مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3299
3299 - حدثنا إبراهيم بن الحجاج حدثنا حبيب بن حجر حدثنا ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : خرجت من عند النبي صلى الله عليه و سلم متوجها إلى أهلي فمررت بغلمان فأعجبني لعبهم فقمت على الغلمان فانتهى إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأنا قائم عليهم فسلم على الغلمان ثم أرسلني في حاجة له فرجعت إلى أمي بعض الوقت الذي كنت أرجع إليهم فيه فقالت لي أمي : ما حبسك اليوم يا بني ؟ قلت أرسلني النبي صلى الله عليه و سلم في حاجة فقالت أي حاجة ؟ قال : قلت : يا أمه إنها سر قالت يا بني فاحفظ على نبي الله صلى الله عليه و سلم سره . قال ثابت : فقلت لأنس : يا أبا حمزة أتحفظ تلك الحاجة اليوم - أو تذكرها - ؟ قال : إني لها لحافظ ولو حدثت بها أحدا لحدثتك بها يا ثابت
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلا اپنے گھر جانے کے لیے میں دو بچوں کے پاس سے گز را مجھے ان کا کھیل بڑا پسند آیا میں ان بچوں کے پاس کھڑا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے جبکہ میں انہیں کے پاس کھڑا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں پر سلام فرمایا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا میں کافی دیر کے بعد اپنی امی کے پاس گیا۔ مجھے میری امی نے کہا: اے میرے بیٹے! تجھے کس نے روک لیا تھا؟ میں نے عرض کی: مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے بھیجا تھا۔ میری امی نے کہا: کام کیا تھا؟ میں نے عرض کی اے امی! یہ راز ہے۔حضرت ام سلیم نے کہا: اے میرے بیٹے ! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کر ۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوحمز ہ! کیاآپ کو وہ کام یاد ہے یا آپ کو یاد کروایا جائے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے وہ یاد ہے‘اگرمیں کسی کو بتا تا تو اے ثابت!تجھے بتاتا۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ
Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3299
