مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 164
164 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عثمان بن عمر حدثنا عكرمة بن عمار عن سماك أبي زميل الحنفي قال : حدثني عبد الله بن عباس قال Y حدثني عمر بن الخطاب قال : لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نساءه قال : دخلت المسجد فإذا الناس ينكتون بالحصى ويقولون : طلق رسول الله صلى الله عليه و سلم نساءه وذلك قبل أن يؤمر بالحجاب قال عمر : فقلت لأعلمن ذلك اليوم قال : فدخلت على عائشة فقلت : يا بنت أبي بكر أقد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالت : مالي ولك يا ابن الخطاب ؟ عليك بعيبتك قال فدخلت على حفصة ابنة عمر فقلت : يا حفصة أقد بلغ من شأنك أن تؤذي رسول الله صلى الله عليه و سلم والله لقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يحبك ولولا أنا لطلقك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فبكت أشد البكاء فقلت لها : أين رسول الله ؟ قالت : هو في خزانته في المشربة فدخلت فإذا أنا برباح غلام رسول الله صلى الله عليه و سلم قاعدا على أسكفة المشربة مدل رجليه على نقير من خشب وهو جذع يرقى عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم وينحدر فناديته فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر رباح إلى الغرفة ثم نظر إلي فلم يقل شيئا فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر رباح إلى الغرفة ثم نظر إلي فلم يقل شيئا فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظر إلى الغرفة ثم نظر إلي فلم يقل شيئا ثم رفعت صوتي فقلت : يا رباح استأذن لي عندك على رسول الله فإني أظن أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ظن أني جئت من أجل حفصة والله لئن أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم بضرب عنقها لأضربن عنقها ورفعت صوتي فأومأ إلي أن ائذنه فدخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو مضطجع على حصير فجلست فإذا عليه إزاره وليس عليه غيره فإذا الحصير قد أثر في جنبه فنظرت ببصري في خزانة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أنا بقبضة من شعير نحو الصاع ومثلها قرظا في ناحية الغرفة وإذا أفيق معلق قال : فابتدرت عيناي قال : ما يبكيك يا ابن الخطاب ؟ فقلت : يا نبي الله ومالي لا أبكي وهذا الحصير قد أثر في جنبك ؟ وهذه خزانتك لا أرى فيها إلا ما أرى ؟ وذاك قصير وكسرى في الثمار والأنهار وأنت رسول الله وصفوته وهذه خزانتك ؟ قال : يا ابن الخطاب ألا ترضى أن تكون لنا الآخرة ولهم الدنيا ؟ قلت : بلى قال : ودخلت عليه حين دخلت وأنا أرى في وجهه الغضب فقلت : يا رسول الله ما يشق عليك من شأن النساء ؟ فإن كنت طلقتهن فإن الله معك وملائكته و جبريل و ميكائيل وأنا و أبو بكر والمؤمنون معك وقلما تكلمت وأحمد الله بكلام إلا رجوت أن يكون الله يصدق قولي الذي أقول قال : ونزلت هذه الآية آية التخيير { وإن تظاهرا عليه فإن الله هو مولاه وجبريل وصالح المؤمنين والملائكة بعد ذلك ظهير * عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلمات مؤمنات قانتات تائبات عابدات سائحات ثيبات وأبكارا } [ سورة التحريم آية : 4 5 ] وكانت عائشة بنت أبي بكر و حفصة تظاهران على سائر نساء النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله أطلقتهن ؟ قال : لا فقلت : يا رسول الله إني دخلت المسجد والمسلمون ينكتون بالحصاة ويقولون : طلق رسول الله صلى الله عليه و سلم نساءه فأنزل فأخبرهم أنك لم تطلقهن ؟ قال : نعم إن شئت فلم أزل أحدثه حتى تحسر الغضب عن وجهه وحتى كشر فضحك وكان من أحسن الناس ثغرا ثم نزل نبي الله صلى الله عليه و سلم فنزلت أتشبث بالجذع ونزل رسول الله صلى الله عليه و سلم كأنما يمشي على الأرض ما يمسه بيده فقلت له : يا رسول الله إنما كنت في الغرفة تسعة وعشرين يوما ؟ قال : إن الشهر يكون تسعا وعشرين فقمت على باب المسجد فناديت بأعلى صوتي : لم يطلق نساءه قال : ونزلت هذه الآية { وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم } [ سورة النساء آية : 83 ] فكنت أنا الذي استنبطت ذاك الأمر فأنزل الله آية التخيير K رجاله رجال الصحيح
حضرت عمر بن خطاب بیان فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ازواج سے علیحدہ ہوئے تو میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگ کنکریوں کو پلٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہیں! یہ بات پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آج ضرور بتاؤں گا! میں حضرت عائشہ کے پاس آیا میں نے کہا: اے بنت ابوبکر! کیا آپ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف پہنچی ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: اے ابن خطاب ! مجھے اور آپ کو کیا ؟ آپ اپنے عیب دیکھیں! میں حضرت حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے کہا: اے حفصہ ! کیا آپ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہوئی ہے؟ اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ سے محبت نہیں کرتے ہیں اگر میں نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضرور تجھے طلاق دے دیتے۔ حضرت حفصہ بہت زیادہ رونے لگیں، میں نے اس کو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں ہیں؟ حضرت حفصہ نے کہا: کنویں میں اپنے خزانہ میں ہیں! میں وہاں داخل ہوا تو میں نے حضرت رباح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غلام کو کنویں کے کنارہ پر بیٹھا ہوا دیکھا جو اپنی ٹانگیںاس میں لٹکائے ہوئے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے اوپر تشریف فرما تھے میں نے آواز دی: اے رباح! میرے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں اجازت مانگیں ! رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے رباح! میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں اجازت مانگیں ! حضرت رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا، میں نے کہا: اے رباح ! میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اجازت مانگیں! حضرت رباح نے کمرے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اپنی آواز بلند کی اور میں نے کہا: اے رباح! میرے لیے رسول اللہ مسلم کے ہاں اجازت مانگیں! میں نے خیال کیا کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گمان کیا ہو کہ حفصہ کے لیے آیا ہے اللہ کی قسم! اگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے حفصہ کی گردن اتارنے کا حکم دیتے تو میں ضرور اس کی گردن اتار کر لے آتا ، میں نے اپنی آواز بلند کی ، میری طرف اجازت کا اشارہ کیا گیا تو میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں بیٹھ گیا آپ نے تہبند پہنا ہوا تھا اور اس کے علاوہ آپ کے جسم اطہر پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔ آپ کے جسم اقدس پر چٹائی کے نشانات تھے میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خزانہ کو دیکھا تو اس میں ایک صاع جو تھے جو کمرے کے ایک کنارے میں لٹکے ہوئے تھے۔ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے آپ نے فرمایا: اے ابن خطاب ! کیا ہوا؟ تجھے کس چیز نے رلایا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں! یہ چٹائی کے نشانات آپ کے جسم پر ہیں یہ خزانہ ہے کہ میں اس کے علاوہ دیکھے ہی نہیں رہا ہوں جبکہ یہ قیصر اور کسری پھلوں اور نہروں میں ہیں آپ اللہ کے رسول اور اس کی تعریف کرنے والے ہیں اور آپ کے لیے یہ خزانہ؟ آپ نے فرمایا: اے ابن عمر! کیا تو خوش نہیں ہے کہ ان کے لیے دنیا ہو جائے اور ہماے لیے آخرت؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! میں آپ کے پاس جس وقت داخل ہوا تھا تو میں نے آپ کے چہرے پر غصے کے اثرات دیکھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ کو عورتوں کی طرف سے کیا تکلیف ہوئی ہے؟ اگر آپ ان کو طلاق دیتے ہیں تو اللہ اور اس کے فرشتے اور جبرائیل و میکائیل اور میں اور ابو بکر اور ایمان والے آپ کے ساتھ ہیں میں بہت کم گفتگو کروں گا میں اللہ کی تعریف کروں گا میں امید کرتا ہوں کہ اس سلسلہ میں میری تصدیق اللہ کرے گا ۔ جو میں نے عرض کی تو یہ آیت نازل ہوئی "عسى ربه إن طلقكن الى آخرہ ۔ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا دونوں نے زور باندھا تھا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام از واج پر ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسجد میں داخل ہوا تو صحابہ کرام کنکریوں کے ساتھ کھیل رہے تھے اور کہہ رہے تھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے ۔ آپ نے فرمایا: ان کے پاس جاؤ اور ان کو بتاؤ کہ آپ نے طلاق نہیں دی!فر مایا: ٹھیک ہے اگر تو چاہے تو میں مسلسل بتاتا رہوں گا۔ یہاں تک کہ غصہ آپ کے چہرے سے چلا گیا یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے مسکراہٹ ظاہر ہوئی۔ آپ کے دانت مبارک لوگوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے تو میں بھی اترا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اترے تو ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کے ہاتھ زمین سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کمرے میں ۲۹ دن رہے ہیں؟ یا آپ نے فرمایا: مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے۔ میں مسجد کے دروازہ میں داخل ہوا تو میں نے اپنی بلند آواز سے آواز دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلاق نہیں دی ہے ۔ اور یہ آیت نازل ہوئی: " وإذا جاء ھم الی آخرہ ۔ میں وہ تھا جس نے اس سے یہ معاملہ استنباط کیا تھا اللہ عز وجل نے اختیار والی آیت نازل فرمائی ۔
لما اعتزل النبي صلى الله عليه و سلم نساءه ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سماك أبي زميل الحنفي، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ
Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 164
