Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 188

188 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه قال Y سمعت عمر بن الخطاب يقول : فيم الرملان والكشف عن المناكب وقد أطأ الله الإسلام ونفى الشرك ؟ قال : ثم قال : وما ذلك ؟ ندع شيئا كنا نفعله على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ ! K إسناده صحيح

حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رمل اور کندوں کو ننگا رکھنا بے شک اللہ نے اسلام کو بلند کر دیا ۔ اور شرک کی نفی کر دی ہے۔ پھر فرمایا: کیوں ہم ایسی اشیاء ؟ کو چھوڑ دیں جو ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کرتے تھے؟

ثُمَّ ← المناكب وقد أطأ الله الإسلام ونفى الشرك ← فيم الرملان والكشف ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 188

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 189

189 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد الرحمن عن سفيان عن ابراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال Y رأيت عمر بن الخطاب يقبل الحجر ويقول : إني لأقبلك وإني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ولكني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بك حفيا K إسناده صحيح

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا حجرے اسود کو بوسہ دیتے ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تیرا بوسہ لے رہا ہوں ، میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے ، تو نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہے۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھ پر مہربانی کرتے ہوئے دیکھا۔

رأيت عمر بن الخطاب يقبل الحجر ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 189

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 190

190 - حدثنا عبيد الله حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن عبد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر Y أن عمر كان يجمر مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم كل جمعة K إسناده ضعيف

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو لگاتے تھے ۔

نَافِعٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 190

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 191

191 - حدثنا القواريري حدثنا بشر بن المفضل و يحيى بن سعيد عن ابن عمر عن نافع Y أن ابن عمر حدثه أنه طلق امرأته تطليقة وهي حائض فاستفتى عمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : مر عبد الله بن عمر فليراجعها ثم ليمسكها حتى تطهر من حيضتها هذه فإذا حاضت حيضة أخرى وطهرت إن شاء فليطلقها قبل أن يجامعها وإن شاء فليمسكها فإنها العدة التي أمر الله أن يطلق لها النساء K إسناده صحيح

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فتوی پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ کوحکم دیں کہ وہ رجوع کر لیں ۔ پھر اس کو رو کے رھیں ، یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے ۔ جب دوسرا حیض آئے اور پاک ہو جائے ، اگر چاہے تو وہ جماع سے پہلے طلاق دے، اگر چاہے تو روک لے۔ بے شک عدت وہ ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے لیے عورتوں کوطلاق دو ۔

نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← بشر بن المفضل و يحيى بن سعيد ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 191

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 192

192 - حدثنا أبو سعيد القواريري حدثنا يزيد بن زريع و يحيى بن سعيد قالا : حدثنا عوف قال : حدثني علقمة بن عبد الله المزني Y قال يزيد في حديثه في مسجد البصرة قال : حدثني رجل قد سماه ونسي عوف اسمه وقال يحيى : حدثني رجل قال : كنت بالمدينة في مجلس فيه عمر بن الخطاب فقال لبعض جلسائه : كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصف الإسلام ؟ فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الإسلام بدأ جذعا ثم ثنيا ثم رباعيا ثم سديسا ثم بازلا فقال عمر فما بعد البزول إلا النقصان K إسناده ضعيف

حضرت عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں موجود تھا۔ بعض آپ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھنے والوں نے پوچھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسلام ایک سے شروع ہوا ہے، پھر دو سے پھر چار سے پھر چھ سے پھر نو سے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نو کے بعد نقصان میں ہے ۔

عمر فما بعد البزول إلا النقصان إسناده ضعيف ← إن الإسلام بدأ جذعا ثم ثنيا ثم رباعيا ثم سديسا ثم بازلا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم يصف الإسلام ← لبعض جلسائه كيف ← كنت بالمدينة في مجلس فيه عمر بن الخطاب ← رَجُلٌ: ← يَحْيَى ← رجل قد سماه ونسي عوف اسمه ← يزيد في حديثه في مسجد البصرة ← عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، ← عَوْفٌ، ← يزيد بن زريع و يحيى بن سعيد ← أبو سعيد القواريري

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 192

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 193

193 - حدثنا ابن نمير حدثنا ابن فضيل حدثنا الأعمش عن خيثمة عن قيس بن مروان Y عن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ قرآن تر و تازہ پڑھے جس طرح نازل کیا گیا تو وہ ان ام عبد کی قرات پر پڑھے۔

عُمَرَ، ← قيس بن مروان ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 193

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 194

194 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال : و الأعمش عن خيثمة عن قيس بن مروان قال Y جاء رجل إلى عمر وهو بعرفة فقال : يا أمير المؤمنين جئت من الكوفة وتركت بها رجلا يملي المصاحف عن ظهر قلبه قال : فغضب عمر والنتفخ حتى كاد يملأ ما بين شعبتي الرحل فقال : ويحك من هو ؟ قال : فقال : عبد الله بن مسعود فما زال عمر يطفئ ويستر عنه الغضب حتى عاد إلى حاله التي كان عليها فقال : ويحك ! والله ما أعلمه بقي أحد من الناس هو أحق بذلك منه وسأحدثك عن ذلك : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يزال يسمر عند أبي بكر الليلة كذلك في الأمر من أمر المسلمين وإنه سمر عنده ذات ليلة وأنا معه ثم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي ونحن نمشي معه فإذا رجل قائم يصلي في المسجد فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم يستمع قراءته فلما كدنا أن نعرف الرجل قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد قال : ثم جلس الرجل يدعو فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سل تعطه فقال عمر : فقلت : والله لأغدون إليه فلأبشرنه قال : فغدوت إليه لأبشره فوجدت أبا بكر قد سبقني إليه فبشره ولا والله ما سابقته إلى خير قط إلا سبقني إليه K طريقان لحديث واحد كلاهما صحيح

حضرت قیس بن مروان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ میدان عرفات میں تھے اس نے عرض کی: اے امیر المونین! میں کوفہ سے آیا ہوں میں نے ایک آدمی کو چھوڑا ہے وہ مصاحف اپنے دل کے ظاہر سے لکھتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا کہ آپ کی رگیں پھول گئیں قریب تھا کہ آپ کا گلا بھر جا تا ۔ فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! وہ کون ہے؟ عرض کی: وہ عبداللہ بن مسعود ہے۔اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ مسلسل ٹھنڈا ہوتا رہا آپ کا غصہ چلا گیا یہاں تک کہ اس حالت پر آ گئے جس حالت پر آپ پہلے تھے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا ہوں کہ لوگوں میں اس سے زیادہ حق دار کوئی باقی ہو۔ میں تمہیں حضرت عبداللہ کی فضیلت بتاتا ہوں! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رات کو حضرت ابوبکر کے پاس جاتے تھے مسلمانوں کے معاملات کے حل کے لیے ایک رات میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلے ہم بھی آپ کے ساتھ چلے تو دیکھا کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑے ہوکر نماز پڑھ رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قرآت سننے کے لیے کھڑے ہوۓ جب ہم اس کو پہچاننے کے لیے قریب ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو قرآن کا پڑھنا تر وتازہ پسند ہو اس طرح جس طرح قرآن نازل کیا گیا تو وہ ابن ام عبد کی قرأت پر قرآن پڑھے۔ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا۔ اس نے دعا کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمانے لگے : مانگ! تجھے دیا جائے گا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں صبح ضرور جاؤں گا آپ کو اس کی خوشخبری دوں گا۔ میں صبح ۔ خوشخبری دینے کے لیے گیا تو میں نے وہاں ابوبکر کو پایا۔ آپ خوشخبری دینے میں مجھ سے سبقت لے گئے تھے ۔ اللہ کی قسم! میں نے کسی کام میں بھی آپ سے نیکی میں سبقت کرنے کی کوشش کی تو آپ اس کام میں مجھ سے سبقت لے گئے۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 194

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 195

195 - حدثنا القواريري عبيد الله بن عمر حدثنا محمد بن خازم حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال Y جاء رجل إلى عمر وهو واقف بعرفة فذكر نحو حديث أبي خيثمة ولم يذكرا فيه خيثمة ولا قيس بن مروان K إسناده صحيح

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ عرفات میں تھے باقی حدیث ابوخشیمہ والی ہے لیکن اس میں خثیمہ اور قیس بن مروان کا ذکر نہیں ہے۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 195

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 196

196 - حدثنا عبد الله بن محمد بن أسماء حدثنا مهدي حدثنا سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي فراس Y قال : شهدت عمر بن الخطاب وهو يخطب الناس قال فقال : يا أيها الناس إنه قد أتى علي زمان وأنا أرى أن من قرأ القرآن يريد الله وما عنده فيخيل إلي أن قوما قرؤوه يريدون به الناس ويريدون به الدنيا ألا فأريدوا الله بأعمالكم ألا إن إنما كنا نعرفكم إذ ينزل الوحي وإذ النبي صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا وإذ ينبئنا الله من أخباركم فقد انقطع الوحي وذهب نبي الله فإنما نعرفكم بما نقول لكم ألا من رأينا منه خيرا ظننا به خيرا وأحببناه عليه ومن رأينا به شرا ظننا به شرا وأبغضناه عليه سرائركم بينكم وبين ربكم ألا إني إنما أبعث عمالي ليعلموكم دينكم وليعلموكم سننكم ولا أبعثهم ليضربوا ظهوركم ولا ليأخذوا أموالكم ألا فمن رابه شيء من ذلك فليرفعه إلي فو الذي نفس عمر بيده لأقصنكم منه قال : فقام عمرو بن العاص فقال : يا أمير المؤمنين أرأيت إن بعثت عاملا من عمالك فأدب رجلا من أهل رعيته فضربه إنك لمقصه منه ؟ قال : فقال : نعم والذي نفس عمر بيده لأقصن منه ألا أقص وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقص من نفسه ؟ ألا لا تضربوا المسلمين فتذلوهم ولا تمنعوهم حقوقهم فتكفروهم ولا تجمروهم فتفتنوهم ولا تنزلوهم الغياض فتضيعوهم K أبو فراس قال الحافظ مقبول وباقي رجاله رجال الصحيح

حضرت ابوفراس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا' آپ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے فرمایا: اے لوگو! مجھ پر ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ جو قرآن پڑھتا ہے اللہ کی رضا چاہتا ہے اس کے پاس ہے اور ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ قرآن دنیا کو پانے کے لیے اور لوگوں کی رضا حاصل کرنے کے لیے پڑھیں گے خبردار! اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے ہم تم کو پہچان لیتے تھے جب وحی نازل ہوتی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے۔ اللہ ہمیں تمہاری باتوں سے آگاہ کر دیتا تھا' وحی آنا بھی ختم ہوگئی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے گئے ہیں ۔ ہم تمہیں پہچانتے ہیں جو ہم تمہارے لیے کہتے ہیں خبردار! جس سے ہم نیکی دیکھیں ہم اس کے متعلق اچھا گمان رکھیں گے اور اس کو ہم محبوب بنائیں گئے جس سے ہم شر محسوس کریں گے تو ہم اس کو شریر دیکھیں گے ہم اس سے بغض رکھیں گے، تمہارا باطنی معاملہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے میں کچھ لوگوں کو بھیجتا ہوں کہ تمہیں دین سکھائیں اور تمہارے نبی کی سنتیں سکھائیں ان کو تمہیں مارنے کے لیے نہیں بھیجتا ہوں نہ تم سے مال لینے کے لیے جس کو کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ میری طرف آئے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تمہارے لیے ضرور بدلہ لوں گا ۔ حضرت عمرو بن عاص کھڑے ہوئے اور عرض کی : اے امیرالمونین! آپ بتائیں کہ اگر آپ کسی عامل کو عوام کی طرف بھیجیں اور وہ اپنی رعیت کو ادب سکھانے کے لیے مارے تو آپ اس سے بھی بدلہ میں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! کیا میں بدلہ نہ لوں! میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے سے بدلہ دلا رہے تھے ۔خبر دار ! مسلمانوں کو نہ مارو ان کو ذلیل کرنے کے لیے ان کے حقوق نہ روکو ان کو ادا کرو ان پر زبردستی نہ کرو ان کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے ان پر غصہ نہ نکالو ان کے حقوق ضائع نہ کرو ۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ← شهدت عمر بن الخطاب وهو يخطب الناس ← أَبِي فِرَاسٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← مَهْدِيٌّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 196

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 197

197 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا سفيان بن عيينة عن يحيى بن سعيد سمعه من عبيد بن حنين عن ابن عباس قال Y أردت أن أسأل عمر قريبا من سنة عن المرأتين اللتين تظاهرتا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فكنت لا أجترئ أن أسأله فكنا بمر ظهران فذهب يتوضأ فقال : ائتيني بإداوة من ماء فأتيته فقلت : يا أمير المؤمنين من المرأتان ؟ فما أتممت كلامي حتى قال : عائشة و حفصة K إسناده صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کا ارادہ کیا ان دوعورتوں کے متعلق جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جرات کی تھی، لیکن میں ان سے پوچھنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ پس ہم مرالظہر ان کے مقام پر تھے پس آپ وضو کرنے لگے تو آپ نے فرمایا: پانی کا برتن لاؤ۔ پس میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کی: اے امیرالمؤمنین! وہ دو عورتیں کون تھیں؟ ابھی میرا کلام ختم نہ ہوا تھا کہ آپ نے فرمایا: عائشہ اور حفصہ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يحيى بن سعيد سمعه من عبيد بن حنين ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 197

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 198

198 - حدثنا أبو خيثمة و القواريري قالا : حدثنا سفيان بن عيينة عن عاصم بن عبيد الله بن عاصم عن عبد الله بن عامر بن ربيعة عن أبيه Y عن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تابعوا بين الحج والعمرة فإن متابعة ما بينهما تنفي الفقر والديون كما ينفي الكير خبث الحديد K إسناده ضعيف

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ لگا تار کیا کرو، بے شک لگا تار عمرہ اور حج کر نامحتاجی اور قرض کو ختم کرتا ہے جس طرح بھٹی لوہا کو صاف کرتی ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عاصم بن عبيد الله بن عاصم ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو خيثمة و القواريري

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 198

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 199

199 - حدثنا زهير حدثنا سفيان بن عيينة عن عبيد الله بن أبي يزيد عن أبيه Y سمع عمر بن الخطاب يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الولد للفراش K أبو يزيد المكي قال الحافظ يقال له صحبة ووثقه ابن حبان وباقي رجاله ثقات

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کے لیے ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 199

chevron_left Previous
1…456…11
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter