Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 97

97 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل حدثنا جرير و أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح قال Y قال أبو بكر الصديق قام رسول الله صلى الله عليه و سلم في مثل مقامي ثم بكى فقال : سلوا الله العافية فإن أحدا لم يعط شيئا خيرا من العافية ليس اليقين . وقال أبو معاوية : إلا اليقين K إسناده ضعيف

حضرت ابو صالح سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میری اس جگہ کی طرح کھڑے ہوئے تھے پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی سے عافیت مانگو ، کیونکہ ایمان کے بعد سب سے بڑی شے عافیت ہے اس سے زیادہ بہتر کسی کو کوئی شی نہیں دی گئی ۔ ابو معاویہ نے کہا: مگرایمان -

اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جرير و أبو معاوية ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 97

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 98

98 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي حدثنا يحيى و عثمان بن علي عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبي بكر بن أبي زهير Y عن أبي بكر الصديق قال : قلت : يا رسول الله كيف الصلاح بعد هذه الآية ؟ { من يعمل سوءا يجز به } [ سورة النساء آية : 123 ] إنا لمجازون بكل ما يكون منا ؟ قال : رحمك الله أبابكر ألست تحزن ؟ ألست تنصب ؟ ألست تصيبك اللأواء ؟ قلت : بلى قال : فهذا ما تجازون به K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتےہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کے بعد کیسے اصلاح ہو گی کہ جو براعمل کرے اس کو اس کا بدلہ دیا جاۓ گا ہم کو ہر شے کا بدلہ دیا جاۓ گا جو ہم سے ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ تم پر رحم کرے! کیا آپ غم زدہ ہوتے ہیں کہ آپ کو پریشانی لاحق نہیں ہوتی ؟ یعنی آپ کو بیماریاں نہیں لگتی ہیں، میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: یعنی بدلہ ہے ۔

قُلْتُ ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← أبي بكر بن أبي زهير ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يحيى و عثمان بن علي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 98

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 99

99 - حدثنا القواريري حدثنا يحيى بن سعيد و وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد . عن أبي بكر الصديق . وقال يحيى : عن أبي بكر بن أبي زهير Y أن أبا بكر الصديق قال : قلت : يا رسول الله كيف الصلاح بعد هذه الآية { من يعمل سوءا يجز به } [ سورة النساء آية : 123 ] فقال : رحمك الله أبا بكر ألست تنصب ؟ ألست تصيبك اللأواء ؟ فذاك ما تجازون به K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس آیت کے بعد کیسے اصلاح ہو گیا کہ جو پر عمل کرے اس کو اس کا بدلہ دیا جاۓ گا ہم کو ہر شے کا بدلہ دیا جاۓ گا جو ہم سے ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ تم پر رحم کرے! کیا آپ غم زدہ ہوتے ہیں کیا آپ کو پریشانی لاحق نہیں ہوتی ؟ آپ کو بیماریاں نہیں لگتی ہیں، میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا : یہی بدلہ ہے۔

قُلْتُ ← أبي بكر بن أبي زهير أن أبا بكر الصديق ← أبي بكر الصديق وقال يحيى ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يحيى بن سعيد و وكيع ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 99

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 100

100 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يحيى بن سعيد عن اسماعيل بن أبي خالد قال حدثني أبو بكر بن أبي زهير Y عن أبي بكر الصديق أنه قال : يا رسول الله كيف الصلاح بعد هذه الآية ؟ { من يعمل سوءا يجز به } [ سورة النساء آية : 123 ] كل سوء نعمله نجزى به ؟ قال : رحمك الله أبا بكر ألست تمرض ألست تنصب ؟ ألست تصيبك اللأواء ؟ فذاك ما تجازون به K إسناده ضعيف

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس آیت کے بعد کیسے اصلاح ہو گیا کہ جو پر عمل کرے اس کو اس کا بدلہ دیا جاۓ گا ہم کو ہر شے کا بدلہ دیا جاۓ گا جو ہم سے ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ تم پر رحم کرے! کیا آپ غم زدہ ہوتے ہیں کیا آپ کو پریشانی لاحق نہیں ہوتی ؟ آپ کو بیماریاں نہیں لگتی ہیں، میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا : یہی بدلہ ہے۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ ← أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 100

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 101

101 - حدثنا محمد بن أبي بكر حدثنا المعتمر عن اسماعيل بن أبي خالد حدثني رجل من ثقيف يقال له أبو بكر بن أبي زهير Y عن أبي بكر الصديق قال : قلت للنبي صلى الله عليه و سلم : كيف الصلاح بعد هذه الآية : { من يعمل سوءا يجز به } [ سورة النساء آية : 123 ] كل سوء عملنا نجزى به ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : غفر الله لك - أو : رحمك الله - ألست تمرض ؟ ألست تحزن ؟ ألست تصيبك اللأواء ؟ K إسناده ضعيف

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس آیت کے بعد کیسے اصلاح ہو گیا کہ جو پر عمل کرے اس کو اس کا بدلہ دیا جاۓ گا ہم کو ہر شے کا بدلہ دیا جاۓ گا جو ہم سے ہوتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ ! اللہ تم پر رحم کرے! کیا آپ غم زدہ ہوتے ہیں کیا آپ کو پریشان نہیں ہوتے؟ کیا آپ کو آ زمائش نہیں پہنچتی ہے؟

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← رجل من ثقيف يقال له أبو بكر بن أبي زهير ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 101

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 102

102 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن أبي وائل قال : حدثت Y أن أبا بكر لقي طلحة فقال مالي أراك واجما ؟ قال : كلمة سمعتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم يزعم أنها موجبة فلم أسأله عنها فقال أبو بكر : أنا أعلم ما هي قال : ما هي ؟ قال : لا إله إلا الله K رجاله ثقات

حضرت ابو وائل سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی حضرت طلحہ سے ملاقات ہوئی ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ہے! میں آپ کو پریشان دیکھتا ہوں؟ حضرت طلحہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ہے کہ گمان ہے کہ وہ واجب کر نے والی ہے میں نے اس کے متعلق آپ سے پوچھا نہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ا نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ کیا ہے؟ فرمایا: لا الہ الا اللہ ۔

أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 102

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 103

103 - حدثنا زهير حدثنا معلى بن منصور حدثنا ابن أبي زائدة حدثنا ابن أبي ليلى حدثنا عبد الرحمن بن الأصبهاني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى Y عن ابي بكر الصديق قال : نزل النبي منزلا فبعثت إليه امرأة مع ابن لها شاة فحلب ثم قال : انطلق به إلى أمك فشربت حتى رويت ثم جاء بشاة أخرى فحلب ثم سقى أبا بكر ثم جاء بشاة أخرى فحلب ثم شرب K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک جگہ اترے ۔ ایک عورت نے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک بکری بھیجی ، آپ نے اس کا دودھ نکالا پھرفرمایا: یہ اپنی ماں کے پاس لے جاؤ ، ان کی ماں نے پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہوئیں، پھر دوسری بکری لائی گئی آپ نے اس کا دودھ نکالا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پینے کے لیے دیا پھر ایک اور بکری لائی گئی۔ آپ نے اس کا دودھ نکالا پھر خود اس کونوش کیا۔

نزل النبي منزلا فبعثت إليه امرأة مع ابن لها شاة فحلب ثم ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 103

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 104

104 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل حدثنا وكيع حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن زيد بن يثيع Y عن أبي بكر الصديق أن النبي صلى الله عليه و سلم بعثه ببراءة إلى أهل مكة : لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوفن بالبيت عريان ولا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة ومن كان بينه وبين رسول الله صلى الله عليه و سلم مدة فأجله إلى مدته والله بريء من المشركين ورسوله قال : فسار بها ثلاثا ثم قال لعلي الحقه فرد علي أبا بكر وبلغها قال ففعل قال : فلما قدم على النبي صلى الله عليه و سلم أبو بكر بكى وقال : يا رسول الله أحدث في شيء ؟ قال ثم قال : ما حدث فيك إلا خير إلا أني أمرت بذلك : أن لا يبلغ إلا أنا أو رجل مني K رجاله ثقات

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ) مجھے) اہل مکہ کی طرف برات کا اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ آئندہ سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی خانہ کعبہ کا طواف ننگ ہو کر کرے۔ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے۔ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معاہدہ ہو اس کا معاہدہ اس کی موت تک برقرار رہے گا۔ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مشرکین سے بری ہیں ۔ حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تین دن کی مسافت طے کر چکے تھے ۔ پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھیجا اور کہا کہ ابو بکر کو میرے پاس بلا کر لاؤ اور ان کو پیغام پہنچاؤ ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کیا۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آۓ تو رو پڑے ۔ عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! کیا میرے متعلق کوئی نیا حکم نازل ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: تیرے متعلق تو ہمیشہ بھلائی ہی اترتی ہے مگر ) مجھے اللہ کی جانب سے حکم تھا کہ اس پیغام کو میں خودپہنچاؤں یا میرے خاندان میں سے کوئی ہو ۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← زيد بن يثيع ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← إسحاق بن إسماعيل

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 104

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 105

105 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا سويد بن عبد العزيز عن ثابت بن عجلان عن سليم بن عامر قال Y سمعت أبا بكر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اخرج فناد في الناس من شهد أن لا إله إلا الله وجبت له الجنة قال : فخرجت فلقيني عمر بن الخطاب فقال : ما لك أبا بكر ؟ فقلت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : اخرج فناد في الناس من شهد أن لا إله إلا الله وجبت له الجنة قال عمر : إرجع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فإني أخاف أن يتكلوا عليها فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ما ردك ؟ فأخبرته بقول عمر فقال : صدق K إسناده ضعيف

حضرت سلیم بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سنا ، حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور لوگوں میں اعلان کر دو جو بھی آ دی’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھے اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یعنی ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ( میں نکلا، میری ملاقات حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے ابو بکر ! کس لیے باہر نکلے ہو؟ میں نے کہا، مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کہا ہے، نکلیے اور لوگوں کو بتائے کہ جو شخص بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لے اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض جایئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مجھے خوف ہے کہ لوگ اس بات پر بھروسہ کر لیں گے۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف گیا ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: واپس کیوں آگئے ہو؟ میں نے بتایا: عمر رضی اللہ عنہ کی بات کے پیش نظر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : عمر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا۔

أبا بكر ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ1 ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 105

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 106

106 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يونس بن محمد حدثنا جرير بن حازم حدثنا الزبير بن الخريت عن أبي لبيد قال Y خرج رجل من الأسر من طاحية يقال له بيرح بن أسد مهاجرا إلى المدينة وقد مات رسول الله صلى الله عليه و سلم قبيل ذلك قال : فرأى عمر بن الخطاب بيرحا يطوف في سكك المدينة فأنكره فقال : من أنت ؟ قال أنا رجل من أهل عمان فأخذ بيده فذهب به إلى أبي بكر فقال : يا أبا بكر هذا من الأرض التي سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يذكر أهلها من أهل عمان . فقال أبو بكر سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إني لأعلم أرضا ينضح بناحيتها البحر بها حي من العرب لو أتاهم رسولي لم يرموه بسهم ولا حجر K رجاله ثقات

حضرت ابی لبید فرماتے ہیں کہ قبیلہ ان کا ایک آدمی وادی حاجیہ سے نکلا (اس کو بیرح بن اسد کہا جا تا ہے )مدینہ شریف کی طرف ہجرت کر کے نکالا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کچھ دیر پہلے وفات پا چکے تھےحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیرحا کو مدینہ شریف کی گلیوں میں گھومتے ہوۓ دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو اجنبی جانا ۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، تو کون ہے؟ اس نے کہا میں اہل عمان کا ایک آدمی ہوں ، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آۓ ، عرض کی: اے ابو بکر رضی اللہ عنہ! یہ آدمی اس ملک کا ہے جس کے متعلق میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سنا ہے اس کے اہل کا ذکر کرتے ہوۓ اہل عمان سے ۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایسے ملک کو جانتا ہوں اس کو سمندر نے بہا دیا ہو گا وہ عرب کا ایک قبیلہ ہے اگر میرا بھیجا ہوا آیا ان کے پاس تو وہ اس کو تیر اور پتھر نہیں ماریں گے ۔

أَبِي لَبِيدٍ ← الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 106

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 107

107 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عكرمة قال Y قال أبو بكر : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما شيبك ؟ قال : شيبتني هود والواقعة وعم يتساءلون وإذا الشمس كورت K إسناده ضعيف

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کو کون سی چیز نے بوڑھا کر دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سورہ ہود، سورہ واقعہ، سورہ عم يتساءلون اور سورہ واذ الشمس کورت ۔

شيبتني هود والواقعة وعم يتساءلون وإذا الشمس كورت إسناده ضعيف ← أبو بكر سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شيبك ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 107

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 108

108 - حدثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عكرمة قال Y قال أبو بكر : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شيبك ؟ فذكر نحوه K إسناده ضعيف

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےحضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلمسے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ کو کون سی چیز نے بوڑھا کر دیا ہے؟ اس کے بعد حسب سابق حدیث ذکر کی ۔

نحوه إسناده ضعيف ← أبو بكر سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شيبك ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 108

chevron_left Previous
1…89101112
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter