Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 49

49 - حدثنا كامل بن طلحة حدثنا ابن لهيعة حدثنا أبو الأسود عن عروة عن عائشة أو أسماء Y أن أبا بكر قام مقام رسول الله صلى الله عليه و سلم من العام المقبل الذي توفي فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني سمعت نبيكم صلى الله عليه و سلم بالصيف عام الأول في مثل مقامي هذا ثم فاضت عيناه ثم قال : إني سمعت نبيكم صلى الله عليه و سلم في الصيف عام الأول في مثل مقامي ثم فاضت عيناه ثم قال : إني سمعت نبيكم صلى الله عليه و سلم في الصيف عام الأول في مثل مقامي هذا ثم فاضت عيناه ثم قال : إني سمعت نبيكم عليه السلام في مثل مقامي هذا يقول : سلوا الله العفو والعافية والمعافاة في الدنيا والآخرة K إسناده ضعيف

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہایا حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہوئے جس سال رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال ہوا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے گرمیوں میں گزشتہ سال اسی جگہ پہ سنا تھا۔ پھر آپ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ پھر فرمایا: میں نے تمہارے نبی کریم مال سے گرمیوں میں گزشتہ سال اس جگہ پہ سنا تھا، پھر آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، پھر فرمایا: بے شک میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گرمیوں میں اس جگہ گذشتہ سال سنا ، پھرآپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہو گئے ۔ پھر فرمایا: میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس جگہ پر یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ سے دنیا وآخرت میں معافی عافیت اور معافات مانگو ۔

عائشة أو أسماء ← عُرْوَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 49

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 50

50 - حدثنا القواريري حدثنا غندر حدثنا معمر حدثنا ابن شهاب عن عروة Y عن عائشة أن أبا بكر دخل عليها وعندها جاريتان تضربان بدفين فانتهرهما أبو بكر فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : دعهن فإن لكل قوم عيدا K إسناده صحيح

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ رضی اللہ عنہا کے پاس آۓ اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس دو بچیاں دف بجا رہی تھیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو جھٹر کا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ان کو چھوڑ دو بے شک ہر قوم کی عید ہوتی ہے ۔

عندها جاريتان تضربان بدفين فانتهرهما أبو بكر ← عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَعْمَرٌ، ← غُنْدَرٌ، ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 50

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 51

51 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن عمر الأسلمي حدثنا الضحاك بن عثمان عن حبيب مولى عروة قال Y سمعت أسماء بنت أبي بكر قالت : رأيت أبي يصلي في ثوب واحد فقلت : ياأبه تصلي في ثوب واحد وثيابك موضوعة ؟ فقال : يا بنيه إن آخر صلاة صلاها رسول الله صلى الله عليه و سلم خلفي في ثوب واحد K إسناده ضعيف

حضرت حبیب اللہ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ میں نے اسماء رضی اللہ عنہابنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سنا،آپ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے باپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوۓ دیکھا۔ میں نے عرض کی : اے میرے والد ماجد ! آپ ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھتے ہیں ، حالانکہ آپ کے پاس اور بھی کپڑے ہیں؟آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میری لخت جگر بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری نماز جو میرے پیچھے پڑھی تھی وہ ایک ہی کپڑے میں تھی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← حَبِيبٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْأَسْلَمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 51

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 52

52 - حدثنا أبو موسى إسحاق بن إبراهيم الهروي حدثنا سفيان عن الوليد بن كثير عن ابن تدرس مولى حكيم بن حزام Y عن أسماء بنت أبي بكر أنهم قالوا لها : ما أشد ما رأيت المشركين بلغوا من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقالت : كان المشركون قعدوا في المسجد يتذاكرون رسول الله صلى الله عليه و سلم وما يقول في آلهتهم فبيناهم كذلك إذ أقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقاموا إليه بأجمعهم فأتى الصريخ إلى أبي بكر فقيل : أدرك صاحبك : فخرج من عندنا وإن له لغدائر أربعا وهو يقول : ويلكم : { أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم } ؟ [ غافر : 28 ] فلهوا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأقبلوا على أبي بكر قالت : فرجع إلينا أبو بكر فجعل لا يمس شيئا من غدائره إلا جاء معه وهو يقول : تباركت يا ذا الجلال والإكرام

حضرت حکیم بن حزام کے غلام حضرت ابن تدریس حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنت ابی بکررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسماءرضی اللہ عنہا بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ رضی اللہ عنہا نے مشرکین کی طرف رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ سخت سلوک کیا دیکھا ہے؟ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مشرکین مسجد حرام میں بیٹھتے تھے اور ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے خداؤں کے متعلق کیا فرماتے ہیں ، اسی حالت میں وہ گفتگو کر رہے تھے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آ گئے وہ سارے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف ٹوٹ پڑے تو کسی نے بلند آواز سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پکارا اور کہا کہ آپ اپنے ساتھی کے پاس پہنچیں۔ پس آپ ہمارے پاس سے نکلے اس وقت آپ کے بال لمبے تھے اور آپ فرمارہے تھے تمہارے لیے ہلاکت ! کیا تم ایسی ذات کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہہ رہی ہے کہ اللہ میرا رب ہے؟ بے شک تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آۓ ہیں۔تمہارے رب کی طرف سے ۔ پس مشرکین مکہ نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھوڑا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمارے پاس واپس آۓ ،آپ رضی اللہ عنہ کے جن بالوں میں ہاتھ لگایا جا تا وہ ہاتھ کے ساتھ آجاتا، اور عاشق صادق فرما رہے ہو تے ، اے جلال اور عزت والے تو برکت دے ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← ابن تدرس مولى حكيم بن حزام ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← أبو موسى إسحاق بن إبراهيم الهروي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 52

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 53

53 - حدثنا أبو موسى حدثنا سفيان عن الوليد عن ابن تدرس Y عن أسماء قالت : لما نزلت { تبت يدا أبي لهب } [ المسد : 1 ] جاءت العوراء أم جميل ولها ولولة وفي يدها فهر وهى تقول : مذمم أبينا أو أتينا - الشك من أبي موسى - ودينه قلينا وأمره عصينا ورسول الله صلى الله عليه و سلم جالس و أبوبكر إلى جنبه - أو قال معه - قال : فقال أبوبكر : لقد أقبلت هذه وأنا أخاف أن تراك فقال : إنها لن تراني وقرأ قرآنا اعتصم به : { وإذا قرأت القرآن جعلنا بينك وبين الذين لا يؤمنون بالآخرة حجابا مستورا } [ سورة الإسراء - أية 45 ] قال : فجاءت حتى قامت على أبوبكر ولم تر النبي صلى الله عليه و سلم : فقالت يا أبا بكر بلغني أن صاحبك هجاني قال أبو بكر : لا ورب هذا البيت ما هجاك فانصرفت وهي تقول : قد علمت قريش أني بنت سيدها

حضرت اسماء بنا بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں جب سورۃ تبت يدا ابی لہب نازل ہوئی تو بوڑھی ام جمیل آئی اور اس کو بڑا غصہ تھا اور اس کے ہاتھ میں کنکریاں تھیں وہ یہ کہہ رہی تھی وہ قابل مذمت ہے جس کا ہم نے انکار کیا ہے یا جو ہمارے پاس آیا ہے ۔ راوی حدیث کو شک ہے اور جس کے دین کو ہم نے چھوڑا ہے اور اس کے علم کی نافرمانی کی ہے ۔ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بیٹھے ہوۓ تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک طرف یا آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی ، یا رسول اللہ ا یہ عورت آئی ہے ، مجھے خوف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھ نہ لے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: بے شک مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآن پڑھنے لگے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآن کے ذریعے مضبوطی حاصل کر رہے تھے اور اے محبوب تم قرآن پڑھنا۔ ہم نے تم پر ان میں کہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کر دیا ( سورۃ بنی اسرائیل آیت: ۴۵ ) ۔ وہ عورت ام جمیل آئی ، یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑی ہو گئی اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کونہیں دیکھا اور آ کر کہنے لگی اے ابو بکر رضی اللہ عنہ تیرے دوست نے میری مذمت بیان کی ہے، مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اس رب کعبہ کی قسم ، تیری مذمت نہیں بیان کی ، وہ چلی گئی وہ کہہ رہی تھی کہ قریش جانتے ہیں کہ میں سردار کی بیٹی ہوں ۔

أَسْمَاءَ ← ابْنِ تَدْرُسَ، ← الْوَلِیْدُ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 53

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 54

54 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن مالك بن أنس عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن أسماء بنت عميس أنها نفست بذي الحليفة Y فسأل أبو بكر النبي صلى الله عليه و سلم فقال : مرها فلتغتسل ولتهل K إسناده صحيح

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بنت ابو بکر بیان فرماتی ہیں کہ ان کو ذی حلفیہ کے مقام پر نفاس آ گیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق سے مسئلہ پوچھا اس کے متعلق ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دو غسل کر لیں اور احرام باندھا۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 54

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 55

55 - حدثنا عبد الرحمن بن عمر القواريري حدثنا يزيد بن هارون حدثنا الكلبي عن سلمة بن السالب عن أبي رافع قال Y خرجت بخلخالين أبيعهما وكان أهلنا قد احتاجوا إلى نفقة فرأيت أبا بكر الصديق فقال : أين تريد ؟ قال : قلت : احتاج أهلنا إلى نفقة فأردت بيع هذين الخلخالين قال : وأنا قد خرجت بدريهمات أريد بها فضة أجود منها قال : فوضع الخلخالين في كفة ووضع الدراهم في كفة فرجح الخلخالان على الدراهم شيئا فدعا بمقراض قال : فقلت : سبحان الله هو لك هو لك قال : إنك إن تتركه فإن الله لا يتركه سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الذهب بالذهب مثلا بمثل والفضة بالفضة مثلا بمثل الزائد والمزداد في النار K إسناده تالف

حضرت ابی رافع رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ میں دو عدد پازیب لے کر نکلا تا کہ میں ان کو فروخت کر کے آؤں ۔ اس وقت ہمارے اہل وعیال کو نفقہ کی ضرورت تھی ۔ پس میں نے حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا،آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے؟ میں نے کہا، میرے اہل و عیال نان و نفقہ کے محتاج ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ دونوں پازیب فروخت کر دوں ۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں چند درہم لے کر نکلا ہوں تا کہ اس کے ساتھ اس سے عمدہ چاندی خریدوں ۔آپ رضی اللہ عنہ نے پازیب ایک مٹھی میں اور درہم ایک پلڑے میں رکھے۔ پازیب درہموں پر کچھ بھاری نکلے ،آپ رضی اللہ عنہ نے ایک قینچی منگوائی ، میں نے کہا: سبحان اللہ! جتنا )زیادہ) ہے یہ آپ کا ہے آپ کا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو نے چھوڑ دیا ، بے شک اللہ نہیں چھوڑے گا۔ میں نے حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ سونا سونے کے برابر اور چاندی چاندی کے برابر فروخت کرو ، زیادہ کرنے والا اور جس کیلئے زیادہ دیا گیا ہے) دونوں ( جہنم میں جائیں گے۔

أَبِي رَافِعٍ ← سلمة بن السالب ← الكلبي ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عبد الرحمن بن عمر القواريري

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 55

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 56

56 - حدثنا أبو موسى إسحاق بن إبراهيم الهروي حدثنا النضر بن شميل حدثنا أبو نعامة حدثنا البراء بن نوفل عن والان العدوي عن حذيفة Y عن أبي بكر الصديق قال : أصبح الرسول صلى الله عليه سلم ذات يوم فصلى الغداة ثم جلس حتى إذا كان من الضحى ضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم جلس مكانه حتى صلى الأولى والعصر والمغرب كل ذلك لا يتكلم حتى صلى العشاء الآخرة ثم قام إلى اهله فقال الناس لأبي بكر : سل رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شأنه صنع اليوم شيئا لم يصنعه قط ؟ فقال : نعم عرض علي ما هو كائن من أمر الدنيا والآخرة فجمع الأولون والآخرون في صعيد واحد ففظع الناس بذلك فانطلقوا إلى آدم والعرق يكاد يلجمهم فقالوا : يا آدم أنت أبو البشر اصطفاك الله اشفع لنا إلى ربك فقال : لقد لقيت مثل الذي لقيتم انطلقوا إلى أبيكم بعد أبيكم إلى نوح ( { إن الله اصطفى آدم ونوحا وآل إبراهيم وآل عمران على العالمين } ) قال : فينطلقون إلى نوح فيقولون : اشفع لنا إلى ربك أنت اصطفاك الله واستجاب لك في دعائك فلم يدع على الأرض من الكافرين ديارا فيقول ليس ذاكم عندي انطلقوا إلى موسى فإن الله كلمه تكليما فيقول : موسى : ليس ذاكم عندي ولكن انطلقوا إلى عيسى فإنه كان يبرئ الأكمه والأبرص ويحيي الموتى فيقول عيسى : ليس ذاكم عندي ولكن انطلقوا إلى سيد ولد آدم فإنه أول من تنشق عنه الأرض يوم القيامة انطلقوا إلى محمد يشفع لكم إلى ربكم قال : فينطلق فينادى جبريل قال فيأتي جبريل ربه فيقول الله : ائذن له وبشره بالجنة قال : فينطلق به جبريل فخر ساجدا قدرجمعة ثم يقول الله : يا محمد ارفع رأسك وقل يسمع واشفع تشفع قال فيرفع رأسه فإذا نظر ربه خر ساجدا قدر جمعة أخرى فيقول الله : يا محمد ارفع رأسك وقل يسمع واشفع تشفع قال : ويقع ساجدا قال : فيأخذ جبريل بضبعيه قال : فيفتح الله عليه من الدعاء شيئا لم يفتحه على بشر قط قال : فيقول : أي رب جعلتني سيد ولد آدم ولا فخر وأول من تنشق عنه الأرض يوم القيامة ولا فخر حتى إنه ليرد علي الحوض أكثر ما بين صنعاء وأيلة قال : ثم يقال : ادعوا الصدقين فيشفعون قال : ثم يقال : ادعوا الأنبياء قال : فيجيء النبي عليه السلام معه العصابة والنبي معه الخمسة والستة والنبي ليس معه أحد قال : ثم يقال : ادعوا الشهداء قال : فيشفعون لمن أرادوا قال : فإذا فرغت الشهداء قال : يقول تبارك وتعالى : أنا أرحم الراحمين ادخلوا جنتي من كان لا يشرك بي شيئا قال : فيدخلون الجنة ثم يقول الله : انظروا إلى النار هل ثم أحد عمل خيرا قط قال : فيجدون في النار رجلا فيقال له : هل عملت خيرا قط ؟ قال : لا غير أني كنت أسامح في البيع قال : فيقول الله : اسمحا لعبدي سماحه إلى عبيدي ثم يخرج من النار قال ورجل آخر فيقول الله : هل عملت خيرا قط ؟ فيقول : لا غير أني قد أمرت ولدي إذا أنا مت فأحرقوني ثم اطحنوني حتى إذا صرت مثل الكحل اذهبوا بي إلى البحر فاذروني في الريح قال : فقال الله : لم فعلت ذلك ؟ قال : من مخافتك قال : فيقول : انظروا إلى ملك أعظم ملك فإن لك مثله وعشر أمثاله قال : فيقول : أتسخر بي وأنت الملك ؟ وذلك الذي ضحكت منه بالضحى

حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پر بیٹھے رہےیہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکراۓ ، پھر جگہ پر بیٹھے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ظہر و عصر ومغرب کی نماز پڑھائی ۔ اس دوران آپ رضی اللہ عنہ نے کلام کسی سے نہیں فرمایا یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھ لی ، پھر اپنے گھر تشریف لے گئے ۔ صحابہ کرام نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھیں اس کے متعلق کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آج صبح ہی ایسا کام کیا ہے اس سے پہلے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! میں بتاتا ہوں، فرمایا: (بات یہ ہے کہ ) مجھ پر آج دنیا و آخرت کے تمام معاملات پیش کیے گئے جو ہو گئے تھے ۔ پس اولین و آخرین کو ایک ٹیلے پر جمع کیا گیا۔ لوگ پریشان ہو گئے ۔ اس پریشانی کی حالت میں لوگ حضرت سید نا آدم علیہ السلام کے پاس گئے اس حالت میں کہ قریب تھا کہ ان کو پینے کی لگام دی جاۓ ،عرض کرنے لگے : آپ علیہ السلام تمام انسانیت کے باپ ہیں ، آپ کو اللہ نے چنا ہے، آج آپ اپنے رب سے ہماری سفارش کر لیں ۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے: مجھے بھی وہی ملا ہے جو آپ کو ملا ہے، تم اپنے باپ کے بعد باپ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ ۔ بے شک اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام آل ابراہیم و آل عمران کو اس وقت کے تمام جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ حضرت نوح علیہ کے پاس آئیں گے ، ان سے عرض کر یں گے آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت کریں اللہ نے آپ کو چنا ہے اور آپ کی دعا قبول کی ہے، کہ اے اللہ روۓ زمین میں کسی کافر کو نہ چھوڑ ۔ آپ علیہ السلام فرمائیں گے، آج میں شفاعت نہیں کروں گا۔ آپ جناب ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں ، بے شک اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنایا ہے، لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے، آپ علیہ السلام بھی فرمائیں گے میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا، ہاں آپ حضرت موسی علیہ السلام کے پاس جائیں بے شک اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام سے گفتگو کی ہے ۔ حضرت موسی علیہ السلام فرمائیں گے میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں آپ حضرت سید نا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں ۔ بے شک عیسیٰ علیہ السلام برص والوں کو درست فرماتے تھے اور مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام بھی فرمائیں گے میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں تم کو ایسی ہستی کی طرف راہنمائی کرتا ہوں جو اولاد آدم کے سردار ہیں جن کی روۓ زمین میں سب سے پہلے قبر کھولی جاۓ کی جاؤ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وہ تمہاری تمہارے رب کے ہاں شفاعت کریں گے۔ آپ محافظ رب کریم کی بارگاہ میں چلنے لگ گئے ، اللہ عزوجل نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو عوا بلوایا۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام اپنے رب کے پاس آئیں گے، اللہ عز وجل فرماۓ گا: پیارے کو اجازت دو - اور ساتھ ہی جنت کی خوشخبری دے دو ۔ حضرت جبرائیل یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ایک جمعہ کی مقدار سجدہ فرمائیں گے پھر اللہ پاک فرماۓ گا، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنا سر انور تو اٹھاؤ ۔آپ عرض کریں آپ کی سنی جائے گی، آپ شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سجدہ میں گر جائیں گے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بازو پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اٹھائیں گے اور عرض کر یں گے: آپ کی دعا سے اللہ اس چیز کو کھولتا ہے جو کسی فرد بشر کی دعا سے نہیں کھولتا ہے ۔ پھر میں نے عرض کی: اے رب! تو نے مجھے تمام اولادآدم کا سردار بنایا ہے لیکن فخر نہیں ہے میں وہ پہلا ہوں جس کی قبر سب سے پہلے قیامت کے دن کھولی جاۓ گی لیکن فخر نہیں یہاں تک کہ مجھ پر حوض کو پیش کیا گیا جو کہ صنعاء اور ایلہ سے بڑا ہے، پھر کہا جاۓ گا: صدیقین کو بلاؤ کہ وہ آکر شفاعت کریں، پھر کہا جاۓ گا: انبیاء علیہم السلام کو بلو یا جاۓ گا۔ ایک نبی یا آۓ ان کے ساتھ جماعت تھی ، ایک نبی پہ آۓ گا ان کے ساتھ پانچ اور چھ تھے۔ ایک نبی آۓ ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا ، پھر شہداء کو بلوایا جاۓ گا ، ان سے کہا جاۓ گا جس کی چاہو شفاعت کرو۔ جب شہداء فارغ ہو جائیں گے پھر اللہ عز وجل فرمائے گا میں سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں ۔ جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا, ان تمام کو جنت دینے کا اعلان کرتا ہوں ۔ پس وہ تمام لوگ جنت میں چلے گئے ۔ پھر اللہ فرماۓ گا فرشتو! دوزخ میں دیکھو کیا کوئی جہنمی ایسا ہے کہ جس نے بھی نیک عمل کیا ہو؟ جنم میں ایک آدمی ہو گا، اس کو کہا جاۓ گا کیا تو نے بھی نیک عمل کیا ہے؟ وہ بندہ عرض کرے گا ،کوئی نیک عمل نہیں کیا ، ہاں اتنی بات ضرور ہےکہ میں کاروبار کرتا تھا لیکن میں اپنے گاہکوں کے ساتھ نرمی کرتا تھا ۔ اللہ تعالی فرماۓ گا: میرے بندہ سے نرمی کرو جس طرح یہ آدمی میرے بندوں کے ساتھ نرمی کرتا تھا، پھر اس کو جہنم سے نکالا جاۓ گا۔ پھر ایک بندے کو لا یا جاۓ گا ۔ اللہ عز وجل اس کو فرمائے گا کیا تو نے بھی نیک عمل کیا ہے؟ وہ عرض کرے گا یا اللہ کوئی عمل نہیں کیا ، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ میں نے اپنی اولا د کوحکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں ، پس مجھے جلا دینا یہاں تک کہ میں راکھ بن جاؤں یہاں تک کہ سرمہ کی طرح ہو جاۓ پھر مجھے سمندر کی طرف لے جانا پھر مجھے ہوا میں اڑا دینا ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: اے میرے بندے تو نے یہ کام کیوں کیا؟ بندہ عرض کرے گا ، یا اللہ تیرے خوف کی وجہ ہے ۔ پھر اللہ فرماۓ گا، سب سے بڑے بادشاہ کے ملک کی طرف دیکھو اس کی مثل اور اس کی دس گناہ مثل تجھے دیا جاۓ گا ۔ وہ عرض کرے گا یا اللہ تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے ، اس وجہ سے میں چاشت کے وقت ہنس پڑا تھا۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← حُذَيْفَةَ ← والان العدوي ← الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ ← أبو نعامة ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أبو موسى إسحاق بن إبراهيم الهروي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 56

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 57

57 - حدثنا زهير حدثنا إبراهيم أبو إسحاق البناني حدثنا النضر بن شميل حدثنا أبو نعامة حدثنا أبو هنيدة البراء بن نوفل عن والان العدوي عن حذيفة بن اليمان . Y عن أبي بكر قال : أصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم ثم ذكر نحو هذا الحديث أو قريبا منه K إسناده حسن

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صبح کی ایک دن ، باقی حدیث وہی جواس سے پہلے گزری ہے۔

نحو هذا الحديث أو قريبا منه إسناده حسن ← أصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم ثم ← أَبِي بَكْرٍ، ← حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← والان العدوي ← أبو هنيدة البراء بن نوفل ← أبو نعامة ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إبراهيم أبو إسحاق البناني ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 57

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 58

58 - حدثنا اسحاق بن إبراهيم حدثنا هشام بن يوسف عن ابن جريج Y في قوله تعالى : { أم جعلوا لله شركاء خلقوا كخلقه } [ الرعد : 16 ] أخبرني ليث بن أبي سليم عن أبي محمد عن حذيفة . عن أبي بكر - إما حضر ذلك حذيفة من النبي عليه السلام وإما أخبره أبو بكر - أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الشرك فيكم أخفى من دبيب النمل قال : قلنا : يا رسول الله وهل الشرك إلا ما عبد من دون الله أو ما دعي مع الله ؟ - شك عبد الملك - قال : ثكلتك أمك ياصديق الشرك فيكم أخفى من دبيب النمل ألا أخبرك بقول يذهب صغاره وكباره - أو صغيره وكبيره - قال : قلت : بلى يا رسول الله قال : تقول كل يوم ثلاث مرات : اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم وأستغفرك لما لا أعلم والشرك أن يقول : أعطاني الله وفلان والند أن يقول الإنسان : لولا فلان لقتلني فلان K إسناده ضعيف

حضرت ابن جریح رحمۃ اللہ علیہ کے اس ارشاد کے متعلق: ’’ بلکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایسے شریک بناۓ ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے ) سورة الرعد :۱۶( فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت لیث بن ابی سلیم ، انہوں نے ابی محمد سے انہوں نے حضرت حذیفہ سے انہوں نے حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق سے روایت کی کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو حضرت سید نا ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شرک تم میں پوشیدہ ہے چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ ۔ ہم نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت کی جاۓ یا اللہ کے ساتھ کسی کو پکارا جاۓ؟ عبدالملک کو شک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اے صدیق ، تیری ماں تجھ پر روۓ ، شرک تم میں چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ پوشیدہ ہے ۔ کیا میں تم کو ایسے وظیفہ کے متعلق نہ بتاؤں جس کے ساتھ اللہ پاک صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرما دے، میں نے عرض کی ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیوں نہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فر مایا: ہر روز تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لیا کر، اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤں اس حال میں کہ میں بھی ہوں ۔ اس کی معافی مانگتا ہوں جو میں نہیں جانتا ، شرک یہ ہے کہ وہ کہے ، مجھے اللہ اور فلان نے بھی دیا اور برابری یہ ہے کہ انسان کے اگر فلان نہ ہوتا تو فلاں مجھے قتل کر دیتا۔

أَبُو بَکْرٍ ← أبي بكر إما حضر ذلك حذيفة من النبي وإما ← حُذَيْفَةَ ← أبي محمد ← ليث بن أبي سليم ← ابن جريج في قوله تعالى أم جعلوا لله شركاء خلقوا كخلقه الرعد ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 58

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 59

59 - حدثنا عمرو بن الحصين حدثنا عبد العزيز بن مسلم عن ليث بن أبي سليم عن أبي محمد عن معقل بن يسار Y حدثني أبو بكر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : K إسناده ضعيف

حضرت معقل بن یساررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، یا یہ فرمایا کہ مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: تم میں شرک چیونٹی کے چلنے سے زیادہ مخفی ہے، پھر فرمایا : کیا میں آپ کو ایسا وظیفہ نہ بتاؤں کہ جس کے پڑھنے سے تمہارے صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف ہو جائیں تو پڑھ لیا کرو: اللهم إنى إلى آخره .

إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبُو بَکْرٍ ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أبي محمد ← ليث بن أبي سليم ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عمرو بن الحصين

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 59

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 60

60 - وحدثنا موسى بن محمد بن حيان وحدثنا روح بن أسلم و فهد قالا : حدثنا عبد العزيز بن مسلم حدثنا ليث عن أبي محمد عن معقل بن يسار قال : شهدت النبي صلى الله عليه و سلم مع أبي بكر أو قال Y حدثني أبو بكر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : الشرك أخفى فيكم من دبيب النمل ثم قال : ألا أدلك على ما يذهب عنك صغير ذلك وكبيره ؟ قل : اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم وأستغفرك مما لا أعلم K إسناده ضعيف

أَبُو بَکْرٍ ← شهدت النبي صلى الله عليه و سلم مع أبي بكر أو ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أبي محمد ← لَيْثٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← روح بن أسلم و فهد ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 60

chevron_left Previous
1…456…12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter