا محمد بن فضيل عن عاصم بن كليب عن أبيه قال Y كنت جالسا عند علي وهو في بعض أمر الناس إذ جاءه رجل عليه ثياب السفر فقال : يا أمير المؤمنين فشغل عليا ما كان فيه من أمر الناس قال : إني فقلت : ما شأنك ؟ قال : فقال : كنت حاجا أو معتمرا - قال : لا أدري أي ذلك قال - فمررت على عائشة فقالت : من هؤلاء القوم الذين خرجوا قبلكم يقال لهم : الحرورية ؟ قال : قلت : في مكان يقال له حروراء ؟ قال : فسموا بذلك الحرورية قال فقالت : طوبى لمن شهدد هلكتهم ! قالت : أما والله لو سألتم ابن أبي طالب لأخبركم خبرهم فمن ثم جئت أسأله عن ذلك قال : وفرغ علي فقال : أين المستأذن ؟ فقام عليه فقص عليه مثل ما قص علي قال : فأهل علي ثلاثا ثم قال : كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وليس عنده أحد إلا عائشة قال : فقال لي : يا علي كيف أنت وقوم يخرجون بمكان كذا وكذا وأومأ بيده نحو المشرق يقرؤون القرآن لا يجاوز حناجرهم أو تراقيهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية فيهم رجل مخدج اليد كأن يده ثدي حبشية . ثم قال : نشدتكم بالله الذي لا إله إلا هو أحدثتكم أنه فيهم ؟ قالوا : نعم فذهبتم فالتمستموه ثم جئتم به تسحبونه كما نعت لكم قال : ثم قال : صدق الله ورسوله ثلاث مرات K إسناده حسن

حضرت عالم بن کلیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ لوگوں کے کاموں میں مشغول تھے اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے سفر والے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، اس نے عرض کی : اے امیر المومنین ! پس اس نے حضرت علی کو لوگوں کے کاموں سے بے خبر کر دیا، کہنے لگا: بے شک میں۔ میں نے کہا: تجھے کیا کام ہے ، مجھے معلوم نہیں ۔ میں حضرت عائشہ کے پاس سے گزرا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ لوگ کون تھے جو تم سے پہلے نکلے ہیں، کیا ان کو حروریہ کہا جاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : جس مکان میں ہیں ، اس کو حروراء کہا جاتا ہے ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: خوشخبری اس کے لیے جو ان کو ہلاک ہوتا دیکھے ۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: بہرحال اللہ کی قسم ! اگر تم علی بن ابی طالب سے پوچھو گے تو تم کو ان کے متعلق بتائیں گے ۔ پھر میں آیا اور میں نے آپ سے ان کے متعلق پوچھا، حضرت علی فارغ ہو چکے تھے ، فرمایا: اجازت لینے والا کہاں ہے ؟ اس کے بعد حضرت علی کھڑے ہوئے ، وہی بات بتائی ، جو مجھے بتائی گئی تھی، حضرت علی نے تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھا پھر فرمایا: میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا آپ کے پاس حضرت عائشہ کے علاوہ کوئی نہیں تھا ، مجھے فرمایا: اے علی ! آپ کیسی حالت میں ہوں گے اس وقت ایک قوم فلاں فلاں جگہ سے نکلے گی ہاتھ سے اشارہ کیا مشرق کی جانب قرآن پڑھیں گے قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے نکل جائیں جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے ۔ ان میں سے ایک آدمی ہوگا اس کا ہاتھ ایسے ہوگا جس طرح حبشی عورت کا پستا ن ہوتا ہے ، پھر فرمایا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے کیا میں نے تم کو بیان کیا ہے وہ ان میں موجود ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں! پس تم نے جا کر اسے تلاش کیا ، پھر تم اس کو لے آئے ، اس حال میں کہ تم اسے گھسیٹ رہے تھے ، جس طرح تم کو میں نے بتایا ہے پھر فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، تین مرتبہ فرمایا۔

أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← هذا لفظ أبي بكر ← أبو بكر بن أبي شيبة و أبو هشام الرفاعي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 472

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 473

473 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا عبد الله بن نمير حدثنا عبد العزيز بن سياه حدثنا حبيب بن أبي ثابت عن أبي وائل قال Y أتيته فسألته عن هؤلاء القوم الذين قتلهم علي قال : قلت : فيم فارقوه ؟ وفيم استحلوه ؟ وفيم دعاهم ؟ وفيم فارقوه ؟ وبم استحل دماءهم ؟ قال إنه لما استحر القتل في أهل الشام بصفين اعتصم معاوية وأصحابه بحيل فقال له عمرو بن العاص : أرسل إلي بالمصحف فلا والله لا نرده عليك قال : فجاء رجل يحمله فنادى : بيننا وبينكم كتاب الله { ألم تر إلى الذين أوتوا نصيبا من الكتاب } الآية [ آل عمران : 23 ] قال علي : نعم بيننا وبينكم كتاب الله إنا أولى به منكم فجاءت الخوارج وكنا نسميهم يومئذ القراء وجاؤوا بأسيافهم على عواتقهم وقالوا : يا أمير المؤمنين ألا تمشي إلى هؤلاء القوم حتى يحكم الله بيننا وبينهم فقام سهل بن حنيف فقال إيها الناس : اتهموا أنفسكم لقد كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الحديبية ولو نرى قتالا قاتلنا وذاك في الصلح الذي كان بين رسول الله صلى الله عليه و سلم وبين المشركين فجاء عمر بن الخطاب فقال : يا رسول الله ألسنا على حق وهم على باطل ؟ قال : بلى قال : أليس قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار ؟ قال : بلى قال : فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولم يحكم الله بيننا وبينهم ؟ قال : يا ابن الخطاب إني رسول الله ولن يضيعني الله أبدا فانطلق عمر ولم يصبر متغيظا حتى أتى أبا بكر فقال : يا أبا بكر ألسنا على حق وهم على باطل ؟ قال : بلى قال : أليس قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار ؟ قال : بلى قال : فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولم يحكم الله بيننا وبينهم ؟ قال : يا ابن الخطاب إنه رسول الله ولن يضيعه الله أبدا فنزل القرآن على محمد بالفتح فأرسل إلى عمر فأقرأه فقال : يا رسول الله أو فتح هو ؟ قال : نعم قال : فطابت نفسه ورجع ورجع الناس ثم إنهم خرجوا بحروراء - أولئك العصابة من الخوارج بضعة عشر ألفا - فأرسل إليهم علي ينشدهم الله فأبوا عليه فأتاهم صعصعة بن صوحان فأنشدهم وقال : علام تقاتلون خليفتكم ؟ قالوا : مخافة الفتنة قال : فلا تعجلوا ضلالة العام مخافة فتنة عام قابل فرجعوا وقالوا : نسير على ما جئنا فإن قبل علي القضية قاتلنا على ما قاتلنا يوم صفين وإن نقضها قاتلنا معه فساروا حتى بلغوا النهروان فافترقت منهم فرقة فجعلوا يهدون الناس ليلا قال أصحابهم : ويلكم ما على هذا فارقنا عليا فبلغ عليا أمرهم فقام فخطب الناس فقال : ما ترون ؟ أنسير إلى أهل الشام أم نرجع إلى هؤلاء الذين خلفوا إلى ذراريكم ؟ قالوا : بل نرجع إليهم فذكر أمرهم فحدث عنهم بما قال فيهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن فرقة تخرج عند اختلاف من الناس يقتلهم أقرب الطائفتين إلى الحق علامتهم رجل منهم يده كثدي المرأة فساروا حتى التقوا بالنهروان فافتتلوا قتالا شديدا فجعلت خيل علي لا تقوم لهم فقام علي فقال : يا أيها الناس إن كنتم إنما تقاتلون لي فو الله ما عندي ما أجزيكم وإن كنتم إنما تقاتلون لله فلا يكون هذا فعالكم فحمل الناس حملة واحدة فانجلت الخيل عنهم وهم مكبون على وجوههم فقال علي : اطلبوا الرجل فيهم فطلب الناس الرجل فلم يجدوه حتى قال بعضهم : غرنا ابن أبي طالب من إخواننا حتى قتلناهم قال : فدمعت عين علي فدعا بدابته فركبها فانطلق حتى أتى وهدة فيها قتلى بعضهم على بعض فجعل يجر بأرجلهم حتى وجد الرجل تحتهم فأخبروه فقال علي : الله أكبر وفرح وفرح الناس ورجعوا وقال علي : لا أغزو العام ورجع إلى الكوفة وقتل رحمه الله واستخلف حسن وسار سيرة أبيه ثم بعث بالبيعة إلى معاوية K رجاله ثقات

حضرت ابی وائل فرماتے ہیں کہ میں آپ کے پاس آیا میں نے ان لوگوں کے متعلق پوچھا جن کو حضرت علی نے قتل کیا تھا میں نے کہا ان کا خون کیوں بہا تھا؟ ان کاا خون کیوں مباح کیا تھا کس لیے ان کو اس طرف دعوت دی تھی یا کیوں ان کا خوب بہا ہے کس وجہ سے ان کا خون کو مباح جانا گیا؟ فرمایا: جب شام میں مقام صفین پر لڑائی جاری تھی تو حضرت معاویہ اور اس کے ساتھیوں نے حیلہ سے ان کو بچایا تھا ۔ ان کو حضرت عمرو بن عاص نے فرمایاتھا: میری طرف مصحف بھیجیں یعنی اللہ کی قسم ! ہم ان کو تمہاری طرف واپسی نہیں کریں گے ایک آدمی آیا قرآن اٹھائے ہوئے اور آواز دینے لگا: ہمارے اور تمہارے درمیان کتا ہے کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو ہم نے کتاب کا حصہ دیا۔ حضرت علی نے فرمایا: جی ہاں! ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ہے لیکن ہم تم سے اس کے زیادہ حق دار ہیں، خوارج آئے ان کا نام ہم نے اس دن قراء رکھتا ہوا تھا ، وہ تلواریں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے ، کہنے لگے : اے امیر المومنین ! کیا آپ ان کے درمیان چلنے والے نہیں ہیں کہ ہمارے اور ان کے درمیان کتاب اللہ کا فیصلہ کریں ، سہیل بن ضیف اٹھے ، فرمایا: اے لوگو! تم نے اپنے اوپر بہتان لگوا لیا ہے ، بے شک ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے حدیبیہ کے مقام پر اگر ہم نے لڑائی دیکھی تو ہم لڑے ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح کا دن تھا حضرت عمر بن خطاب آئے ، عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کا ہم حق پر نہیں ہیں اور یہ باطل پر آپ نے فرمایا: کیوں نہیں ! حضرت عمر نے عرض کی : کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ، آپ نے ارشاد فرمایا: کیوں نہیں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پس کس بات پر ہم اپنے دین میں کمزوری دکھائیں اور لوٹ جائیں اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہ کرے گا؟ آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں ، مجھے اللہ کبھی ضائع نہیں کرے گا، حضرت عمر چلے اور صبر نہ کرسکے غصہ کی حالت میں تھے ۔ یہاں تک کہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے ، عرض کی : اے ابو بکر ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں! آپ نے فرمایا: کیوں نہیں ! فرمایا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے ، آپ نے فرمایا: جی ہاں! عرض کی پس کس بات پر ہم اپنے دین میں کمزوری دکھا کر واپس چلے جائیں اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ صادر نہ فرمائے گا؟ آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب ! وہ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ انہیں کھبی ضائع نہیں کرے گا، قرآن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا فتح کے ساتھ ایک آدمی حضرت عمر کی طرف بھیجا آپ نے ان کو پڑھایا عمر نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ! حضرت عمر خوش ہوئے اور آپ اور لوگ واپس آئے پھر ان کو حروراء کی طر ف نکال دیا یعنی خوارج کا گروہ دس ہزار افراد پر مشتمل تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف بھیجا ، ان کو اللہ کی قسم دی ، انہوں نے انکار کیا، ان کے پا صعصعہ بن صوحان آئے ان کو قسم دی۔ اور فرمایا: تم اپنے خلیفہ سے کس بات پر جنگ کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: فتنہ کے ڈر کی وجہ سے حضرت علی نے فرمایا: اس سال جلدی نہ کرو اس آنے والے سال فتنہ کے ڈر کی وجہ سے وہ واپس چلے گئے انہوں نے کہا: چلے گئے اس پر جس پر ہم آئے ہیں اگر علی فیصلہ قبول کر لیتےہم ان سے لڑتے اس طرح جو ہمیں صفین کے دن لڑے ہیں اگر ہم توڑ دیں تو ہم ان سے لڑیں گے ۔وہ چلے یہاں تک نہروان پہنچے ان میں ایک فرقہ جدا ہوا۔ وہ لوگ لوگوں کو ہدایت کرتے ، ان کے ساتھیوں نے کہا: تمہارے لیے ہلاکت ہو اس پر جو ہم علی سے جدا ہوئے ۔ یہ بات علی تک پہنچی آپ کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دیا، فرمایا: تم کیا خیال کرتے ہو؟ کیا ہم شام چلے جائیں یا ان کی طرف واپس جائیں جو اپنے گھروں میں ہیں ؟ بلکہ ہم ان کی طرف واپس جاتے ہیں ان کو جو ان کے حجور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا لوگوں کے اختلاف کے وقت ایک فرقہ نکلے گا ان کو قتل کرنے والا دو گروہوں میں زیادہ حق پر ہوگا ان کی نشانی ان میں سے ایک آدمی ہوگا اس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہوگا وہ چلے یہاں تک کہ نہروان کے پاس پہنچے ، انہوں نے سخت جنگ کی حضرت علی کے گھوڑے ان پر کھڑے ہی ہوئے حضرت علی کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! اگر تم لڑتے ہو اللہ کے لیے تو یہ تمہارا فعل نہیں ہوگا لوگوں نے یکبارگی ان پر ہلہ بول دیا، ان کو چہروں کے بل لٹایا، حضرت علی نے فرمایا: ان میں ایک آدمی کو تلاش کرو، لوگوں نے تلاش کیا اس کو نہیں پایا یہاں تک کہ بعض نے کاہ ہم میں سے : علی بن ابی طالب نے ہمارے بھائیوں سے دھوکہ کیا ہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو مارا حضرت علی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوا آپ نے سواری منگوائی اس پر سوار ہوئے اور چلے یہاں تک اس جگہ پر آئے یہاں ایک دوسرے کو قتل کیاتھا ان کے پاؤں بچھانے لگے یہاں تک ایک آدمی کو ان کے نیچے پایا گیا، وہ ان کے نیچے تھا، حضرت علی نے کہا: اللہ اکبر! اور خوش ہوئے ، لوگو بھی خوش ہوئے اور واپس آئے ، حضرت علی نے فرمایا: میں اس سال جہاد نہیں کروں گا، آپ کوفہ کی طرف چلے گئے ، وہاں آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا، حضرت امام حسن خلیفہ بنے اور اپنے باپ کے طریقے پر چلے ، پھر آپ نے بیعت معاویہ کی طرف بھیجا۔

أتيته فسألته ← أَبِي وَائِلٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 473

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 474

474 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا يحيى بن سليم عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن عبيد الله بن عياض بن عمرو القاري أنه جاء عبد الله بن شداد فدخل على عائشة ونحن عندها جلوس مرجعه من العراق ليالي قتل علي بن أبي طالب Y فقالت له : يا ابن شداد بن الهاد هل أنت صادقي عما أسألك عنه ؟ حدثني عن هؤلاء القوم الذين قتلهم علي قال : وما لي لا أصدقك ؟ قالت : فحدثني عن قصتهم قال : فإن علي بن أبي طالب لما كاتب معاوية وحكم الحكمان خرج عليه ثمانية آلاف من قراء الناس فنزلوا بأرض يقال لها : حروراء من جانب الكوفة وأنهم عتبوا عليه فقالوا : انسلخت من قميص كساكه الله واسم سماك الله به ثم انطلقت فحكمت في دين الله ؟ فلا حكم إلا لله فلما بلغ عليا ما عتبوا عليه وفارقوه عليه أمر مؤذنا فأذن أن لا يدخلن على أمير المؤمنين إلا من قد حمل القرآن فلما امتلأت الدار من قراء الناس دعا بمصحف إمام عظيم فوضعه علي بين يديه فطفق يصكه بيده ويقول : أيها المصحف حدث الناس فناداه الناس يا أمير المؤمنين ما تسأل عنه إنما هو مداد في ورق ونحن نتكلم بما رأينا منه فما تريد ؟ قال : أصحابكم أولاء الذين خرجوا بيني وبينهم كتاب الله يقول الله في كتابه في أمرأة ورجل : { وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما } [ النساء : 35 ] فأمة محمد صلى الله عليه و سلم أعظم حرمة أو ذمة من امرأة ورجل ونقموا علي أني كاتبت معاوية كتبت علي بن أبي طالب وقد جاءنا سهيل بن عمرو فكتب رسول الله صلى الله عليه و سلم : بسم الله الرحمن الرحيم قال : لا تكتب بسم الله الرحمن الرحيم قال : وكيف نكتب ؟ فقال سهيل : أكتب باسمك اللهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فاكتب : محمد رسول الله فقال : لو أعلم أنك رسول الله لم أخالفك فكتب هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله قريشا يقول الله في كتابه { لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الآخر } [ الأحزاب : 21 ] فبعث إليهم عبد الله بن عباس فخرجت معه حتى إذا توسطت عسكرهم قام ابن الكواء فخطب الناس فقال : أيا حملة القرآن هذا عبد الله بن عباس فمن لم يكن يعرفه [ فليعرفه ] فإنما أعرفه من كتاب الله هذا ممن نزل فيه وفي قومه { قوم خصمون } [ الزخرف : 58 ] فردوه إلى صاحبه ولا تواضعوه كتاب الله قال فقام خطباؤهم فقالوا : والله لنواضعنه الكتاب فإن جاءنا بحق نعرفه لنتبعنه وإن جاء بباطل لنبكتنه بباطل ولنردنه إلى صاحبه فواضعوا عبد الله بن عباس الكتاب ثلاثة أيام فرجع منهم أربعة آلاف كلهم تائب فيهم ابن الكواء حتى أدخلهم علي على الكوفة فبعث علي إلى بقيتهم قال : قد كان من أمرنا وأمر الناس ما قد رأيتم فقفوا حيث شئتم بيننا وبينكم : ألا تسفكوا دما حراما أو تقطعوا سبيلا أو تظلموا ذمة فإنكم إن فعلتم فقد نبذنا إليكم الحرب على سواء { إن الله لا يحب الخائنين } [ الأنفال : 58 ] قال : فقالت له عائشة : يا ابن شداد فقد قتلهم ؟ قال : فوالله ما بعث إليهم حتى قطعوا السبيل وسفكوا الدماء واستحلوا الذمة قالت : والله ؟ قال : والله الذي لا إله إلا هو لقد كان قالت : فما شيء بلغني عن أهل العراق يتحدثونه يقولون : ذا الثدية مرتين ؟ قال : قد رأيته وقمت مع علي عليه في القتلى فدعا الناس فقال : هل تعرفون هذا ؟ فما أكثر من جاء يقول رأيته في مسجد بني فلان يصلي ولم يأتوا فيه بثبت يعرف إلا ذلك قالت : فما قول علي حين قام عليه - كما يزعم - أهل العراق ؟ قال : سمعته يقول : صدق الله ورسوله قالت : فهل سمعت أنه قال غير ذلك ؟ قال : اللهم لا قالت : أجل صدق الله ورسوله يرحم الله عليا إنه كان من كلامه لا يرى شيئا يعجبه إلا قال : صدق الله ورسوله فذهب أهل العراق فيكذبون عليه ويزيدون عليه في الحديث K إسناده صحيح

حضرت عبید اللہ عیاض بن عمرو القاری فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن شداد آئے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے عراق سے واپس آئے تھے ، اس روات جس رات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا، حضرت عائشہ نے اسے فرمایا: اے ابن شداد بن ہاد ! کیا مجھے سچ سچ بتاؤ گے کہ میں آپ سے پوچھوں گی؟ مجھے بتاؤ ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے حضرت علی کو قتل کیا ۔ حضرت ابن شداد نے بتایا : مجھے کیا ہے کہ میں آپ کو نہ بتاؤ ں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے بتاؤ ان کا قصہ ! وہ یہ ہے کہ جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ کو خط لکھا اور اس میں دو حکم بنائے ، آپ پر 8 ہزار قاری نکلے اور ایک ملک میں اترے اس کو حروراء کہا جاتا ہے کوفہ کی جانب ہے ، ان کو غصہ آیا وہ قمیص اتاری ہے جو انہوں نے پہنائی ہے ، مراد خلافت ، اس نام کو جس کو اللہ نے رکھا ہے ۔ تو چل اور اللہ کے دین کے مطابق فیصلہ کریں فیصلہ اللہ کا ہی ہے جب حضرت علی کو خبر پہنچی ان کو غصہ کی حالت میں ان سے آپ جدا ہوئے آپ نے موذن کو حکم دیا اعلان کرنے کا امیر المو منین کے پاس وہی لوگ داخل ہوں جو قاری ہوں ، گھر ارجیوں سے بھر گیا آپ نے قرآن منگوایا بڑے امام والا، حضرت علی نے اس کو اپنے آگے رکھ دیا، اس کو ہاتھ سے ملنے لگے اور فرماتے لگے اے مصحف ! لوگوں کو بتا! پس لوگوں نے آواز دی اے امیر المومین آپ اس سے کیا پوچھتے ہیں یہ تو ورق میں سیاہی ہے ہم گفتگو کرتے ہیں جو ہم نے دیکھا آپ کیا چاہتے ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا: تمہارے اصحاب کیا چاہتے ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا: تمہارے اصحاب یہی ہیں، جو نکلے ہیں ، میرے اور ان کے درمیان کتاب اللہ ہے ، اللہ نے اپنی کتاب میں ایک عورت اور مرد کا ذکر کیا ہے ۔ اگر دونوں کے درمیان ناچاقی کا خوف ہو تو ایک حکم مر د کی طرف سے ایک حکم عورت کی طرف سے بھیجو، مراد اصلاح کرنے کی ہو، اللہ عزوجل دونوں کو توفیق دے گا امت محمد بڑی ہے عزت اور ذمہ کے لحاظ سے ایک عورت اور مرد سے انہوں نے برا محسوس کیا میرے حوالے سے کہ میں نے معاویہ کو خط لکھا ( میں نے علی بن ابی طالب کو خط لکھا) ہمارے پاس سہیل بن عمرو نے ، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط لکھا: اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے ! ہم کیسے لکھیں ؟ سہیل نے کہا: لکھو محمد رسول اللہ ! انہوں نے کہا: اگر میں آپ کو رسول جانتا میں آپ کی مخالفت نہ کرتا ، اس کے بعد لکھا: یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے قریش سے صلح کی ! اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے : بے شک تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی بطور نمونہ ہے اس کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ان کی طرف عبداللہ بن عباس کو بھیجا میں ان کے ساتھ نکلا یہاں تک جب لشکر کے درمیان ہوا، تو ابن کواء کھڑا ہوا لوگوں کو خطبہ دیا، فرمایا: اے قرآن اٹھانے والو! یہ عبداللہ بن عباس ہے جو اس کو نہیں پہچانتا وہ پہچان لے ان کو میں کتاب اللہ سے پہچانتا ہوں یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اور ان کی قوم کے بارے میں نازل ہوئی جھگڑالو قوم ہے " اس کے ساتھی کی طرف دو، اسے اور کتاب اللہ کو نہ رکھو۔ ان کے خطیب کھڑے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! ہم ضرور اللہ کی کتاب کو رکھی گے ۔ اگر ہمارے پاس حق آیا ہم اس کی اتباع کریں گے اگر باطل آیا تو ہم کو باطل کے ساتھ پھینک دیں گے اور اس کو اس کے ساتھی کی طرف لوٹا دیں گے ۔ انہوں نے عبداللہ بن عباس کے لیے تین دن کتاب رکھی ان میں سے چار ہزار نے اپنے غلط نظریے سے رجوع کر لیا، سارے توبہ کرکے ان میں ابن کواء بھی تھا، یہاں تک کہ آپ نے حضرت علی پر ان کو کوفہ میں داخل کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو بقیہ کی طرف بھی بھیجا، فرمایا: ہمارا اور ان لوگوں کا معاملہ وہی ہے ، جو تم نے دیکھا ہے ، پس ٹھہراؤ جہاں تم نے چاہا ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہے کہ خون نہ بہانا ناجائز، راستہ یا نہ کاٹو گے یا آدمی کو نہ مارو گے، اگر تم نے ایسا کیا تو بے شک ہم تم سے جنگ کریں گے برابری بے شک اللہ عزوجل خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، اس کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابن شداد ! آپ نے ان کو قتل کیا تھا؟ عرض کی : اللہ کی قسم ! ان کی طرف نہیں بھیجا۔ یہاں تک کہ انہوں نے راستہ توڑا اور خون بہایا، ذمہ توڑا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم ! وقعی ؟ حضرت شداد نے عرض کی : اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ، بے شک انہوں نے کہا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نےفرمایا: جو بات مجھے اہل عراق کی طرف سے پہنچی ہے وہ بیان کرتے ہیں ذالثدیہ، دو مرتبہ کہا حضرت شداد نے فرمایا: میں نے اس کو دیکھا اس حال میں کہ حضرت کے ساتھ کھڑا تھا، مقتولوں میں آپ نے لوگوں کو بلوایا فرمایا: کیا تم اسے پہچانتے ہو، اکثریت نے کہا: میں نے اس کو بنی فلاں کی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان میں کوئی بھی نہیں آیا مگر یہی ایک ہی لے کر ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت علی کا ارشاد کیا تھا جس وقت آپ کھڑے ہوئے جس طرح اہل عراق گمان کرتے تھے ؟ میں نے آپ سے فرماتے ہوئے سنا اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا آپ نے اس کے علاوہ بھی سنا آپ سے ؟ حضرت شداد نے کہا: اللہ کی قسم نہیں ! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جی ہاں ! اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا! اللہ علی پر رحم کرے ! ان کا کلام نہیں تھا وہ کسی شئے کو پسند کرتے تھے تو آپ فرماتے تھے اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا اہل عراق چلے گئے وہ آپ پر جھوٹ بولتے آپ کی گفتگو میں اضافہ کرتے ہیں۔

عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عِيَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 474

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 475

475 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا يزيد بن زريع حدثنا عوف حدثنا محمد بن سيرين حدثنا عبيدة السلماني قال : لما كان حيث أصيب أهل النهروان Y قال لنا علي : ابتغوا فيهم فإنهم إن كانوا القوم الذين ذكرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن فيهم رجلا مخدج اليد أو مثدن اليد قال فابتغيناه فوجدناه فدعوناه إليه فقام عليه فقال : الله أكبر لولا أن تبطروا لحدثتكم ما قضى الله على لسان رسوله صلى الله عليه و سلم لمن قتل هؤلاء قال : قلت : أنت سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : إي ورب الكعبة إي ورب الكعبة قال فبلغ ذلك بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم كأنها حسدته على ذلك قال عوف : عمدا أمسكت عنها K إسناده صحيح

حضرت عبیدہ السلمانی فرماتے ہیں کہ اہل نہروان کو مار گیا ۔ ہم کو حضرت علی نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی کو تلاش کرو ان میں ایک آدمی ہوگا جس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ہے اس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہوگا، ہم نے اس کو تلاش کیا ہم نے اس کو پایا ہم نے حضرت علی کو بلوایا حضرت علی اس کے پاس کھڑے ہوئے فرمایا: اللہ اکبر ! اگر تم عار نہ دلاتا میں تم کو ضرور بتاتا جو اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر اس کو قتل کے ثواب لکھا ہے ۔ میں نے عرض کی: آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے ؟ حضرت علی نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم ! رب کعبہ کی قسم ! میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض ازواج تک پہنچی تو ان تمام نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں جان بوجھ کر اس حوالہ سے خاموش رہا۔

عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 475

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 476

476 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا عبد الرحمن بن العريان الحارثي حدثنا الأزرق بن قيس عن رجل من عبد القيس قال : شهدت عليا يوم قتل أهل النهروان قال Y قال علي حين قتلوا : علي بذي الثديه أو المخدج ذكرمن ذلك شيئا لا أحفظه قال : فطلبوه فإذا هم بحبشي مثل البعير في منكبه مثل ثدي المرأة عليه ـ قال عبدالرحمن أراه قال ـ شعر فلو خرج روح إنسان من الفرح لخرج روح علي يومئذ قال : صدق الله ورسوله من حدثني من الناس أنه رآه قبل مصرعه هذا فأنا كذاب K إسناده ضعيف لانقطاعه

عبدالقیس کے ایک آدمی سے روایت ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں نہروان کے قتل کرنے کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، پھر فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جس وقت ان کو قتل کیا ، فرمایا: میرے پاس وہ لاؤ جس کا ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے ۔ اس طرح کا کوئی لفظ ذکر کیا جو مجھے یاد نہیں ، انہوں نے اس کو تلاش کیا وہ حبشی اس پر بال تھے جس طرح اونٹ کے کندھے پر ہوتے ہیں عورت کے پستان کی طرح ۔ حضرت عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا اس پر بات تھے اگر انسان کی روح خوشی سے نکلتی ہوتی تو ضرور حضرت علی کی روح خوشی سے اس دن نکل جاتی ، فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا: کون ہے جو لوگوں میں سے مجھے بتائے اس کو گرنے سے پہلے اس نے دیکھا یہ جھوٹا تھا۔

رَجُلٍ، مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْعُرْيَانِ الْحَارِثِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 476

chevron_left Previous
1…171819…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter