مسند أبي يعلى · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 121
121 - حدثنا زهير بن حرب حدثنا وهب بن جرير حدثنا شعبة عن يزيد بن خمير عن سليم بن عامر عن أوسط البجلي قال Y خطبنا أبو بكر فقال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عام الأول ثم بكى أبو بكر فقال : سلوا الله العافية فإن الناس لم يعطوا في الدنيا بعد اليقين شيئا أفضل من المعافاة ألا وعليكم بالصدق فإنه مع البر وهما في الجنة وإياكم والكذب فإنه مع الفجور وهما في النار ولا تقاطعوا ولا تباغضوا ولا تحاسدوا وكونوا عباد الله إخوانا كما أمركم الله K إسناده صحيح
حضرت اوسط البجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اس کے بعد فرمایا: ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے پچھلے سال خطبہ دیا تھا۔ اس کے بعد اللہ سے عافیت مانگو بے شک لوگوں کو دنیا میں ایمان کے بعد معافات سے بڑھ کر کوئی افضل شے نہیں دی گئی خبردار! تم سچ بولا کرو کیونکہ یہ نیکی ہے دونوں جنت میں لے جانے والے اعمال ہیں جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے دونوں جہنم میں لے جانے والے اعمال ہیں۔ رشتے داریاں نہ تو ڑو آپس میں غصہ نہ کرو اور آپس میں حسد نہ کرو اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ جس طرح اللہ نے تم کو حکم دیا ہے ۔
خَطَبَنَا أَبُو بَكْرٍ ← أَوْسَطٍ الْبَجَلِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ
Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA › Chapter · Hadith 121
