Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 393

393 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يزيد بن هارون حدثنا هشام عن محمد عن عبيدة Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الخندق : ملأ الله قبورهم وبطونهم نارا كما شغلونا عن صلاة الوسطى صلاة العصر حتى غابت الشمس K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: اللہ عزوجل ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھرے جس طرح انہوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ہے ۔

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدَةُ ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 393

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 394

394 - حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي و أبو خيثمة قالا : حدثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن الحسن بن محمد عن عبيد الله بن أبي رافع كاتب علي قال Y سمعت عليا يقول : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا و الزبير و المقداد فقال : انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ فإن بها ظعينة ومعها كتاب فخذوه منها فانطلقنا نتعادى حتى أتينا الروضة فإذا نحن بالظعينة فقلنا : أخرجي الكتاب فقالت ما معي كتاب فقلنا لتخرجن الكتاب أو لنفتشن الثياب فأخرجته من عقاصها فأتينا النبي صلى الله عليه و سلم فإذا فيه : من حاطب بن أبي بلتعة إلى أهل مكة يخبرهم ببعض أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعا رسول الله حاطبا فقال : ما هذا ؟ قال : لا تعجل علي إنما كنت ملصقا في قريش ولم أكن من أنفسهم وليس أحد من أصحابك إلا له بمكة من يحميه ويخلفه في أهله غيري فأردت أن أتخذ عندهم يدا وما فعلته كفرا ولا ارتدادا عن ديني ولا رضا بالكفر بعد الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صدقكم فقال عمر : دعني يا رسول الله أضرب عنق هذا المنافق فقال له : إنه شهد بدرا وما يدريك لعل الله اطلع على أهل بدر فقال : اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم K إسناده صحيح

حضرت عبید اللہ بن ابی رافع ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاتب سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور زبیر اور مقدار کو بھیجا ، فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ روخت خاک کے مقام پر پہنچا وہاں ایک بوڑھی ہوگی، اس کے پاس خط ہو گا ، اس کے پاس پاؤ گے ۔ جب ہم بوڑھی عورت کے پاس آئے ہم نے کہا: خط نکالو! اس نے کہا: میرے پاس خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا :تو ضرور خط نکال ورنہ تیرے کپڑے چاک کیے جائیں گے ۔ تو اس نے اپنے بالوں کی مینڈھیوں سے نکالا ، ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے ۔ اس میں لکھا تھا ۔ حاطب بن ابی بلتعہ الیٰ اھل مکہ! ان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض معاملات کی خبر دی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاطب کو بلوایا، فرمایا: یہ کیا ہے : حاطب نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے متعلق جلدی نہ کریں میں قریش سے ملا ہوا ہوں لیکن ان میں خود کو شامل نہیں کیا ہے، آپ کے صحابہ میں سے ایک ہے جس کے سب اہل خانہ مکہ میں ہیں ، میں اہل خانہ سے ہمدردی کی وجہ سے لکھا تھا، میں نے کفر نہیں کیا نہ میں اپنے دین سے پھرا ہوں نہ میں اسلام کے بعد کفر پر راضی ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا! حضرت عمر نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس منافق کی گردن نہ اڑا دوں ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے کہا: یہ بدر میں شریک ہواتھا ، آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یقیناً اللہ عزوجل اہل بدر پر مطلع تھا، اللہ عزوجل نے فرمایا: جو چاہو عمل کرو میں نے تم کو معاف کیا۔

عَلِيًّا ← عُبَيْدَ الله بْنَ أبِي رَافِعٍ كَاتِبُ عَلِيٍّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عبيد الله بن عمر الجشمي و أبو خيثمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 394

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 395

395 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار أخبرني الحسن بن محمد أن عبيد الله كاتب علي أخبره Y أنه سمع عليا يقول : بعثني رسول الله أنا و الزبير و المقداد قال سفيان : هؤلاء فرسان المؤمنين فقال : انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ فذكر نحوه K إسناده صحيح

حضرت عبید اللہ ، حضرت رضی اللہ عنہ کے کاتب بتاتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ، زبیر اور مقداد کوبھیجا، حضرت سفیان فرماتے ہیں : یہ حضرات تیز گھر سوار تھے، فرمایا: تم خاخ کے باغ کے مقام پر جاؤ اس کے بعد اوپر والی حدیث ہی ہے ۔

نَحْوَهُ إسناده صحيح ← انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ ← سفيان هؤلاء فرسان المؤمنين ← و الزبير و المقداد ← بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ← عَلِيًّا ← أَنَّهُ ← الحسن بن محمد أن عبيد الله كاتب علي ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 395

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 396

396 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل الطالقاني حدثنا محمد بن فضيل بن غزوان عن حصين بن عبد الرحمن السلمي عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي قال Y سمعت عليا وهو يقول : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا و الزبير و أبا مرثد السلمي وكلنا فارس فقال : انطلقوا حتى تبلغوا روضة خاخ فإن بها امرأة معها صحيفة من حاطب بن أبي بلتعة إلى المشركين فأتوني بها فأدركناها وهي تستند على بعير لها حيث قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : أين الكتاب الذي معك ؟ فقالت : ما معي كتاب فأنخنا بعيرها ففتشنا رحلها فقال صاحبي ما نرى معها شيئا فقلت : لقد علمنا ما كذبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم والذي نحلف به لتخرجنه أو لأجزرنك - يعني السيف - فلما رأت الجد أهوت إلى حجزتها وعليها إزار من صوف فأخرجت الكتاب فأتينا به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا حاطب : ما حملك على ما صنعت ؟ فقال يا رسول الله ما بي إلا أن أكون مؤمنا بالله ورسوله ولكني أردت أن يكون لي عند القوم يد يدفع الله بها عن أهلي ومالي ولم يكن لأحد من أصحابك إلا ومن قومه هناك من يدفع الله بها عن أهله وماله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صدق فلا تقولوا له إلا خيرا فقال عمر : يا رسول الله إنه قد خان الله ورسوله والمؤمنين فدعني حتى أضرب عنقه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو ليس من أهل بدر وما يدريك يا عمر لعل الله اطلع على أهل بدر : اعملوا ما شئتم فقد وجبت لكم الجنة ؟ K إسناده صحيح

حضرت عبید اللہ بن ابی رافع ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاتب سے روایت کرتےہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور زبیر اور ابو مقداد سلمی ، ہم سارے شاہسوار تھے ، کو بھیجا ، فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ خاخ کے باغ کے مقام پر ، وہاں ایک بوڑھی ہوگی ، اس کے پاس خط ہوگا، اس کے پاس پاؤ گے ۔ حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مشرکین کی طرف ، پس وہ خط لے کر آؤ۔ جب ہم بوڑھی عورت کے پاس آئے تو وہ اپنے اونٹ سے ٹیک لگائے ہوئے تھی، اسی مقام پر جہاں کا ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کہا: خط نکالو! اس نے کہا : میرے پاس خط نہیں ہے۔ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کے کجاوے کی خوب تلاشی کی، میرے دونوں ساتھیوں نے کہا: ہم اس کے پاس تو کوئی چیز نہیں دیکھتے ہیں ، میں نے کہا: ہمیں اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے جھوٹ نہیں کہا، قسم ہے اس ذات کی جس کی ہم قسم اٹھاسکتے ہیں! تو ضرور خط نکالے گی یا میں تلوار سے تیرے ٹکڑے کردوں گا، جب اس نے دیکھا کہ یہ تو سنجیدہ ہیں تو اس نے اپنے بالوں کے جونڈوں کی طرف اشارہ کیا، اس نے اون کی چادر اپنے اوپر لی ہوئی تھی۔ میں نے کہا: تو ضرور خط نکال ورنہ تیرے کپڑے چاک کیے جائیں گے۔ تو اس نے اسے نکالا ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے ۔ فرمایا: یہ کیا ہے : حاطب نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والا ہوں ، لیکن میں نے ارادہ کیا کہ میرا اس قوم پر چھوٹا سا احسان ہو جائے ، جس کی وجہ سے اللہ میرے مال اور اہل کی حفاظت کرے ، آپ کے صحابہ میں سے کسی کی قوم کا کوئی آدمی وہاں نہیں ہے ۔ جو اس کے اہل اور مال کی حفاظت کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا ! اس کو خیر کہو۔ حضرت عمر نے عرض کی: اس نے اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس منافق کی گردن نہ اڑا دوں ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے کہا : یہ بدر میں شریک ہوا تھا ، آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یقیناً اللہ عزوجل اہل بدر پر مطلع تھا، اللہ عزوجل نے فرمایا: جو چاہو عمل کرو ، جنت تمہارے لیے ضروری ہے ۔

و الزبير و أبا مرثد السلمي وكلنا فارس ← بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيًّا وَهُوَ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← حصين بن عبد الرحمن السلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 396

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 397

397 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل حدثني إسحاق بن سليمان الرازي عن أبي سنان عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن الحارث Y عن علي قال : لما أراد رسول الله مكة أرسل إلى أناس من أصحابه أنه يريد مكة فيهم حاطب بن أبي بلتعة وفشا في الناس أنه يريد حنين قال : فكتب حاطب إلى أهل مكة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم يريدكم قال : فأخبر به رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فبعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا و أبا مرثد وليس معنا رجل إلا ومعه فرس فقال : ائتوا روضة خاخ فإنكم ستلقون بها امرأة معها كتاب فخذوه منها قال : فانطلقنا حتى رأيناها في المكان الذي ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلنا لها : هات الكتاب فقالت : ما معي كتاب قال : فوضعنا متاعها ففتشناها فلم نجده في متاعها فقال أبو مرثد : فلعل أن لا يكون معها كتاب فقلنا ما كذب رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا كذبنا فقلنا لها لتخرجنه أو لنعرينك فقالت : أما تتقون الله أما أنتم مسلمون ؟ فقلنا : لتخرجنه أو لنعرينك قال عمرو بن مره : فأخرجته من حجزتها - فقال حبيب بن أبي ثابت : - وأخرجته من قبلها - فأتينا النبي صلى الله عليه و سلم فإذا الكتاب من حاطب بن أبي بلتعة فقام عمر فقال : يا رسول الله خان الله خان رسوله ائذن لي فأضرب عنقه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أليس قد شهد بدرا ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال عمر : بلى ولكنه قد نكث وظاهر أعداءك عليك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فلعل الله قد اطلع على أهل بدر فقال : اعملوا ما شئتم ففاضت عينا عمر فقال : الله ورسوله أعلم وأرسل رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى حاطب فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ قال يا رسول الله كنت امرءا ملصقا في قريش فكان بها أهلي ومالي ولم يكن من أصحابك أحد إلا وله بمكة من يمنع أهله وماله فكتبت إليهم بذلك والله يا رسول الله إني لمؤمن بالله وبرسوله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صدق حاطب فلا تقولوا لحاطب إلا خيرا قال حبيب : فأنزل الله : { يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء تلقون إليهم بالمودة } [ الممتحنة : 1 ] K إسناده ضعيف

حضرت عبید اللہ بن ابی رافع ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاتب سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا فرماتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور حضرت زبیر اور حضرت مقداد کو بھیجا، فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ خاخ کے باغ کے مقام پر پہنچا وہاں ایک عورت ہوگی، اس کے پاس خط ہوگا، اس کے پاس پاؤ گے ۔ جب ہم بوڑھی عورت کے پاس آئے ہم نے کہا: خط نکالو! اس نے کہا : میرے پاس خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا تو ضرور خط نکال ورنہ تیرے کپڑے چاک کیے جائیں گے ۔ تو اس نے اپنے بالوں کی مینڈھیوں سے نکالا ، ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے ، اس میں لکھا تھا : حاطب بن ابی بلتعہ الیٰ اھل مکہ ! ان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض معاملات کی خبر دی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاطب کو بلوایا، فرمایا: یہ کیا ہے : حاطب نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے متعلق جلدی نہ کریں ، میں قریش سے ملا ہوا ہوں لیکن ان میں خود کو شامل نہیں کیا ہے، میرے سب اہل خانہ مکہ میں ہیں ، میں نے اہل خانہ سے ہمدردی کی وجہ سے لکھا تھا، میں نے کفر نہیں کیا نہ میں اپنے دین سے پھرا ہوں ۔نہ میں اسلام کے بعد کفر پر راضی ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا! حضرت عمر نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس منافق کی گردن نہ اڑادوں ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے کہا: یہ بدر میں شریک ہوا تھا ، آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یقیناً اللہ عزوجل اہل بدر پر مطلع ہوا تھا، اللہ عزوجل نے فرمایا: جو چاہو عمل کرو میں نے تم کو معاف کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے ، عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ہر بات سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حاطب کی طرف پیغام بھیجا، فرمایا: آپ کو یہ کام کرنے پر کس چیز نے تیار کیا؟ حضرت حاطب نے عرض کی: میں وہ آدمی ہوں جس کا معاملہ قریش سے اس طرح ملا ہوا ہے کہ ان کے ہاں میرے گھر والے اور مال ہے، آپ کے صحابہ میں سے ہر کسی کا کوئی نہ کوئی اس کے اہل اور مال کی حفاظت کرنے والا ہے ، پس میں نے ان کی طرف یہ لکھا : قسم ہے اے اللہ کے رسول ! میں اللہ اور اس کے رسول پر پکا یقین رکھنے والا ہوں ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حاطب نے سچ کہا ہے ، تم حاطب کے بارے اچھا کلمہ کہو۔ حضرت حبیب فرماتےہیں: اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:" اے ایمان والو! نہ بناؤ میرے دشمن اور اپنے دشمن کو ، دوست اس طرح کہ تم ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجو"۔ ( الممتحنہ:1)

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي سِنَانٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 397

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 398

398 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا ابن عيينة عن عمرو أخبره الحسن بن محمد أن عبيد الله بن أبي رافع أخبره Y أن عليا قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم و المقداد و الزبير إلى روضة خاخ فقال : إن بها امرأة ومعها كتاب قال : فخرجنا تتعادى بنا خيلنا فأقبلنا فإذا نحن بالمرأة فقلنا : لتخرجن الكتاب أو لنفتشن الثياب قال : فأخرجت من عقاص شعرها كتابا فإذا فيه : من حاطب بن أبي بلتعة إلى أهل مكة يخبرهم ببعض أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما هذا يا حاطب ؟ قال : يا رسول الله ما كتبته ارتدادا عن ديني واعتذر بشيء - معناه أنه كان بها غريبا أ و نحو هذا - فقال عمر : يا رسول الله دعني أضرب عنق هذا المنافق قال : وما يدريك يا عمر لعل الله قد اطلع إلى أهل بدر فقال : اعملوا ما شئتم فقد غفرت لكم K إسناده صحيح

حضرت عبید اللہ بن ابی رافع ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاتب سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنافرماتے ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور زبیر اور مقداد کو بھیجا ، فرمایا: جاؤ یہاں تک کہ خاخ کے باغ کے مقام پر پہنچا وہاں ایک بوڑھی ہو گی، اس کے پاس خط ہوگا، اس کے پاس پاؤ گے ۔ جب ہم اس عورت کے پاس آئے ہم نے کہا: خط نکالو! اس نے کہا : میرے پاس خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا : تو ضرور خط نکال ورنہ تیرے کپڑے چاک کیے جائیں گے ۔ تو اس نے اپنے بالوں کی مینڈھیوں سے نکالا۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لےکر آئے۔ اس میں لکھا تھا: حاطب بن ابی بلتعہ الیٰ اھل مکہ ! ان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض معاملات کی خبر دی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاطب کو بلوایا، فرمایا: یہ کیا ہے : حاطب نےعرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے اپنے دین سے پھرنے کی وجہ سے اسے نہیں لکھا ، انہوں نے جس طریقے سے عذر پیش کیا، اس کا معنی ہے کہ وہ غریب آدمی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اس منافق کی گردن نہ اڑا دوں ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر سے کہا: یہ بدر میں شریک ہوا تھا، آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یقیناً اللہ عزوجل اہل بدر پر مطلع ہوا تھا، اللہ عزوجل نے فرمایا: جو چاہو عمل کرو میں نے تم کو معاف کیا۔

أَنَّ عَلِيًّا ← الحسن بن محمد أن عبيد الله بن أبي رافع ← عَمْرٍو، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 398

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 399

399 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا شريك عن الأعمش عن المنهال عن عباد بن عبد الله او عبد الله بن عباد Y عن علي قال : صعد المنبر يوم الجمعة فخطب ثم قام إليه الأشعث فقال : غلبتنا عليك هذه الحميراء فقال : من يعذرني من هؤلاء الضياطرة ! يتخلف أحدهم يتقلب على حشاياه وهؤلاء يهجرون إلى ذكر الله إن طردتهم إني إذا لمن الظالمين أما والله لقد سمعته يقول : ليضربنكم على الدين عودا كما ضربتموهم عليه بدءا K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا، حضرت اشعث آپ کی طرف کھڑے ہوئے ، عرض کی: ہم پر یہ حمیراء غالب آگئی! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے ان بے فائدہ لوگوں سے معذرت کون دلائے گا؟ ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے اور اپنے پیٹ کے بل لوٹ پوٹ ہوتا رہتا ہے اور ان لوگوں کے دن اللہ کے ذکر میں گزرتے ہیں، اگر میں ان کو دھتکار دوں تو میں ظالم شمار ہوں گا، لیکن قسم ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : وہ ضرور تمہیں دین پر لوٹا کر لائے گا جس طرح تم نے ان کو ابتداء میں دین پر دیکھا تھا۔

عَلِيٍّ، ← عباد بن عبد الله او عبد الله بن عباد ← الْمِنْهَالُ ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 399

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 400

400 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا يحيى بن آدم حدثنا عبيد الله الأشجعي عن سفيان عن عثمان بن المغيرة عن سالم بن أبي الجعد عن علي بن علقمة الأنماري Y عن علي بن أبي طالب قال : لما نزلت { يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواكم صدقة } [ المجادلة : 12 ] قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما ترى ؟ دينار ؟ قال : قلت : لا يطيقونه قال : فكم ؟ قلت : شعيرة قال : إنك لزهيد قال : فنزلت { أأشفقتم أن تقدموا بين يدي نجواكم صدقات } الآية [ المجادلة : 13 ] قال : فبه خفف الله عن هذه الأمة

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت " یا ائھاالزین امنو اذا ناجیتم " نازل ہوئی تو مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کا دینار کے متعلق کیا خیال ہے ؟ میں نے عرض کی : اس کی طاقت نہیں رکھیں گے ۔ اپ نے فرمایا: کتنا ہے ؟ میں نے عرض کی: جو ہے ، آپ نے فرمایا: وہ بھی زیادہ ہے ، تو یہ آیت نازل ہوئی : ا اشفقتسم ان تقدمو ابن یدی نجواکم صدقات"۔ اس آیت میں اللہ نے اس امت پر آسانی کردی۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الْأَنْمَارِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 400

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 401

401 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا يحيى بن سعيد عن الأعمش عن عروة بن مرة عن أبي البختري Y عن علي قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن وأنا حديث السن ليس لي علم بالقضاء قال : فضرب صدري وقال : إن الله سيهدي قلبك ويثبت لسانك قال : فما شككت في قضاء بين اثنين بعده K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا، میں نے عرض کی: میں کم عمر ہوں میرے پاس فیصلہ کے لیے علم نہیں ہے ، آپ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور فرمایا: بے شک اللہ آپ کے دل اور زبان کو قدرت دے گا۔ حضرت علی فرماتے ہیں : اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں دشواری نہیں ہوئی۔

إن الله سيهدي قلبك ويثبت لسانك ← فضرب صدري ← حديث السن ليس لي علم بالقضاء ← بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عروة بن مرة ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 401

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 402

402 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا حماد بن زيد عن مجالد بن سعيد عن الشعبي عن الحارث Y عن علي قال : لعن محمد صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه والواشمة والمستوشمة والحال والمحلل له ومانع الصدقة ونهى عن النوح ولم يقل : لعن K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے اور کھلوانے اور اس کا گواہ اور اس کو لکھنے پر، بال نوچنے والی اور نوچوانے والی پر حلالہ کرنے والے اور کروانے والے پر ، زکواۃ سے روکنے والے پر اور نوحہ کرنے والے پر۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 402

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 403

403 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد الرحمن عن سفيان [ عن أبي إسحاق ] عن هانئ بن هانئ Y عن علي قال : جاء عمار يستأذن على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ائذنوا له مرحبا بالطيب المطيب K إسناده حسن

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمار نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت چاہی ، آپ نے فرمایا: خوش آمدید ! پاک اور پاکیزہ کو اجازت دے دو۔

ائذنوا له مرحبا بالطيب المطيب إسناده حسن ← جاء عمار يستأذن على النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 403

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 404

404 - حدثنا المقدمي و الحسن بن حماد قالا : حدثنا عثام بن علي حدثنا الأعمش عن أبي إسحاق عن هانئ بن هانئ Y قال كنا عند علي جلوسا فدخل عمار فقال : مرحبا بالطيب المطيب سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : عمار ملئ إيمانا إلى مشاشته K إسناده حسن

حضرت ھانی بن حانی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت عمار رضی اللہ عنہ داخل ہوئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خوش آمدید پاک اور پاکیزہ کو ! میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : عمار اپنے کندھوں تک ایمان سے بھرا ہوا ہے۔

عمار ملئ إيمانا إلى مشاشته إسناده حسن ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← كنا عند علي جلوسا فدخل عمار فقال مرحبا بالطيب المطيب ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← المقدمي و الحسن بن حماد

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 404

chevron_left Previous
1…111213…31
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter