مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3323
3323 - حدثنا هدبة حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما صالح قريشا يوم الحديبية قال لعلي : ( إكتب بسم الله الرحمن الرحيم ) فقال سهيل بن عمرو : لا نعرف الرحمن الرحيم إكتب باسمك اللهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : ( اكتب : هذا ما صالح عليه محمد رسول الله ) فقال سهيل بن عمرو : لو نعلم أنك رسول الله لاتبعناك ولم نكذبك اكتب نسبك من أبيك فقال النبي صلى الله عليه و سلم لعلي : ( اكتب : محمد بن عبد الله ) فكتب : من أتانا منكم رددناه إليكم ومن أتاكم منا تركناه عليكم فقالوا : يارسول الله تعطيهم هذا ؟ قال : ( من أتاهم منا فأبعده الله ومن أتانا منهم فرددناه عليهم جعل الله له فرجا ومخرجا ) K إسناده صحيح
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش سے صلح فرمائی حدیبیہ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھوا بسم الله الرحمن الرحيم۔سہیل بن عمرو نے کہا: ہم رحمٰن رحیم کو نہیں جانتے ہیں‘ تم اپنے نام سے لکھو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھو! یہ صلح نامہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے !سہیل بن عمرو نے کہا کہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ جانتے تو ہم آپ کی اتباع کرتے ہم آپ کو نہ جھٹلاتے ، اپنے باپ کے نسب کے حوالہ سے لکھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھو! محمد بن عبداللہ کی طرف سے! اس میں لکھا جو تمہارے پاس آیا ‘ہم اس کو تمہاری طرف واپس کر دیں گے جو ہمارا تمہارے پاس آئےاس کو تمہارے ذمہ پر چھوڑ دیں گے۔صحابہ کرام نے عرض کی:یا رسول اللہ! یہ بھی واپس کر دیں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہم سے آئےگا اللہ اس کو سلامت رکھے گا، جو ان میں سے آئےگا، ہم اس کو واپس کر دیں گے ۔ اللہ عز وجل نے اس کے لیےکوئی نہ کوئی راستہ بنا ہی دے گا ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← هُدْبَةُ
Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3323
