Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3323

3323 - حدثنا هدبة حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما صالح قريشا يوم الحديبية قال لعلي : ( إكتب بسم الله الرحمن الرحيم ) فقال سهيل بن عمرو : لا نعرف الرحمن الرحيم إكتب باسمك اللهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : ( اكتب : هذا ما صالح عليه محمد رسول الله ) فقال سهيل بن عمرو : لو نعلم أنك رسول الله لاتبعناك ولم نكذبك اكتب نسبك من أبيك فقال النبي صلى الله عليه و سلم لعلي : ( اكتب : محمد بن عبد الله ) فكتب : من أتانا منكم رددناه إليكم ومن أتاكم منا تركناه عليكم فقالوا : يارسول الله تعطيهم هذا ؟ قال : ( من أتاهم منا فأبعده الله ومن أتانا منهم فرددناه عليهم جعل الله له فرجا ومخرجا ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش سے صلح فرمائی حدیبیہ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھوا بسم الله الرحمن الرحيم۔سہیل بن عمرو نے کہا: ہم رحمٰن رحیم کو نہیں جانتے ہیں‘ تم اپنے نام سے لکھو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھو! یہ صلح نامہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے !سہیل بن عمرو نے کہا کہ اگر ہم آپ کو رسول اللہ جانتے تو ہم آپ کی اتباع کرتے ہم آپ کو نہ جھٹلاتے ، اپنے باپ کے نسب کے حوالہ سے لکھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھو! محمد بن عبداللہ کی طرف سے! اس میں لکھا جو تمہارے پاس آیا ‘ہم اس کو تمہاری طرف واپس کر دیں گے جو ہمارا تمہارے پاس آئےاس کو تمہارے ذمہ پر چھوڑ دیں گے۔صحابہ کرام نے عرض کی:یا رسول اللہ! یہ بھی واپس کر دیں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہم سے آئےگا اللہ اس کو سلامت رکھے گا، جو ان میں سے آئےگا، ہم اس کو واپس کر دیں گے ۔ اللہ عز وجل نے اس کے لیےکوئی نہ کوئی راستہ بنا ہی دے گا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3323

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3324

3324 - حدثنا هدبة حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت Y عن أنس أن أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم كانوا يقولون وهم يحفرون الخندق : نحن اللذين بايعوا محمدا على القتال ما بقينا أبدا والنبي صلى الله عليه و سلم يقول : ( اللهم إن العيش عيش الآخرة فاغفر للأنصار والمهاجره ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جب خندق کھود رہے تھے تو یہ شعر پڑھ رہے تھے:’’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے جہاد پر جب تک ہم زندہ ہیں‘‘۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما رہے تھے: اے اللہ! زندگی آخرت کی زندگی ہے‘ انصار اور مہاجرین کو بخش دے!

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3324

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3325

3325 - حدثنا هدبة وشيبان قالا : حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت Y عن أنس قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( مررت بموسى ليلة أسري بي وهو قائم يصلي في قبره عند الكثيب الأحمر ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں موسیٰ علیہ السلام کی قبر کے پاس سے معراج کی رات گز را وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے، کثیب احمر کے پاس ( بعض علماء نے لکھا کہ آپ کھڑے ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود پڑھ رہے تھے۔ غلام دستگیر سیالکوٹی )۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← ھُدْبَۃُ وَشَیْبَانُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3325

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3326

3326 - حدثنا هدبه حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ترك قتلى بدر ثلاثا ثم أتاهم فقام عليهم فناداهم فقال : ( يا أبا جهل بن هشام ! يا أمية بن خلف ! يا عتبة بن ربيعة ! يا شيبة بن ربيعة ! هل وجدتم ما وعد ربكم حقا ؟ فإني وجدت ما وعدني ربي حقا ؟ ) فسمع عمر قول النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يارسول الله كيف سمعوا ؟ وأنى يجيبوا وقد جيفوا ؟ قال : ( والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم غير أنهم لا يقدرون أن يجيبوا ) ثم أمر بهم فسحبوا إلى قليب بدر K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مقتولین بدر کو تین دن چھوڑا پھر ان کے پاس آئے‘اس کے بعد ان پر کھڑے ہوئے اور ان کو آوازدی: اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عتبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کوحق پالیا؟ بے شک میں نے تو پا لیا ہے، جو میرے ساتھ میرے رب نے وعدہ کیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی ، عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ سنتے ہیں؟ کیا یہ جواب دیتے ہیں؟یہ تو مر گئے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! تم سے زیادہ سنتے ہیں سوائے اس بات کے کہ یہ جواب دینے پر قادر نہیں ہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کو بدر کے کنواں میں بند کیا جائے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3326

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3327

3327 - حدثنا هدبة حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت قال Y قلت لأنس : حدثني بشيء من هذه الأعاجيب ليحدثه غيرك قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما الظهر بالمدينة ثم أتى المقاعد التى كان يأتيه عليها جبريل فقعد عليها فجاء بلال فنادى بالعصر فقام من له أهل بالمدينة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بقدح يعني : رحراح فيه ماء فوضع أصابعه في القدح فما وسع أصابعه كلها فوضع هؤلاء الأربع فقال : ( هلموا فتوضؤوا ) فتوضؤوا أجمعين قلت لأنس : كم تراهم ؟ قال : ما بين السبعين إلى الثمانين K إسناده صحيح

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : ان عجیب و غریب چیزوں میں سے کوئی ایک بتائیں جو آپ کے علاوہ کوئی بیان نہیں کر سکتا ہے ‘انہوں نے کہا: مدینہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھی‘ پھر اس جگہ پر تشریف لائے جس جگہ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آتے تھے ‘آپ اس پر بیٹھ گئے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آئے‘انہوں نے عصر کی اذان دی تو وہ لوگ کھڑے ہوئے‘جو مدینہ کے مقام تھے‘ وضو کرنے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے لگے‘صرف مہاجرین میں سے وہ لوگ باقی رہ گئے جن کے گھر والے مدینہ میں نہ تھے‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک پیالہ لے کر تشریف لائے‘اس میں پانی تھا‘آپ نےاس میں اپنی انگلی رکھی‘ اس میں ساری انگلیاں نہ آتی تھیں‘ آپ نے یہ چار (انگوٹھے کے علاوہ ) انگلیاں رکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آ کر وضو کر لو ‘تمام نے وضو کر لیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے میں نے عرض کی: تیرے خیال میں وہ کتنے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ستر سے اسی تک تھے۔

قُلْتُ لأَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3327

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3328

3328 - حدثنا هدبة حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت Y عن أنس قال : أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم وما هو إلا أنا وأمي وخالتي أم حرام فقال : ( قوموا فلأصل لكم ) وذلك في غير وقت صلاة فقال رجل لثابت : فأين جعل أنسا ؟ قال : عن يمينه . قال : فدعا لنا أهل البيت بكل خير من خير الدنيا والآخرة فقالت أمي : يارسول الله خويدمك أنس أدع الله له فدعا لي بكل خير فكان آخر ما دعا لي : ( اللهم أكثر ماله وولده وبارك له فيه ) K إسناده صحيح

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ۔صرف میں‘میری ماں اور میری خالہ اُم حرام تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُٹھو! میں تمہارے لیے نماز پڑھوں حالانکہ کسی نماز کا وقت نہ تھا‘ پس ایک آدمی نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے عرض کی : آپ نے انس کو کہاں کھڑا کیا؟ انہوں نے جواب دیا: اپنی دائیں طرف ۔ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے دعا فرمائی‘ سارے گھر والوں کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں میں سے ہر بھلائی کی دعا دی ۔ میری ماں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے‘ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کر یں ‘پس آپ نے میرے لیے ہر خیر کی دعا کی ۔ پس آپ نے میرے لیے جو آخری دعا کی وہ یہ تھی: اے اللہ ! اس کا مال اور اولاد زیادہ کر اور اس کیلئے میں برکت ڈال دے ۔

فدعا لنا أهل البيت بكل خير من خير الدنيا والآخرة ← یَّمِیْنِہٖ ← رجل لثابت فأين جعل أنسا ← قوموا فلأصل لكم وذلك في غير وقت صلاة ← وأمي وخالتي أم حرام ← أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم وما هو إلا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3328

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3329

3329 - حدثنا أبو الربيع حدثنا حماد حدثنا ثابت Y عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم دعا بماء فأتي بقدح رحراح قال : فجعل القوم يتوضؤون فحزرت ما بين الستين إلى الثمانين قال : فجعلت أنظر إلى الماء ينبع من بين أصابعه K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےپانی منگوایا‘ آپ کے پاس کشادہ پیالہ لایا گیا‘ لوگوں نے وضو کیا‘ میں نے ان کو شمار کیا وہ افراد ساٹھ سے اسّی تک تھے‘ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ آپ کی انگلیوں سے چشمہ جاری ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3329

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3330

3330 - حدثنا هدبة عن سليمان بن المغير عن ثابت Y عن أنس قال : ما أعرف شيئا كنت أعرفه على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس قولكم : لا إله إلا الله قال : قيل : الصلاة يا أبا حمزة ؟ قال : قد صليتموها عند المغرب [ أ ] فكانت تلك صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ مع أني لم أر زمانا خيرا لعامل من زمانكم هذا K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کسی ایسی شے کو نہیں پہچانتا جو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پہچانتا تھاوہ قول لا الہ الا اللہ ہے۔ عرض کی گئی: اے ابوحمزه! نماز؟ آپ نے فرمایا: تم نے اس کو مغرب کے وقت ادا کیا تو کیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی؟ باوجود یکہ کسی عمل کرنے والے کے لیے میں نے تمہارے زمانہ سے بہتر زما نہ نہیں دیکھا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيْرَ?ِ ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3330

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3331

3331 - حدثنا هدبة حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت Y عن أنس قال : لما نزلت هذه الآية : { يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول } قعد ثابت بن قيس بن شماس في بيته وقال : أنا الذي كنت أرفع صوتي وأجهر له بالقول وأنا من أهل النار فتفقده النبي صلى الله عليه و سلم فأخبروه فقال : ( بل هو من أهل الجنة ) . قال أنس : فكنا نراه يمشي بين أظهرنا ونحن نعلم أنه من أهل الجنة فلما كان يوم اليمامة وكان ذاك الانكشاف لبس ثيابه وتحنط وتقدم فقاتل حتى قتل K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! ( بات کرتے وقت ) اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچا نہ کرو، اور جیسے تم ایک دوسرے کے سامنے آواز اونچی کرتے ہو‘ اسی طرح نبی کے سامنے آواز کو اونچا نہ کیا کرو‘‘۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ اپنے گھر بیٹھ گئے ، کہنے لگے میں ہی وہ ہوں کہ جس کی آواز سب سے زیادہ اونچی ہے اور چلا چلا کر بولتا ہوں ۔میں ہی اہل جہنم سےہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کافی دن نہیں پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے معاملہ کی خبر دی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ وہ تو اہل جنت سے ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم دیکھتے تھے جب وہ ہمارے درمیان چل رہا ہوتا تھا ہم جانتے تھے کہ یہ جنتی ہے جب یمامہ کا دن آیا اور اس بات کا انکشاف ہوا‘ آپ نے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی اور آگے بڑھے‘ اس کے بعد لڑ کر شہید ہو گئے۔

«بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»، ← من أهل النار فتفقده النبي صلى الله عليه و سلم فأخبروه ← الَّذِي كُنْتُ أَرْفَعُ صَوْتِي، وَأَجْهَرُ لَهُ ← لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: قَعَدَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3331

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3332

3332 - حدثنا هدبة حدثنا سليمان بن المغيرة قال : قال ثابت Y قال أنس : لما انقضت عدة زينب قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لزيد : ( اذهب إليها فاذكرها علي ) قال : فانطلق زيد فأتاها وهي تختبز عجينتها قال : فعظمت في صدري فما استطعت أن أنظر إليها حين عرفت رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ذكرها فوليتها ظهري ونكصت على عقبي قلت : يا زينب أبشري رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكرك قالت : ما أنا بصانعة شيئا حتى أوامر ربي فقامت إلى مسجدها ونزل القرآن فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم بغير إذن . قال أنس : فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أطعمنا عليها الخبز واللحم حتى امتد النهار قال : فخرج الناس وبقي رهط في البيت يتحدثون قد أنس بهم الحديث فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فاتبعته فجعل يتتبع حجر نسائه يسلم عليهن وجعلن يقلن : كيف وجدت أهلك يارسول الله ؟ فلا أدري أنا أخبرته أن القوم قد خرجوا أو أخبر فانطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى دخل البيت فذهبت أدخل معه فألقى الستر بيني وبينه ونزلت آية الحجاب ووعظ القوم بما وعظوا به K إسناده صحيح

حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہ کی عدت ختم ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: زینب رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ! اس کو میرے اوپر بیان کرو ۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آۓ تو آپ آٹا گوندھ کر روٹیاں پکا رہی تھیں‘ میرے دل میں ان کی بزرگی کی بات آئی لیکن میں ان کی طرف دیکھنےکی طاقت نہیں رکھتا تھا‘جس وقت میں نے جان لیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے تو میں نے اپنی پیٹھ ان کی طرف کی اور میں نے اپنا ارادہ چھوڑ دیا۔ میں نے کہا: اے زینب ! آپ کو خوشخبری ہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا ذکر کیا ہے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں ایسی کوئی شی نہیں کروں گی یہاں تک کہ میرا رب مجھے حکم دے۔ آپ نماز کے لیے کھڑی ہونے لگیں، قرآن نازل ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس آپ کی اجازت کے بغیر گئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا‘ ہم نے آپ کے اس نکاح پر روٹی اور گوشت کھایا یہاں تک کہ دن لمبا ہو گیا‘ کچھ لوگ نکل گئے اور ایک گروہ باقی رہا‘ وہ باتوں سے مانوس ہو کر گفتگو کرنے لگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں آپ کے پیچھے چلا ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جانے لگے اور انہیں سلام کرنے لگے۔ آپ کی ازواج کہنے لگیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیسے اپنے اہل خانہ کو پایا؟ میں نہیں جانتا ہوں کہ میں نے بتایا ہو کہ لوگ نکل گئے ‘یا آپ کو بتایا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ گھر داخل ہوئے‘میں بھی آپ کے ساتھ گھر میں داخل ہونے کے لیے گیا‘آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ٹکا دیا تو پردہ کا حکم نازل ہو گیا‘آپ نے لوگوں کو وعظ ونصیحت کی۔

أنس لما انقضت عدة زينب ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3332

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3333

3333 - حدثنا محمد بن الخطاب حدثنا عبد الملك بن إبراهيم حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت البناني Y عن أنس قال : كنا نهاب أن نسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شيء وكان يعجبنا أن يأتيه الرجل من أهل البادية فيسأله ونحن نستمع فأتاه رجل منهم فقال : يا محمد أتانا رسولك فزعم أنك تزعم أن الله أرسلك قال : ( صدق ) قال : فمن خلق السماء ؟ قال : ( الله ) قال : فمن خلق الأرض ؟ قال : ( الله ) قال : فمن نصب هذه الجبال ؟ قال : ( الله ) قال فمن جعل فيها هذه المنابع ؟ قال : ( الله ) قال : فبالذي خلق السماء والأرض ونصب الجبال وجعل فيها هذه المنابع آلله أرسلك ؟ قال : ( نعم ) . قال : زعم رسولك أن علينا خمس صلوات في يومنا وليلتنا قال : ( صدق ) قال : فبالذي أرسلك آلله أمرك بهذا ؟ قال : ( نعم ) . قال : زعم رسولك أن علينا صدقة في أموالنا ؟ قال ( صدق ) قال : فبالذي أرسلك آلله أمرك بهذا ؟ قال : ( نعم ) . قال : زعم رسولك أن علينا صوم شهر في سنتنا ؟ قال : ( صدق ) قال : فبالذي أرسلك آلله أمرك بهذا ؟ قال : ( نعم ) . قال : زعم رسولك أن علينا حج البيت من إستطاع إليه سبيلا ؟ قال : ( صدق ) قال : فبالذي أرسلك آلله أمرك بهذا ؟ قال : ( نعم ) . قال : والذي بعثك بالحق لا أزيد عليهن ولا أنقص منهن شيئا قال : فلما قفى قال : ( لئن صدق ليدخلن الجنة )

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شی کے متعلق سوال کرنے سے ڈرتے تھے‘ ہم پسند کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی آدمی آپ کے پاس آئےاور آپ سے پوچھے اور ہم سنیں۔ان میں سے ایک آدمی آیا اس نے عرض کی: اے محمد!آپ کوبھیجا گیا ہے‘آپ گمان کرتے ہیں کہ آپ کو اللہ نے بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا:اس نے سچ کہا ہے!اس نے عرض کی : آسمان کس نے پیدا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے! اس نے عرض کی: زمین کس نے پیدا کی ہے؟آپ نے فرمایا: اللہ نے! اس نے پوچھا: پہاڑ کس نے گاڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے! اس نے عرض کی: اس میں چشمے کس نے پیدا کیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ نے! اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے اور پہاڑ گاڑے ہیں اور اس میں چشمے جاری فرمائےہیں! کیا اللہ نے آپ کو بھیجاہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کی:آپ کا بھیجا ہوا گمان کرتا ہےکہ ہم پردن ورات میں پانچ نمازیں فرض ہیں؟آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا! اس نے عرض کی قسم اس ذات کی جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ اس کا حکم دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا۔ جی ہاں! اس نے عرض کی: آپ کا نمائندہ گمان کرتا ہے کہ ہمارے اموال میں زکوٰۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے! اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس ذات نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کی: آپ کا ۔ نمائندہ گمان کرتا ہے کہ ہم پر سال میں ایک مرتبہ روزے فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا! اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس ذات نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کی : آپ کا بھیجا ہوا گمان کرتا ہے کہ ہم میں سے جو طاقت رکھتا ہے اس پر حج فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے! اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے‘ کیااللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں! اس نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس پر نہ اضافہ کروں گا اور نہ کمی کروں گا۔ جب وہ واپس گیا تو آپ نے فرمایا: اگر یہ سچ کہتا ہے تو ضرور جنت میں داخل ہوگا ۔

كنا نهاب ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← محمد بن الخطاب

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3333

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3334

3334 - حدثنا العباس بن الوليد النرسي حدثنا معتمر بن سليمان حدثنا عبيد الله بن عمر عن ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب يوم الجمعة فقام إليه الناس فصاحوا فقالوا : يا نبي الله قحط المطر وأحمر الشجر وهلكت البهائم فادع الله أن يسقينا قال : ( اللهم اسقنا اللهم اسقنا ) قال : وأيم الله ما نرى في السماء قزعة من سحاب فأنشأت سحابة فانتشرت ثم إنها مطرت ونزل نبي الله صلى الله عليه و سلم فصلى وانصرف فلم تزل تمطر إلى الجمعة الأخرى فلما قام النبي صلى الله عليه و سلم يخطب صاحوا به فقالوا : بانبي الله تهدمت البيوت وانقطعت السبل فادع الله أن يحبسها عنا قال : ( اللهم حوالينا ولا علينا ) قال : فتقشعت عن المدينة وجعلت تمطر حواليها وما تمطر بالمدينة قطرة فنظرت إلى المدينة وإنها لفي مثل الإكليل K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے‘ لوگوں نے چیخنا شروع کیا‘ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! بارش کی قحط سالی ہے درخت سوکھ گئے ہیں اور جانور مر رہے ہیں اللہ سے بارش کی دعا کر یں! آپ نے عرض کی: اے اللہ ! ہم پر بارش برسا! اے اللہ! ہم پر بارش برسا! حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم ! ہم آسمان میں دانہ کے برابر بھی بادل نہیں دیکھ رہے تھے‘ بادل پیدا ہوئے اور چلنے لگے‘ پھر بارش ہوئی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اترے‘ آپ نے نماز پڑھائی اور سلام پھیرا‘ پھر دوسرے جمعہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں نے چیخنا شروع کر دیا،عرض کی:اے اللہ کے نبی! گھر گر نے شروع ہو گئے ہیں راستے بند ہو گئے ہیں‘ اللہ سے بارش رکنے کی دعا کر یں! آپ نے عرض کی : اے اللہ ! ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا! پس مدینہ سے بارش اٹھ گئی اور اردگرد بر سنے لگی‘ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برسا، میں نے مدینہ کو دیکھا تو تھال کی مثل تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3334

chevron_left Previous
1…456…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter