Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 13

13 - حدثنا عبيد الله بن عمر القواريري حدثنا غندر حدثنا شعبة قال : سمعت عثمان بن المغيرة الثقفي قال : سمعت علي بن ربيعة عن رجل من بني فزارة يقال له أسماء عن علي بن أبي طالب قال Y كنت إذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا نفعني الله بما شاء أن ينفعني منه فحدثني أبوبكر - وصدق أبوبكر - عن النبي صلى الله عليه و سلم قال ما من عبد - قال شعبة : أحسبه قال : مسلم - يذنب ذنبا ثم يتوضأ ثم يصلي ركعتين ثم يستغفر الله لذلك الذنب إلا غفر له . قال شعبة : وقرأ إحدى هاتين الأيتين : { من يعمل سوءا يجز به } [ النساء : 122 ] { والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم } [ آل عمران : 134 ] K إسناده صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث سنتا ہوں ، اللہ عز وجل مجھے جو نفع دینا چاہتا نفع دیتا ہے مجھے ابو بکر نے بتایا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ پھراوپر والی حدیث ذکر فرمائی ۔

كُنْتُُ إذَا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← رجل من بني فزارة يقال له أسماء ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 13

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 14

14 - حدثنا به أبو خيثمة حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا شعبة عن عثمان بن المغيرة قال Y سمعت علي بن ربيعة رجلا من بني أسد يحدث عن أسماء او ابن أسماء من بني فزارة . عن علي قال : قال : كنت إذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا نفعني الله بما شاء أن ينفعني منه وحدثني أبو بكر - وصدق أبو بكر - أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ثم ذكر نحوه K إسناده صحيح

حضرت مولی کائنات سید نا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علاوہ بیان کرتا تو میں اس کی تصدیق نہیں کرتا جب تک وہ قسم نہ اٹھا لیتا۔ جب وہ قسم اٹھا لیتا میں اس کی تصدیق کرتا اور جناب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سچ کہا کہ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا : جو بھی مسلمان گناہ کرتا ہے پھر وہ وضو کرتا ہے اور دو رکعت( نفل( ادا کرتا ہے اور اللہ عز وجل سے بخشش طلب کرتا ہے ، اللہ اس کی بخشش کر دے گا۔

كُنْتُُ إذَا ← عَلِيٍّ، ← أَسْمَاءَ أَوْ ابْنِ أَسْمَاءَ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ ← علي بن ربيعة رجلا من بني أسد ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← به أبو خيثمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 14

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 15

15 - حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا سفيان بن سعيد الثوري حدثنا عثمان بن المغيرة الثقفي قال : وحدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير حدثنا سفيان عن عثمان بن المغيرة عن علي بن ربيعة عن أسماء بن الحكم الفزاري عن علي قال Y كنت إذا حدثت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثا استحلفت صاحبه فإذا حلف لي صدقته فحدثني أبوبكر - وصدق أبو بكر - أنه صلى الله عليه و سلم قال : ليس من عبد يذنب ذنبا فيتوضأ ويصلي ركعتين ويستغفر الله إلا غفر له K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے درمیان جا رہے تھے اور) میں ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے سورۃ النساءشریف شروع کی تھی ۔ میں اس کو ترتیل کے ساتھ پڑھ رہا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو یہ پسند ہو کہ وہ قرآن پاک کو تر و تازہ پڑھنا چا ہے جیسے اترا ہے اس کو چاہیے عبد اللہ بن مسعود کی قرآت پر پڑھے ۔ پھر ( میں( مانگنے لگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے :( عبداللہ( مانگوتم کو دیا جاۓ گا مانگوتم کو دیا جاۓ گا ، آپ نے پوچھا آپ نے اس میں کیا مانگا۔ میں نے یہ دعا مانگی ، اے اللہ! تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں کہ دوبارہ مرتد نہ ہو جاؤں ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو اور اپنے پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رفاقت مانگتا ہوں، اعلی جنت میں جو ہمیشہ ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ آۓ تا کہ مجھے اس معاملہ کی بشارت دیں ۔ پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو وہاں باہر پایا۔ بے شک وہ سبقت لے گئے تھے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے یہ کام کر لیا ہے آپ ) یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ ( ہر خیر والے معاملہ میں سبقت لے جاتے ہیں۔

أبوبكر وصدق أبو بكر أنه صلى الله عليه و سلم ← كُنْتُُ إذَا ← عَلِيٍّ، ← أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عبيد الله بن عمر الجشمي

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 15

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 16

16 - حدثنا أبو كريب محمد بن العلاء : حدثنا حسين بن علي الجعفي عن زائدة : حدثنا عاصم بن أبي النجود عن زر عن عبد الله Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بين أبي بكر و عمر و عبد الله يصلي فافتتح سورة النساء فسنح لها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يقرأ القرآن غضا كما أنزل فليقرأه قراءة ابن أم عبد ثم سأل فجعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : سل تعطه سل تعطه فقال فيما يسأل : اللهم إني أسألك إيمانا لا يرتد ونعيما لا ينفذ ومرافقة نبينامحمد صلى الله عليه و سلم في أعلى جنة الخلد فأتى عمر عبد الله ليبشره فوجد أبا بكر خارجا قد سبقه فقال : إن فعلت إنك لسباق بالخير K إسناده حسن

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم( مسجد)میں داخل ہوۓ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے سورہ نساء شروع کی ، میں نے اس کو پڑھا جب پڑھ کر میں فارغ ہوا تو میں بیٹھ گیا، میں نے اللہ کی تعریف شروع کی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پڑھا، پھر میں نے اپنے لیے دعا کی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مانگو! آپ کو عطا کیا جاۓ گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جس کو پسندقرآن پڑھنا تروتازہ اس کو چاہیے کہ وہ ابن ام عبد(حضرت عبداللہ کی کنیت ہے( کی قرات پر پڑھے، اس کے بعد میں اپنے گھر آیا میرے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لاۓ فرمایا کیا آپ کو یاد ہے جو کچھ آپ مانگ رہے تھے؟ میں نے عرض کی جی ہاں ( وہ دعا یہ تھی : اے اللہ! تجھ سے ایمان مانگتا ہوں کہ دوبارہ مرتد نہ ہو جاؤں ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو اور اپنے پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت مانگتا ہوں ، اعلیٰ جنت میں جو ہمیشہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آۓ تا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس معاملہ کی بشارت دیں۔ پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو وہاں پایا۔ بے شک وہ سبقت لے گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ رضی اللہ عنہ ہر خبر والے معاملہ میں سبقت لے جاتے ہیں ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أبو كريب محمد بن العلاء

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 16

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 17

17 - حدثنا أبو كريب حدثنا يحيى بن آدم عن أبي بكر بن عياش عن عاصم عن زر عن عبد الله قال Y كنت في المسجد أصلي فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعه أبو بكر و عمر فسحلت سورة النساء فقرأتها فلما فرغت جلست فبدأت الثناء على الله والصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم ثم دعوت لنفسي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سل تعط ثم قال : من أحب أن يقرأ القرآن غضا فليقرأه كما يقرأ ابن أم عبد قال : فرجعت إلى منزلي فأتاني أبو بكر فقال : هل تحفظ مما كنت تدعو شيئا ؟ قلت : نعم اللهم إني أسألك إيمانا لا يرتد ونعيما لا ينفذ ومرافقة نبينا محمد صلى الله عليه و سلم في أعلى جنة الخلد فأتى عمر عبد الله ليبشره فوجد أبا بكر خارجا قد سبقه فقال : إن فعلت إنك لسباق بالخير K إسناده حسن

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام سے فرمایا: مجھے ابن زبیر کے پاس سے نہ گزارنا، غلام بھول گیا آپ کو ابن زبیر کے پاس سے گزارا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا سر اٹھایا ، اس کو فرمایا: اللہ تجھ پر رحم کرے! میں تجھے نہیں دیکھتا مگر روزے رکھنے والا رات کا قیام کرنے والا اور لوگوں کے تعلقات جوڑ نے والا بہر حال اللہ کی قسم! میں گناہ گار کی معافی کی امید رکھتا ہوں جو تو نے گناہ کیا ہے کہ تجھے اس کا عذاب نہیں دیا جاۓ گا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں پھر آپ نے میری طرف توجہ فرمائی اور فرمایا : مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو بر اعمل کرے اس کو دنیا میں اس کی سزا دی جائے گی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 17

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 18

18 - حدثنا سريج بن يونس : حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن زياد بن أبي زياد الجصاص عن علي بن زيد عن مجاهد قال Y قال ابن عمر لغلامه : لا تمر بي على ابن الزبير فغفل الغلام فمر به فرفع رأسه فرآه فقال : رحمك الله ما علمتك إلا صواما قواما وصولا للرحم أما والله إني لأرجو مع مساوىء ما قد عملت من الذنوب أن لا يعذبك قال مجاهد : ثم التفت إلي فقال : حدثني أبو بكرالصديق أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : { من يعمل سوءا يجز به } [ النساء \ 123 ] في الدنيا K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس معاملہ سے نجات کیسے حاصل ہو گی جس میں ہم ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے گواہی دی اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ، یہی اس کے لیے نجات ہے۔

مُجَاهِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْجَصَّاصُ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 18

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 19

19 - حدثنا الحسن بن شبيب حدثنا هشيم حدثنا كوثر بن حكيم عن نافع عن ابن عمر Y عن أبي بكر الصديق قال : قلت : يا رسول الله ما نجاة هذا الأمر الذي نحن فيه ؟ قال : من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له فهو له نجاة K إسناده ضعيف

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حفصہ بیوہ ہوئیں جو کہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ اور آپ کو نکاح کا پیغام و یا، آپ خاموش رہے ، حضرت عثمان کے پاس آۓ آپ کو نکاح کرنے کا پیغام دیا تو حضرت عثمان نے فرمایا: مجھے عورتوں کی ضرورت نہیں ہے ۔ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ تو حفصہ کی شادی حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کی گئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے آپ کو حفصہ کے نکاح کا پیغام بھیجا تھا تو آپ جواب دینے سے خاموش رہے تھے، مجھے آپ پر حضرت عثمان کے انکار سے زیادہ غصہ آیا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:آپ رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ کا ذکر کیا تھا لیکن یہ ایک راز تھا ، میں نے رازکھولنے کو ناپسند کیا ۔

قُلْتُ ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← كوثر بن حكيم ← هُشَيْمٌ ← الحسن بن شبيب

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 19

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 20

20 - حدثنا أبو سعيد القواريري حدثنا يزيد بن هارون حدثنا سفيان بن حسين عن الزهري عن سالم بن عبد الله بن عمر Y عن ابن عمر قال : لما تأيمت حفصة وكانت تحت خنيس بن حذافة أتى عمر أبا بكر فعرضها عليه فسكت فأتى عثمان فعرضها عليه فقال عثمان : مالي في النساء من حاجة فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد خطبها فزوجها فلقي أبا بكر فقال : إني كنت عرضت عليك حفصة فسكت فلأنا كنت عليك أشد غضبا مني على عثمان وقد ردني قال أبو بكر : إنه قد كان من أمرها ذكر ولكنه كان سرا فكرهت أن أفضي السر

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر آیت کریمہ اتری: ’’جو برے عمل کرے گا اسے سزا ملے گی اس کی اور نہ پاۓ گا اپنے لیے اللہ کے بغیر کوئی دوست اور نہ مددگار ( النساء)۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر ! کیا میں اس آیت کو نہ پڑھوں جو مجھ پر ابھی نازل کی گئی ہے؟ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیوں نہیں؟ آپ نے مجھ پر پڑھی۔ میں نہیں جانتا ہوں مگر یہ کہ میں نے اپنی پیٹھ کو تو ڑ ا ہوا پایا یہاں تک کہ اس کے لیے میں نے اپنی پیٹھ جھکا دی ، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ کے مومن ساتھی! ان کو دنیا میں گناہوں کا بدلہ دیا جاۓ گا جب وہ اللہ سے ملیں گے تو ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ بہر حال دوسروں کیلئے ان کو جمع کیا جاۓ گا یہاں تک کہ ان کو قیامت کے دن ان کے گناہوں کا بدلہ دیا جاۓ گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أبو سعيد القواريري

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 20

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 21

21 - حدثنا أبو خثيمة حدثنا روح بن عبادة حدثنا موسى بن عبيدة حدثني مولى ابن سباع قال Y سمعت عبد الله بن عمر يحدث عن أبي بكر الصديق قال : كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فأنزلت هذه الآية : { من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا } [ النساء : 123 ] فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا أبا بكر ألا أقرئك آية أنزلت علي ؟ قلت : بلى يارسول الله قال : فأقرأنيها قال : فلا أعلم إلا وأني وجدت إنقصاما في ظهري حتى تمطأت لها في ظهري فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما أنت يا أبكر وأصحابك المؤمنون فتجزون بذلك في الدنيا حتى تلقوا الله وليست لكم ذنوب وأما الآخرون فيجمع ذلك لهم حتى يجزوا به يوم القيامة K إسناده ضعيف

حضرت سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کھودنے کا ارادہ کیا گیا تو حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اہل مکہ کے لیے قبر بناتے تھے اور ابوطلحہ زید بن سہل رضی اللہ عنہ اہل مدینہ کے لیے قبر یں بناتے تھے اور آپ لحد بناتے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں کو بلوایا اور ایک کو کہا کہ آپ ابو عبیدہ کی طرف جائیں اور دوسرے کو کہا کہ آپ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف جا ئیں ۔اے اللہ! اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے قبر کو کھودو۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف جانے والے نے حضرت ابوطلحہ ان کو پایا وہ حضرت ابوطلحہ ان کو لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد بنائی۔ جب منگل کے دن رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفن وغسل سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو چار پائی پر رکھا گیا صحا بہ کرام کو دفن کرنے کی جگہ میں اختلاف ہو گیا۔ کچھ کہنے لگے کہ ہم کوآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مسجد میں دفن کریں گے، کچھ کہنے گئے ہم آپ کے صحابہ کے ساتھ جنت البقیع شریف میں دفن کر یں گے ۔حضرت سید نا ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ نے فر مایا: میں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ کسی نبی کا وصال نہیں ہوتا مگر اسی جگہ دفن کیا جا تا ہے جہاں اس کا وصال ہوا ہے ۔ پس رسول پاک سی کی چار پائی اٹھالی جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا وصال ہوا تھا، اس کے نیچے قبر کھودی گئی پھر رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حجرے مبارک میں صحابہ کرام کو بلو وایا گیا ، انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر درود پاک پڑھا مرد جب فارغ ہو گئے پھر عورتوں کو داخل کیا گیا۔ جب عورتیں فارغ ہو گئیں تو پھر بچوں کو داخل کیا گیا۔ لوگوں میں کسی نے بھی رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے جنازے کی امامت نہیں کی ۔ پھر بدھ کی درمیانی رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کر دیا گیا۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مولى ابن سباع ← موسى بن عبيدة ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أبو خثيمة

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 21

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 22

22 - حدثنا جعفر بن مهران السباك حدثنا عبد الأعلى عبد الأعلى بن الأعلى السامي عن محمد بن إسحاق قال : حدثني بن عبد الله عن عكرمة Y عن ابن عباس قال : لما أرادوا أن يحفروا لرسول الله صلى الله عليه وكان أبو عبيدة بن الجراح يضرح - يحفر - لأهل مكة وكان أبو طلحة زيد بن سهل هو الذي كان يحفر لأهل المدينة وكان يلحد فدعا العباس رجلين فقال لأحدهما : اذهب إلى أبي عبيدة وللآخر اذهب إلى أبي طلحة اللهم خر لرسولك فوجد صاحب أبي طلحة أبا طلحة فجاء به فلحد لرسول الله فلما فرغ من جهاز رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم الثلاثاء وضع على سريره وقد كان المسلمون اختلفوا في دفنه فقال قائل : ندفنه في مسجده وقال قائل : بل يدفن مع أصحابه فقال أبو بكر : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما قبض نبي إلا دفن حيث قبض فرفع فراش رسول الله صلى الله عليه و سلم الذي توفي فيه فحفر له تحته ثم دعي الناس على رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلون عليه أرسالا : الرجال حتى إذا فرغ منهم أدخل النساء حتى إذا فرغ من النساء أدخل الصبيان ولم يؤم الناس على رسول الله صلى الله عليه و سلم أحد فدفن رسول الله صلى الله عليه و سلم من أوسط الليل ليلة الأربعاء

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت سید نا ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ ان سے روایت کرتے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سناآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فر مایا: جس جگہ نبی کا وصال ہوتا اسی جگہ اس کو دفن کیا جا تا ہے ۔

لما أرادوا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عبد الأعلى عبد الأعلى بن الأعلى السامي ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 22

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 23

23 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا أبي عن محمد بن إسحاق قال : حدثني حسين بن عبد الله عن عكرمة عن ابن عباس Y عن أبي بكر قال : إني سمعته يقول : ما قبض نبي إلا دفن حيث يقبض K إسناده ضعيف

حضرت سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کا کندھا کھایا۔ پھرآپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وضونہیں فرمایا تھا ۔

ما قبض نبي إلا دفن حيث يقبض إسناده ضعيف ← إِنِّي ← أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 23

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 24

24 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا الجراح بن مخلد البصري أبو عبد الله حدثنا موسى بن داود حدثنا حسام بن مصك عن محمد بن سيرين عن ابن عباس Y عن أبي بكر أن النبي صلى الله عليه و سلم نهس كتفا ثم صلى ولم يتوضأ K إسناده ضعيف ولكن متن الحديث صحيح

حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ حضرت سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سورۃ تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی تو ابولہب کی بیوی ( ام جمیل ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف آ رہی تھی جبکہ آپ کے پاس سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کو دیکھا۔ عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ! بدترین عورت ہے۔ مجھے خوف تھا کہ آپ کو تکلیف نہ دے، پس اگر اٹھ جائیں )تو کیا ہی بہتر ہو (؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گی ۔ پس وہ آئی اس نے کہا اے ابو بکر رضی اللہ عنہ تیرے ساتھی نے میری مذمت بیان کی ہے ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا مجھے وہ شعر نہیں کہتا ہے، اس نے کہا: آپ میرے نزد یک بچے ہیں اور وہ چلی گئی ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کو اس نے نہیں دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ایک فرشتہ مسلسل مجھے اس کے دیکھنے سے اپنے پروں کے ساتھ ڈھانپے ہوۓ تھا۔

أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← حسام بن مصك ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← الجراح بن مخلد البصري أبو عبد الله ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 24

chevron_left Previous
1234…12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter