Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 248

248 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا عبد الله بن يزيد حدثنا عبد الرحمن بن زياد عن مسلم بن يسار عن سفيان بن وهب الخولاني قال Y سمعت عمر بن الخطاب يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كل مسكر حرام K إسناده ضعيف

حضرت وہب بن خولانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : ہر نشہ آور حرام ہے ۔

كل مسكر حرام إسناده ضعيف ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سفيان بن وهب الخولاني ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 248

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 249

249 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا عبد الله بن يزيد أخبرنا حيوة أخبرنا أبو عقيل عن ابن عمه Y عن عقبة بن عامر الجهني أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما يحدث أصحابه فقال : من قام إذا استقلت الشمس فتوضأ فأحسن وضوءه ثم قام فصلى ركعتين غفر له خطاياه أو قال : كان كما ولدته أمه قال عقبة : فقلت : الحمد لله الذي رزقني أن أسمع هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال عمر بن الخطاب وكان تجاهي جالسا : أتعجب من هذا ؟ فقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أعجب من هذا قبل أن تأتي قلت فما قال بأبي أنت ؟ قال عمر بن الخطاب : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من توضأ فأحسن الوضوء ثم رفع بصره إلى السماء فقال : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فتحت له ثمانية أبواب من الجنة يدخل من أيها شاء K إسناده ضعيف

حضرت عقبہ بن عامر الجھنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اور اپنے صحابہ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے ، آپ نے فرمایا : جو کھڑا ہوا جب سورج ڈھل جائے ، اس کے بعد وضو کرے اور اچھا وضو کرے پھر کھڑا ہو کر دو رکعت ادا کرے تو اس کے گناہ معاف کیے جائیں گے ۔ یا یہ فرمایا : وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے جس طرح آج ہی اس کی ماں نے اس کو جنا ہے ۔ حضرت عقبہ فرماتے ہیں : میں نے کہا کہ تمام خوبیاں اللہ کے لیے جس نے مجھے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سننے کی سعادت فرمائی ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے ، فرمایا کیا تو اس پر تعجب کرتا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیرے آنے سے پہلے حیران کن قول فرمایا ، میں نے عرض کی : کیا فرمایا : میرا باپ آپ پر قربان ہو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا پھر اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھا لی اور پڑھا اشہدن الا الہ الا اللہ پڑھا تو ا س کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئے جاتے ہیں کہ جس سے چاہے داخل ہو۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← ابن عمه ← أَبُو عَقِيلٍ ← حَيْوَةُ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 249

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 250

250 - حدثنا زكريا بن يحيى حدثنا عبد الله بن عيسى حدثنا يونس بن عبيد عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم عند الظهيرة فوجد أبا بكر في المسجد فقال : ما أخرجك هذه الساعة ؟ قال : أخرجني الذي أخرجك يا رسول الله وجاء عمر بن الخطاب فقال : يا ابن الخطاب ما أخرجك ؟ قال : أخرجني الذي أخرجكما يا رسول الله فقعد عمر وأقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدثهما ثم قال : هل بكما من قوة قتنطلقان إلى هذا النخل فتصيبان طعاما وشرابا وظلا ؟ قلنا : نعم قال : مروا بنا إلى منزل ابن التيهان أبي الهيثم الأنصاري فتقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم بين أيدينا فسلم فاستأذن ثلاث مرات و أم الهيثم وراء الباب تسمع الكلام وتريد أن يزيدها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن ينصرف خرجت أم الهيثم تسعى خلفهم فقالت : يا رسول الله قد والله سمعت تسليمك ولكني أردت أن تزيدنا من سلامك فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم خيرا وقال : أين أبو الهيثم ما أراه ؟ قالت : هو قريب ذهب يستعذب لنا من الماء أدخلوا فإنه يأتي الساعة إن شاء الله فبسطت لهم بساطا تحت شجرة فجاء أبو الهيثم وفرح بهم وقرت عينه بهم وصعد على نخلة فصرم لهم عذقا وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم حسبك يا أبا الهيثم قال : يا رسول الله تأكلون من بسره ومن رطبه ومن تذنوبه ثم أتاهم بماء فشربوا عليه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا من النعيم الذي تسألون عنه وقام أبو الهيثم ليذبح لهم شاة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياك واللبون وقامت أم الهيثم تعجن لهم وتخبر ووضع رسول الله صلى الله عليه و سلم و أبو بكر [ و عمر ] رؤوسهم للقائلة فانتبهوا وقد أدرك طعامهم فوضع الطعام بين أيديهم وأكلوا وشبعوا وحمدوا الله عز و جل وردت عليهم أم الهيثم بقية الأعذاق فأكلوا من رطبه ومن تذنوبه فسلم عليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ودعا لهم K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوپہر کے وقت نکلے ۔ آپ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں پایا ، آپ نے فرمایا اس کو اس وقت کس نے نکالا ہے ؟ عرض کی : یا رسول اللہ ! جس نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے نکالا ہے ۔ حضرت عمر بن خطاب آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! تمہیں کس نے نکالا ہے ؟ عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اس نے نکالا ہے جس نے آپ کو نکالا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم متوجہ ہوئے دونوں گفتگو کرنے لگے ۔ پھر آپ نے فرمایا : کیا تم دونوں کو کھانے کی ضرورت ہے ؟ ہم اس باغ کی طرف چلتے ہیں ، وہاں کھانا اور پانی اور سایہ پاتے ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ، ہم ابن تیہان ابو الہیثم انصاری کے گھر کے پاس سے گزرے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان سے آگے بڑھے ، آپ نے سالم کی ، تین مرتبہ اجازت مانگی ، ام ہیثم دروازے کے پیچھے گفتگو سن رہی تھیں اور چاہتی تھیں کہ آپ اور زیادہ گفتگو کریں ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جانے کا ارادہ کیا تو ام ہیثم نکلیں اور جلدی سے ان کے پیچھے چلیں ۔ حضرت ام ہیثم نے عرض کی : یا رسول اللہ ، اللہ کی قسم میں آپ کا سلام سن رہی تھی لیکن میں چاہتی تھی کہ آپ ہم پر سلام زیادہ کریں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا : اچھا اور فرمایا : ابو ہیثم کہاں ہیں کہ میں ان کو نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ ام ہیثم نے عرض کی : وہ قریب ہی ہیں ، ہمارے لیے میٹھا پانی لینے کے لیے گئے ہیں ، اپ داخل ہوں ، وہ تھوڑی دیر تک آ جائیں گے ۔ اگر اللہ نے چاہا۔ ان حضرات کے لیے درخت کے نیچے بستر بچھا دیا ، ابو ہیثم آئے اور ان کو دیکھ کر خوش ہوئے ، اپنی آنکھیں ان کے ذریعے ٹھنڈی کرنے لگے اور کھجور کے درخت پر چڑھے اور ان کے لیے کھجوریں توڑنے لگے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ہیثم کافی ہیں ۔ابو ہیثم نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ خشک اور تر کھائیں پھر نیم پختہ کھجور کھائیں گے ، پھر ان کے پاس پانی لائے ، ان حضرات نے نوش کیا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : نعمتوں کے متعلق آپ سے پوچھا جائے گا، حضرت ابو ہیثم اٹھے تاکہ ان کے لیے بکری ذبح کریں ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : دودھ دینے والی سے بچنا ، ام ہیثم کھڑی ہوئیں ،ان کے لیے آٹا گوندھنے لگیں اور روٹیاں پکانے لگیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہ قیلولہ کر رہے تھے یہ حضرات اٹھے تو کھانا آگے پایا، کھانا ان کے آگے رکھ دیا گیا تو انہوں نے کھایا اور سیر ہو گئے ، اللہ عزوجل کی تعریف کی ، باقی کھجوروں کا ٹوکرا ام ہیثم کی طرف بھیج دیا ، کچھ تازہ کھجوریں کچھ نیم پختہ کھجوریں کھا لیں ، اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو سلام کیا اور ان کے لیے دعا فرمائی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 250

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 251

251 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا عبد الله بن وهب حدثني عمرو بن الحارث أن عمر بن السائب حدثه أن القاسم بن أبي القاسم السبائي حدثه عن قاص الأجناد بالقسطنطينية أنه سمعه يحدث Y أن عمر بن الخطاب قال : يا أيها الناس إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يقعدن على مائدة تدار عليها الخمر قال : وذكر الحديث K إسناده ضعيف

حضرت قاسم بن ابی القاسم السبائی قسطنطنیہ کے لشکر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اس دستر خوان پر نہ بیٹھے جس میں شراب چلتی ہو۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر کی ۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 251

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 252

252 - حدثنا أحمد بن ابراهيم النكري أبو عبد الله حدثنا أبو عبد الرحمن حدثنا ابن لهيعة أخبرني عطاء بن دينار الهذلي أن أبا يزيد الخولاني حدثه أنه سمع فضالة بن عبيد يقول : سمعت عمر بن الخطاب يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y الشهداء أربعة : رجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك الذي يرفع الناس إليه يوم القيامة أعينهم هكذا - ورفع رأسه حتى وقعت قلنسوته فلا أدري قلنسوة عمر أم قلنسوة النبي صلى الله عليه و سلم - ورجل مؤمن جيد الإيمان حتى إذا لقي العدو فكأنما يضرب جلده بشوك الطلح من الجبن أتاه سهم غرب فقتله فهو في الدرجة الثانية ورجل مؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الثالثة ورجل مؤمن أسرف على نفسه لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الرابعة K إسناده ضعيف

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بتا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہداء چار طرح کے ہیں ( 1) ایک وہ آدمی جس کا ایمان عمدہ ہو دشمن سے اس کا واسطہ پڑے پس اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھائے ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو جائے ۔ اس آدمی کی طرف لوگ قیامت کے دن اپنی آنکھیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنا سر انور اٹھایا یہاں تک کہ آ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر سے ٹوپی گر گئی ۔ راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گری یا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ( 2) ایک وہ بندہ مومن جو عمدہ ایمان والا ہے یہاں تک کہ اس کا واسطہ دسمن سے ہو پس اسے محسوس ہوا اس کے جسم میں کانٹا چبھو دیا ہے اچانک تیر آیا پس وہ شہید ہو گیا، وہ دوسرے درجہ میں ہوگا ( 3) ایک وہ بندہ مومن جس کے اعمال اچھے اور برے ہوں ۔ دشمن سے اس کا واسطہ پڑا اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھایا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا وہ تیرے درجہ میں ہوگا ( 4 ) ایک بندہ مومن جس نے اپنی جان پر ظلم کیا ، دشمن سے اس کا واسطہ پڑا، اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھایا ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا وہ چوتھے درجہ میں ہوگیا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُخْبِرُ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَنَّهُ ← عطاء بن دينار الهذلي أن أبا يزيد الخولاني ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أحمد بن ابراهيم النكري أبو عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 252

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 253

253 - حدثنا أحمد بن إبراهيم الدورقي حدثنا أبو عبد الرحمن حدثنا الليث بن سعد أبو الحارث [ عن يزيد بن عبد الله بن أسامة بن المهاد ] حدثني أبو عثمان الوليد بن أبي الوليد عن عمر أو عثمان بن عبد الله بن سراقة العدوي Y عن عمر بن الخطاب أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أظل رأس غاز أظله الله يوم القيامة ومن جهز غازيا في سبيل الله بجهازه فله أجره ومن بنى مسجدا يذكر فيه اسم الله بنى الله له بيتا في الجنة K إسناده ضعيف

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس نے مجاہد کے سر پر سایہ کیا، اللہ اس کے سر پر سایہ کرے گا۔ قیامت کے دن جس نے ا س کی راہ میں سامان تیار کیا، اللہ اس کو بھی اجر دے گا۔ جس نے مسجد اس نیت سے بنوائی کہ اس میں اللہ کا ذکر کیا جائے ۔ اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← عمر أو عثمان بن عبد الله بن سراقة العدوي ← أَبُو عُثْمَانَ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، ← يزيد بن عبد الله بن أسامة بن المهاد ← الليث بن سعد أبو الحارث ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 253

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 254

254 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا حفص بن غياث عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر عن عمر قال Y قلت يا رسول الله إني نذرت في الجاهلية ثم جاء الله بالإسلام قال : ف بنذرك K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے نذر مانی تھی ، زمانہ جاہلیت میں پھر مجھے اسلام کی توفیق ملی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی نذر کو پورا کر لو۔

قُلْتُ ← عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 254

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 255

255 - حدثنا عبد الغفار بن عبد الله الموصلي حدثنا علي بن مسهر عن عبيد الله بن عمر عن نافع Y عن ابن عمر - لعله عن عمر - أنه حمل على فرس في سبيل الله وكنا إذا حملنا في سبيل الله أتينا به رسول الله صلى الله عليه و سلم فدفعناه إليه فوضعه حيث أراه الله فجئت بالفرس فدفعته إليه فحمل عليه رجلا من أصحابه فوافقته يبيعها في السوق فأردت أشتريها فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال : لا تشترها ولا تعد في شيء من صدقتك K الحديث صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ( میں نے ) ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، ہمارا طریقہ یہ تھا کہ جب ہم گھوڑا اللہ کی راہ میں دیتے تو اس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر آتے تھے ، ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو وہاں رکھتے جس طرح اللہ نے رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ میں گھوڑا لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ مٰں آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیا۔ آپ نے ایک صحابی کو دیا۔ میں نے ایک دن اس کو بازار میں فروخت کرتے ہوئے دیکھا ۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس کو خرید لوں ۔ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا تو اس بات کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اس کو نہ خریدو اور صدقہ واپس نہ لو۔

ابن عمر لعله ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَوْصِلِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 255

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 256

256 - حدثنا أحمد بن إبراهيم النكري حدثنا شبابة بن سوار حدثنا شعبة عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد أن معدان بن أبي طلحة اليعمري قال Y خطب عمر بن الخطاب فقال : رأيت كأن ديكا أحمر نقر في نقرة أو نقرتين ولا أرى ذلك إلا لحضور أجلي فإن عجل بي أمر فإن الخلافة شورى في هؤلاء الرهط الستة الذين توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو عنهم راض وإني أعلم أن ناسا سيطعنون في هذا الأمر أنا قاتلتهم بيدي هذه على الإسلام فإن فعلوا فأولئك أعداء الله الكفار الضلال وإني أشهد على أمراء الأمصار فإني إنما بعثتهم ليعلموا الناس دينهم وسنة نبيهم صلى الله عليه و سلم ويقسموا فيئهم وما أغلظ لي رسول الله صلى الله عليه و سلم في شيء أو ما نازلت رسول الله صلى الله عليه و سلم في شيء من آية الكلالة حتى ضرب صدري وقال : يكفيك آية الصيف التي أنزلت في آخر النساء { يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة } [ سورة النساء : 176 ] وسأقضي فيها بقضاء يعلمه من يقرأ ومن لا يقرأ هو ما خلا الأب كذا أحسب ألا إنكم أيها الناس تأكلون من شجرتين ما أراهما إلا خبيثتين : البص والثوم وإن كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يمر بالرجل يوجد منه ريحهما منه يخرج إلى البقيع فمن كان لا بد آكلهما فليمتهما طبخا K إسناده صحيح

حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ( اس میں فرمایا : میں نے خواب دیکھا ہےگویا ایک مرغ نے مجھے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ ٹھونگ ماری ہے ، میری رائے یہ ہے کہ میری موت قریب ہے اگر میری موت قریب ہے پھر خلافت کے متعلق ان چھ افراد سے مشورہ کر لینا۔ کیونکہ جب رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان چھ افراد سے راضی تھے ۔ میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ خلافت کے متعلق خلل ڈالنے کی کوشش کریں گے ۔ میں اپنے ہاتھوں سے اسلام کی خاطر ان لوگوں سے لڑائی کر چکا ہوں ۔ اگر ان لوگوں نے خلافت کے متعلق کچھ خلل اندازی کی تو یہ لوگ اللہ کے دشمن کافر اور گمراہ ہوں گے ۔ میں گواہی دیتا ہوں اس زمانہ کے گورنروں کے متعلق بے شک میں نے ان کو تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ لوگوں کو دین اور رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت اور مال غنیمت تقسیم کرنے کے متعلق سکھائیں۔ مجھ سے رسول اک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مسئلہ میں ناراض نہیں ہوئے ، یا یہ کہ میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی آیت کے متعلق کبھی اصرار کیا ہو ؟ جتنا مسئلہ کلالہ میں کیا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا کیا تجھے سورہ نسا کی آخری ایت ہی کافی نہیں جو گرمیوں میں اتری تھی : ( اے میرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) فتویٰ پوچھتے ہیں آپ سے آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ فتویٰ دیتا ہے ، کلالہ کی میراث کے متعلق ( سورۃ نسا 177 ) اور عنقریب اس مسئلہ کے متعلق ایسا فیصلہ فرماؤں گا جو قرآن پڑھے یا نہیں پڑھے اس کو بھی اس مسئلہ کی سمجھ آ جائے گی وہ یہ ہے کہ جو باپ نہ چھوڑے میں اس کو اس طرح سمجھتا ہوں ۔ اے لوگو ! کیا تم ان دو درختوں سے کھاتے ہو جن کے متعلق میری رائے یہ ہے کہ یہ دونوں خبیث ہیں ایک لہسن اور ایک پیاز ۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس کے منہ سے ان دونوں کی بدبو آ رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو جنت البقیع کی طرف نکال دیا اور جس نے ضروری کھانا ہے ان دونوں کو وہ پکا کر کھائے ۔

خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← سالم بن أبي الجعد أن معدان بن أبي طلحة اليعمري ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← أحمد بن إبراهيم النكري

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 256

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 257

257 - حدثنا سريج بن يونس حدثنا أبو معاوية عن هشام بن عروة عن أبيه عن عاصم بن عمر Y عن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أقبل الليل وأدبر النهار وغابت الشمس فقد أفطر الصائم K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جب رات آئے اور دن ڈھل جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار افطار کر لے ۔

عُمَرَ، ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ،

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 257

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 258

258 - حدثنا أحمد بن إبراهيم حدثنا بشر عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال Y بينما عمر بن الخطاب يخطب الناس يوم الجمعة إذ دخل عثمان بن عفان المسجد فعرض به عمر فقال : ما بال رجال يتأخرون بعد النداء ؟ قال عثمان : يا أمير المؤمنين ما زدت حين سمعت النداء على أن توضأت ثم أقبلت قال عمر : والوضوء أيضا ! ألم تسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا جاء أحدكم إلى الجمعة فليغتسل ؟ K إسناده صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے آپ لوگوں کو جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ، اچانک حضرت عثمان بن عفان مسجد میں داخل ہوئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر تعریض کی اور فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جو اذان کے بعد پیچھے رہ جاتے ہیں ! حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے امیر المومنین ! میں نے جس وقت اذان سنی اس وقت کوئی اضافی کام نہیں کیا سائے اس کے کہ میں نے وضو کیا پھر میں چلاآیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اچھا آپ نے صرف وضو کیا، کیا آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا نہیں کہ جب تم میں سے کوئی جعمہ کے لیے آئے تو وہ غسل کر کے آئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 258

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 259

259 - حدثنا نصر بن علي بن نصر حدثنا مسلم عن الدجين عن أسلم مولى عمر Y عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار K إسناده ضعيف , ومتن الحديث متواتر

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے اس کو چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَسْلَمَ مَوْلَى عُمَرَ ← الدُّجَيْنِ، ← مُّسْلِمٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 259

chevron_left Previous
1…891011
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter