Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند أبي يعلى

Musnad Abu Yaalaa

by Abu Yaalaa

7,583 Hadith384 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3299

3299 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حبيب بن حجر حدثنا ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : خرجت من عند النبي صلى الله عليه و سلم متوجها إلى أهلي فمررت بغلمان فأعجبني لعبهم فقمت على الغلمان فانتهى إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأنا قائم عليهم فسلم على الغلمان ثم أرسلني في حاجة له فرجعت إلى أمي بعض الوقت الذي كنت أرجع إليهم فيه فقالت لي أمي : ما حبسك اليوم يا بني ؟ قلت أرسلني النبي صلى الله عليه و سلم في حاجة فقالت أي حاجة ؟ قال : قلت : يا أمه إنها سر قالت يا بني فاحفظ على نبي الله صلى الله عليه و سلم سره . قال ثابت : فقلت لأنس : يا أبا حمزة أتحفظ تلك الحاجة اليوم - أو تذكرها - ؟ قال : إني لها لحافظ ولو حدثت بها أحدا لحدثتك بها يا ثابت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا اپنے گھر جانے کے لیے میں دو بچوں کے پاس سے گز را مجھے ان کا کھیل بڑا پسند آیا میں ان بچوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے جبکہ میں انہیں کے پاس کھڑا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں پر سلام فرمایا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا میں کافی دیر کے بعد اپنی امی کے پاس گیا۔ مجھے میری امی نے کہا: اے میرے بیٹے! تجھے کس نے روک لیا تھا؟ میں نے عرض کی: مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا۔ میری امی نے کہا: کام کیا تھا؟ میں نے عرض کی اے امی! یہ راز ہے۔حضرت ام سلیم نے کہا: اے میرے بیٹے ! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کر ۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوحمز ہ! کیاآپ کو وہ کام یاد ہے یا آپ کو یاد کروایا جائے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے وہ یاد ہے‘اگرمیں کسی کو بتا تا تو اے ثابت!تجھے بتاتا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3299

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3300

3300 - حدثنا عبد الواحد بن غياث أبو بحر حدثنا حماد حدثنا ثابت Y عن أنس أن أزواج النبي صلى الله عليه و سلم كن يدلجن بالقرب يسقين أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پاک (جنگ) کے دوران مشکیزے لاتی تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس سے پانی پیتے تھے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ أَبُو بَحْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3300

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3301

3301 - حدثنا هدبة بن خالد و عبد الواحد بن غياث قالا : حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوم أحد وهو يسلت الدم عن وجهه : ( كيف يفلح قوم شجوا نبيهم وكسروا رباعيته وهو يدعوهم إلى الله ؟ ) فأنزل الله : { ليس لك من الأمر شيء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون } K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا اس حالت میں کہ آپ کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: وہ لوگ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنے نبی کو زخمی کیا اور ان کے آگے والے دانت توڑے، اس حالت میں کہ وہ اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل فرمائی : ليس لك من الأمر الى آخرہ“۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← هدبة بن خالد و عبد الواحد بن غياث

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3301

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3302

3302 - حدثنا عبد الواحد بن غياث حدثنا حماد ابن سلمة عن ثابت Y عن أنس أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فأعطاه غنما بين جبلين فأتى الرجل قومه فقال : أي قوم أسلموا فوالله إن محمدا يعطي عطاء رجل ما يخاف فاقة وإن كان الرجل ليأتي إلى النبي صلى الله عليه و سلم ما يريد إلا دنيا يصيبها فما يمسي حتى يكون دينه أحب إليه من الدنيا وما فيها K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا۔ آپ نے اس کو دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی بکریاں دے دی ۔ وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آیا، اس نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! مسلمان ہو جاؤ! اللہ کی قسم ! محمد دیتا ہے جیسے اس کو فاقہ کا خوف ہی نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی آ دمی دنیا حاصل کرنے کے لیے اسلام لاتا تو چند دن ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہر تا تو اس کو اسلام دنیا و مافیہا سےزیادہ پسند ہو جاتا ۔

ثَابِتٍ، ← حماد ابن سلمة ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3302

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3303

3303 - حدثنا الحسن بن عمر بن شقيق حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت قال : أحسبه Y عن أنس قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل يعوده فوافقه وهو في الموت فسلم عليه وقال : ( كيف تجدك ؟ ) قال : بخير يارسول الله أرجو الله عز و جل وأخاف ذنوبي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لن يجتمعا في قلب رجل عند هذا الموطن إلا أعطاه الله رجاءه وآمنه مما يخاف ) K رجاله رجال الصحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کرنے کے لیے آئے۔اس کو موت کی حالت میں پایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سلام کیا۔فرمایا: تو کیسا ہے؟اس نے عرض کی:یا رسول اللہ!بہتر ہوں۔ میں اللہ سے اپنے گناہوں کی بخشش کا امیدواربھی ہوں اوراپنے گناہوں کےمتعلق ڈرتا بھی ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز یہ دونوں چیز س کسی مؤمن کے دل میں جمع نہیں ہوتی ہیں مگر اللہ عز وجل اس کو عطا کر دیتا ہے‘ اس خوف سے امن دیتا ہے۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3303

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3304

3304 - حدثنا عبد الواحد حدثنا غسان بن برزين يعني الطهوي حدثنا ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : غدا أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم فقالوا : يارسول الله هلكنا ورب الكعبة فقال : ( وما ذاك ؟ ) قالوا : النفاق النفاق قال : ( ألستم تشهدون أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله ؟ ) قالوا : بلى قال ( ليس ذاك النفاق ) قال : ثم عادوا الثانية فقالوا : يارسول الله هلكنا ورب الكعبة قال : ( وما ذاك ؟ ) قالوا : النفاق النفاق قال : ( ألستم تشهدون أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله ؟ ) قالوا : بلى قال : ( ليس ذاك النفاق ) قال : ثم عادوا الثالثة فقالوا : يارسول الله هلكنا ورب الكعبة قال : ( وماذاك ؟ ) قالوا : النفاق : قال : ( ألستم تشهدون أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله ؟ ) قالوا : بلى قال : ( ليس ذاك النفاق ) قالوا : إنا إذا كنا عندك كنا على حال وإذا خرجنا من عندك همتنا الدنيا وأهلونا قال : ( لو أنكم إذا خرجتم من عندي تكونوا على الحال الذي تكونون عليه لصافحتكم الملائكة بطرق المدينة ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ایک دن صبح کی‘ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم ہلاک ہو گئے ! رب کعبہ کی قسم ! آپ نے فرمایا: کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کی : منافقت منافقت ! آپ نے فرمایا: کیا تم لا اله الا الله وحده لا شريك ه له وان محمدا عبده ورسولہ کی گواہی نہیں دیتے؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا:یہ منافقت نہیں ہے۔ صحابہ کرام دوبارہ لوٹ کر آئے اور عرض کی: یارسول اللہ! ہم ہلاک ہو گئے ! رب کعبہ کی قسم ! آپ نے فرمایا: کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کی : منافقت منافقت! آپ نے فرمایا: کیا تم گواہی نہیں دیتے ہو اللہ کے ایک ہونے اور محمد کے اس کے ہندو اور اس کے رسول ہونے کی؟ انہوں نے عرض کی : کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: یہ منافقت نہیں ہے۔ تیسری مرتبہ وہ دوبارہ آئے اور عرض کرنے لگے:یارسول اللہ!ہم ہلاک ہو گئے!رب کعبہ کی قسم!آپ نےفرمایا:کیا ہوا؟انہوں نے عرض کی:منافقت منافقت! آپ نے فرمایا:کیا تم گواہی نہیں دیتے ہوکہ لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله ؟ انہوں نے عرض کی : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: یہ منافقت نہیں ہے ۔ صحابہ کرام نے عرض کی: جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو کسی اور حالت پر ہوتے ہیں اور جب ہم آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ہم دنیادار بن جاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: اگر تم اُسی پر رہو جس حالت میں میرے پاس ہوتے ہوتو مدینہ کے راستوں میں فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں۔

ألستم تشهدون ← النفاق النفاق ← وَمَا ذَاکَ ← يارسول الله هلكنا ورب الكعبة ← غدا أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ يَعْنِي الطَّهَوِيَّ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3304

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3305

3305 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي حدثنا أبو ثابت عبد الواحد بن ثابت حدثنا ثابت . Y عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يحب أن يفطر على ثلاث تمرات أو شيء لم تصبه النار K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تین کھجوروں سے روزہ افطار کرنے کو پسند کرتے تھے اگر کھجور یں نہ پاتے تو ایسی شی سے افطارکرتے جو آگ سے نہ پکائی گئی ہوتی۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أبو ثابت عبد الواحد بن ثابت ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3305

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3306

3306 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخر صلاة العشاء ذات ليلة إلى شطر الليل ثم خرج فصلى بهم ولم يذكر الوضوء K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کو رات کے چوتھائی حصہ تک موخر کرتے تھے۔ پھر آپ سے نکلتے اور صحابہ کرام کو نماز پڑھاتے ( وضو کا ذکر نہیں کیا )۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3306

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3307

3307 - حدثنا إبرهيم بن الحجاج حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يغير عند صلاة الصبح فيستمع الأذان فإن سمع أذانا وإلا أغار فاستمع ذات يوم فسمع رجلا يقول : الله أكبر الله أكبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( على الفطرة ) قال : أشهد أن لا إله إلا الله فقال : ( خرجت من النار ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت حملہ آور ہوا کرتے تھے ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اذان سننے کے لیے کان لگاتے، پس اگر تو اذان کی آواز سن لیتے تو ٹھیک ورنہ حملہ کر دیتے تھے‘ پس ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کان لگائے تو ایک آدمی کو کہتے ہوۓ سنا:اللہ اکبر!اللہ اکبر!پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تو دین فطرت پر ہے‘ اس نے کہا:اشہد ان لا الہ الا اللہ!تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دوزخ سے نکل گیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← إبرهيم بن الحجاج

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3307

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3308

3308 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد بن ثابت Y عن أنس قال : كنا نصلي مع رسول الله صلى الله عليه و سلم المغرب ثم نترامى فيرى أحدنا موقع نبله K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے پھر ہم تیر اندازی کرتے تو ہم تیرگر نے کی جگہ کو پہچان لیتے تھے۔

أَنَسٍ، ← حَمَّادٌ، بن ثَابِتٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3308

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3309

3309 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حماد بن ثابت Y عن أنس قال : أقيمت صلاة العشاء ذات ليلة فقال رجل : يارسول الله إن لي حاجة فقام معه يناجيه حتى نعس القوم - أو بعض القوم - ثم قام فصلى ولم يذكر وضوءا K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ حالت جنابت میں ہوتے وہ اس کے بعد سو جاتے ، ان میں سے کچھ وضو کرتے ، کچھ وضو نہ کرتے تھے۔

أقيمت صلاة العشاء ذات ليلة ← أَنَسٍ، ← حَمَّادٌ، بن ثَابِتٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3309

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3310

3310 - حدثنا هدبة حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس بنحوه K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت ہے۔

أنس بنحوه إسناده صحيح ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← هُدْبَةُ

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3310

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Musnad Abu Bakkr Al-Siddiq - RA
    1. Chapter
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. Chapter
3. Musnad Ali bin Abi Talib - RA
    3. Chapter
4. Musnad Talha bin Obaidullah
    4. Chapter
5. From the Musnad Zubair bin Al-Awam
    5. Chapter
6. Musnad Saad bin Abi Waqas
    6. Chapter
7. From the Musnad Abdul Rahman bin Auf
    7. Chapter
8. Musnad Abu Ubaidah bin Al-Jarrah
    8. Chapter
9. From the armrest of Abu Juhaifa
    9. Chapter
10. Musnad Abi Tufail
    10. Chapter
11. The rest of Musnad Abdullah bin Anis
    11. Chapter