Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 133

133 - حدثنا يحيى بن أيوب حدثنا إسماعيل بن جعفر أخبرني عمرو يعني ابن أبي عمرو عن أبي الحويرث عن محمد بن جبير Y أن عمر بن الخطاب مر على عثمان وهو جالس في المسجد فسلم عليه فلم يرد عليه فدخل على أبي بكر فاشتكى ذلك إليه فقال : مررت على عثمان فسلمت عليه ولم يرد علي قال : فأين هو ؟ قال : هو في المسجد قاعد قال : فانطلقنا إليه فقال له أبو بكر : ما منعك أن ترد على أخيك حين سلم عليك ؟ قال : والله ما شعرت أنه سلم مر بي وأنا أحدث نفسي فلم أشعر أنه سلم فقال أبو بكر : فماذا تحدثك نفسك ؟ قال : خلا بي الشيطان فجعل يلقي في نفسي أشياء ما أحب أني تكلمت بها وأن لي ما على الأرض قلت في نفسي - حين ألقى الشيطان ذلك في نفسي - : يا ليتني سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ما الذي ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان في أنفسنا ؟ فقال أبو بكر : فإني والله قد اشتكيت ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وسألته : ما الذي ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان منه في أنفسنا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ينجيكم من ذلك أن تقولوا مثل الذي أمرت به عمي عند الموت فلم يفعل K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت محمد بن جبیر رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ حضرت عثمان مسجد میں تشریف فرما تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کیا۔ حضرت عثمان نے جواب نہیں دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آۓ اور اس کے متعلق بتایا کہ میں حضرت عثمان کے پاس سے گزرا میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کہاں ہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : وہ مسجد میں تشریف فرما ہیں ۔ دونوں حضرات آپ کی طرف چلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان کوفر مایا: جب آپ کے بھائی نے آپ کو سلام کیا تھا تو آپ کو کون سی شی جواب دینے سے رکاوٹ تھی؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہوں اور آپ نے مجھے سلام کیا ہو میں اپنے دل میں کوئی بات پا تا ہوں مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ میرے پاس سے گزرے ہوں اور مجھے سلام کیا ہو ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ اپنے دل میں کیا بات پاتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: شیطان نے میرے دل میں کچھ ایسی باتیں ڈال دی ہیں کہ میں ان کو زبان پر لانا پسند نہیں کرتا ہوں' میں اس زمین پر کسی کو نہیں پاتا ہوں جومیں اپنے دل میں پاتا ہوں جس وقت شیطان نے میرے دل میں بات ڈالی ہے کاش! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ہوتا تو میں اس کام سے نجات پا سکتا ہوں جو بات شیطان نے میرے دل میں ڈالی ہوئی ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے یہ شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کی تھی اللہ کی قسم! اور میں نے اس بات کے متعلق پوچھا تھا کہ اس سے نجات کیسے حاصل کی جا سکتی ہے جو بات شیطان ہمارے دلوں میں ڈال دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اس کلمہ سے نجات پا سکتے ہو جس کا میں نے اپنے چچا کو موت کے وقت کہا تھا، لیکن انہوں نے نہیں پڑھا۔

مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِی الْحُوَیْرِثِ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ

Hadith 133

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 134

134 - حدثنا إسحاق بن إسماعيل حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن ثابت بن الحجاج قال Y قام أبو بكر الصديق بعد وفاة النبي صلى الله عليه و سلم : فقال : لقد علمتم ما قام فيكم رسول الله صلى الله عليه و سلم عام الأول قال : سلوا الله العافية فإنه لم يعط عبد شيئا أفضل من المعافاة إلا اليقين وأنا أسأل الله اليقين والعافية K إسناده ضعيف

حضرت ثابت بن حجاج سے روایت کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دیا ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات کے بعد کھڑے ہوۓ فرمایا: میں تم سے زیادہ جانتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پچھلے سال اس جگہ کھڑے ہوۓ تھے آپ نے فرمایا: ا للہ سے عافیت طلب کرو کیونکہ اللہ کے بندہ کو ایمان کے بعد عافیت سے بڑی کوئی شے نہیں دی گئی میں اللہ سے ایمان اور عافیت مانگتا ہوں ۔

فاة النبي صلى الله عليه و سلم ← قام أبو بكر الصديق بعد ← ثَابِتُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← وَكِيعٌ، ← إسحاق بن إسماعيل

Hadith 134

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 135

135 - حدثنا أبو خيثمة و إسحاق بن إسماعيل قالا : حدثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن يحيى بن جعدة قال Y قال أبو بكر الصديق وهو على المنبر وبكى : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصيف عام الأول والعهد قريب يقول : سلوا الله اليقين والعافية K إسناده ضعيف لانقطاعه

حضرت بی بن جعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا اور رو پڑے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پچھلے سال گرمی میں سنا ہے کہ قیامت قریب ہے! اللہ عز وجل سے ایمان اور عافیت مانگو ۔

سلوا الله اليقين والعافية إسناده ضعيف لانقطاعه ← أبو بكر الصديق وهو على المنبر وبكى ← يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← أبو خيثمة و إسحاق بن إسماعيل

Hadith 135

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 136

136 - حدثنا محرز بن عون حدثنا عثمان بن مطر حدثنا عبد الغفور عن أبي نصيرة عن أبي رجاء Y عن أبي بكر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عليكم بلا إله إلا الله والاستغفار فأكثروا منهما فإن إبليس قال : أهلكت الناس بالذنوب فأهلكوني بلا إله إلا الله والاستغفار فلما رأيت ذلك أهلكتهم بالأهواء وهم بحسبون أنهم مهتدون K إسناده ضعيف

حضرت سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا تم پر لا الہ الا اللہ استغفر اللہ ضروری ہے۔ ان دونوں کا کثرت سے ذکر کرو بے شک شیطان کہتا ہے میں نے لوگوں کو گناہوں کے ساتھ ہلاک کیا۔ انہوں نے مجھے لا الہ الا اللہ کے ساتھ ہلاک کیا ہے۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے تم کو خواہشات کے ساتھ ہلاک کیا وہ خواہشات پر عمل کر کے خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔

"عَلَيْكُمْ بِلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَالاسْتِغْفَارِ فَأَكْثِرُوا مِنْهُمَا فَإِنَّ إِبْلِيسَ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ، ← أَبِي رَجَاءٍ، ← أَبِي نُصَيْرَةَ ← عَبْدِ الْغَفُورِ، ← عثمان بن مطر ← مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ،

Hadith 136

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 137

137 - حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني حدثنا أبي عن عثمان بن واقد عن أبي نصيرة قال : لقيت مولى لأبي بكر فقلت له Y سمعت أبا بكر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أصر من استغفر وإن عاد في اليوم سبعين مرة ؟ K إسناده ضعيف

حضرت ابونصیرہ سے روایت ہے کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام سے ملا میں نے کہا: آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جس نے بخشش مانگی اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا۔ اگر چہ دن میں ستر مرتبہ ہی کیوں نہ ہو۔

أبا بكر ← لقيت مولى لأبي بكر فقلت له ← أَبِي نُصَيْرَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ← أَبِي ← يحيى بن عبد الحميد الحماني

Hadith 137

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 138

138 - حدثناه إسحاق بن أبي إسرئيل وغيره حدثنا أبو يحيى عبد الحميد الحماني عن عثمان بن واقد عن أبي نصيرة عن مولى لأبي بكر Y عن أبي بكر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه K إسناده ضعيف

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه إسناده ضعيف ← أَبِي بَكْرٍ، ← مولى لأبي بكر ← أَبِي نُصَيْرَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ← أبو يحيى عبد الحميد الحماني ← إسحاق بن أبي إسرئيل وغيره

Hadith 138

مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 139

139 - حدثنا عبد الغفار بن عبد الله بن الزبير حدثنا عفيف بن سالم عن عثمان بن واقد Y قال : حدثني أبو نصيرة عن مولى لأبي بكر عن أبي بكر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من استغفر فلم يصر وإن عاد في اليوم سبعين مرة K إسناده ضعيف . آخر مسند أبي بكر ويتلوه مسند عمر رضي الله عنه

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا: جس نے بخشش مانگی اس پر اصرار نہ کیا اگرچہ دن میں ستر مرتبہ ہی کیوںنہ ہو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرٍ، ← مولى لأبي بكر ← أبو نصيرة ← عُثْمَانَ بْنِ وَاقِدٍ ← عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ، ← عبد الغفار بن عبد الله بن الزبير

Hadith 139

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter