Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 164

164 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عثمان بن عمر حدثنا عكرمة بن عمار عن سماك أبي زميل الحنفي قال : حدثني عبد الله بن عباس قال Y حدثني عمر بن الخطاب قال : لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نساءه قال : دخلت المسجد فإذا الناس ينكتون بالحصى ويقولون : طلق رسول الله صلى الله عليه و سلم نساءه وذلك قبل أن يؤمر بالحجاب قال عمر : فقلت لأعلمن ذلك اليوم قال : فدخلت على عائشة فقلت : يا بنت أبي بكر أقد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالت : مالي ولك يا ابن الخطاب ؟ عليك بعيبتك قال فدخلت على حفصة ابنة عمر فقلت : يا حفصة أقد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول الله صلى الله عليه و سلم والله لقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يحبك ولولا أنا لطلقك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فبكت أشد البكاء فقلت لها : أين رسول الله ؟ قالت : هو في خزانته في المشربة فدخلت فإذا أنا برباح غلام رسول الله صلى الله عليه و سلم قاعدا على أسكفة المشربة مدل رجليه على نقير من خشب وهو جذع يرقى عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم وينحدر فناديته فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر رباح إلى الغرفة ثم نظر إلي فلم يقل شيئا فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر رباح إلى الغرفة ثم نظر إلي فلم يقل شيئا فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر إلى الغرفة ثم نظر إلي فلم يقل شيئا ثم رفعت صوتي فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله فإني أظن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ظن أني جئت من أجل حفصة والله لئن أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بضرب عنقها لأضربن عنقها ورفعت صوتي فأومأ إلي أن ائذنه فدخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو مضطجع على حصير فجلست فإذا عليه إزاره وليس عليه غيره فإذا الحصير قد أثر في جنبه فنظرت ببصري في خزانة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أنا بقبضة من شعير نحو الصاع ومثلها قرظا في ناحية الغرفة وإذا أفيق معلق قال : فابتدرت عيناي قال : ما يبكيك يا ابن الخطاب ؟ فقلت : يا نبي الله ومالي لا أبكي وهذا الحصير قد أثر في جنبك ؟ وهذه خزانتك لا أرى فيها إلا ما أرى ؟ وذاك قصير وكسرى في الثمار والأنهار وأنت رسول الله وصفوته وهذه خزانتك ؟ قال : يا ابن الخطاب ألا ترضى أن تكون لنا الآخرة ولهم الدنيا ؟ قلت : بلى قال : ودخلت عليه حين دخلت وأنا أرى في وجهه الغضب فقلت : يا رسول الله ما يشق عليك من شأن النساء ؟ فإن كنت طلقتهن فإن الله معك وملائكته و جبريل و ميكائيل وأنا و أبو بكر والمؤمنون معك وقلما تكلمت وأحمد الله بكلام إلا رجوت أن يكون الله يصدق قولي الذي أقول قال : ونزلت هذه الآية آية التخيير { وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين والملائكة بعد ذلك ظهير * عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلمات مؤمنات قانتات تائبات عابدات سائحات ثيبات وأبكارا } [ سورة التحريم آية : 4 5 ] وكانت عائشة بنت أبي بكر و حفصة تظاهران على سائر نساء النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله أطلقتهن ؟ قال : لا فقلت : يا رسول الله إني دخلت المسجد والمسلمون ينكتون بالحصاة ويقولون : طلق رسول الله صلى الله عليه و سلم نساءه فأنزل فأخبرهم أنك لم تطلقهن ؟ قال : نعم إن شئت فلم أزل أحدثه حتى تحسر الغضب عن وجهه وحتى كشر فضحك وكان من أحسن الناس ثغرا ثم نزل نبي الله صلى الله عليه و سلم فنزلت أتشبث بالجذع ونزل رسول الله صلى الله عليه و سلم كأنما يمشي على الأرض ما يمسه بيده فقلت له : يا رسول الله إنما كنت في الغرفة تسعة وعشرين يوما ؟ قال : إن الشهر يكون تسعا وعشرين فقمت على باب المسجد فناديت بأعلى صوتي : لم يطلق نساءه قال : ونزلت هذه الآية { وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم } [ سورة النساء آية : 83 ] فكنت أنا الذي استنبطت ذاك الأمر فأنزل الله آية التخيير K رجاله رجال الصحيح

حضرت عمر بن خطاب بیان فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ازواج سے علیحدہ ہوئے تو میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگ کنکریوں کو پلٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہیں! یہ بات پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آج ضرور بتاؤں گا! میں حضرت عائشہ کے پاس آیا میں نے کہا: اے بنت ابوبکر! کیا آپ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف پہنچی ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: اے ابن خطاب ! مجھے اور آپ کو کیا ؟ آپ اپنے عیب دیکھیں! میں حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے کہا: اے حفصہ ! کیا آپ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہوئی ہے؟ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے محبت نہیں کرتے ہیں اگر میں نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضرور تجھے طلاق دے دیتے۔ حضرت حفصہ بہت زیادہ رونے لگیں، میں نے اس کو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں ہیں؟ حضرت حفصہ نے کہا: کنویں میں اپنے خزانہ میں ہیں! میں وہاں داخل ہوا تو میں نے حضرت رباح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غلام کو کنویں کے کنارہ پر بیٹھا ہوا دیکھا جو اپنی ٹانگیںاس میں لٹکائے ہوئے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے اوپر تشریف فرما تھے میں نے آواز دی: اے رباح! میرے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں اجازت مانگیں ! رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے رباح! میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں اجازت مانگیں ! حضرت رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے رباح ! میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اجازت مانگیں! حضرت رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنی آواز بلند کی اور میں نے کہا: اے رباح! میرے لیے رسول اللہ مسلم کے ہاں اجازت مانگیں! میں نے خیال کیا کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گمان کیا ہو کہ حفصہ کے لیے آیا ہے اللہ کی قسم! اگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حفصہ کی گردن اتارنے کا حکم دیتے تو میں ضرور اس کی گردن اتار کر لے آتا ، میں نے اپنی آواز بلند کی ، میری طرف اجازت کا اشارہ کیا گیا تو میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں بیٹھ گیا آپ نے تہبند پہنا ہوا تھا اور اس کے علاوہ آپ کے جسم اطہر پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ آپ کے جسم اقدس پر چٹائی کے نشانات تھے میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خزانہ کو دیکھا تو اس میں ایک صاع جو تھے جو کمرے کے ایک کنارے میں لٹکے ہوئے تھے۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب ! کیا ہوا؟ تجھے کس چیز نے رلایا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں! یہ چٹائی کے نشانات آپ کے جسم پر ہیں یہ خزانہ ہے کہ میں اس کے علاوہ دیکھے ہی نہیں رہا ہوں جبکہ یہ قیصر اور کسری پھلوں اور نہروں میں ہیں آپ اللہ کے رسول اور اس کی تعریف کرنے والے ہیں اور آپ کے لیے یہ خزانہ؟ آپ نے فرمایا: اے ابن عمر! کیا تو خوش نہیں ہے کہ ان کے لیے دنیا ہو جائے اور ہماے لیے آخرت؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! میں آپ کے پاس جس وقت داخل ہوا تھا تو میں نے آپ کے چہرے پر غصے کے اثرات دیکھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کو عورتوں کی طرف سے کیا تکلیف ہوئی ہے؟ اگر آپ ان کو طلاق دیتے ہیں تو اللہ اور اس کے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اور میں اور ابو بکر اور ایمان والے آپ کے ساتھ ہیں میں بہت کم گفتگو کروں گا میں اللہ کی تعریف کروں گا میں امید کرتا ہوں کہ اس سلسلہ میں میری تصدیق اللہ کرے گا ۔ جو میں نے عرض کی تو یہ آیت نازل ہوئی "عسى ربه إن طلقكن الى آخرہ ۔ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا دونوں نے زور باندھا تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام از واج پر ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسجد میں داخل ہوا تو صحابہ کرام کنکریوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور کہہ رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے ۔ آپ نے فرمایا: ان کے پاس جاؤ اور ان کو بتاؤ کہ آپ نے طلاق نہیں دی!فر مایا: ٹھیک ہے اگر تو چاہے تو میں مسلسل بتاتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرے سے چلا گیا یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے مسکراہٹ ظاہر ہوئی۔ آپ کے دانت مبارک لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے تو میں بھی اترا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اترے تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کے ہاتھ زمین سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کمرے میں ۲۹ دن رہے ہیں؟ یا آپ نے فرمایا: مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے۔ میں مسجد کے دروازہ میں داخل ہوا تو میں نے اپنی بلند آواز سے آواز دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلاق نہیں دی ہے ۔ اور یہ آیت نازل ہوئی: " وإذا جاء ھم الی آخرہ ۔ میں وہ تھا جس نے اس سے یہ معاملہ استنباط کیا تھا اللہ عز وجل نے اختیار والی آیت نازل فرمائی ۔

لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نساءه ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سماك أبي زميل الحنفي، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 164

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 165

165 - حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير حدثنا ابن فضيل عن عاصم عن أبيه عن ابن عباس Y عن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : التمسوا ليلة القدر في العشر الأواخر من رمضان K رجاله ثقات

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: لیلۃ القدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 165

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 166

166 - حدثنا ابن نمير حدثنا أبي حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه Y عن عمر أنه وجد فرسا قد كان حمل عليها في سبيل الله فأراد أن يشتريها فسأل رسول الله صلى الله عليه سلم فنهاه عنها K رجاله رجال الصحيح

حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جس گھوڑا کو اللہ کی راہ میں دیا تھا ( اس کو بازار میں فروخت ہوتے ہوئے پایا) میں نے اس گھوڑے کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع فرما دیا۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبِي ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 166

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 167

167 - حدثنا ابن نمير حدثنا أبي حدثنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن أبيه Y عن عمر بن الخطاب قال : قلت : يا رسول الله أليس قد قلت لي : إن خيرا لك أن لا تسأل أحدا من الناس شيئا ؟ قال : إنما ذاك أن تسأل وما آتاك الله من غير مسألة فإنما هو رزق رزقكه الله K رجاله رجال الصحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ نے مجھے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تیرے لیے بھلائی یہ ہے کہ تو لوگوں میں سے کسی سے کوئی شی نہ مانگنا؟ یہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کر رہے ہیں یہ بھی تو مانگنے کے زمرہ میں آ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ عز وجل عطا کرے بغیر مانگے ( وہ لے لیا کرو) یہ وه رزق ہے جو آپ کو اللہ نے دیا ہے ۔

قُلْتُ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبِي ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 167

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 168

168 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه عن ابن عباس Y عن عمر قال : لقد علمتم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اطلبوها في العشر الأواخر وترا K رجاله ثقات

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم کو معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو طاق راتوں میں تلاش کرو۔

لَقَدْ عَلِمْتُمْ ← عُمَرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 168

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 169

169 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه قال Y لقيت عمر وهو بالموسم فناديته من وراء الفسطاط ألا إني فلان ابن فلان الجرمي وإن ابن أخت لنا له أخ عان في بني فلان وقد عرضنا عليه فريضة رسول الله صلى الله عليه و سلم [ فأبى ] قال : فرفع عمر جانب الفسطاط فقال : أتعرف صاحبك ؟ قلت : نعم هو ذاك قال : انطلقا به حتى ينفذ لكما قضية رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : وكنا نتحدث أن القضية أربع من الإبل K رجاله ثقات

حضرت عاصم بن کلیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کے والد صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، آپ رضی اللہ عنہ حج کے لیے آئے ہوئے تھے۔ میں نے خیمہ کے پاس پیچھے سے آواز دی خبر دار، میں فلاں بن فلاں جرمی ہوں ، ہماری بہن کا بیٹا اس کا بھائی ہے اس نے بنی فلاں کی مدد کی ہے۔ ہم نے اس پر رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ پیش کیا، اس نے انکار کر دیا ۔ حضرت عمر نے خیمہ کی ایک جانب کو اٹھایا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ اس صاحب کو جانتے ہیں، میں نے کہا: جی ہاں! وہ ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس کے پاس دونوں چلتے ہیں ۔ ہم اس کے پاس آئے ہم تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فیصلہ نافذ کرتے ہیں، راوی فرماتے ہیں: ہم بیان کر رہے تھے بے شک فیصلہ چار اونٹ ہیں ۔

أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 169

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 170

170 - حدثنا أبو كريب محمد بن العلاء حدثنا زيد بن الحباب حدثنا خالد بن أبي بكر بن عبيد الله العمري قال : حدثني سالم عن أبيه Y أن سعد بن أبي وقاص سأل عمر عن المسح فقال عمر : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر بالمسح على ظهر الخفين إذا لبسهما وهما طاهرتان

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے متعلق مسئلہ پوچھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موزوں کے ظاہر پر مسح کر نے کا حکم دیتے تھے جب دونوں پاکی کی حالت میں پہنے ہوئے ہوں ۔

عُمَرَ، ← المسح ← أبيه أن سعد بن أبي وقاص سأل عمر ← سَالِمٍ ← خالد بن أبي بكر بن عبيد الله العمري ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أبو كريب محمد بن العلاء

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 170

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 171

171 - حدثنا أبو كريب حدثنا زيد عن خالد بن أبي بكر حدثنا سالم عن ابن عمر . Y عن عمر قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يأمرنا بالمسح على الخفين للمسافر ثلاثة أيام ولياليهن وللمقيم يوم وليلة K إسناده لين

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیتے تھے اور مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← خَالِدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ← زيد1 ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 171

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 172

172 - حدثنا أبو كريب حدثنا يونس بن بكير عن الأعمش عن أبي صالح عن ابن عمر قال Y دخل عمر على حفصة وهى تبكي فقال لها : ما يبكيك ؟ لعل رسول الله صلى الله عليه و سلم طلقك ؟ إنه قد كان طلقك مرة ثم راجعك من أجلي والله لئن كان طلقك مرة أخرى لا أكلمك أبدا K رجاله رجال الصحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ رو رہی تھیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ شاید رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی ہے؟ پھر آپ سے رجوع کرلیا ہے میری وجہ سے اللہ کی قسم! اگر آپ کو دوبارہ طلاق دی تو میں آپ سے ہمیشہ گفتگو نہیں کروں گا ۔

دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، ← ابْنِ عُمَرَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 172

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 173

173 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن صالح بن أبي صالح عن سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير عن ابن عباس Y عن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان طلق حفصة ثم راجعها K رجاله رجال الصحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تھی ۔ پھر آپ سے رجوع کر لیا ۔

عُمَرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 173

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 174

174 - حدثنا عبد الرحمن بن صالح Y وغيره بإسناده نحوه

حضرت عبدالرحمن بن صالح اور اس کے علاوہ اپنی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 174

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 175

175 - حدثناه محمد بن بكار حدثنا بشير بن ميمون عن عبد الله بن يوسف عن عبد الله بن عمر بن الخطاب عن عمر بن الخطاب Y قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يذكر أهل مقبرة يوما قال : فصلى عليها فأكثر الصلاة عليها . قال : فسئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عنها فقال : أهل مقبرة شهداء عسقلان يزفون إلى الجنة كما تزف العروس إلى زوجها K إسناده ضعيف

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ آپ کی ایک اہل قبرستان کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی ، بہت زیادہ دعا فرمائی ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس قبرستان کے متعلق پوچھا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قبرستان والے عسقلان کے شہداء ہیں۔ ان کو جنت میں خوبصورت کر کے بھیج دیا گیا، جس طرح دلہن کو خوبصورت اور سجا کر شوہر کی طرف بھیجا جا تا ہے ۔

فسئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عنها ← فصلى عليها فأكثر الصلاة عليها ← رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يذكر أهل مقبرة يوما ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 175

chevron_left Previous
1234…11
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter