Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3371

3371 - حدثنا أبو الربيع حدثنا يوسف بن عطية عن ثابت Y عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يدعو بهذه الدعوات إذا أصبح وأمسى : ( اللهم إني أسألك من فجأة الخير وأعوذ بك من فجأة الشر فإن العبد لا يدري ما يفجؤه إذا أصبح وإذا أمسى ) K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم اکثر یہ دعا کرتے تھے جب صبح و شام ہوتی: اللهم إني أسألك الی آخرہ ‘‘ کیونکہ بندہ نہیں جانتا ہے کہ جب صبح و شام ہو گی تو اچانک کیا ہوگا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← يوسف بن عطيه ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3371

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3372

3372 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من سأل الله الشهادة صادقا أعطيها ولو لم تصبه ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ سے صدق دل سے شہادت مانگی اس کو شہادت کا ثواب دیا جائے گا ۔ اگر چہ اس کو شہادت نہ ملے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3372

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3373

3373 - حدثنا شيبان حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس [ مرفوعا ] قال : ( أعطي يوسف شطر الحسن ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن کا ایک حصہ دیا گیا تھا۔

أعطي يوسف شطر الحسن إسناده صحيح ← أنس مرفوعا ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3373

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3374

3374 - حدثنا شيبان حدثنا حماد حدثنا ثابت Y عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتاه جبريل - وهو يلعب مع الغلمان - فأخذه فصرعه فشق قلبه فاستخرج منه علقة قال : هذا حظ الشيطان منك ثم غسله في طست من ذهب بماء زمزم ثم لأمه ثم أعاده إلى مكانه وجاء الغلمان يسعون إلى أمه - يعني ظئره - فقالوا : إن محمدا قد قتل فاستقبلته منتقع اللون قال أنس : قد كنت أرى أثر ذلك المخيط في صدره K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اس حالت میں کہ آپ صلی اللہ آلہ وسلم بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، آپ صلی اللہ آلہ وسلم کو پکڑا اور آپ صلی اللہ آلہ وسلم کو لٹا لیا۔ آپ صلی اللہ آلہ وسلم کا قلب اطہر شق کیا‘ اس سے ایک لوتھڑا نکالا ۔ عرض کی : یہ شیطان کا حصہ تھا۔ پھر اس کو دھویا سونے کے ایک پیالہ میں ۔ زمزم کے پانی سے پھر دوبارہ اس جگہ رکھ دیا ۔ بچے دوڑ کر اپنی امی کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ محمد (صلی اللہ آلہ وسلم ) کو شہید کیا گیا ہے! حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں‘ ان کا رنگ بدلا ہوا تھا ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ آلہ وسلم کے سینے میں اس دھاگہ کے نشانات تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3374

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3375

3375 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا حماد حدثنا ثابت البناني Y عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( أتيت بالبراق - وهو دابة أبيض طويل فوق الحمار ودون البغل يضع حافره عند منتهى طرفه - قال : فركبته حتى أتيت بيت المقدس قال : فربطه بالحلقة التي يربط بها الأنبياء ثم دخلت المسجد فصليت فيه ركعتين ثم خرجت ) K أخرجه مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا ، براق ایسا جانور ہے کہ لمبا سفید اور گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا اپنا پاؤں وہاں رکھتا تھا جہاں اس کی نظر کی انتہا ہوتی تھی ۔ میں اس پر سوار ہوا یہاں تک کہ بیت المقدس لایا گیا میں نے اس کو اس جگہ باندھا جس جگہ پر دیگر انبیاء کرام علیہ السلام کی سواریاں باندھی ہوئی تھیں ۔ پھر میں مسجد اقصیٰ کے اندر داخل ہوا اس میں میں نے دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر میں نکلا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3375

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3376

3376 - حدثنا عبيد الله بن عمر الجشمي حدثنا جعفر عن ثابت Y عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سمع بكاء الصبي مع أمه في الصلاة قرأ بالسور الخفيفة - أو القصيرة شك جعفر - K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ حالت نماز میں ماں کے ساتھ بچے کے رونے کی آواز سنتے تو آپ مختصر قرأت کرتے یا چھوٹی سورت پڑھتے‘ جعفر کوشک ہے۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرٌ، ← عبيد الله بن عمر الجشمي

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3376

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3377

3377 - حدثنا عبيد الله القواريري حدثنا عبد الرحمن بن مهدي حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت Y عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يلعق أصابعه الثلاث إذا أكل وقال : ( إذا سقطت لقمة أحدكم فليمط ما كان بها من أذى وليأكلها ولايدعها للشيطان وليسلت الصحفة فإنكم لا تدرون في أي طعامكم البركة ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ آلہ وسلم اپنی تین انگلیاں چاٹتے تھے جب آپ صلی اللہ آلہ وسلم کھاتے تھے اور فرمایا: جب تم میں سے کسی آدمی کا لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا کر صاف کر لے اور اسے کھالے‘ شیطان کے لیے نہ چھوڑ ے برتن کو خوب صاف کرے کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے کس کھانے میں برکت ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3377

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3378

3378 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا جعفر بن سليمان حدثنا ثابت Y عن أنس قال : لما كان اليوم الذي قدم فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة أضاء منها كل شيء فلما كان اليوم الذي مات فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم أظلم منها كل شيء قال : وما نفضنا أيدينا من تراب قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى أنكرنا قلوبنا K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ دن جس میں رسول کریم صلی اللہ آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس کی ہر چیز روشن ہو گئی اور وہ دن جس میں رسول کریم صلی اللہ آلہ وسلم کا وصال ہوا تو اس کی ہرشی پر ایک بار اندھیرا چھا گیا۔ راوی کہتا ہے: ابھی ہم نے رسول کریم صلی اللہ آلہ وسلم کے مزار کی مٹی بھی ہاتھوں سے نہیں جھاڑی تھی کہ ہمارے دل اجنبیت محسوس کرنے لگے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3378

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3379

3379 - حدثنا عبيد الله بن عمر حدثنا حماد بن زيد حدثنا ثابت Y عن أنس بن مالك قال : قالت لي فاطمة : يا أنس ! كيف طابت أنفسكم أن تحثوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم التراب ؟ ! K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے انس! تمہارے دلوں نے کیسے گوارا کیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ آلہ وسلم پر مٹی ڈالو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3379

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3380

3380 - حدثنا القواريري حدثنا حماد بن زيد حدثنا ثابت البناني Y [ عن أنس ] قال : لما ثقل رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل يبسط رجلا ويقبض أخرى ويبسط يدا ويقبض أخرى قالت فاطمة : يا كرباه لكربك يا أبتاه - قال القواريري : قال حماد : احفظوا قال : يا كرباه ولم يقل : ياكرباه لكربك يا أبتاه - قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أي بنية لا كرب على أبيك بعد اليوم ) فلما توفي قالت فاطمة : يا أبتاه أجاب ربا دعاه ! يا أبتاه إلى جبريل ننعاه ! يا أبتاه من ربه ما أدناه ! يا أبتاه جنة الفردوس مأواه ! قال أنس : فلما دفناه قالت لي فاطمه : يا أنس كيف طابت أنفسكم أن تحثوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم التراب ؟ ! K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ آلہ وسلم پر بیماری زیادہ ہوگئی ، آپ صلی اللہ آلہ وسلم اپنے پاؤں کو کبھی اکٹھے کرتے بھی کھول دیتے، کبھی اپنے ہاتھ کو سمیٹ لیتے بھی کھول لیتے ۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ! میرے ابو کی تکلیف دور کر دے ۔ آپ صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: اے میری لخت جگر ! آج کے دن کے بعد آپ کے باپ پر کوئی تکلیف نہیں آئے گی ۔ جب آپ کا وصال ہو گیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے ابوجان! آپ نے اپنے رب کا بلاوا قبول کر لیا‘ اے ابو جان! ہم جبر یل کو بتاتے ہیں‘ اے ابو جان ! آپ کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے آپ کو دفنایا تو مجھے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے انس! کیا تمہارے دلوں نے پسند کیا کہ تم حضور صلی اللہ آلہ وسلم پرمٹی ڈالو۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3380

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3381

3381 - حدثنا أبو حمزة هريم بن عبد الأعلى حدثنا المعتمر بن سليمان قال : سمعت أبي يذكر عن ثابت Y عن أنس بن مالك قال : لما نزلت : { يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي } إلى قوله : { لا تشعرون } قال ثابت بن قيس : أنا والله الذي كنت أرفع صوتي عند رسول الله صلى الله عليه و سلم وإني أخشى أن أكون من أهل النار إني كنت أرفع صوتي عند النبي صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بل هو من أهل الجنة - أو كما قال - ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آیت’’یا ایها الذین‘‘ تا ’’لا تشعرون ‘‘ تک نازلہوئی تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہی وہ آ دمی ہوں جس کی آواز رسول کریم صلی اللہ آلہ وسلم کے پاس اونچی ہوتی رہتی ہے اور مجھے خوف ہے کہ میں دوزخیوں سے نہ ہو جاؤں کیونکہ میں ہی نبی کریم صلی اللہ آلہ وسلم کے پاس اپنی آواز بلند کرتا رہتا ہوں ۔ رسول کریم صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ وہ جنتی ہیں یا اسی طرح کی کوئی بات فرمائی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← أَبِي يَذْکُرُ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو حمزة هريم بن عبد الأعلى

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3381

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3382

3382 - حدثنا جعفر بن محمد بن عاصم حدثنا عفان بن مسلم عن شعبة عن ثابت Y عن أنس : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لكل غادر لواء )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ آلہ وسلم نے فرمایا: ہر دھوکہ باز کی پشت پہ جھنڈا لگایاجائے گا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← جعفر بن محمد بن عاصم

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3382

chevron_left Previous
1…8910…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter