Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 200

200 - حدثنا أبو خيثمة و أبو سعيد قالا : حدثنا سفيان بن عيينة عن عمرو عن طاووس Y عن ابن عباس قال : باع سمرة خمرا فقال عمر : قاتل الله سمرة ألم يعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لعن الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فباعوها وأكلوا أثمانها ؟ K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نمرہ نے شراب کو فروخت کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ سمرہ کو ہلاک کرے۔ کیا آپ نہیں جانتے ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے لعنت فرمائی یہود پر! ان پر چر بی حرام کی گئی انہوں نے اس کو فروخت کرنا شروع کیا اور اس کے پیسے کھائے ۔

بَاعَ سَمُرَةُ خَمْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ، أَلَمْ يَعْلَمْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو خيثمة و أبو سعيد

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 200

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 201

201 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد عن عبد الله بن المختار عن عبد الملك بن عمير عن عبد الله بن الزبير Y عن عمر بن الخطاب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من ساءته سيئته وسرته حسنته فهو المؤمن K رجاله رجال الصحيح غير إبراهيم بن الحجاج السامي وهو ثقة

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو گناہ برا لگے اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 201

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 202

202 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن عبد الله بن المختار بإسناده نحوه قال Y فهو مؤمن K رجاله ثقات

حضرت عبداللہ بن مختار اپنی سند سے اس طرح روایت ہے کہ وہ مومن ہے۔

فهو مؤمن رجاله ثقات ← عبد الله بن المختار بإسناده نحوه ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 202

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 203

203 - حدثنا أبو عبيدة بن الفضيل بن عياض حدثنا مالك بن سعير عن الأجلح عن أبي الزبير عن جابر Y عن عمر بن الخطاب قال : ولا أراه إلا أنه قد رفعه إنه حكم في الضبع يصيبه المحرم بشاة وفي الأرنب عناق وفي اليربوع جفرة وفي الظبي كبش

حضرت عمر رضی اللہ عنہ مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ محرم اگر گوہ کو مارے گا تو اسے بکری دینی پڑے گی، خرگوش کو مارنے پر بکری کا بچہ جنگلی چوہا مارنے پر بکری کا چار ماہ کا بچہ دینا پڑے گا ہرن مارنے پر مینڈھا دینا پڑے گا ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الأَجْلَحِ، ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 203

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 204

204 - حدثنا أحمد بن حاتم الطويل قال : حدثنا عبد العزيز بن محمد عن صالح بن محمد بن زائدة عن سالم عن أبيه Y عن جده : عمر بن الخطاب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من وجدتموه غل فاضربوه وأحرقوا متاعه قال : فدخلت على مسلمة بن عبد الملك فأخذ رجلا قد غل فدعا سالما فحدثه الحديث قال : فأحرق متاعه ووجد في متاعه مصحفا فقوم المصحف وتصدق بقيمته K إسناده ضعيف

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو تم پاؤ خیانت کر تے ہوئے ، اس کو مارو اور اس کے سامان کو جلا دو ۔ حضرت سالم فرماتے ہیں کہ میں مسلمہ بن عبد الملک کے پاس آیا۔ اس نے ایک آدمی کو پکڑا ہوا تھا۔ اس نے خیانت کی تھی ، اس نے مجھے بلایا۔ حضرت سالم نے یہ حدیث بیان کی ، اس کے سامان کو جلایا گیا، اس کے سامان میں قرآن پاک پایا گیا، اس مصحف کی قیمت لگائی گئی ، اس قیمت کو صدقہ کر دیا۔

جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← صالح بن محمد بن زائدة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أحمد بن حاتم الطويل

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 204

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 205

205 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن حصين عن عمرو بن ميمون Y عن عمر بن الخطاب قال : لما أصيب قال : له عبد الله بن عمر : ألا تستخلف يا أمير المؤمنين ؟ قال : ما أجد أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء الذين توقي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو عنهم راض فسمى عليا و عثمان و طلحة و الزبير و عبد الرحمن بن عوف و سعد بن أبي وقاص وقال : ليشهدهم عبد الله بن عمر وليس له من الأمر شيء فمن استخلفوه فهو الخليفة بعدي فإن أصابت سعدا وإلا فليستعن به الخليفة بعدي فإني لم أنزعه من ضعف ولا خيانة K إسناده صحيح

حضرت عمرو بن میمون رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ ہی سے عرض کی ، اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ کیا آپ رضی اللہ عنہ کسی کو خلیفہ نہیں بنائیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ان تمام سے اس خلافت کا زیادہ حق دار کسی کو نہیں پایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال اس حالت میں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے راضی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ اور ز بیر رضی اللہ عنہ ،عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا نام لیا تا کہ عبداللہ بن عمر نے ان پر گواہ ہو جائے کہ عبداللہ کے لیے کوئی شے نہیں ہے ۔ ان میں سے جس کو خلیفہ بناؤ گے میرے بعد خلیفہ ہے اگر رائے درست ہے ورنہ میرے بعد جو خلیفہ ہوگا اس کی مدد کرنا ، کیونکہ میں اپنی طرف سے کمزوری اور خیانت نہیں لینا چاہتا ہوں ۔

له عبد الله بن عمر ألا تستخلف يا أمير المؤمنين ← لما أصيب ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← حُصَيْنٍ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 205

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 206

206 - حدثنا حسين بن الأسود الكوفي حدثنا أبو أسامة حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن ابن عمر قال Y حضرت أبي حين أصيب قال : فأثنوا عليه خيرا فقال : راهب وراغب قالوا : أولا تستخلف ؟ قال : أتحمل أمركم حيا وميتا ؟ لوددت أن حظي منكم الكفاف لا علي ولا لي ثم قال : إن أستخلف فقد استخلف من هو خير مني وإن أترككم فقد ترككم من هو خير مني رسول الله صلى الله عليه و سلم قال عبد الله بن عمر : فعرفت أنه حين ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه غير مستخلف K إسناده حسن

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کے پاس آیا جس وقت ان کو زخمی کیا گیا۔ اس پر بھلائی کی تعریف کی ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ڈرتے ہوئے اور رغبت کر تے ہوئے عرض کی: آپ خلیفہ نہیں بنائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم زندوں اور مردوں کا بوجھ مجھ پر ڈالنا چاہتے ہو! میں چاہتا ہوں کہ میرا حصہ میرے لیے کافی ہو آپ لوگوں کا بوجھ نہ میرے ذمہ ہونہ آپ کے ذمہ ۔ پھر فرمایا اگر میں خلیفہ بناؤں تو بے شک مجھ سے بہتر نے بنایا تھا اگر میں چھوڑ دوں تو بے شک مجھ سے بہتر نے چھوڑا ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے پہچان لیا جس وقت آپ نے رسول . اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپ خلیفہ نہیں بنانا چاہتے ہیں ۔

أولا تستخلف ← راهب وراغب ← فأثنوا عليه خيرا ← حضرت أبي حين أصيب ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← حسين بن الأسود الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 206

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 207

207 - حدثنا عبد الله بن أبان الكوفي حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد الله بن عمر عن الزهري عن أبي بكر بن عبيد الله عن ابن عمر Y عن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يأكل أحدكم بشماله فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بشماله

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی بائیں ہاتھ سے نہ کھاۓ ، بیشک شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے ۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← أبي بكر بن عبيد الله ← الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عبد الله بن أبان الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 207

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 208

208 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا يزيد بن زيرع حدثنا معمر عن الزهري حدثنا مالك بن أوس بن الحدثان قال Y اصطرف مني طلحة بن عبيد الله ورقا بذهب فقال : أنظرنا حتى تأتي غلتنا من الغابة فسمعه عمر بن الخطاب وهو يقول قال : فقال : لا والله لا تفارقه حتى توفيه فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الذهب بالورق ربا إلا هاء وهاء والبر بالبر ربا إلا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا إلا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا إلا هاء وهاء K إسناده صحيح

حضرت مالک بن اوس بن حدثان روایت کرتے ہیں کہ کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ نے مجھ سے چاندی لی سونے کے بدلے فرمایا کہ مجھے مہلت دو یہاں تک کہ ہمارے پاس غابہ سے غلہ آئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سنا تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم !نہیں! تو اس سے جدا نہ ہو یہاں تک کہ معاملہ پورا کر کیونکہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: سونا چاندی کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر ہو تو جائز ہے گندم گندم کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر کھجور کھجور کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر جائز ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لا والله لا تفارقه حتى توفيه فإني ← أنظرنا حتى تأتي غلتنا من الغابة فسمعه عمر بن الخطاب وهو ← اصطرف مني طلحة بن عبيد الله ورقا بذهب ← مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يزيد بن زيرع ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 208

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 209

209 - حدثنا داود بن رشيد حدثنا عباد بن العوام حدثنا سفيان بن حسين عن الزهري عن مالك بن أوس بن الحدثان Y أن عمر بن الخطاب باع من طلحة بن عبيد الله مئة دينار بورق فقال عمر : مثلها في يده قلت : مالي مال حتى يجيء صاحب ضيعتي من الغابة فقال : لا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الذهب بالفضة ربا إلا هاء وهاء

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ بن عبیداللہ سے سو دینار چاندی کے بدلے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے برابر جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میں نے عرض کی : میرے پاس مال نہیں ہے یہاں تک کہ میرا ساتھی غا بہ سے لے کر آئے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں ! میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ سونا چاندی کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر برابر برابر جائز ہے ۔

مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 209

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 210

210 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن بن سلم Y أن عمر بن الخطاب استعمل ابن عبد الحارث على أهل مكة فقدم عمر فاستقبله نافع بن عبد الحارث واستخلف على أهل مكة عبد الرحمن بن أبزى فغضب عمر حتى قام في الغرز فقال : أتستخلف على آل الله عبد الرحمن بن أبزى ؟ قال : إني وجدته أقرأهم لكتاب الله وأفقههم في دين الله فتواضع لها عمر حتى اطمأن على رحله فقال : لئن قلت ذاك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله سيرفع بهذا الدين أقواما ويضع به آخرين K إسناده ضعيف

حضرت حسن بن سلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عبد الحارث کو اہل مکہ پر امیر مقرر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مکہ آئے ، نافع بن عبد الحارث نے استقبال کیا اور اہل مکہ پر عبد الرحمن بن ابری کو اپنا نائب مقرر کر آئے ۔ حضرت عمر بالا کو غصہ آیا یہاں تک کہ غصہ میں کھڑے ہوۓ ، فرمایا: کیا اللہ کی مخلوق پر عبدالرحمن بن از دی کو نائب بنا کر آۓ ہو؟ حضرت نافع نے عرض کی : میں ان کو قرآن کا قاری پاتا ہوں ، اللہ کے دین کو جاننے والا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے تواضع کی، یہاں تک کہ سواری پر سیدھے ہوکر بیٹھے فرمایا: اگر اس طرح ہے جس طرح تو نے کہا، بے شک میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس دین کے ذریعے کئی لوگوں کو بلند کرتا اور کئی لوگوں کو پست کرتا ہے۔

الحسن بن سلم ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 210

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 211

211 - حدثنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق قال : سمعت أبي يقول : حدثنا الحسين بن واقد عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت أن عبد الرحمن بن أبي ليلى حدثه قال Y خرجت مع عمر بن الخطاب إلى مكة فاستقبلنا أمير مكة نافع بن علقمة - وسمي بعم له يقال له نافع - فقال : من استخلفت على مكة ؟ قال : استخلفت عليها عبد الرحمن بن أبزى قال : عمدت إلى رجل من الموالي فاستخلفته على من بها من قريش وأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم وجدته أقرأهم لكتاب الله ومكة أرض محتضرة فأحببت أن يسمعوا كتاب الله من رجل حسن القراءة قال : نعم ما رأيت إن الله يرفع بالقرآن أقواما ويضع بالقرآن أقواما وإن عبد الرحمن بن أبزى ممن رفعه الله بالقرآن K إسناده صحيح

عبدالرحمن بن ابولیلی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عبدالحارث کو اہل مکہ پر امیر مقرر کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مکہ آۓ ، امیر مکہ نافع بن عبد الحارث نے ہمارا استقبال کیا ان کا نام ان کے چچا نافع کے نام پر رکھا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مکہ پر نائب کس کو بنایا؟ کہا: عبد الرحمن بن از دی کو اپنا نائب مقرر کر آیا۔ فرمایا: کیا تو نے ایک غلام آدمی کو چنا‘ قریشیوں اور صحابیوں پر عبدالرحمن بن ابر ملی کو نائب بنا کر آئے ہو؟ حضرت نافع نے عرض کیا: جی ہاں! میں ان کو دوسروں سے زیادہ قرآن کا قاری پاتا ہوں، اللہ کی کتاب کو جاننے والا ہے ۔ مکہ کا علاقہ چھوٹا ہے میں نے پسند کیا کہ وہ ایسے آدمی سے قرآن میں جو خوبصورت قرآت کرتا ہے فرمایا: اگر اس طرح ہے جس طرح تو نے کہا، بے شک میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس دین کے ذریعے کئی لوگوں کو بلند کرتا اور کئی لوگوں کو پست کرتا ہے۔ بے شک عبد الرحمن بن ابری ان میں شامل ہے جن کو اللہ نے قرآن کے صدقے بلندی عطا فرمائی ہے ۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 211

chevron_left Previous
1…567…11
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter