مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 133
133 - حدثنا يحيى بن أيوب حدثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني عمرو يعني ابن أبي عمرو عن أبي الحويرث عن محمد بن جبير Y أن عمر بن الخطاب مر على عثمان وهو جالس في المسجد فسلم عليه فلم يرد عليه فدخل على أبي بكر فاشتكى ذلك إليه فقال : مررت على عثمان فسلمت عليه ولم يرد علي قال : فأين هو ؟ قال : هو في المسجد قاعد قال : فانطلقنا إليه فقال له أبو بكر : ما منعك أن ترد على أخيك حين سلم عليك ؟ قال : والله ما شعرت أنه سلم مر بي وأنا أحدث نفسي فلم أشعر أنه سلم فقال أبو بكر : فماذا تحدثك نفسك ؟ قال : خلا بي الشيطان فجعل يلقي في نفسي أشياء ما أحب أني تكلمت بها وأن لي ما على الأرض قلت في نفسي - حين ألقى الشيطان ذلك في نفسي - : يا ليتني سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ما الذي ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان في أنفسنا ؟ فقال أبو بكر : فإني والله قد اشتكيت ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وسألته : ما الذي ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان منه في أنفسنا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ينجيكم من ذلك أن تقولوا مثل الذي أمرت به عمي عند الموت فلم يفعل K إسناده ضعيف لانقطاعه
حضرت محمد بن جبیر رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ حضرت عثمان مسجد میں تشریف فرما تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کیا۔ حضرت عثمان نے جواب نہیں دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ اور اس کے متعلق بتایا کہ میں حضرت عثمان کے پاس سے گزرا میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کہاں ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ مسجد میں تشریف فرما ہیں ۔ دونوں حضرات آپ کی طرف چلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کوفر مایا: جب آپ کے بھائی نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ کو کون سی شی جواب دینے سے رکاوٹ تھی؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہوں اور آپ نے مجھے سلام کیا ہو میں اپنے دل میں کوئی بات پا تا ہوں مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہوں اور مجھے سلام کیا ہو ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ اپنے دل میں کیا بات پاتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: شیطان نے میرے دل میں کچھ ایسی باتیں ڈال دی ہیں کہ میں ان کو زبان پر لانا پسند نہیں کرتا ہوں' میں اس زمین پر کسی کو نہیں پاتا ہوں جومیں اپنے دل میں پاتا ہوں جس وقت شیطان نے میرے دل میں بات ڈالی ہے کاش! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ہوتا تو میں اس کام سے نجات پا سکتا ہوں جو بات شیطان نے میرے دل میں ڈالی ہوئی ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کی تھی اللہ کی قسم! اور میں نے اس بات کے متعلق پوچھا تھا کہ اس سے نجات کیسے حاصل کی جا سکتی ہے جو بات شیطان ہمارے دلوں میں ڈال دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اس کلمہ سے نجات پا سکتے ہو جس کا میں نے اپنے چچا کو موت کے وقت کہا تھا، لیکن انہوں نے نہیں پڑھا۔
مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِی الْحُوَیْرِثِ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ
Hadith 133
