Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 61

61 - حدثنا موسى بن محمد بن حيان حدثنا روح بن أسلم و فهد قالا : حدثنا عبد العزيز بن مسلم حدثنا ليث عن أبي محمد عن معقل بن يسار قال : شهدت النبي صلى الله عليه و سلم مع أبي بكر أو قال Y حدثني أبو بكر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : الشرك أخفى فيكم من دبيب النمل فقال أبو بكر : وهل الشرك إلا من دعا مع الله إلها آخر ؟ فقال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : الشرك أخفى فيكم من دبيب النمل ثم قال : ألا أدلك على ما يذهب عنك صغير ذلك وكبيره ؟ قل : اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم وأستغفرك مما لا أعلم K إسناده ضعيف

حضرت معقل بن یساررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے یا یہ فرمایا کہ مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: تم میں شرک چیونٹی کے چلنے سے زیادہ مخفی ہے، پھر فرمایا گیا میں آپ ایسا وظیفہ نہ بتاؤں کہ جس کے پڑھنے سے تمہارے صغیرہ وکبیرہ گناہ معاف ہو جائیں تو پڑھ لیا کرو: اللهم إنى إلى آخره .

أبو بكر وهل الشرك إلا من دعا مع الله إلها آخر ← الشرك أخفى فيكم من دبيب النمل ← أَبُو بَکْرٍ ← شهدت النبي صلى الله عليه و سلم مع أبي بكر أو ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أبي محمد ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← روح بن أسلم و فهد ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 61

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 62

62 - حدثنا سريج حدثنا مروان بن معاوية حدثنا جعفر بن الزبير عن القاسم عن أبي أمامة Y عن أبي بكر الصديق قال : كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في الغار فقال : اللهم طعنا وطاعونا قلت : يارسول الله إني أعلم أنك قد سألت منايا أمتك فهذا الطعن قد عرفناه فما الطاعون ؟ قال : ذرب كالدمل إن طالت بك حياة ستراه K إسناده ضعيف

حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ غار میں تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ ! طعن اور طاعون( سے محفوظ رکھ ( ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ؟ بے شک میں جان گیا ہوں کہ آپ نے اپنی امت کے لیے مانگا ہے یہ تو طعن ہو گیا۔ اسے ہم نے پہچان لیا طاعون کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : پھوڑے کی طرح ایک بیماری ہے، اگر تیری زندگی بھی ہوئی تو عنقریب دیکھ لے گا ۔

كنت مع النبي صلى الله عليه و سلم في الغار ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجٌ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 62

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 63

63 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا إبرهيم بن سعد حدثنا ابن شهاب عن عبيد بن السباق عن زيد بن ثابت قال Y أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فجئت فإذا عمر عنده فذكر نحوا من حديث العمري وزاد فيه بعد قول زيد بن ثابت : فالحقتها قال : قال ابن شهاب : فاختلفوا يومئذ في التابوت فقال زيد : التابوه وقال الرهط القرشيون : التابوت فرفعوا اختلافهم إلى عثمان فقال : اكتبوه في التابوت بلسان قريش قال ابن شهاب : وكان ابن مسعود قد كره أن ولي زيد نسخ المصاحف . قال ابن شهاب : وحدثني عبيد الله بن عبد الله أن عبد الله قال : يامعشر المسلمين أعزل عن كتاب الله ويولاها رجل والله لقد أسلمت وإنه لفي صلب رجل كافر ؟ يريد زيد بن ثابت قال : فلذلك قال عبد الله : يا أهل العراق أو يا أهل الكوفة غلوا المصاحف التي عندكم واكتموها فإن الله يقول : ( { ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة } ) [ آل عمران - آية 161 ] . قال ابن شهاب : فبلغني أنه كره هذا من مقالته رجال كانوا من أفاضل أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده منقطع

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ یمامہ کی جنگ میں مجھے بلوایا اپنے پاس، میں آیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے باقی حدیث عمر رضی اللہ عنہ ی کی حدیث کی طرح ہے۔( جو عنقریب آ رہی ہے ) اس میں حضرت زید بن ثابت کے قول کے بعد فالتحقتھا کا لفظ زیادہ کیا ہے ۔ ابن شہاب فرماتے ہیں اس دن اس لفظ کے متعلق اختلاف ہو گیا کہ آیا لفظ تابوت یا کوئی اور؟ حضرت زید میلا نے فرمایا: یہ لفظ تابوہ ہے۔ قریش کے گروہ نے کہا یہ لفظ تابوت ہے ۔ یہ اختلاف حضرت عثمان غنی کے پاس لے جایا گیا ۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قریش کی زبان میں لفظ تابوت لکھ دو ۔ حضرت ابن شہاب فر ماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ تو نا پسند فرماتے کہ حضرت زیدرضی اللہ عنہ کو مصاحف کو منسوخ کرنے میں ولی بنایا جاۓ ۔ ابن شہاب فرماتے ہیں مجھے عبید اللہ بن عبداللہ نے بتایا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اسے مسلمانوں کے گروہ میں اللہ کی کتاب سے علیحدہ ہوں جس کا ولی یہ آدمی ہے ۔ اللہ کی قسم! میں مسلمان ہو گیا ابھی یہ کافر باپ کی صلب میں تھا؟ مراد زید بن ثابت لیے، اس لیے حضرت عبداللہ فرماتے تھے: اے اہل عراق! یا اے اہل کوفہ! جو تمہارے پاس مصاحف ہیں اس میں غلو کیا گیا ہے اور اس سے چھپایا گیا ہے، بے شک اللہ عز وجل فرماتا ہے، جو خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن خیانت لاۓ گا۔ حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ یہ بات حضرت عبداللہ کی حضرت زید کے متعلق ) افاضل سحا بہ کرام نا پسند کرتے تھے۔

كان ابن مسعود قد كره ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اكتبوه في التابوت بلسان قريش ← الرهط القرشيون التابوت فرفعوا اختلافهم إلى عثمان ← زَيْدٌ التَّابُوهُ ← ابن شهاب فاختلفوا يومئذ في التابوت ← زاد فيه بعد قول زيد بن ثابت فالحقتها ← نحوا من حديث العمري ← أرسل إلي أبو بكر مقتل أهل اليمامة فجئت فإذا عمر عنده ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابرهيم بن سعد ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 63

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 64

64 - حدثنا القواريري حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبيد بن السباق أن زيدا حدثه قال Y أرسل أبو بكر مقتل أهل اليمامة فإذا عمر بن الخطاب عنده فقال : إن عمر أتاني فقال : إن القتل قد استحر بقراء القرآن يوم اليمامة وإني لأخشى أن يستحر بالقراء في المواطن كلها فيذهب قرآن كثير وإنني أرى أن تأمر بجمع القرآن قال أبو بكر : قلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو والله خير فلم يزل عمر بن الخطاب يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر عمر ورأيت فيه الذي رآه قال زيد : قال أبو بكر : إنك شاب عاقل ولا نتهمك وقد كنت تكتب لرسول الله صلى الله عليه و سلم الوحي فتتبع القرآن فاجمعه قال : فو الله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي من ذاك قال : قلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال أبو بكر : هو والله خير فلم يزل يراجعني في ذلك أبو بكر و عمر حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر أبو بكر و عمر فتتبعت القرآن أجمعه من الرقاع والسعف والحجارة والرقاق ومن صدور الرجال فوجدت في آخر سورة التوبة براءة مع خزيمة بن ثابت : ( { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } ) إلى آخر الآية [ التوبة آية 128 ] K إسناده صحيح

حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نےمیری طرف کسی کو بھیجا جنگ یمامہ میں آپ کے پاس حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آیا ہے اس نے عرض کی ہے کہ جنگ یمامہ سے بڑے قاری قرآن شہید ہوئے ہیں ، میں خوف کرتا ہوں کہ اس طرح قاری شہید ہوتے رہے تو سارا قرآن چلا جاۓ گا ۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم دیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: کیا میں ایسا کام کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! جمع کرنا بہتر عمل ہے، مسلسل حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے عرض کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو کھولا تھا۔ میری بھی وہی راۓ ہو گئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا: آپ نو جوان ، سمجھدار اور ہم تجھے متہم نہیں کرتے جبکہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے وہی لکھتے تھے، آپ قرآن کو تلاش کر یں ، آپ جمع کر یں ۔ حضرت زید فرماتے ہیں اگر مجھے ایک پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنے کی مکلف بنایا جاتا تو مجھے ایسے کرنا زیادہ آسان تھا۔ میں نے عرض کی تم وہ کام کیسے کرو گے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہیں کیا ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اچھا کام ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہما مجھے مسلسل ابھارتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کوکھول دیا جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا تھا۔ میں نے قرآن تلاش کرنا شروع کیا، میں نے جمع کیا پر چوں کھجور کی شاخوں اور پتوں پتھروں اور باریک کپڑوں سے ۔اور مردوں کے سینوں سے ، میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت خزیمہ بن ثابت سے پائی ۔ وہ آیت یہ ہے لقد جاءكم رسول من أنفسكم .

عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 64

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 65

65 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن ابن شهاب عن عبيد ابن السباق أن زيد بن ثابت حدثه Y أن أبا بكر قال : إنك رجل شاب عاقل ولا نتهمك قد كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتتبع القرآن فاجمعه K إسناده صحيح

حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے فرمایا: تو نوجوان سمجھدار اور ہم تجھ پر تہمت نہیں لگاتے جبکہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وحی بھی لکھتا تھا ، تو قرآن تلاش کر اور جمع کر ۔

أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ← عبيد ابن السباق أن زيد بن ثابت ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 65

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 66

66 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عفان بن مسلم حدثنا همام حدثنا ثابت عن أنس Y أن أبا بكر حدثه قال : قلت للنبي صلى الله عليه و سلم ونحن بالغار : لو أن أحدهم ينظر إلى تحت قدميه لأبصرنا تحت قدميه قال : فقال : يا أبا بكر ما ظنك باثنين الله ثالثهما ؟ K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کو حضرت سید نا ابو بکر صدیق نے بتایا کہ غار ثور میں عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اگر ان کافروں میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ضرور ہم کو دیکھ لے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ان دو کے بارے تیرا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 66

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 67

67 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا حبان بن هلال حدثنا همام عن ثابت حدثنا أنس Y أن أبا بكر حدثه قال : نظرت إلى أقدام المشركين على رؤوسنا ونحن في الغار فقلت : يا رسول الله لو أن أحدهم نظر إلى قدميه أبصرنا تحت قدميه فقال : يا أبا بكر ما ظنك باثنين الله ثالثهما ؟ K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کو حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ غارثور میں، میں نے مشرکوں کے قدم اپنے سروں پر دیکھے اس حال میں کہ ہم غار میں تھے۔ میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اگر ان کافروں میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ضرور ہم کو دیکھ لے گا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ ! ان دو کے بارے تیرا کیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔

نظرت إلى أقدام المشركين على رؤوسنا ونحن في الغار فقلت ← أنس أن أبا بكر ← ثَابِتٍ، ← هَمَّامٌ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 67

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 68

68 - حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سمينة البصري و محمد بن المثنى قالا : حدثنا عمرو بن عاصم الكلابي حدثنا عمران عن معمر عن الزهري عن أنس قال Y قال عمر لأبي بكر في الردة : ألم يقل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا : لا إله إلا الله فإذا قالوها عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله ؟ فقال أبو بكر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم - : وفي حديث ابن أبي سمينة قال أبو بكر : إنما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم - أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة والله لو منعوني عقالا لقاتلتهم عليه حتى تلحق نفسي بالله قال عمر : فلما رأيت أبا بكر قد عزم على ذلك علمت أنه الحق

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مرتد ہونے کے بارے میں عرض کی، اے امیر المومنین! کیا رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ لوگ کہہ لیں لا الہ الا اللہ ! جب اس کلمہ کا اقرار کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے اموال بچا لیے مگر حق کے ساتھ اور ان کا باطنی معاملہ اللہ کے سپرد ہے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ بھی ارشاد پاک ہے جو کہ حدیث ابن ابی سمینہ میں ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ لوگ لا الہ الا اللہ کہیں اور نماز قائم کر میں اور زکوٰۃ ادا کر یں اللہ کی قسم ! اگر ان لوگوں نے مجھ سے اونٹ کی نکیل بھی روک لی تو میں ضرور بضرور ان کے ساتھ جہاد کروں گا یہاں تک کہ میں اللہ کے پاس چلا جاؤں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں نے دیکھا کہ ابو بکررضی اللہ عنہ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ حق ہے ۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عِمْرَانُ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← محمد بن إسماعيل بن أبي سمينة البصري و محمد بن المثنى

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 68

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 69

69 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا عمرو بن عاصم الكلابي حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس قال Y قال أبو بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم لعمر : انطلق بنا إلى أم أيمن نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يزورها فلما انتهينا إليها بكت فقالا لها : مايبكيك ؟ ما عند الله خير لرسوله قال فقالت : ما أبكي أن لا أكون أعلم أن ما عند الله خير لرسوله ولكن أبكي أن الوحي انقطع من السماء قال : فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان معها K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، چلو ہم ام ایمن کی زیارت کر کے آئیں جس طرح ان کی زیارت حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کرتے تھے۔ جب ہم آپ رضی اللہ عنہا کے پاس آۓ تو وہ رو پڑیں ۔ دونوں بزرگوں نے کہا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ کیا اللہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام بہتر نہیں؟ انہوں نے فرمایا (یعنی ام ایمن رضی اللہ عنہا نے) میں اس لیے نہیں رو رہی ہوں کہ میں بھی جانتی ہوں کہ اللہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا مقام بہتر ہے ۔ لیکن میں رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنا ختم ہو گئی ہے ۔ حضرت انس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: حضرت ام ایمن نے دونوں حضرات کو رونے پر مجبور کر دیا دونوں ان کے ساتھ رونے لگے۔

أَبُو بَکْرٍ بَعْدَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 69

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 70

70 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا زائدة بن أبي الرقاد حدثني زياد النميري عن أنس Y أن أبا بكر دخل على النبي صلى الله عليه و سلم وهو كئيب فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ما لي أراك كئيبا ؟ قال : يا رسول الله كنت عند ابن عم لي البارحة فلان وهو يكيد بنفسه قال : فهلا لقنته لا إله إلا الله ؟ قال : قد فعلت يا رسول الله قال : فقالها ؟ قال : نعم قال : وجبت له الجنة قال أبو بكر : يا رسول الله كيف هي للأحياء ؟ قال : هي أهدم لذنوبهم هي أهدم لذنوبهم K إسناده ضعيف

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صد یق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پریشانی کی حالت میں آۓ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں آپ کو پریشان دیکھ رہا ہوں؟ عرض کی : یا رسول اللہ! میں فلاں رات کو اپنے چچا زاد کے پاس تھا اس کی جان نکل رہی تھی ، آپ نے فرمایا : کیا تو نے اس کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کی تھی ۔ عرض کی : یارسول اللہ! میں نے کی تھی ، آپ نے فرمایا : اس نے کلمہ پڑھا تھا؟ عرض کی: جی ہاں! آپ نے فرمایا: اس کے لیے جنت واجب ہو گئی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! زندوں کے لیے پڑھنا کیا ہے؟ فرمایا : یہ ان کے گناہوں کو ختم کر نے والا ہے، گناہوں کو ختم کرنے والا ہے ۔

أَنَسٍ، ← زِيَادٍ النُّمَيْرِيِّ ← زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الرُّقَادِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 70

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 71

71 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا عثمان بن عمر حدثنا يونس بن يزيد عن الزهري أخبرني بن السباق أخبرني زيد بن ثابت Y أن أبا بكر أرسل إليه مقتل أهل اليمامة قال : فأتيته فإذا عمر عنده فقال أبو بكر : إن عمر أتاني فقال : إن القتل قد استحر بأهل اليمامة من قراء القرآن - أو الناس - شك أبو يعلى - فأنا أخشى أن يستحر القتل في المواطن كلها فيذهب كثير من القرآن لا يوعى وإني أرى أن تأمر بجمع القرآن قلت لعمر : كيف أفعل شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال عمر : هو - والله - خير فلم يزل يراجعني في ذلك حتى شرح الله صدري ورأيت فيه الذي رأى عمر : فقال زيد : و عمر عنده جالس لا يتكلم فقال أبو بكر : إنك شاب عاقل ولا نتهمك وكنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم فاتبع القرآن فاجمعه قال زيد : فو الله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان أثقل علي مما أمرني به من جمع القرآن فقلت : كيف تفعلون شيئا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : هو - والله - خير فلم يزل يراجعني حتى شرح الله صدري بالذي شرح به صدر أبي بكر و عمر فجمعت القرآن أتتبعه من الرقاع و الأكتاف وصدور الرجال حتى وجدت آخر سورة التوبة مع خزيمة الأنصاري لم أجدها مع أحد غيره { لقد جاءكم رسول من أنفسكم } إلى آخر الآية [ التوبة آية 128 ] فكانت المصاحف التي جمعنا فيها القرآن عند أبي بكر حياته حتى توفاه الله ثم عند عمر حتى توفاه الله ثم عند حفصة K إسناه صحيح

حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے میری طرف کسی کو بھیجا جنگ یمامہ میں آپ کے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آیا ہے اس نے عرض کی ہے کہ جنگ یمامہ سے بڑے قاری قرآن شہید ہوئے ہیں میں خوف کرتا ہوں کہ اس طرح قاری شہید ہوتے رہے تو سارا قرآن چلا جاۓ جو یاد نہ کیا جا سکے گا۔ میری راۓ یہ ہے کہ آپ قرآن جمع کر نے کا حکم دیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: کیا میں ایسا کام کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم! یہ بہتر جمع کرنا مسلسل حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے عرض کر تے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ عز وجل نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا ہوا تھا ۔ میری بھی وہی رائے ہوگئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تھی ۔ حضرت زید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ نو جوان ،سمجھدار اور نہ تھکنے والے ۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وحی لکھتے تھے، آپ قرآن کو تلاش کر میں ، آپ جمع کر یں ۔ حضرت زید فرماتے ہیں اگر مجھے ایک پہاڑ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنے کا مکلف بنایا جاتا تو مجھے ایسے کرنا زیادہ آسان تھا۔ میں نے عرض کی: میں وہ کام کیسے کروں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے مسلسل ابھارتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے میرے سینے کو کھول دیا جس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کے سینے کو کھولا ہوا تھا۔ میں نے قرآن تلاش جمع کرنا شروع کیا، میں نے جمع کیا پر چوں اور اور کندھے کی ہڈیوں سے ۔ اور مردوں کے سینوں سے، میں نے سورہ توبہ کی آخری آیت خزیمہ بن ثابت سے پائی ۔ وہ آیت یہ ہے: لقد جاء کم رسول من أنفسكم . وہ ناہ مصاحف جو ہم نے قرآن میں جمع کیے تھے وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ان کی زندگی میں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو پھر حضرت حفصہ کے پاس رہا۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← بن السباق ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 71

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 72

72 - حدثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا عمر بن علي حدثنا عبد الرحمن بن زياد بن أنعم قال : سمعت مالك بن قيس يحدث قال Y قدم عقبة بن عامر على معاوية وهو بإيلياء فلم يلبث أن خرج فطلب فلم يوجد - أو قال : طلبناه فلم نجده - فاتبعناه فإذا هو يصلي ببراز من الأرض قال : فقال : ما جاء بكم ؟ قالوا : جئنا لنحدث بك عهدا أو نقضي من حقك قال : فعندي جائزتكم كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر وكان على كل رجل منا رعاية الإبل يوما فكان يومي الذي أرعى فيه قال : فروحت الإبل فانتهيت إلى النبي صلى الله عليه و سلم وقد أطاف به أصحابه وهو يحدث قال : فأهملت الإبل وتوجهت نحوه فانتهيت إليه وهو يقول : من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى ركعتين يريد بهما وجه الله غفر الله له ما كان قبلهما فقلت : الله أكبر : قال : فضرب رجل على كتفي فالتفت فإذا أبو بكر قال يا ابن عامر ما كان قبلها أفضل ! قلت : ماكان قبلها ؟ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من شهد أن لا إله إلا الله يصدق قلبه لسانه دخل من أي أبواب الجنة شاء K إسناده ضعيف

حضرت مالک بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عقبہ بن عامر حضرت معاویہ کے پاس آۓ ایلیاء کے مقام پر وہاں ٹھہرے نہیں نکلے آپ کو تلاش کیا آپ کو پایا نہیں یا فرمایا: ہم نے تلاش کیا لیکن ہم نے پایانہیں ہم آپ کے پیچھے چلے تو وہ مقام براز کے ملک میں نماز پڑھ رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا تم کیسے آۓ ہو؟ انہوں نے عرض کی: ہم آۓ ہیں کہ ہم تجھ سے نیا وعدہ کر یں ، یا ہم آپ کے حق کا فیصلہ کر یں ، فرمایا: میرے پاس تمہاری معمولی سی تنخواہ ہے ۔ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، ایک دن ہم میں سے ہر ایک آدمی کی اونٹ چرانے کی باری تھی اس دن میری باری تھی میں اونٹوں کو لے گیا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس گیا آپ کے ارد گرد آپ کے صحابہ تھے آپ گفتگو کر رہے تھے میں نے اونٹوں کو چھوڑا میں آپ کی طرف متوجہ ہوا میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ فرما رہے تھے جس نے وضو کیا اچھا وضو کیا پھر دو رکعت نفل ادا کیے ان دونوں کے ساتھ اللہ کی رضا تلاش کی ۔ تو اللہ عز وجل اس کے پہلے گناہ معاف کر دے گا میں نے اللہ اکبر کہا ایک آدمی نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا میں نے دیکھا تو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے فرمایا اے ابن عامر جو اس سے پہلے والی بات ہے اس سے بھی دو افضل ہے میں نے عرض کیا فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جس نے لا الہ الا اللہ کی دل اور زبان سے گواہی دی وہ جنت کے جس دروازے سے داخل ہو گا اس کو اجازت ہے ۔

قدم عقبة بن عامر على معاوية وهو بإيلياء فلم يلبث ← مَالِكِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 72

chevron_left Previous
1…567…12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter