Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 37

37 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع عن أبي الطفيل قال Y أرسلت فاطمة إلى أبي بكر فقالت : ما لك يا خليفة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ أنت ورثت رسول الله أم أهله ؟ قال : لا بل أهله قالت : فما بال سهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : إني سمعته يقول : إن الله إذا أطعم نبيا طعمة ثم قبضه إليه جعله للذي يقوم بعده . فرأيت - أنا بعده - أن أرده على المسلمين قالت : أنت وما سمعته من رسول الله K رجاله رجال الصحيح

حضرت ابوطفیل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدہ طیبہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: اے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین! آپ کو کیا ہے؟ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت کے آپ رضی اللہ عنہ وارث ہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والے؟ حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میں تو نہیں وارث بلکہ آپ کے خاندان کے لوگ وارث ہیں ۔ حضرت سیدہ طیبہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حصہ کہاں ہے؟ حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ بے شک اللہ جب تک اپنے نبی کو کھلاتا ہے پھر اپنے پاس بلاتا ہے اس کو اس کے قبضہ میں دیتا ہے جو اس کے بعد قائم مقام ہوتا ہے اس میں میری راۓ یہ ہے کہ میں آپ کے بعد یہ مال مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دوں۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:آپ رضی اللہ عنہ نے جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سناہے، وہ ٹھیک ہے ۔

أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْوَلِيدِ بْنِ جُمَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Hadith 37

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 38

38 - حدثنا القواريري حدثنا أبو أحمد الزبيري عن عمر بن سعيد بن أبي حسين عن ابن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال Y خرجت مع أبي بكر الصديق من صلاة العصر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بليال و علي يمشي إلى جنبه فمر بالحسن بن علي وهو يلعب مع الغلمان فاحتمله أبو بكر على عاتقه وجعل يقول : وا بأبي شبيه النبي ليس شبيه بعلي ! قال : و علي يضحك K إسناده صحيح

حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے کچھ راتوں بعد نماز عصر پڑھ کر حضرت ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ بھی آپ رضی اللہ عنہ کی ایک جانب تھے۔ حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔آپ رضی اللہ عنہ (یعنی امام حسن ) بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔ حضرت سیدنا ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور فرمانے لگے: میرے ماں باپ اس بستی پر فدا ہوں! جو اپنے نانا جناب رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کے مشابہ نہیں ہے ۔ راوی حدیث بیان کرتے ہیں یہ سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنس پڑے ۔

عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← الْقَوَارِيرِيُّ

Hadith 38

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 39

39 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا قبيصة حدثنا سفيان عن عمر بن سعيد بن أبي حسين عن ابن أبي مليكة عن عقبة بن الحارث قال Y رأيت أبا بكر يحمل الحسن بن علي ويقول : يا بأبي شبيه النبي ليس شبيه بعلي و علي معه يبتسم K إسناده صحيح

حضرت عقبہ بن حارث سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ امام حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مشابہ ہیں علی کے مشابہ نہیں ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تبسم فرمارہے تھے۔

رأيت أبا بكر يحمل الحسن بن علي ← عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 39

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 40

40 - حدثنا عباد بن موسى الختلي حدثنا إسماعيل بن جعفر عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن عبد الرحمن بن أبزى Y عن أبي بكر الصديق قال : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم فأتاه ماعز بن مالك فاعترف بالزنى فرده ثم عاد الثانية فرده ثم عاد الثالثة فرده فقلت : إن عدت الرابعة رجمك فعاد الرابعة فأمر النبي صلى الله عليه و سلم بحبسه ثم أرسل فسأل عنه قالوا : لا نعلم إلا خيرا فأمر برجمه K إسناده ضعيف

حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ تھا ۔ حضرت ماعز بن مالک آپ کے پاس آئے ، انہوں نے زنا کا اقرار کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رد کر دیا ، پھر دوبارہ اقرار کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دوبارہ رد کر دیا، تیسری مرتبہ اقرار کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے رد کر دیا۔ میں نے حضرت ماعز سے کہا: اگر آپ نے چوتھی مرتبہ اقرار کر لیا تو آپ کو رجم کیا جائے گا ۔ انہوں نے چوتھی دفعہ بھی اقرار کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں باندھنے کا حکم دیا ۔ پھر آپ نے چھوڑ دیا اس کے بعد پو چھا صحابہ کرام فرماتے ہیں: ہم ان کے متعلق بھلائی ہی جانتے ہیں ) یعنی حضرت ماعز کے متعلق( اس کے بعد آپ نے رجم کر نے کا حکم دیا ۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبَّادُ بْنُ مُوسَی الْخُتَّلِيُّ

Hadith 40

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 41

41 - حدثنا موسى بن حيان حدثنا أبو أحمد الكوفي الزبيري حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر عن عبد الرحمن بن أبزى Y عن أبي بكر أن النبي صلى الله عليه و سلم رد ماعز بن مالك أربع مرات K إسناده ضعيف

حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ماعز بن مالک کی بات کو چار مرتبہ رد کیا۔

أَبِي بَكْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أبو أحمد الكوفي الزبيري ← موسى بن حيان

Hadith 41

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 42

42 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا عبد الله بن المبارك حدثنا معمر عن الزهري عن عروة عن المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم قالا Y خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم زمن الحديبية في بضع عشرة مئة من أصحابه حتى إذا كانوا بذي الحليفة قلد النبي صلى الله عليه و سلم الهدي وأشعره وأحرم بالعمرة فجاء عروة بن مسعود الثقفي قال : إني أرى أوجها خليقا أن يفروا ويدعوك . فقال أبو بكر : مص بظر اللات أنحن نفر وندعه ؟ ! K إسناده صحيح

حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حدیبیہ کے زمانہ میں اپنے ایک سو دس سے اوپر صحابہ کے ساتھ نکلے، جب ذی الکلیہ کے مقام پر پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے قربانی کے جانوروں سے قلادہ پہنایا اور اس کو نشان لگایا اور عمر رضی اللہ عنہ ہ کا احرام باندھا ، عروہ بن مسعود ثقفی آیا، اس نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ تجھے چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لات کے تھن چوسں! کیا ہم بھاگ جائیں گے اور آپ کو چھوڑ جائیں گے؟

المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Hadith 42

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 43

43 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن صالح عن ابن شهاب أخبرني عروة بن الزبير Y أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم أخبرته أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم سألت أبا بكر بعد وفاة رسول الله أن يقسم لها ميراثها مما ترك رسول الله صلى الله عليه و سلم مما أفاء الله عليه فقال لها أبو بكر : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا نورث ما تركنا صدقة K إسناده صحيح

حضرت ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سوال کیا کہ ان کے لیے اس میراث کو تقسیم کر دیں جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھوڑا ہے جو اللہ نے آپ نے کو دیا ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی بے شک رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے: جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے، ہم اس کے وارث نہیں بناتے ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ

Hadith 43

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 44

44 - حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي و موسى بن محمد بن حيان قالا : حدثنا ابن أبي الوزير حدثنا زنفل العرفي ينزل عرفة حدثنا عبد الله بن أبي مليكة عن عائشة عن أبي بكر وفي حديث موسى بن حيان Y كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أراد الأمر يقول : اللهم خر لي واختر لي K إسناده ضعيف

موسی بن حیان کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کا م کا ارادہ کرتے تھے تو آپ فرماتے : اللهم خرلی و اخترلی۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← زنفل العرفي ينزل عرفة ← ابْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← محمد بن أبي بكر المقدمي و موسى بن محمد بن حيان

Hadith 44

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 45

45 - حدثنا أبو موسى الهروي إسحاق بن إبراهيم حدثنا أبو معاوية حدثنا عبد الرحمن بن أبي بكر عن ابن أبي مليكة عن عائشة Y قالت : اختلفوا في دفن النبي صلى الله عليه و سلم حين قبض . فقال أبو بكر : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا يقبض النبي إلا في أحب الأمكنة إليه فقال : ادفنوه حيث قبض K إسناده ضعيف

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا دفن کرنے کے متعلق ، جس وقت آپ کا وصال ہوا ۔ حضرت سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب نبی کا وصال ہوتا ہے تو اسے اس جگہ دفن کرنا جو اس کے نزدیک زیادہ پسند یدہ ہوتا ہے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اسی جگہ دفن کر دو جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال ہوا ہے۔

ادفنوه حيث قبض إسناده ضعيف ← لا يقبض النبي إلا في أحب الأمكنة إليه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبُو بَکْرٍ ← اختلفوا في دفن النبي صلى الله عليه و سلم حين قبض ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو موسى الهَرَوي إسحاقُ بن إبراهيم،

Hadith 45

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 46

46 - حدثنا موسى بن حيان حدثنا عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي حدثنا موسى بن مطير حدثني أبي عن عائشة قالت Y حدثني أبو بكر قال : جاء رجل من المشركين حتى استقبل رسول الله صلى الله عليه و سلم بعورته يبول قلت : يا رسول الله : أليس الرجل يرانا ؟ قال : لو رآنا لم يستقبلنا بعورته يعني وهما في الغار K إسناده واه

حضرت ام المومنین سید عائشہ صدیقہ کا فرماتی ہیں کہ مجھے میرے والد محترم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ مشرکین میں سے ایک آدمی آیا ۔ یہاں تک کہ باکل رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف منہ کر کے ننگا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیا ہے آ دمی ہم کو دیکھ نہیں رہا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فر مایا: اگر ہم کو دیکھتا تو بر ہنہ حالت میں ہماری طرف منہ کر کے پیشاب نہ کرتا ، یعنی جب دونوں غار میں تھے ۔

أَبُو بَکْرٍ ← عَائِشَةَ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← موسى بن حيان

Hadith 46

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 47

47 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا محمد بن الحسن بن أبي الحسن المخزومي حدثنا سليمان بن بلال عن عبد الحكيم بن عبد الله بن أبي فروة عن يعقوب بن عتبة عن عروة بن الزبير عن عائشة Y أن عبد الله بن أبي بكر لما توفي بكي عليه فخرج أبو بكر إلى الرجال فقال : إني أعتذر إليكم من شأن أولاء إنهن حديثات عهد بجاهلية سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الميت ينضح عليه الحميم ببكاء الحي K إسناده تالف

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بیشک عبداللہ بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جب وصال ہو گیا تو ان پر رویا گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مردوں کی طرف نکلے ،آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان باتوں سے معذور ہوں جو یہ زمانہ جاہلیت کی باتیں کر رہی ہیں۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: میت پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا زندوں کے رونے کی وجہ ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Hadith 47

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 48

48 - حدثنا القواريري حدثنا مرحوم بن عبد العزيز حدثنا أبو عمران الجوني عن يزيد بن بابنوس عن عائشة Y أن أبا بكر دخل على النبي صلى الله عليه و سلم بعد وفاته فوضع فمه بين عينيه ووضع يديه على صدغيه وقال : وانبياه واخليلاه واصفياه

حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سید نا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر آپ رضی اللہ عنہاکے پاس آۓ، اپنا منہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دونوں آنکھوں کے درمیان رکھا اور دونوں ہاتھ آپ کے دونوں کانوں کے درمیان رکھے اور عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اے اللہ کےخلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اے اللہ کے چبے ہوۓ!

عَائِشَةَ ← يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← الْقَوَارِيرِيُّ

Hadith 48

chevron_left Previous
12345…12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter